کینسر برائے فروخت - محمد اسمٰعیل بدایونی

یہ کیا عنوان ہے؟ سوشل میڈیا پر موجود میرے قارئین میرے اس آرٹیکل کو دیکھ کر بھڑک اٹھے۔ کیا بھلا کینسر جیسا موذی مرض بھی برائے فروخت ہو سکتا ہے؟ اور اگر ہو بھی جائے تو کیا کوئی خریدے گا؟ مضمون پڑھے بغیر لوگوں نے اپنے اپنے تاثرات کا اظہار کچھ یوں کیا۔

اچھا! اگر میں کہوں ہاں کینسر فروخت ہوتا ہے اور لوگ خریدتے ہیں تو آپ کیا کریں گے؟

کینسر فروخت کرتی میں ہر اس دکان کو بند کروادوں گا، آگ لگا دوں گا اور کینسر فروخت کرنے والے کو جیل بھجوادوں گا۔ میری حکومت ہو تو ایسا قانون پاس کروادوں کہ کینسر بیچنے والے کو سو بار سزائے موت سُنائی دی جائے۔

ہاں! ہمارے ہاں کینسر بیچا جاتا ہے۔ گلی کوچوں میں آپ کی گلی کے کونے پر موجود پان کا کیبن کینسر بیچ رہا ہے اور ہمارے نوجوان اسے خرید رہے ہیں۔ یہ گٹکا، مین پوری اور چھالیہ وغیرہ یہ وہ کینسر ہے جو ہماری آنکھوں کے سامنے فرو خت ہو رہا ہے۔ کیا روک سکو گے؟

کیوں؟ خاموش ہو گئے نا!

تم سوچ رہے ہو میں نے اس موضوع کو کیوں چُنا؟

ہسپتال میں بیٹھے ستّر سالہ بوڑھے شخص سے میں نے پوچھا بزرگوار! آپ کیوں ہسپتال آئے ہیں؟

کہنے لگے کیا بتاؤں جوان بیٹے کو کینسر ہوگیا ہے بس اسی کے لیے اس بڑھاپے میں خوار ہو رہا ہوں۔

میں نے پوچھا بابا جی! آپ کا بیٹا کیا کرتا ہے؟

بڑے صاحب نے میری طرف دیکھا اور کہا ’’وہ بس دکھ دیتا ہے اور کچھ نہیں کرتا۔‘‘ ان کے الفاظ و لہجے میں ایسا کرب تھا کہ میں بیان نہیں کر سکتا۔

ایک اور صاحب کو دیکھا کہ انہیں بھی گٹکا کھانے سے کینسر ہو گیا تھا۔ اب معاشی مسائل بھی تھے، جوان بیٹی گھر چلانے کے لیے فیکٹری جانے لگی، چھوٹا بیٹا جسے اسکول جانا چاہیے تھا اس کا اسکول چھڑا دیا گیا اور کام سیکھنے موٹر میکینک کے پاس بیٹھ گیا۔

لوگوں کی اذیتیں اور تکالیف، مریضوں اور ان کے ساتھ موجود ان کے ماں باپ، بہن بھائی اور اولاد کے چہروں کو دیکھیے تو آپ اس دکھ کو محسوس کر سکیں گے کہ جہاں مایوسی و غربت نے اپنے سائے گہرے کر رکھے ہیں۔ چہروں پر موجود کرب کو الفاظ دینے پر قادر ہوتا تو یقین جانیے صفحات آنسوؤں کے سبب گھل جاتے۔

میرے، آپ کے گلی کوچے میں کینسر فرو خت ہو رہا ہے۔ گٹکے کی تیاری میں گائے کا خون، شیشہ، کافور، اور چھالیہ کو گلانے کے لیے تیزاب کا استعمال، فنگس والی چھالیہ، چونا اور ایک سبز رنگ کا کیمیکل شامل ہوتا ہے۔

حکومت کو اس پر سختی کے ساتھ پاپندی لگانی چاہیے۔ علماء کرام سے بھی التجا ہے کہ جمعے کے خطبوں میں خصوصی طور پر اس پر خطاب کیجیے، لوگوں کو آگاہ کیجیے کہ وہ اپنی اس گندی عادت کے سبب نہ صرف خود اذیت کا شکار ہوتے ہیں بلکہ اپنے اہلِ خانہ کو بھی ایک تکلیف دہ اذیت میں مبتلا کر دیتے ہیں۔ اس ضمن میں مفتیان کرام سے بھی درخواست کہ عوام کی اصلاح کے لیے دوٹوک الفاظ میں ایک فتویٰ بھی جاری کریں کہ کیا ایسی اشیاء جن کی وجہ سے یہ مرض پھیل رہا ہے کو بیچنا، استعمال کرنا جائز ہے؟

سماجی تنظیموں کو چاہیے کہ وہ اس حوالے سے خصوصی ورکشاپ رکھیں گٹکا خور افراد جو جگہ جگہ پچکاری مارتے ہیں اس سے دیگر بیماریاں بھی جنم لیتی ہیں۔ میڈیا اس پر خصوصی مہم چلائے، نوجوان تنظیمیں اس پر ایک کام یہ کر سکتی ہیں ایسے لوگوں کے چھوٹے چھوٹے کلپ بنائیں اور سوشل میڈیا پر چلائیں تاکہ لوگوں کو عبرت حاصل ہو۔ اپنے آس پاس کے لوگوں کو کینسر خریدنے سے روکیے اور کیبن پر موجود گٹکا خور مافیا کو کینسر فرو خت کرنے روکیے اور اس سلسلے میں قانونی اداروں کی مدد کے ساتھ اپنا حصہ ڈالیے۔

آئیے اپنے لوگوں کے لیے آگے بڑھیے!

اپنی ذمہ داری ادا کیجیے!