جنت کی تلاش، بلتستان - وارث اقبال

سورج دھیرے دھیرے کہیں برف پوش نوکیلی پہاڑیوں کی اوٹ میں چھپ گیا تھا۔ ٹھنڈ تھی کہ سانسوں کے دریچوں سے گزرتے ہوئے رگ رگ میں سما رہی تھیں۔ پہاڑوں پر کالی گھٹاؤں نے پہاڑوں کو اپنے دامن میں چھپا لیا تھا اور ان کے سروں پر بیٹھی راج کرتی تھیں۔ ’’وہ وہاں برف باری ہورہی ہے۔ ‘‘ ہم میں سے کسی نے کہا تھا۔ سیاہ گھٹاؤں کی رداؤں سے نیچے سفید بادل تیرتے ہوئے نیچے کو بڑھتے تھے۔ وہ کچھ ہی دیر میں ہم تک پہنچنے کو تھے۔ دو نوکیلی پہاڑیوں کے درمیان میں لکیر سا جھرنا نیچے کو چلا آتا تھا، صدائیں بلند کرتے ہوئے دریائے ہنزہ کے سکون کا محل تاراج کرتا تھا۔ ریت کا ایک ٹیلا ان دو پہاڑیوں سے یوں چمٹا تھاجیسے کوئی بچہ اپنی ماں کے سینے سے چمٹا ہو۔ ’’ یہاں ایک بستی تھی رات کو اوپر سے پانی آیا اور پوری بستی کو بہا کر دریا میں لے گیا۔ ‘‘ وقار جو پشتو گانوں میں کھویا ہوا تھا پہاڑیوں کے نیچے پھیلے ایک سبز میدان کی طرف اشارہ کرتے ہوئے اچانک بولا۔

میں نے غور کیا تو چند سوکھے پودوں کی کسمپرسی اس افتاد کی شاہد تھی۔ وہاں ایک پُراسرار اور ٹھنڈا سایہ تھا۔ جسے دیکھتے ہوئے جسم جھر جھری لیتا تھا۔ وہا ں کا سکوت چیختا تھا، خامو شی نوح کناں تھی۔۔۔ بے بسوں کی چیخیں پہاڑیوں سے ٹکرا کربین کرتی تھیں۔

’’یہاں رکنا ضروری ہے وقار۔ ‘‘

ہم دریائے ہنزہ کے کنارے کھڑے دوسری طرف کی پہاڑیوں پر نظریں جمائے تھے۔ جیسے سارا لینڈ سکیپ ہمارے سامنے تشکیل پا رہا ہو۔ جیسے نیلے آسماں سے ملبہ اتر رہا ہو اور ہمارے سامنے منظر در منظر بنتے جاتے ہوں۔ جیسے کوئی بچہ پلیڈو سے یہ پہاڑاور میدان تخلیق کرتا جاتا ہو۔ میں نے پہاڑوں کی چوٹیوں کو دیکھا تو ٹھنڈ نے میری نگاہوں تک کو منجمد کر دیا۔ اُن کے دیس میں ہوائیں بھیگی ہوئی تھیں اور دھوپ ٹھٹھرتی تھی۔ ان کے بیچ کتنے ہی گلیشئیرز راستوں کی طرح ان کے اندر جاتے تھے۔ جیسے یوٹوپیا کا راستہ ہو یا شنگریلا کی راہگزر۔ لگتا تھا یہی وہ جگہ ہے جہاں سے شنگریلا کی بستی کو راستہ جاتا ہے۔ انہی پہاڑی فصیلوں کے اندر ہی کہیں شنگریلا کا معابد ہو گا، ندی ہوگی جس کے کنارے بچے کھیلتے ہوں گے اور کلکاریاں کرتے ہوں گے۔ رنگوں کی دنیا میں حسینائیں اپنے محبوں کا انتظار کرتی ہوں گی۔ کتنے بانکے جوان کھیتوں میں اپنا رزق تلاش کرتے ہوں گے۔ ’’ او مائی گاڈ اٹس فئیری لینڈ۔ ‘‘ پسو کونز، پسو کیتھڈرل۔۔۔ یہ وہ نام تھے جو ان چوٹیوں کو دیے گئے تھے۔ عام طور پر پہاڑوں کی چوٹیاں نوکیلی نہیں ہوتیں، وہ کوئی ڈھیریوں جیسی ہوتی ہیں مگر یہ نوکیلی تھیں جیسے کسی بچے نے اپنے آرٹ پیڈ پر بنائی ہوں۔ قدرت کے آر ٹسٹ نے جانے کیا سوچا اور پسو کے آرٹ پیڈ پر یہ شاہکار بنا دیے۔ فطرت کا ایک عظیم دروازہ تھا، پہاڑوں کی فصیلوں میں گھرا دروازہ۔ اس کے اندر رینگتا دریائے ہنزہ۔ جس کے پُرسکون پانیوں پر سفید ریت اس طرح پھیلی تھی کہ آرٹ کاایک نمونہ وجود میں آ گیا تھا، لہریا دار۔ بستر کی چادر ہو جیسے۔ اس کے پیٹ کے اوپر پسو کونز کھڑی تھیں، دُھلی دُھلی، ایک خاص قسم کا تقدس لیے ہوئے۔ سنہری نوکیلی۔۔۔ جیسے کسی جادوگرنی نے اپنی حنائی زلفیں لہرائی تھیں اور وہ وہیں جم گئی تھیں۔ فطرت کے رکھوالوں نےاُن پر سفید چادر ڈال دی تھی۔ جو ذرا سا سرکتی تو حشر برپا کرتی۔ یہ قطار میں تھیں۔۔۔۔ تہہ در تہہ جیسے کچھ بانکی مٹیاریں تصویر یا سلیفی بنانے کے لیے کھڑی ہوں۔۔۔۔۔ مگر ہر ایک سے بڑھ کر ایک۔۔۔ حسین۔۔۔ غارت گر!

میں نے اپنے کیمرے کا فوکس کیا اور اڑتے ہوئے ان چوٹیوں کے اوپر پہنچ گیا۔ میں کس پر رکوں، کہاں پڑاؤ کروں؟ یہاں تو ہر جہت، ہر منظر ہی دلفریب ہے، ہر گوشہ، ہر کونہ جنت نظیر ہے۔ پھر مجھے سبزے کا ایک چھوٹا سا میدان دکھتا ہے جسے قدرت کے فن کار نے بنایا اور اس پر سفید چادر ڈال دی۔ جونہی چادر کا ایک کونہ ہٹا تو وہ میرے سامنے آیا۔ یہی ہے جنت کی دہلیز، یہیں کہیں کوئی بڑا سا دروازہ ہوگا، جنت کا دروازہ، فردوس کا دروازہ! یہیں کہیں ہو گی میری شنگریلا جس کے میں خواب دیکھتا ہوں۔ مجھے سے کئی اس کی چاہ میں کوہ نورد رہے، کوئی اسے نہ پا سکا مگر چاہنے والے کم نہ ہوئے نہ چاہنے والوں کا عزم ٹوٹا۔ سفید دودھ جیسا گلیشئیر نیچے کو آتا تھا۔ شاید وہ جنت کا راستہ تھا، میں مزید زوم کر کے کچھ تلاش کرتا تھا۔۔۔ شاید کوئی پری یا کوئی حور؟

ہم سب شاہراہ ریشم کے کنارے ہنزہ دریا سے اوپر پھیلے ہوئے پسو کونز کے حسین مناظر سے لطف اٹھا رہے تھے۔ ہواؤں کی آوازیں تھیں کہ گویا بہت سے کبوتر اڑان بھرنے کے لیے اپنے پر پھڑ پھڑا رہےتھے۔ وہ ہمیں دھکیل رہی تھیں۔ یہاں سے ہٹنے کا کہہ رہی تھیں مگر کوئی بھی یہاں سے ہٹنے کو تیار نہیں تھا۔ ہر کسی میں جرمن آرٹسٹ فریڈرک کیسپر کی روح سمائی تھی جو اس منظر کا ایک ایک گوشہ اور ایک لمحہ قید کرنا چاہتا تھا، محفوظ کرنا چاہتا تھاکہ باقی زندگی انہی خوبصورت یادوں کے سہارے گزرے گی۔ سب ایک ہی طرف سے آتے ہیں اور ایک طرف چلے جاتے ہیں۔ کچھ ہیں جو عملوں کی بوریاں بھر کر لے جاتے ہیں کچھ ان کے ساتھ قدرت کی خوبصورت کے خزانے بھی لے جاتے ہیں۔ وقت سب کا ہی گزر جاتا ہے ہنستے ہوئے یا روتے ہوئے مگر جو وقت فطرت کے قریب گزرتا ہے وہ امر ہو جاتا ہے۔

فطرت کی خاموشی ایسے ہی اترتی تھی جیسےسورج کی روشنی پیڑوں پر۔ جب ہواؤں کی سیٹیاں دھیرے دھیرے چلتی ہوئی کانوں میں اترتی تھیں تو وجود ستار کی تاروں سا کانپتا تھا۔ اس لطف کو بیان نہیں کیا جاسکتا۔ نہ قلبی واردات کا نقشہ کھینچا جا سکتا ہے۔ بس مجھے اتنا پتہ ہے کہ یہاں میں سرخرو ہوجاتا ہوں، نیا ہوجاتا ہوں۔۔۔۔ شاید دوبارہ پیدا ہوجاتا ہوں۔ میرے اندر سے وسوسوں، لغزشوں اور میل کا سارا بوجھ خزاں رسیدہ پتوں کی طرح جھڑ جاتا ہے۔