جمہوریت اور جمہوری حقوق - حبیب الرحمٰن

ابھی مسلم لیگ "ن" کی حکومت کو بنے بمشکل سال سے کچھ اوپر ہی ہوا تھا کہ اس کو مشکلات نے آگھیرا اور اس کے خلاف الیکشن میں دھاندلی کا الزام عائد کرنے کے بعد ایک بھر پور تحریک کا آغاز ہوا جس کے نتیجے میں ایک جانب تو حکومتی امور پر وہ اپنے آپ کو مرکوز نہ رکھ سکی اور دوسری جانب وہ بہت سارے امور جن کی جانب وہ پیش رفت کرنا چاہتی تھی (اگر کے ساتھ) نہ کر سکی جس میں اہم ترین متوقع قدم چین سے اپنی قربت کو مزید مستحکم کرنا بھی شامل تھا۔ گمان یہی ہے کہ چین کا "سی پیک" کے سلسلے میں دورہ انہي دنوں میں متوقع تھا جن دنوں اسلام آباد کا گھیراؤ پی ٹی آئی اور پی ٹی اے نے کیا ہوا تھا۔ یہ گھیراؤ بھی اتنا شدید اور بھرپور تھا کہ حکومت کے ختم ہوجانے کے امکانات بہت روشن ہو گئے تھے۔ اگر بنظر غائر دیکھا جائے تو حکومت بنتے ہی مسلم لیگ "ن" کو اس طرح گھیر لیا جانا ماوارئے فہم ہی محسوس ہوا لیکن اس کے باوجود بھی عوام کا رد عمل دیدنی تھا۔ 126 دنوں کے دورانیہ میں اور بھی بہت ساری ایسی باتیں ہوئیں جس سے حزب اختلاف کی جماعتوں کو تو شاید بہت کچھ حاصل ہوا ہو لیکن یہ بات طے ہے کہ پاکستان کو اپنی مشکلات میں مزید اضافے کے سوا اور کچھ بھی حاصل نہیں ہوا۔ دھرنا بے شک "اے پی ایس" کے وحشت ناک سانحے کے بعد ختم ہوا لیکن "ن" کے خلاف جس قدم کو بڑھادیا گیا تھا وہ مسلسل بڑھتا ہی رہا جو آج تک جاری ہے جس کی وجہ سے اسے اپنے پورے دور حکومت کے اندر جس کے ختم ہونے میں اب چند ہفتے ہی رہ گئے ہیں، سکون کا سانس لینا میسر ہی نہیں ہو سکا۔ ہر مرتبہ یہی محسوس ہوا کہ شاید آنے والا سال "ن" کا آخری سال ہو لیکن کسی نہ کسی طرح اس کی مدت اب پوری ہونے کے قریب ہی آگئی۔

ایسا کیوں ہوا، ہوتا رہا، مسلسل ہو رہا ہے؟ کون اس کے پس پشت ہے؟ کیوں کسی بھی حکومت کو مدت سے پہلے ختم کرنے کے لیے حزب اختلاف سر گرم ہوجاتی ہے؟ اس سرگرمی کو کون مہمیز دیتا ہے؟ کیا اس سے دنیا میں پاکستان کی عزت بڑھتی ہے؟ ملک اقتصادی لحاظ سے مستحکم ہوتا ہے؟ عوام کی خدمت ہوتی ہے؟ خوشحالی میں اضافہ ہوتا ہے؟ توانائی کے بحران پر قابو پانے میں مدد ملتی ہے؟غربت میں کمی آتی ہے؟ فلاح و بہبود کے منصوبے پایائے تکمیل تک پہنچ جاتے ہیں؟ خارجہ تعلقات میں بہتری آتی ہے؟ اندرونی خلفشار سرد پڑجاتا ہے؟ فضائی آلودگی کم کرنے میں مدد ملتی ہے؟ شاہراہیں لش پش کرنے لگتی ہیں؟ سڑکوں پر آرام دہ گاڑیوں کا اضافہ ہونے لگتا ہے؟ انصاف سستا ہو کر دہلیز تک آپہنچتا ہے؟ گھر گھر خوشحالی کا دور آجاتا ہے اور لوگ ملک کے چپے چپے پر خوشی میں بھنگڑا ڈالنے لگتے ہیں؟

ہر الیکشن کے بعد ایسا ہی ہوتا آرہا ہے اور جو کبھی حزب اقتدار ہوتی ہے وہ حزب اختلاف بن جاتی ہے اور جو کبھی حزب اختلاف ہوتی ہے وہ اقتدار کی مالک بن جاتی ہے اور جہوریت کے روز اول سے "تو چل میں آیا" کا یہ کھیل جاری ہے اور اب تو عوام اس کھیل کے اتنے عادی ہو چکے ہیں کہ کسی کے اقتدار میں آتے ہی پھر سے "ٹام اینڈ جیری" کی کارٹون فلم چلا دیتے ہیں۔ جب صورت حال یہ ہو اور مندرجہ بالا اٹھائے گئے سوالات کا جواب کوئی لیڈر، پارٹی، گروہ، حکومت کا کوئی ادارہ، کوئی صاحب اقتدار اور کوئی حزب مخالف دینے اور سمجھانے کے لیے تیار و آمادہ نہیں ہو تو پھر "اقتصادی سروے کے اعداد و شمار" کچھ ایسے ہی ہوا کرتے ہیں۔ "وفاقی حکومت 5سال پورے کرنے کے باوجود اقتصادی حالت کو بہتر نہیں کرسکی۔"

جب کسی بھی حکومت کو اس قسم کے حالات کا سامنا رہے گا تو پھر کسی مثبت صورت حال کا تصور خواب تو ہو سکتا ہے حقیقت نہیں۔ اقتصادی سروے میں جو جو باتیں لگھی گئی ہیں وہ ساری کی ساری پرانی ہیں بس ہر سال اور حکومت کے ہر اختتامیہ پر کچھ اعداد و شمار کو "جمع" کر کے اور کچھ کو "منفی" کرکے سامنے کر دیا جاتا ہے۔ وجہ یہ ہے کہ ہر دور میں ہر حکومت کے ساتھ حالات وہی کے وہی ہوتے ہیں جو اس وقت "ن" کو در پیش ہیں۔ لیکن جو کسی کے دامن کو داغ دار کہنے اور ثابت کرنے میں ہمہ وقت مصروف عمل رہتے ہیں، کرسی اقتدار کو بدل دینے کے لیے پرانے "پاپیوں" کو اپنے ساتھ ملا کر ان کو ابھرنے کے مواقع فراہم کرنا اور جب وہ اقتدار میں آجائیں تو جانے والوں کو "زم زم دھلا اور کوثر پیا" بنا کر اپنے ساتھ ملاکر پھر کرسی اقتدار کے خلاف ہوجانا، شاید پاکستان کا مقدر بن چکا ہے اور لگتا ہے کہ اس بیماری کا خاتمہ (اللہ نہ کرے) ملک خداداد کے خاتمے پر ہی ختم ہوگا۔

موجودہ حکومت سخت احتساب کا سامنا کر رہی ہے اور حکمرانوں کا احتساب ہونا بھی چاہیے اور نہایت بے رحمانہ ہونا چاہیے لیکن کیا سابقہ حکمرانوں کی ہر کرپشن اور صادق و امین کی شرائط پر کسی کو بھی گرفت میں نہیں لینا چاہیے؟ حزب اختلاف میں شامل کئی نام ایسے ہیں جن کا کردار پارٹی کی بنیاد پر اور رہنماؤں کی بنیاد پر اتنا غلیظ رہا ہے کہ ان کا ذکر کرتے اور نام زبان پر لاتے ہوئے بھی الٹیاں آنے لگتی ہیں لیکن اب تک جن جن کو بھی گھیرا جارہا ہے یا وہ "انصاف" کے شکنجے میں جکڑے ہوئے نظر آرہے ہیں وہ صرف اور صرف اقتدار پر متمکن افراد ہی ہیں۔ قوم ہی نہیں، ہر وہ فرد جس کو "چمک" بھا گئی ہے، خواہ وہ افراد ہو، لکھاری ہوں، تجزیہ نگار ہوں، مبصر ہوں، اخبارات و رسائل کے مالکان ہوں، سارے کے سارے 27 دسمبر 2007 منانے کے بہانے کھربوں روپوں کے اشتہارات چھاپنے کے لیے بینظیر بھٹو کی شہادت کو جس طرح پیش کرتے کیا وہ "حلال" ہے؟

اس میں کوئی شک نہیں کہ ایک عظیم لیڈر کی اس طرح موت پر جتنا بھی ماتم کیا جائے کم ہے لیکن کیا اس واقعہ کے فوراً بعد پورے پاکستان کو ایک ہفتے تک پھونک کر رکھ دینا، لوٹ لینا، بازار جلادینا، گاڑیوں کو راکھ کے ڈھیر میں تبدیل کردینا، ریل گاڑیاں جلا دینا، عزت و آبرو کی دھجیاں دھجیاں کردینا کیا ایسا المیہ اور جرم نہیں جس کی اسی انداز میں بار بار تشہیر کرنا اور خاص طور سے اسی دن سارے اخبارات میں اس سانحے سے عوام کو آگاہی دینا لازمی ہو؟ پھر اس بات کو بھی عوام تک پہنچانا کہ یہ سب کچھ "پسنی" سے "خیبر" تک ظلم و بربریت کرنے والی واحد جماعت اسی بینظیر کی جماعت تھی جس کو آج کل پاک دامنی کا سرٹیفیکیٹ ملا ہوا ہے۔ یہی ماضی کا لیڈر جو کبھی "مسٹر ٹین" اور "سرے محل" کا مالک کہلاتا تھا آج کس کی ایما پر پورے ملک میں دندناتا پھر رہا ہے اور اس کو کوئی بھی انگلی تک لگانے کے لیے تیار نہیں؟

میری سمجھ سے یہ چیز باہر ہے ماضی کے برے حال میں اور حال کے گندے انڈے مستقبل میں کیسے پاک صاف بنا دیے جاتے ہیں؟ ایک جانب حکومت اس بات کی معترف ہے کہ اقتصادی صورت حال انحطاط کا شکار رہی لیکن اس کے فوراً بعد ہی وہ یہ کہتی ہوئی دکھائی دیتی ہے کہ بہت سارے امور میں صورت حال بہتر بھی رہی ہے، چنانچہ رپورٹ میں بیان کیا گیا ہے کہ " لیکن موجودہ حکومت نے بے شمار اقدامات کیے اور اقتصادی حالت کو بہتر کیا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کے پاس پلاننگ فریم ورک تھا۔ موجودہ حکومت نے وژن 2025ء پلان بنایا۔ ترقیاتی فنڈز کو 300 ارب سے ایک ہزار ارب تک کیا گیا۔ احسن اقبال نے کہا کہ موجودہ حکومت کی کوششوں سے 5سال میں 1100میگاواٹ بجلی پیدا کی گئی، 1750 کلو میٹر نئی موٹروے شروع کی گئی ہے، ملک سے دہشت گردی کو ختم کیا گیا، سیکورٹی آپریشن کیے، آج پاکستان محفوظ ملک ہے جہاں امن واپس آیا ہے۔ مشیر خزانہ مفتاح اسماعیل نے اقتصادی سروے کی تفصیلات بتاتے ہوئے کہا کہ 5.28فیصد ترقی کا ہدف پچھلے سال تھا، اس سال 5.49فیصد ہے، 3.8 فیصد خسارہ تھا، اس سال 4.5ہو جائے گا، قرضوں کی صورت 2013ء میں 60.2ارب سے بڑھ کر 61.4ارب فیصد ہوگئی ہے، جو قرضے لیے ان کو گیس کے پلانٹس کے لیے خرچ کیا، جو بجلی دستیاب ہے ان قرضوں کی وجہ سے ہوئی ہے، نیلم جہلم پروجیکٹ اور لواری ٹنل رواں برس مکمل کیا گیا۔ مفتاح اسماعیل نے کہا کہ جون تک موجودہ اسمبلی کی مدت پوری ہوجائے گی، ٹیکس اور ڈیوٹی میں 3ماہ کے لیے تبدیلی نہیں ہوسکی، تمام شعبوں کے لیے پورے سال کا تخمینہ لگایا جاتا ہے، نئی حکومت اپنی مرضی سے تبدیلی کرسکتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ جی ڈی پی کا حجم 22 ہزار ارب روپے سے بڑھ کر 34 ہزار ارب روپے ہوگیا ہے"۔

اس میں کوئی شک نہیں کہ ملک میں امن و امان کی صورت حال بہتر ہوئی لیکن احسن اقبال نے جس انداز میں یہ بات بیان کی اس سے یوں محسوس ہوتا ہے جیسے یہ سارا کا سارا کارنامہ حکومت کا ہے جبکہ ایسا کچھ بھی نہیں۔ بے شک ایسا موجودہ حکومت کے دور میں ہی ہوا لیکن اس میں افواج پاکستان ہی کا حصہ ہے جس نے حکومت کی "نرم" پالیسی کے برخلاف "سخت" رویے کو شعار بنایا جس کی وجہ سے ملک دشمنوں کے خلاف کامیابیاں نصیب ہوئیں۔ کچھ "گھی" ہوتے ہی ایسے ہیں جن کو سیدھی انگلیوں سے نکالا ہی نہیں جا سکتا تھا سو ایسا ہی کیا گیا اور حالات کو اپنے قابو میں لایا گیا۔ رہا بجلی میں اضافے کا معاملہ تو اس سے انکار نہیں کیا جاسکتا کہ موجودہ حکومت کے دور میں بجلی میں اضافہ دیکھنے میں آیا لیکن وہ اضافہ اس لیے نظر نہیں آسکتا کہ جس رفتار سے ضرورتوں میں اضافہ ہو رہا ہے اس سے بہت کم رفتار سے بجلی کی پیداوار میں اضافہ کیا۔ اگر سسٹم میں 1000 میگاواٹ بجلی شامل کی جاتی ہے تو اضافہ 1300 کا ہوچکا ہوتا ہے۔ اگر اس سلسلے میں جنگی بنیادوں پر کام نہ کیا گیا تو پاکستان کسی بھی وقت تاریکی میں ڈوب سکتا ہے۔

لہٰذا ضرورت اس امر کی ہے کہ اس پر بھرپور توجہ دی جائے اور ہر سال بڑھتی ہوئی ضرورت سے کہیں بڑھ کر پیداوار میں اضافہ کیا جائے۔ حکومت کاکام ان ہی سارے امور پر نظررکھنا اور ان کو پورا کرنا ہوتا ہے۔ بے شک اقتدار پھولوں کی سیج نہیں ہوتا۔ اس بات کو پاکستان کے سارے اداروں اور جماعتوں کو یاد رکھنا چاہیے۔ مخالفت جمہوری حق سہی لیکن اگر مخالفت سے ریاست کا وجود ہی ڈانواں ڈول ہونے لگے تو پھر ایسے حق سے دست برداری کہیں بہتر ہے۔

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com
/* ]]> */