شیخ سدو (3) - خرم علی راؤ

پچھلی قسط

شیخ صاحب کی عمر کے اس دور میں ہیں جسے ہم ادھیڑ عمری سے تعبیر کرتے ہیں، مگر صاحب! شیخ جی کا فلسفہ اس معاملے میں بھی سارے جہاں سے الگ ہے۔ فرماتے ہیں کہ، مرد کی تو جوانی ہی چالیس کے بعد شروع ہوتی ہے اور پھر جب تک سانس تب تک آس کے فارمولے پر چلتی ہے۔ ہر موضوع کی طرح آپ ان نازک معاملاتِ جوانیہ و جولانیہ پر بھی گہری دسترس کے حامل ہیں۔ کئی نسخہ جات شباب آور و کشتہ جاتِ جولانئ طبع آپ کو نہ صرف ازبر ہیں بلکہ بڑی فراخ دلی سے وہ انہیں ضرورت مندوں میں فی سبیل اللہ تقسیم بھی کرتے رہتے ہیں۔ ان کے تھڑے پر دور دور سے ناشاد لوگ فیض حاصل کر نے آتے ہیں اور شادکام جاتے ہیں۔ اپنی شادی سے کچھ پہلے شیخ صاحب شاید کسی داخلی کمزوری کے باعث ایک نامور حکیم صاحب سے ملے تھے اور پھر دوستی گانٹھ کر کچھ عرصے ان کے ہاں شوقیہ دوا سازی بھی کی تھی۔ بس تب سے خود کو حکیم اجمل خان سے کم نہیں سمجھتے۔ ہمارے سامنے شیخ صاحب کے مختلف کیفیات میں اور مختلف اوقات میں جاری کردہ بیانات کے مطابق، یہ سارے نسخہ جات آپ کے ذاتی تجربہ شدہ تھے اور نتیجتاً خوب جلوۂ کثرتِ اولاد دکھا گئے تھے۔ شیخوں کی برادری کے اضافے میں ہمارے شیخ سدو صاحب کا کنٹری بیوشن بے مثال تھا۔

خیر یہ تو جملۂ معترضہ تھا، بیان کچھ اور کرنا مقصود ہے۔ ہوا یہ کہ شیخ صاحب جس تھڑے پر روزانہ رونق افروز ہوا کرتے تھے اس کے سامنے ایک مکان تھا۔ مالک مکان نے اسے کرائے پر دینے کے لیے مخصوص کر رکھا تھا، کرائے دار آتے جاتے رہتے تھے۔ چنانچہ، وہاں ایک نئے کرائے دار آئے، ماں باپ، دو جوان بیٹیاں، اور ایک دس بارہ سال کا بیٹا، یہ تھی ساری فیملی۔ ماں باپ دونوں جاب کرتے تھے، لڑکیاں جوان اور خوبصورت تھیں۔ بڑی بہن کی عمر 30 کے لگ بھک تھی اور اس سے چھوٹی کی 27 28 سال۔ شیخ صاحب نے حسب معمول مکان پر گہری نظر رکھنی شروع کردی۔ مجھے بڑی تشویش کی حد کو چھوتی ہوئی سنجیدگی سے بتایا کہ علی صاحب! محلے کا معاملہ ہے ماں باپ دن بھر کام پر رہتے ہیں، لڑکیاں سارا دن اکیلی رہتی ہیں، دیکھنا چاہیے نا کہ کوئی آتا جاتا تو نہیں، کوئی ایسی ویسی بات تو نہیں؟ میں تائید کے سوا کیا کر سکتا تھا۔ انہیں یہ بتلانا اور سمجھانا تو بیکار ہی تھا کہ شیخ جی اب انٹرنیٹ اور موبائل کا زمانہ ہے، اب عشق و محبت کی پینگیں بڑھانے کے لیے آنا جانا نہیں پڑتا، سب گھر بیٹھے ہی ہو جاتا ہے۔

خیر، چند روز گزرے تو میں نے نوٹ کیا کہ شیخ صاحب باقاعدگی سے خضاب لگا رہے ہیں، کپڑے بھی بڑے قائدے کے پہن رہے ہیں، خط بھی باقاعدگی سے بن رہا ہے، تھڑے پر بیٹھنے کے معمول میں بھی اضافہ ہوگیا ہے بلکہ مرزا صاحب نے تو ایک روز شیخ صاحب کے یوں خضاب کے استعمال پر شعر میں اپنے مخصوص زہریلے انداز میں چوٹ بھی کی کہ

مصروف ہیں حضور یہ کس بندوست میں

اپریل کی بہار نہ ہوگی اگست میں

جس پر شیخ صاحب ہتھے سے اکھڑ گئے تھے اور اول فول بکنے لگے تھے۔ بڑی مشکل سے معاملہ رفع دفع ہوا تھا۔

میں نے شیخ صاحب کو کریدا، پہلے تو کنّی کتراتے رہے مگر جب میں نے یقین دلا دیا کہ بات مجھ تک ہی رہے گی تو کھلے۔ بولے علی میاں، کیا بتاؤں؟، شاہدہ کچھ ہم پر مہربان سی ہو گئی ہیں۔ شاہدہ اس نئی فیملی کی بڑی لڑکی کا نام تھا۔ میں بڑا حیران ہوا، تفصیل پوچھی تو پتہ چلا کہ ایک دن ان صاحبہ کو بازار سے کوئی ضروری چیز منگوانی تھی تو سامنے تھڑے پر شیخ صاحب پر نظر پڑ گئی اور ان خاتون نے ذرا ملتجیانہ لہجے میں شیخ صاحب سے کہہ ڈالا۔ بس پھر کیا تھا؟ شیخ جی یقین کر بیٹھے کہ وہ ان پر مر مٹی ہے۔ میرا جی چاہا کہ ایک ساتھ اپنا اور شیخ صاحب کا سر پیٹ لوں۔ میں نے کہا بھی کہ حضرت! آپ اتنے ذہین، تجربہ کا، دنیا دیکھے ہوئے، گھاٹ گھاٹ کا پانی پیے ہوئے ہیں، آپ اتنی سی بات پر گمانِ عشق کر بیٹھے؟ تو دیوداس والی اداس مسکراہٹ سے بولے میاں! یہ میرے دل کی گواہی ہے، وہ بار بار کبھی دروازے کبھی کھڑکی میں آتی ہے تھڑے کی جانب دیکھتی ہے، مسکراتی ہے، بتاؤ، یہ سب وہم ہے کیا؟ خیر، اب میں مزید کیا کہتا، شیخ صاحب کے لیے خیر و عافیت کی دعا مانگتا چلا آیا۔

کچھ دن گزرے، شیخ صاحب نے بڑی خوبصورتی سے لڑکی کے باپ سے دوستی لگالی اور یوں گھر میں آنا جانا بھی شروع کردیا۔ اب وہ اکثر شام کو ان کے والد ے ساتھ گھر میں بیٹھے گپیں ہانک رہے ہوتے تھے اور اپنے تئیں دیدار یار سے سرفراز بھی ہورہے ہوتے تھے۔ تھڑا اب کچھ ویران ویران سا رہنے لگا تھا۔ سب حاضرینِ تھڑا بڑے پریشان تھے کہ تھڑے کی رونق تو اصل میں شیخ صاحب سے ہی تھی۔ میں بھی حیران کہ یہ اس عمر میں شیخ جی کو کیا ہوگیا؟ْ مجھے ملتے تو کہتے میاں! محبت عمر نہیں دیکھتی، اب تو وہ مجھ سے باتیں بھی کرتی ہے۔ بس اب کسی بھی دن دل سے مجبور ہوکر اظہار محبت بھی کردے گی۔ میں نے ایک دو مرتبہ دبے الفاظ میں سمجھانے کی کوشش کی تو ناراض ہونے لگے اور فرمانے لگے کہ تم تو مجھ سے جلتے ہو۔ پھر اس ڈرامے کا ڈراپ سین خوب ہوا۔

میں کچھ دن کے لیے آؤٹ آف سٹی تھا۔ واپس آیا تو تھڑے پر حاضری دی۔ دیکھا کہ وہی رونق لگی ہے اور شیخ صاحب اسی طرح میر محفل بنے پھلجڑیاں چھوڑ رہے ہیں۔ وہ عاشقوں والی مخصوص یاسیت کی کیفیت اور احمق پنا آپ کے چہرے سے مقفود تھا۔ میں بڑا حیران ہوا، جب موقع ملا تو تنہائی میں پوچھا کہ شیخ صاحب، این چیست؟ یہ کیا معاملہ ہے؟ ہماری متوقع شیخانی نمبر دو کا کیا بنا؟ تو ایک دم چہرے پر غیض و غضب کی کیفیات نمودار ہوئیں۔ تلملا کر بولے، ارے میاں! بد ذات تھی کم بخت، ایک دن بولی شیخ جی آپ کے تھڑے پر جو قصائیوں کا لونڈا اشتیاق بیٹھتا ہے، مجھے اچھا لگتا ہے، وہ بھی مجھے پسند کرتا ہے، شادی کرے گا مجھ سے، رشتہ بھی بھیجا ہے، پر ابّا مان نہیں رہے کہ، برادری کا نہیں ہے۔ شیخ جی میرا یہ کام کردیں، ساری عمر دعائیں دوں گی۔ میرے اندر بڑی زور سے قہقہہ مچلا مگر میں نے خود کو قابو میں رکھتے ہوئے بڑی سنجیدگی سے بوچھا پھر؟ خشگمیں نظروں سے مجھے دیکھتے ہوئے بولے، پھر کیا؟، زندگی میں پہلی فرمائش تھی اس کی، کیا کرتا؟ جھوٹی سچی سنا کر اس کے باپ سے ہاں کروادی ہے۔ اگلے مہینے ہے دونوں کی شادی۔

تو یہ ہیں ہمارے شیخ صاحب!

ٹیگز