قاسم علی شاہ، میرے مرشد و رہنما - روبینہ شاہین

قاسم علی شاہ میرے مرشد بھی ہیں، محسن اور رہنما بھی۔ کچھ سال پہلے کی بات ہے۔ میں ایک سنگین بیماری کا شکار تھی۔ کچھ بیماریاں جسمانی نہیں روحانی ہوا کرتی ہیں اور روحانی بیماریاں جسمانی بیماریوں سے زیادہ خطرناک ہوتی ہیں۔ میں بھی روحانی بیماری میں مبتلا تھی جس کا نام "نا شکری" تھا۔ اللہ گواہ ہے کہ میں نے صبر بہت کیا۔ پر کیا کروں اس دل کا جو ناشکری پر تلا بیٹھا تھا؟ میرے ابو کی ڈیتھ ہوئی، بہت سمجھایا دل کو کہ یہی قادر مطلق کا فیصلہ ہے پر دل سے آواز آتی ہی نہ تھی۔

اسی گومگو میں زندگی چل رہی تھی کہ اس میں قاسم علی شاہ آئے۔ انٹرنیٹ سے شناسائی ہوئی۔ لیکچر سننا شروع کیے۔ ان کا ایک لیکچر اٹھایا جو نو قسم کی ذہانتوں پر مشتمل تھا، لکھا اور ہماری ویب کو بھیج دیا۔ انہوں نے پبلش کیا جسے کافی لوگوں نے سراہا، میں نے وہ لنک سر کو بھیج دیا۔ انہوں نے میری نہ صرف تعریف کی بلکہ اپنے لیکچر ز کو کتابی صورت میں ڈھالنے کی جاب بھی دے ڈالی۔ اس دوران ان کو بہت سننے کا موقع ملا، بہت کچھ سیکھا، بہت سی الجھنیں اور گرہیں کھلیں، زندگی جو بہت مشکل لگتی تھی آسان لگنے لگی، مایوسی کے بادل چھٹے، زندگی میں امید کے دیپ جلنے لگے، ناشکری جیسی روحانی اور مہلک بیماری سے نجات ملی۔ ان کا لیکچر"اب تو جاگ " مجھے بہت اچھی طرح یاد ہے اور وہ الفاظ بھی کہ کبھی کبھی قدرت وہ الفاظ صرف آپ کے لیے بلواتی ہے۔ مجھے بھی یہی لگتا ہے کہ وہ لفظ خاص میرے لیے تھے، میرے حصے کا رزق۔ یقین جانیے مجھے لگا کہ آج کے بعد کبھی ناشکری ہو نہیں پائے گی اور آج تین سال بعد بھی وہی کیفیت ہے جب پہلی دفعہ سن کے ہوئی۔ میں نے اسلامیات میں ایم فل کیا، بہت سے اساتذہ ملے، بہت قابل اور امپریسو، مگر مجھے کوئی شکر پر مائل نہ کر سکا۔ یہ قاسم علی شاہ کے دل سے نکلے ہوئے الفاظ تھے جو دل و دماغ میں گھر کر گئے اور ان سے ایک ایسا رشتہ جڑ گیا، جسے عقیدت کہا جاتا ہے۔ اب بھی زندگی کے رنگ پھیکے پڑنے لگیں تو ان کا کوئی لیکچر سنتی ہوں تو یوں لگتا ہے تاریکی کے بادل چھٹنے لگے ہیں۔ وہ حقیقی معنوں میں میرے مرشد اور رہنما ہیں۔

زندگی میں بہت سے لوگ آتے ہیں مگر وہ لوگ جو زندگی جینا سکھاتے ہیں بہت انمول ہوتے ہیں۔ ان کا وجود تو انمول ہے ہی مگر ان کا قابل رشک کارنامہ یہ کہ انہوں نے اپنے ویڈیو لیکچرز فری آف کاسٹ یوٹیوب پر دے ڈالے۔ بہت سے لوگ جو لائیو ان تک رسائی نہیں رکھتے، وہ یوٹیوب کے ذریعے سن سکتے ہیں اور میں نے دیکھا ان کے اس اقدام کے بعد پاکستان کے اور موٹیویشنل سپیکرز نے بھی اپنی ویڈیوز یوٹیوب پر اپ لوڈ کرنا شروع کر دی ہیں جو کہ ایک مثبت آغاز ہے۔

قاسم علی شاہ بلا شبہ ایک تحریک ہیں، نوجوانان پاکستان کی امید ہیں، پاکستان میں مثبت تبدیلی لانے والوں میں ان کا نام سر فہرست ہوگا۔ تاریخ میں ان کے کردار کو یاد رکھا جائے گا۔ اللہ ان کو لمبی عمر دے۔ وہ اسی طرح اپنی سوچ سے الفاظ اور کردار سے نوجوان نسل کو راہ دکھاتے رہیں۔ آمین!

Comments

روبینہ شاہین

روبینہ شاہین

روبینہ شاہین کا تعلق زندہ دلانِ لاہور سے ہے۔ اسلامک اسٹڈیز میں ایم فِل کیا ہے۔ فکشن کم اور نان-فکشن زیادہ لکھتی ہیں۔ پھول، کتابیں، سادہ مزاج اور سادہ لوگوں کو پسند کرتی ہیں اور علامہ اقبالؒ سے بہت متاثر ہیں۔

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.