الکاسب حبیب اللہ - ڈاکٹر میمونہ حمزہ

ماسی زیبنی سے کب تعارف ہوا، کچھ یاد نہیں۔ بچپن میں ہم نئے گھر میں منتقل ہوئے، تو ماسی زیبنی کو موجود پایا۔ وہ ہمارے پڑوس میں رہتی تھیں، بقول ان کے ہمارے اس محلے میں آنے پر وہ سب سے پہلے ہمارے خاندان سے ملی تھیں۔ رمضان المبارک میں مغرب کے قریب جب ٹرک سے سامان اتارا گیا اور امی جان سامان کے پاس کھڑی تھیں تو ماسی نے بھاگ کر انہیں روزہ افطار کروایا تھا۔ انہیں نے اپنے بچوں کے ساتھ مل کر سامان ترتیب سے رکھنے میں بھی مدد کی، تب سے ماسی زیبنی ہمارے گھر میں آنے لگیں۔ ان کا گھر ہمارے پچھواڑے میں تھا، کسی چیز کی ضرورت ہوتی تو چھت سے آواز دے کر بھی بلا لیتے۔ ماسی زیبنی نے کبھی انکار نہ کیا تھا، وہ بھاگ کر آتیں۔ ان کا خاندان مری سے راولپنڈی آ کر آباد ہوا تھا۔ ان کے سسر سب بیٹوں کی مقدور بھر کفالت کرتے۔ ماسی زیبنی کا نام زیب النساء تھا جو شاید ان کے ماں باپ رکھ کر بھول گئے تھے۔ نکاح خوانی کے وقت قاضی صاحب نے بھی انہیں اسی نام سے پکارا تھا، اس کے علاوہ انہیں زیبنی ہی کہا جاتا، پیار سے یا بیزاری سے، بس وہ زیبنی تھی گھر بھر میں انہیں اسی نام سے پکارا جاتا۔ محبت سے نہ جانے کوئی پکارتا تھا یا نہیں، صلواتیں اسی نام سے سنائی جاتیں، اور پھر یہی نام ان کی پہچان بن گیا، گھر بھی اور باہر بھی۔ ان کے شوہر گویائی کے عارضے میں مبتلا تھے، صاف بات نہ کر سکتے، اس لیے عمومی طور پر خاموش رہتے۔ ان کی بات سمجھ نہ آتی تو ماسی زیبنی ہی ان کی ترجمانی کرتیں، وہ دیہاڑی دار مزدور تھے، ان کا نام عبد الشکور تھا، لیکن محلے میں انہیں شکورا یا سائیں کہہ کر بلایا جاتا۔ جب ہمارے مکان کے اضافی حصّے تعمیر کیے گئے تو مزدوروں میں سائیں صاحب بھی شامل تھے، جو عام مزدور سے بڑھ کر کام کرتے اور کسی کام سے انکار نہ کرتے۔ اس وقت ایک دن کی مزدوری پانچ روپے ہوتی تھی، ان کی خواہش ہوتی کچھ فالتو کام کر کے اضافی مزدوری بھی کما لیں۔

ماسی زیبنی نے تنگ دستی کا سامنا بڑے صبر سے کیا، ان کے گھر میں سالن کم ہی پکتا، دوپہر کو عموماً ان کا کوئی بچہ ہمارے صحن میں لگے دھنئیے پودینے کے پتے اور ہری مرچ لینے آجاتا، امی جان انہیں عموماً سالن کی پلیٹ بھی دے دیتیں، اور ہمیں ان کے صبر اور شکر کی مثال دیتیں، جنکے لیے چٹنی بھی میسر نہیں۔ پھر ماسی نے بھی گھروں میں مزدوری شروع کر دی، کسی کی صفائی کسی کے برتن، کہیں کپڑے دھونے کا کام، ماسی صبح سویرے بچوں کو سکول بھیج کر قریب کی صاحب ِ ثروت آبادی میں مزدوری کرنے چلی جاتیں اور شام کے لگ بھگ واپس لوٹتیں، ان کے سسر نے مکان بیچ دیا تو وہ ایک بیٹھک کرائے پر لے کر اس میں رہنے لگیں، اور مستقبل کے خواب بننے لگیں، وہ اپنی تنخواہ کا ایک حصّہ کمیٹی ڈالتیں، اور کم سے کم اخراجات کے ساتھ گھر چلاتیں، پھر ہمیں پتا چلا کہ اسی محلے میں انہوں نے دو مرلہ زمین خرید لی ہے، جس نے سنا حیران رہ گیا، مگر ماسی نے ثابت کیا کہ غریب مزدور محنت کی کمائی سے خواب کیسے پورے کرتا ہے؟!

ماسی کے بیٹے نے پانچویں تک تعلیم حاصل کی اور جب وہ بنیادی پڑھائی لکھائی کے قابل ہو گیا اور پیسوں کا حساب کتاب کرنے میں طاق ہو گیا تو سکول چھڑوا کر اسے باپ کے ساتھ مزدوری کرنے بھیج دیا۔ بچہ ذہین تھا اور خواب دیکھنے میں ماسی سے بھی دو ہاتھ آگے۔ جیسا کہ امجد اسلام امجد نے کہا ہے:

جھونپڑیوں میں ہر اک تلخی پیدا ہوتے مل جاتی ہے

اسی لیے تو وقت سے پہلے طفل سیانے ہو جاتے ہیں

ماسی کا بیٹا بھی مزدوری کرتے ہوئے نظر مستری کے کام پر بھی رکھتا رہا اور کچھ عرصہ بعد ہی اس نے ایک مستری کے مددگار کے طور پر کام کرنا شروع کیا، جو اس کی ذہانت اور مہارت پر حیران رہ گیا۔ پھر جب ماسی زیبنی نے گھر کی تعمیر شروع کی تو دو مستریوں میں سے ایک ان کا بیٹا تھا اور ایک مزدور گھر کا یعنی سائیں۔ ایسا بھی ہوتا کہ مستری کے جانے کے بعد باپ بیٹا مل کر بھی کچھ دیوار اٹھا لیتے، ایک کمرہ، اور برامدہ جس کی سائیڈ پر باورچی خانہ بھی تھا، لینٹر ڈال کر تیار ہو گیا تھا، ماسی نے بال بچوں کو سمیٹا اور بغیر کھڑکی دروازے اور پلستر کے گھر میں آگئیں۔ سردیاں آئیں تو کھڑکی اور دروازوں کے شگافوں میں بوریاں لگا کر انہیں محفوظ بنایا گیا اور پھر اگلے کئی سالوں میں مرحلہ وار تکمیل ِ تعمیر۔

اسی دوران ماسی نے گھر میں بھینس رکھ لی، جو قسطوں پر خریدی گئی تھی، کچھ بکریاں بھی، ماسی کا دماغ کئی سمتوں میں چلتا تھا، بیٹی جوان ہو رہی تھی، ماسی نے گھر میں رہتے ہوئے کمائی کا نیا ذریعہ اختیار کر لیا، محلے میں کئی لوگوں کو ایک سائیں مرد اور اس کی بیوی کا پکا مکان بنا کر رہنا اور اب صاحب ِ مال (مویشی) ہونا ایک آنکھ نہ بھاتا تھا۔ ان میں ایک خاتون جس کا میاں قطر میں تھا، اس دشمنی میں پیش پیش تھے۔ ماسی کے دیور جیٹھ تک کچھ کرنے کے قابل نہ تھے، جبکہ یہ بھائی پھل پھول رہا تھا، پھر نہ جانے کس نے ماسی کی بھینس کو سوئیاں کھلا دیں اور اسے اونے پونے قصائی نے خریدا۔ ماسی نے قرض اٹھا کر ایک اور بھینس خریدی، مگر اس کے ساتھ بھی یہی ہوا، آخر کار ماسی نے جوان بیٹی کی مناسب جگہ شادی کی اور خود پھر کوٹھیوں میں کام کرنے لگی البتہ گھر میں کچھ مرغیاں اور بکریاں پال لیں۔ دوسری بیٹی کی شادی بھی ایک مالی سے کر دی، تیسری بیٹی کے لیے اس عورت نے ماسی کو پھسلانا شروع کیا جس کا شوہر قطر میں تھا اور اس کا بڑا بیٹا کچھ لنگڑاہٹ کا شکار تھا، یعنی جزوی معذور! ماسی زیبنی کو رشتے دار ہمسائیوں اور کئی لوگوں نے سمجھایا کہ وہ اس بے جوڑ رشتے کو قبول نہ کرے، کیونکہ لڑکے کی ماں بہت لڑاکا اور چالاک ہے، مگر ماسی اس کی موجودہ حالت اور طرز ِ عمل پر سب کچھ فراموش کر بیٹھی۔ اسے اپنی بیٹی کا مستقبل شاندار دکھائی دینے لگا اور چٹ منگنی پٹ بیاہ کر ڈالا۔ ماسی کی بیٹی ان خاتون کے گھر کی بہو بن گئی۔ شادی کے بعد جلد ہی قطری خالہ اپنی جون میں واپس آگئی، سارا دن گھر کا کام کاج کروانے کے بعد وہ بہو کو کھانے کو بھی کچھ نہ دیتی اور طعنوں سے اس کو ہر وقت حقیر اور معمولی ہونے کا احساس دلاتی رہتی۔ بقول اس کے وہ محلوں کے خواب دیکھ رہی تھی۔ اس کا بیٹا بیوی کو گھر میں بسانا چاہتا تھا مگر ماں کے سامنے اس کی ایک نہ چلتی۔ ادھر ماسی کی بیٹی ماں کو کچھ بتائے بغیر اندر ہی اندر سب برداشت کر رہی تھی، ایک گلی میں رہتے ہوئے اسے ماں سے ملنے کی اجازت نہ تھی۔ ایک سال بھی نہ گزرا تھا کہ ماسی کی بیٹی سخت بیمار ہو گئی، ماسی کو کسی ذریعے سے خبر ملی تو وہ جرگہ لے کر پہنچی اور بیٹی کو گھر لے آئی۔ چند دنوں میں قطری خالہ نے بیٹے کو کہہ کر اسے طلاق بھجوا دی۔ ماسی کی بیٹی کو اس صدمے کے بعد ٹی بی ہو گئی اور وہ کافی عرصہ سینی ٹوریم میں رہی۔

اسی دوران ماسی نے بڑے بیٹے کی شادی بھی کروائی اور چھوٹے دو بیٹوں اور ایک بیٹی کو میٹرک تک تعلیم بھی دلوائی۔ طلاق یافتہ بیٹی کا مناسب رشتہ آنے پر اس کا گھر بھی بسایا۔ ماسی سب سے چھوٹی بیٹی کی شادی کے لیے تیاریاں کر رہی تھیں، گھر کے بیرونی کمرے میں اس کا سامان رکھا تھا، جب ماسی کے ارمان ایک مرتبہ پھر حسد کا شکار ہو گئے۔ کسی نے رات کی تاریکی میں مٹی کا تیل چھڑک کر ایک کپڑا ماسی کے گھر کے اندر پھینکا جس سے سارا سامان جل کر راکھ ہو گیا، ماسی حسرت سے تنکا تنکا جمع کیے ہوئے سامان کی راکھ کو تک رہی تھی، معاملہ پولیس کے حوالے ہوا، یعنی داخل دفتر ہو گیا۔

یہ رمضان کا مہینہ تھا، ماسی اور ان کا شوہر پو پھٹتے ہی گھر سے نکل کھڑے ہوتے، روزہ اور مزدوری ساتھ ساتھ چل رہے تھے، ایک دن سائیں عبد الشکور کی طبیعت مزدوری کرتے خراب ہو گئی، اسے پانی پلانے کی کوشش کی لیکن وہ روزہ توڑنے پر راضی نہ ہوا، مالک نے کچھ دیر پنکھے کے نیچے لٹانے کے بعد اسے گھر بھیج دیا، اس نے گھر آکر بھی کسی کو کچھ نہ بتایا، اور اگلے دن پھر روزہ رکھ کر کام پر چلا گیا، اس روز مشقت کرتے ہوئے وہ گرا، دیگر مزدور بھاگ کر اس کے پاس پہنچے مگر ’’الکاسب حبیب اللہ‘‘ (اللہ کا محبوب مزدور) اس کے ہاں پہنچ چکا تھا۔ روزے اور مزدوری کے اجر کے ساتھ۔ ماسی زیبنی کو کام کرتے ہوئے شوہر کے دنیا سے کوچ کر جانے کی خبر ملی، وہ کتنے ہی دن اس خاموش مگر قدر دان شوہر کے سوگ میں آنسو بہاتی رہی۔

عدت گزار کر وہ ایک مرتبہ پھر مزدوری میں جت گئی۔ اسے باقی ذمہ داریاں بھی ادا کرنی تھیں، دو نوں چھوٹے بیٹوں نے بھی کام کاج شروع کر دیا تھا۔ ان کے رہائشی گھر بھی اسی محنت مشقت سے تعمیر ہو گئے تھے۔ ان کی شادیاں کر کے بھی ماسی چین سے نہ بیٹھیں، وہ یہی کہتیں: ’’جب تک ان ہاتھوں میں جان ہے، محنت کیوں ترک کروں؟‘‘

کچھ عرصہ قبل ہمارے میکہ گھر میں اچانک ماسی زیبنی سے ملاقات ہو گئی، کتنے برسوں پر محیط وقفے کے بعد اچانک ملاقات! ماسی بالکل بھی نہ بدلی تھیں حالانکہ زندگی ایک مرحلے سے دوسرے میں آگئی تھی۔ ماسی کے ہاتھوں میں مزدوری کی محنت کے نشان ’’گٹے‘‘ آج بھی موجود تھے، جیسے گٹوں کو دیکھ کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک مزدور کا ہاتھ چوم لیا تھا۔ میری آنکھیں ماسی کے چہرے سے نہ ہٹ رہی تھیں، نجانے کیا خاص تھا اس چہرے میں؟ ماسی کے سانولے چہرے سے کرنیں پھوٹتی محسوس ہو رہی تھیں، اور آخر کار اس کا سبب بھی معلوم ہو گیا۔ ماسی خود ہی گویا ہوئیں:

’’اس دفعہ عمرہ کر کے آئی ہوں رمضان میں، بیٹے نے بہت کہا کہ میں عمرہ کروا دیتا ہوں لیکن میں نے اپنے ان ہاتھوں کی کمائی سے کمیٹی ڈال کر عمرے کے پیسے جمع کیے اور بیٹے کے ساتھ چلی گئی، ابھی دو ہفتے پہلے واپس آئی ہوں‘‘۔

ماسی کے چہرے پر بکھرا اطمینان اور سکون پکار پکار کر کہہ رہا تھا: ’’الکاسب حبیب اللہ‘‘، محنت کش اللہ کا دوست ہے۔

اتنی آسودگی نہ تو مال ِ حرام کمانے والوں کو میسر آتی ہے، نہ لوٹ کھسوٹ کر کے دوسروں کا مال کھانے والوں کو، یہ اطمینان خون پسینہ ایک کر کے رزق ِ حلال کمانے والوں کو ہی ملتا ہے۔

Comments

Avatar

میمونہ حمزہ

ڈاکٹر میمونہ حمزہ عربی ادب میں پی ایچ ڈی ہیں اور انٹرنیشنل اسلامی یونیورسٹی میں اعزازی طور پر تدریس کے فرائض ادا کرچکی ہیں۔ کئی کتابوں کے عربی سے اردو میں تراجم کر چکی ہیں، جن میں سے افسانوں کا مجموعہ "سونے کا آدمی" ہبہ الدباغ کی خود نوشت "صرف پانچ منٹ" اور تاریخی اسلامی ناول "نور اللہ" شائع ہو چکے ہیں

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.