سامان سو برس کا - بشارت حمید

پچھلے سوموار کی شام میرے موبائل پر ایک کال آئی کال کرنے والے صاحب ہماری کالونی سے ہی بات کر رہے تھے انہوں نے میرا نمبر میرے ایک جاننے والے سے لیا تھا۔ ان کی رہائش 5 مرلہ بلاک میں ہے وہ مجھے اپنے ایک 10 مرلہ پلاٹ پر نئے گھر کی تعمیر کے سلسلے میں ملنا چاہ رہے تھے۔ میں‌اس وقت کسی کام سے باہر تھا میں نے انہیں واپسی پر ملاقات کا کہا۔ کچھ دیر بعد واپس آ کر میں نے کال پر ان کا ایڈریس پوچھا اور ان کے گھر ملنے چلا گیا۔ تقریباً آدھا گھنٹہ گھر کی تعمیر کے حوالے سے گفتگو ہوئی۔ میں نے انہیں اپنے تیار شدہ اور زیر تعمیر پراجیکٹس کی تفصیل بتائی۔ آخر میں انہوں نے تیار شدہ گھر وزٹ کرنے کی خواہش ظاہر کی تو میں ‌انہیں اور ان کی بیگم کو ساتھ لے کر اپنا تکمیل شدہ گھر دکھانے ساتھ لے آیا۔ گھر دیکھ کر انہوں نے ہمارے کام کو بہت پسند کیا اور دوبارہ میٹنگ کا ارادہ بھی ظاہر کیا۔ ان کی جاب فیصل آباد سے تقریباً 100 کلومیٹر دور ٹوبہ ٹیک سنگھ میں تھی جہاں‌وہ روزانہ اپنی مہران گاڑی پر جایا کرتے تھے۔

اگلے دو چار دن نہ ان کی طرف سے کوئی رابطہ ہوا اور نہ ہی میں نے رابطہ کیا۔ پرسوں ہفتے کے دن ان کے نمبر پر کال کی تو اٹینڈ نہیں ہوئی یہی سوچا کہ کہیں کام میں مصروف ہوں گے۔ کل اتوار کو پھر انہیں کال کی کہ آج چھٹی ہے، گھر پر ہی ہوں گے تو پراجیکٹ کے حوالے سے مزید میٹنگ کر لی جائے، ان کے بیٹے نے فون اٹینڈ کیا۔ میں نے کہا کہ اپنے والد صاحب سے بات کروا دیں تو بیٹے کے جواب نے مجھے ایک دم ہلا کر رکھ دیا۔ اس نے کہا کہ ابو کی ڈیتھ ہو گئی ہے، وہ منگل کے روز اپنی جاب سے چھٹی کے بعد ٹوبہ ٹیک سنگھ سے واپس فیصل آباد آ رہے تھے کہ راستے میں ان کی گاڑی کسی وجہ سے بے قابو ہو کر درخت سے جا ٹکرائی اور وہیں ‌ان کا انتقال ہو گیا۔ انا للہ وانا الیہ راجعون۔

یہ جان کر بہت صدمہ ہوا کہ ابھی تین چار روز پہلے تو ملاقات ہوئی کیا کیا پلاننگ کر رہے تھے کہ گھر ایسا ایسا بنانا ہے پارک فیسنگ۔ بہت اچھی لوکیشن کا پلاٹ تھا، جہاں وہ نیا گھر تعمیر کروانا چاہ رہے تھے۔ یہ اچانک کیا ہوگیا؟ جس روز میری ان سے ملاقات ہوئی اس سے اگلے ہی روز ان کا ایکسیڈنٹ ہوا۔ ہمیں برقت خبر اس لیے نہ ہو سکی کہ ان سے بالکل نئی جان پہچان تھی اور گھر والوں نے جنازہ بھی کالونی کی بجائے اپنے گاؤں میں‌کروایا۔

اس اچانک موت نے دل و دماغ کو ہلا کر رکھ دیا کہ ہم کہاں بھاگے پھر رہے ہیں؟ کس انجام کی طرف تیزی سے گامزن ہیں اور ہماری مصروفیات کیا ہیں؟ اکثر گھر تعمیر کروانے والے لوگ کوالٹی اور اعلیٰ ترین فنشنگ کے لیے کیا کیا جتن کرتے ہیں؟ کہیں مہنگے آرکیٹیکٹ سے ڈیزائننگ، کہیں امپورٹڈ ٹائلز اور باتھ روم فٹنگز، عام گھروں کے بیڈروم جتنے بڑے بڑے باتھ رومز، لاکھ لاکھ روپے مالیت کے کموڈز، مہنگے فانوس اور ڈیکوریشن لائیٹس اور نہ جانے کیا کیا لگوایا جاتا ہے؟ لیکن خود اپنا معلوم ہی نہیں ہوتا کہ اجل کا وقت سر پر آ پہنچتا ہے اور یہ انسان مٹی کی ڈھیری کے نیچے سب کچھ یہیں چھوڑ چھاڑ کر جا لیٹتا ہے۔

ہم دنیا کی چکا چوند میں ‌اتنے مگن رہتے ہیں کہ ہمیں اپنا انجام اس سنجیدگی سے یاد ہی نہیں رہتا جتنا کہ ہمیں اس بارے سنجیدہ ہونا چاہیے۔ ہم دنیا میں اللہ کی نعمتیں استعمال ضرور کریں لیکن ان کا حق بھی ادا کریں۔ دنیا کی آسائشیں اکٹھی کرتے کرتے اپنی آخرت کے لیے بھی اسی طرح سنجیدگی سے زاد راہ تیار کرنے کا بھی سوچیں کہ وہاں کے لیے کس آرکیٹیکٹ سے نقشہ بنوانا ہے اور کس طرح کا گھر آخرت میں تیار کروانے کا سوچ رکھا ہے۔ دنیا میں تو آج آنکھ بند ہوئی تو چند ہفتوں بعد کسی کو یاد بھی نہیں رہے گا کہ اس نام کا کوئی بندہ ہوا کرتا تھا۔ ورثاء پیچھے چھوڑی ہوئی وراثت کو بانٹ لیں گے خود اپنے ہاتھ کیا ساتھ لے کر جانا ہے ہمیں اسکی فکر ہونی چاہیے۔ اللہ تعالٰی ہمارا انجام بخیر فرمائے۔

Comments

بشارت حمید

بشارت حمید

بشارت حمید کا تعلق فیصل آباد سے ہے. بزنس ایڈمنسٹریشن میں ماسٹرز کی ڈگری حاصل کی . 11 سال سے زائد عرصہ ٹیلی کام شعبے سے منسلک رہے. روزمرہ زندگی کے موضوعات پر دینی فکر کے تحت تحریر کے ذریعے مثبت سوچ پیدا کرنے کی جدوجہد میں مصروف ہیں

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.