اے طائر لاہوتی! - محمد ندیم سرور

یہ مضمون آپ کے سامنے ملکی قرض و واجب الادا رقوم کی صورتحال اور اس سے جڑے معاملات کو عام فہم زبان میں سمجھانے کی کوشش ہے۔ ہمارا مقصد آپ کو ملکی معاشی صورتحال سے آگاہ کرنا ہے تاکہ آنے والے الیکشن میں آپ کو ووٹ کا فیصلہ کرنے میں آسانی ہو۔ جیسے روزمرہ زندگی میں بعض اوقات ہمیں ایسے حالات کا سامنا کرنا پڑتا ہے کہ ہماری آمدنی، اخراجات کے مقابلے میں کم پڑجاتی ہے تو ہمیں کسی کے آگے قرض کے لیے ہاتھ پھیلانا پڑتا ہے بالکل اس طرح سے ہم کہہ سکتے ہیں کہ جب حکومتوں کو:

1۔ بجٹ کا خسارہ پورا کرنا ہو، یعنی حکومتی آمدنی کم اور اخراجات زیادہ ہوں اور اس فرق کو پُر کرنا ہو

2۔ ترقیاتی منصوبے لگانے ہوں مگر انکے لیے پیسہ نہ ہو، یا

3۔ بیرون ملک سے آنیوالی آمدنی کے مقابلے میں زیادہ ادائیگیاں کرنا پڑ رہی ہوں

تو ایسے میں ملک کو قرضہ لینا پڑتا ہے جسے ملکی قرض (Public Debt) کہا جاتا ہے۔ پہلی وجہ کے تحت لیے گئے قرض کو ڈومیسٹک یا اندرونی قرض جبکہ باقی دو وجوہات کے تحت لیے گئے قرض کو ایکسٹرنل یا بیرونی قرض کہا جاتا ہے۔ قرض لیتے وقت اس بات کا خیال رکھنا بہت ضروری ہے کہ اسے ایسی جگہ خرچ کیا جائے جو آمدنی میں اتنا اضافہ کرسکے کہ اس سے قرض کی اصل رقم اور سود کی اقساط ادا ہوسکیں۔ اگر ایسا ہو تو پھر قرض کوئی بڑا مسئلہ نہیں مگر خدانخواستہ ایسا نہ ہو تو پھر قرض کی ادائیگی کے وقت مزید قرض لینا پڑے گا اور یوں ملک قرض کی ایسی دلدل میں دھنستا چلاجائے گا جس سے نکلنے کا کوئی آسان راستہ نہیں ہوگا۔ اس لیے اگر ایک حکومت کو بار بار قرض لینے کی ضرورت پڑ رہی ہے تو ہم آسانی سے سمجھ سکتے ہیں کہ اس حکومت کی معاشی حکمت عملی ناقص اور منصوبہ بندی بحران کا شکار ہے۔

یہ حکومت اپنی آمدنی کو بڑھانے اور اخراجات کو کنٹرول کرنے میں بری طرح ناکام ہورہی ہے اور اس کی ٹیم کے بنائے گئے منصوبے اتنی آمدنی نہیں دے پارہے جس سے قرض کی واپسی کی سبیل پیدا ہو۔ ملکی قرض سے متعلق معاملات کو بغور دیکھنے کے بعد باآسانی کہا جاسکتا ہے کہ موجودہ ملکی قیادت نے گزشتہ الیکشن میں تجربہ کاری اور صلاحیت کاجو دعویٰ کیا تھا، کم از کم صلاحیت کی حد تک تو وہ دعویٰ فریب اور دھوکے کے علاوہ اگر کچھ تھا تو بس سیاسی بیان۔ ایسی حکومت کو دوبارہ موقع دینا اپنی آئندہ نسلوں کی تعلیم و صحت کو گروی رکھوانے کے ساتھ ساتھ ملک کی بنیادیں کھوکھلی کرنے کے مکروہ دھندے میں عملی معاونت ہوگی۔

اب آتے ہیں قرض کے سرکاری اعداد و شمار کی طرف، تو جناب 2008 میں زرداری دور حکومت کے آغاز پر کل قرضے 6126 ارب روپے تھے جس میں اندرونی قرضوں کا حجم 3275 ارب روپے جبکہ بیرونی قرضوں کا حجم تقریباً 2852 ارب روپے تھا۔ جبکہ اسی حکومت کے اختتام پر کل قرضے 14318 ارب روپےتک جا پہنچے تھے جن میں سے اندرونی قرضے 9522 ارب روپے اور بیرونی قرضے 4797 ارب روپےتھے۔ یوں زرداری کے دور حکومت میں ملک پر 8192 ارب روپے کا مزید بوجھ لاد دیا گیا جو کہ 1947 سے لیکر 2008 تک کے کل عرصے میں لیے جآنے والے قرضوں کی واجب الادا رقم سے زائد تھے۔

مالی سال 2017کے اختتام تک یعنی موجودہ حکومت کے چار سال بعد کل ملکی قرضے 24013.4 ارب روپےتک بڑھ گئے تھے جن میں اندرونی قرضے 15672ارب روپے اور بیرونی قرضے 8,341.3ارب روپے تھے۔ اگر ان میں واجب الادا رقم بھی شامل کرلی جائے تو کل رقم 25,073.7 ارب تک جا پہنچتی ہے۔ کل ملکی قرض(Gross Public Debt)، کل ملکی پیداوار (GDP) کا 75.4فیصد تھا جبکہ کل قرض + واجب الادا رقم(Liability) کل جی ڈی پی کا 78.7 فیصد تھی۔

مالی سال 2018 کی دوسری سہ ماہی یعنی ماہ ِ فروری کے اختتام تک کل ملکی قرضوں کا حجم 25,739.5ارب روپےتک جا پہنچا تھا جس میں 16,326.2 ارب روپے کے اندرونی جبکہ 9,413.2ارب روپے کے بیرونی قرضے شامل ہیں۔ قرضے کے اس بوجھ کے ساتھ ساتھ 1,075.2ارب کی مزید واجب الادا رقم (Liability) بھی ہے، یوں یہ GDP کا قریباً 75 فیصد بن جاتی ہے۔ یعنی 1947 سے لیکر مالی سال 2013 تک 14318 ارب روپے کا قرضہ جبکہ 2013 سے لیکر اس ماہ تک تقریباً اتنا ہی اور قرض۔ یوں ان ساڑھے چار سالوں میں اس قوم کے ذمے قرض ہر روز، بلا ناغہ، بنا کسی جمعے کے روز کا، ہفتے کے اختتام کا، رمضان، عید، شب برات کا لحاظ کیے، روزانہ کی بنیاد پر تقریباً 7 ارب روپے بڑھتا رہا۔ ڈالر کے اس موجودہ جھٹکے، جس کے ذمہ دار ڈار صاحب موجودہ وزیراعظم اور مفتاح اسماعیل نے اس مظلوم و بےبس قوم کے سر پر مزید کھربوں روپے کے ایسے قرض کا اضافہ کردیا جو اس نے لیا ہی نہیں۔

قرضوں میں اس بیش بہا اضافے کی وجہ بہت سادہ ہے کہ حکومت نے کوئی ایسا کام نہیں کیا جس سے ٹیکس چوروں پر ہاتھ ڈالا جاسکے، جس سے لوٹی ہوئی ملکی دولت کی واپسی ممکن ہوسکے۔ اسد عمر نے ایک کوشش کی تھی کہ پارلیمنٹ کے مقدس ایوان میں براجمان منتخب عوامی نمائندگان کی ٹیکس ادائیگیوں کا آڈٹ کرایا جائے تاکہ اپنی صفوں میں موجود کالی بھیڑوں کے خلاف کاروائی کرکے حکومت کے پاس وہ اخلاقی قوت میسر ہوجائے کہ یہ تمام ٹیکس چوروں پر زمین تنگ کرسکے، اپنی آمدنی بڑھا سکے، بجٹ خسارے کو کم کرنے کی کچھ سبیل ہو، ترقیاتی کاموں اور بیرون ملک ادائیگیوں میں مدد مل سکے، نتیجتاً قرض سے چھٹکارے کی طرف بڑھا جاسکے مگر تجربہ کاروں کو ان کی یہ بات بالکل نہیں بھائی۔ ایک سال تک ان کی قراداد کو درخور اعتنا نہ سمجھا گیا۔ اللہ اللہ کرکے اس کا نمبر لگا تو منظوری کے بعد اسے ایسی کمیٹی کے حوالے کردیا گیا ہے جس کا تاحال کچھ سراغ نہیں لگ سکا۔

دوسری طرف حکومتی منصوبوں کا حال دیکھتے ہیں کہ ان سے آمدنی ہو جو قرض کی ادائیگی کے کام آسکے تو سٹیل مل کی ٹھنڈی چمنی، پی آئی اے کی ناکام نواز شریف برانڈ پریمیئر سروس، نندی پور اور قائداعظم سولر جیسے ناکام اور نیلم جہلم جیسے سالہا سال تک بھی مکمل نہ ہونے والے منصوبے، سوئی نادرن گیس کا 16 ارب، پی آئی اے کا 26 ارب، ملتان، لاہور اور پنڈی میڑو کا سالانہ قریبا 6 ارب اور یوں جمع ہوتا ہوا کل 2 ٹریلین سے زائد کا متوقع بجٹ خسارا ساری امیدوں پر پانی پھیر دیتا ہے۔ ایک طرف مہنگی بجلی اور گیس سے صنعتوں کا گلا گھونٹا جارہا ہے، جسکی وجہ سے ساری دنیا سے برعکس ہماری برامدات بری طرح نیچے گری ہیں تو دوسری طرف سرکولرڈیبٹ کا دیو سب کچھ تہس نہس کرنے کو تیار کھڑا ہے۔

ایسے میں جناب امجد اسلام امجد سے معذرت کرتے ہوئے یہی کہا جاسکتا ہے کہ

حساب زندگی کا اتنا سا گوشوارہ ہے

تمہارے انتخاب کے بعد سبھی خسارا ہے

اب لازم ہے کہ آنے والے الیکشن میں قوم ایسی قیادت کا انتخاب کرے جو ایماندار ہو، جو ٹیکس چوروں اور کرپٹ عناصر کا کڑا احتساب کرسکے اور جو صنعتی ترقی کے لیے واضح پلان انکے سامنے رکھے۔ اگر ایسا نہ کیا گیا تو خدا نخواستہ مستقبل میں ہمارے پاس سود کی ادائیگی کے بعد تعلیم و صحت کے لیے کچھ بھی میسر نہ ہوگا۔ حکمران تو ایسے میں لندن اور دبئی کے محلوں میں چل بسیں گے، انکے بچے پہلے ہی اپنے آپ کو اس ملک کا شہری نہیں کہتے، رہ جائیں گے ہم اور ہماری نسلیں تو ان کے ہاتھ سوائے خسارے کے کچھ نہیں آنے والا۔

نوٹ: بجلی کے منصوبوں، حکومتی اداروں کے نقصانات، بجٹ خسارہ، تجارتی خسارہ اور سرکولر ڈیبٹ وغیرہ سبھی اتنے تفصیلی موضوع ہیں کہ ان پر تفصیل سے بات الگ الگ مضامین میں کی جائے گی۔