دیوار گریہ کے آس پاس لگے درد کے پیوند - محمد اقبال دیوان

ڈاکٹر کلور لی پار سال تل ابیب اسرائیل میں اللہ کو پیاری ہوگئی۔ وہ جمائما گولڈ اسمتھ کی بچپن کی، لیڈی ڈائنا کی پرانی، کاشف مصطفیٰ کی دوران طالب علمی کی اور ہماری کچھ ماہ پہلے کی دوست تھی۔ ملاقات کبھی نہیں ہوئی، نہ ملنے کا دکھ ہے۔

اس فرشتہ خصال، خوش اندام مسیحا سے تعارف کی وجہ یہ بنی کہ وہ ڈاکٹر کاشف کی ہم جماعت اور لندن اور جنوبی افریقہ میں شریک کار تھی۔ کاشف مصطفیٰ بڑے پائے کے cardiothoracic سرجن ہیں۔ جوہانسبرگ کی میڈیکل یونیورسٹی میں پڑھاتے بھی ہیں۔ کردار عمدہ اور رجحان بہت عالمانہ ہے، نگاہ بلند ہے مگر سخن دل نواز نہیں۔ مزاجاً قدرے پتھریلے ہیں۔ کوہ پیمائی بھی کرتے ہیں، تنہا سفر کرنے کے بے حد شوقین ہیں۔ اس پر انہیں ایک احساس تفاخر بھی ہے جو ہمیں تو بڑا بجا لگتا ہے۔ ہماری کتاب ’’جسے رات لے اڑی ہوا‘‘ پڑھی، فیس بک پر ڈھونڈ لیا، دوستی ہوگئی۔ ایک دفعہ ملے بھی۔ جنوبی افریقہ کے پاسپورٹ پر اسرائیل گئے۔ اس پاسپورٹ پر اسرائیل کا ویزہ درکار نہیں ہوتا۔ دوران قیام ہی یہاں فیس بک پر اپنے خیالات انگریزی میں درج ذیل نوٹس کی صورت میں تحریر کرتے تھے۔ ہم نے تجویز پیش کی کہ یہ تو وہ اپنے خیالات کو تغافل کے سمندر میں ڈبوتے ہیں۔ فیس بک کی پوسٹوں کا حال تو مانند مرغ خوش نوا ہے، شاخ پر بیٹھا، کوئی دم چہچہایا، اڑ گیا۔

ہمارے دوست طاہر میاں نے "وجود" نام سے انہی دنوں ایک ویب میگزین شروع کیا تھا۔ ہم وہاں مفت میں کالم لکھتے تھے۔ وہ بھی بہت دلدار مزاج کے آدمی ہیں۔ مسلمان، اسلام دوست، جہاد بالقلم کے گرویدہ۔ فلسطینوں کا دکھ پر سدا کے رنجور، فتنۂ یہود کے خلاف زید حامد کی طرح ہمہ وقت برسرپیکار۔ ہم نے سرجن کاشف کو تجویز پیش کی کہ آپ کے ان تجربات متفرقہ اور افکار پریشاں کو کالم کا روپ دے کر اپ لوڈ کرتے ہیں۔ یہاں کے بے خبر مسلمانوں کو اس تیسرے اہم مقام مقدس کا پاکستانی آنکھ سے دیدار کراتے ہیں آپ کے سفرکا ایک نئے انداز میں تعارف پیش کرتے ہیں۔ سفر تو آپ نے اس سے قبل بھی کیے مگر وہ تو روہنگیا بیوہ کی میانمار کی سرحد پر بلند کردہ آہ کی مانند ثابت ہوئے۔ مانو ایک واردات قلب حزیں، دل بہ بریاں اور سوز نہاں جیسی۔ یہ الگ بات ہے کہ آپ ان مسافتوں کی پلاننگ بھی بہت کرتے ہیں اور ان پر آپ کے اخراجات بھی بہت ہوتے ہیں گو ڈالر اور رینڈ میں کمانے والوں کے لیے یہ تو چائے میں چینی کی مقدار جتنے ہوں گے۔ ان مسافتوں کا معاملہ نہ کسی نے سنا، نہ کسی پر ان کا کوئی اثر ہوا۔ زبان و بیان، اشعار و انداز ہمارا، روایت آپ کی۔ مان گئے اس کا نام ہم نے’’ دیوار گریہ کے آس پاس ‘‘تجویز کیا۔ ان نوٹس کو اردو کے قالب میں اپنی تحقیق و تدوین کا لبادہ اوڑھا کر 32 اقساط میں "وجود" میں شائع کیا تو سلسلہ بے حد مقبول ہوا۔ دہلی کے محاورے میں رائیتہ پھیل گیا۔ وضاحت کے لیے جان لیں کہ یہ کوئی پہلے سے انگریزی زبان میں شائع شدہ کتاب نہ تھی کہ جس میں تحقیق اور اشارے واضح ہوتے۔ تصاویر اور تحقیق کا خاصا بوجھ بھی ہم پر آن پڑا۔

ان نوٹس کا نمونہ کچھ اور ہمارا بیان کچھ یوں تھا:

I know that my decision to travel to Israel will not be accepted by all, the tiny piece of land for which Muslims, Jews and Christians have fought bitterly for 1500 years, its past is drenched with blood, its present is soaked with acrimony and its future is drowsed with uncertainty, but besides being an obsessive traveller there is also a Indiana Jones in me, ever inquisitive and exploring

ہمارا بیانیہ:

بطور Cardiothoracic Surgeon دوسروں کا دل ٹھیک کرتے کرتے جب میرا اپنا دل بے قرار ہونے لگتا ہے تو میں سفر پر نکل پڑتا ہوں۔ ایسی ہی ایک کیفیت کا شکار ہوکر میں نے جب یہ اعلان کیا کہ میرا اگلا پڑاؤ اسرائیل میں ہوگا تو احباب کو اچھا نہ لگا۔ سب ہی جانتے تھے کہ وہ ایک سرزمین ایسی ہے جس کا جغرافیہ مختصر، تاریخ طویل اور فساد لامتناہی ہے۔ کسی نے اسے سونے کے ایک ایسے پیالے سے بھی تشبہیہ دی تھی جس میں بچھو کلبلا رہے ہوں۔ میں خود بھی سوچ رہا تھا کہ کیا مملکت ہے ڈیڑھ ہزار سال ہونے کو آئے اس کا ماضی خون میں لتھڑا ہوا، ا حال تصادم میں الجھا ہوا اور مستقبل اب بھی غیر یقینی ہے۔ غالب نے کہا تھا کہ

رکتی ہے میری طبع تو ہوتی ہے رواں اور…

میرا معاملہ بھی کچھ ایسا ہی تھا گو دل میں یہ خواہش یہ تھی کہ ایک رات مسجد القصیٰ میں عین اس مقام رفعت پر سجدہ ریز ہوں گا جہاں سے ہمارے نبی کریمﷺ معراج پر تشریف لے گئے تھے۔ میں نے ملامتی عبادہ اوڑھا اور سب کو کہا کہ اب دل کا انڈیانا جونز (ہالی ووڈ کی فلموں کا مشہور کردار) نہ مانے تو کیا کروں، یارو مجھے معاف کرو!

اردو کے موقر ادبی جریدے "سویرا" کے روح رواں سلیم الرحمٰن صاحب کو ہماری یہ کاوش پسند آئی تو پبلشر ریاض چوہدری صاحب کا اصرار ہواکہ ہم ان اقساط کو دو حصوں میں بانٹ کر "سویرا" میں چھپنے کو بھیج دیں۔ "سویرا" میں اس کی اشاعت پر اہل دل اور اہل نظر دونوں ہی مُصر ہوئے اسے کتابی صورت میں چھپنا چاہیے۔ ڈاکٹر صاحب اس پر رقم لگانے کے حامی نہ تھے۔ وہ اردو کتب سے مطالعے کی حد تک تو وابستہ ہیں مگر انہیں یہ غلط فہمی بھی دامن گیر رہتی ہے کہ اردو کے ناشران و تاجران کتب دولت کمانے کے معاملے میں نیویارک کے Random House جیسے ہیں جنہوں نے Fifty Shades of Grey چھاپ کر دنیا بھر میں کمائی کے حساب سے خوب اودھم مچایا اور جن کی سالانہ آمدنی کا اوسط ساڑھے تین بلین ڈالر رہتا ہے، ایک بلین میں نو صفر ہوتے ہیں۔ ریاض چودہری صاحب پنجابی دیہاتی محاورے میں اللہ لوگ ہیں۔ حضرت واصف علی واصف سے بہت نجی اور گہرا تعلق ہے۔ ہمیں گمان ہے اہل رسائی ہیں، مگر ہم کیا اور ہماری ان معاملات میں در اندازی کیسی؟ ہمارے جیسے وہابی، سلفی دیوبندی کو ہر فون پر ایک پیغام ملتا ہے کہ فلانے مزار پر جاکر سلام کرکے آؤ۔ ہیر رانجھا پنجابی میں پڑھنے اور امراؤ جان کے دکھ میں برابر کی شرکت کے باوجود ہم کبھی تاج محل اور مارلن منرو کے مزار پر نہیں گئے۔ ریاض صاحب کی مروت میں پہنچ جاتے ہیں۔ صاحب مزار نہیں ملتے تو دل پر گھاؤ لے کر آجاتے ہیں۔ مالی طور پر ایسے تہی دامن بیا سی برس کے بزرگ کو اچھا نہ لگا کہ ایک لاکھ کا کاغذ اور دیگر اخراجات سے زیر بار کرتے۔ کتاب چھاپو تو سب سے بڑا خرچہ کاغذ اور چھپائی اور جلد بندی کا ہوتا ہے۔ کتب فروش ادھار پر مال لیتے ہیں، آدھا کمیشن رکھ کر آدھا رو رو کر ادا کرتے ہیں۔ اردو کتاب لکھنے سے چھاپنے تک گھاٹے کا سودا ہے۔ دل بھی کئی کئی دفعہ ٹوٹتا ہے۔

ایک آدھ دفعہ پوچھا کہ کچھ رقم کے لیے بھاگ دوڑ کریں تو کہنے لگے ’’یہ اللہ کا کام ہے۔ کہیں کا اشارہ ہے۔ ہوجائے گا تو اینی چھوٹی گلاں دی فکر نہ کریا کر بس اوتھے جاکر میرے ولوں پنج سو روپے دی نیاز دے آویں میں تینوں ایزی پیسے تو بھیج دیاں گا‘‘۔ اسی شش و پنج میں ڈاکٹر صاحب کے لیے عرض مصنف بھی لکھنی پڑی، والدین کے نام انتساب کا الفاظ بھی ہمیں ہی کرنا پڑا اور سرورق کا رنگ و روپ اور بنیادی خیال بھی چننا پڑا۔ ریاض صاحب کو مشہور ادیبہ مسز سلمیٰ اعوان نے احساس دلایا کہ ان سے غلطی ہوئی کہ انہوں نے سرورق پر اس کتاب کو دو ستوں کی مشترکہ تحریر کیوں نہیں بیان کیا۔ ہمارا نام کیوں نہیں چھاپا؟

ریاض صاحب کہنے لگے اگلے ایڈیشن اور سفر نامے کے دوسرے حصے جس کا نام ہم نے’’ الٹے قدم‘‘ رکھا، یہ اس کتاب پر بالکل ایسے ہی ہوگا کہ روایت سرجن کاشف مصطفیٰ، تحریر: محمد اقبال دیوان۔ ’’الٹے قدم‘‘ اس لیے کہ شیخ نائف نے جو دیوار گریہ کے آس پاس میں مزکور ہیں اور جن کے حوالے سے ہم نے شطاری سلسلے کا تعارف کتاب میں اپنی جانب سے شامل کیا ان کی تجویز پر ڈاکٹر صاحب پہلے اردن اور بعد میں مصر گئے۔ وہ نہ مانے۔ وہ بھی غالب کی مانند اس تضاد کا شکار ہیں کہ

کچھ شاعری ذریعہ عزت نہیں مجھے

حالاں کہ غالب کے وہ بزرگ جو صاحبان سیف و علم تھے وہ تو گوشۂ گمنام میں ایستادہ ہیں اور غالب کی شاعری کی چار دانگ عالم میں دھوم ہے۔ ہم بھی تحریر مشترکہ سے کم پر راضی نہ ہوئے۔

اس کتاب کی اشاعت کا ایک دل چسپ مرحلہ اس وقت آیا جب ڈاکٹر کلور لی نے ہم سے فیس بک میسنجر پر رابطہ کیا. وہ جمائما گولڈ اسمتھ کی بچپن کی، لیڈی ڈائنا کی پرانی، کاشف مصطفیٰ کی دوران طالب علمی کی اور ہماری کچھ ماہ پہلے کی دوست تھی۔ ملاقات کبھی نہیں ہوئی۔ پکی اشک نازی یہودن تھی۔ گوری بے داغ جلد، دھیمی، ترازو صفت آنکھیں جو آپ کو بہت غیر محسوس انداز میں تولتی رہتی تھیں، دم گفتگو شائستہ پر اعتماد لہجہ ہوتا تھا، بلا کی ذہین، قابل رشک حد تک محنتی اور مرکوز۔

اہل یہود میں بھی کئی طبقے ہیں۔ دو البتہ بہت نمایاں ہیں اشک نازی اور اور سفاردی۔ اشک نازی یہودیوں کی اکثریت جرمنی، مشرقی یورپ اور روس سے تعلق رکھتی ہے۔ جب کہ سفاردی جنہیں یہود العرب بھی کہتے ہیں مشرق وسطیٰ سے جاکر اسپین اور پرتگال میں آباد ہوگئے تھے۔ عرب انہیں اپنا گرائیں سمجھتے ہیں۔ مرتے مارتے وقت اس کا لحاظ کرتے ہیں کہ ہلاکت شدگان میں یہ نہ ہوں۔ اشک نازی بہت حریص، بے رحم، متعصب، ذہین ہیں۔ دنیا بھر کے تعلیمی، طبی، اشاعتی، مالیاتی، تحقیقی اداروں پر انہیں کا راج ہے۔ مجال ہے جو کسی کو پاس پھٹکنے دیں۔

ڈاکٹر کلور لی ہرگز ایسی نہ تھی۔ دوسروں کے دکھ درد پر تڑپ تڑپ اٹھتی تھی۔ مذہبی تعصب سے بلند و بالا ہوکر سب کے معالجے میں اپنے طبی حلف سے مکمل طور پر وفاداری نبھاتی تھی۔ جہاں بھی ملازمت کرتی ہسپتال کی انتظامیہ سے اس کے جھگڑے غریبوں کو مطلوبہ سہولتیں فراہم نہ کرنے کی خاطر ہوتے تھے۔ ان جھگڑوں کی تعداد اور تواتر میں فلسطینیوں کی وجہ سے اور اضافہ ہوگیا تھا۔ دوست اور یہ پسمندگان عارضہ اسے "کوئین" کہتے تھے کہ اس کا ہر انداز بہت شاہانہ تھا۔ انگلستان میں پیدا ہوئی تھی رائل کالج سے امراض قلب کے معالجے کی ڈگری لے کر جنوبی افریقہ چلی آئی، لگے ہاتھوں وہیں سے پی ایچ ڈی بھی کیا۔ وہاں اس کا شمار دل کے امراض کے بڑے طبیبوں میں ہوتا تھا۔ اہل یہود جہاں بھی ہوں موقع ملتے ہی Aliyah کرتے ہیں جس کا مطلب معراج یا اسرائیل کی جانب واپسی ہے۔ وہ بھی میاں کے ساتھ یہاں آن کر بس گئی۔ میاں کا ارادہ ربائی بننے کا تھا مگر چونکہ والدہ یہودی نہ تھی لہٰذا ان کا بورڈ آف ڈپٹیز اسے امتحان میں فیل کردیتا تھا۔ زچ ہوکر اس نے کاریں بیچنا شروع کردیں۔ خوب دولت کمائی۔ اسی نے کاشف میاں کو بتایا تھا کہ ہماری مقدس کتاب تلمود (بمعنی ہدایات) میں لکھا ہے کہ موجودہ عہد کی کل معیاد ہمارے کیلنڈر کے حساب سے 6000 سال ہے۔ اس کے بعد ہمارے مسیحا موعود Mossiach نے آنا ہے۔ اس وقت تک 5776 برس بیت چکے ہیں اور کل برس 224 اس وعدے کے پورے ہونے میں باقی ہیں۔ ساری دنیا یہودی بن جائے گی۔ دنیا بھر سے یہودی اسرائیل میں آن کر آباد ہوجائیں گے اور سلطنت داؤد (Kingdom of David) دوبارہ اپنی آب و تاب سے قائم ہوجائے گی۔ جس کے لیے ہیکل سلیمانی کی تعمیر مسجد اقصی کو مسمار کرکے ہونے ہے۔

ذکر تھا ڈاکٹر کلور لی کا، ڈاکٹر کلور لی نے چند ہی دن پہلے ہسپتال سے ڈاکٹر کاشف کو فون کیا کہ اسے کسی نسوانی عارضے کے سلسلے میں آپریشن کی خاطر لے جایا جارہا ہے، فکر نہ کرنا۔ دوران تشخیص رحم کا کینسر وہ بھی ایڈوانس مراحل کا سامنے ایا۔ معالجہ کام نہ آیا اور وہ اللہ کو پیاری ہوگئی۔ عمر تو کل چھیالیس برس ہی تھی مگر فٹنس کی دلدادہ، ہمہ وقت چست، پھرتیلی اور جامہ زیب۔ شائبہ بھی نہ ہوتا تھا کہ وہ اس جان لیوا عارضے میں مبتلا ہے۔ یوں بھی چراغ تلے اندھیرا ہوتا ہے۔ معالج اپنی ہی بیماری سے بے خبر ہوتے ہیں۔

ہمیں نہیں معلوم کہ اہل معاملہ کے نزدیک ڈاکٹر کلور جیسی اشک نازی بیبیاں بھی اللہ کو پیاری ہوتی ہیں کہ نہیں مگر سرجن کاشف مصطفیٰ کا غریب فلسطینی ٹیکسی ڈرائیور عبدالقادر اس کی موت کی خبر پر پھوٹ پھوٹ کر رویا۔ اس کے لیے گڑگڑا کر مسجد اقصیٰ کے سجادوں پر دعا بھی کی۔ وہ اس کا وہاں سب سے بڑا سہارا تھی، خود کو بھی بہت شدید عارضہ قلب ہے۔ اس کا علاج اپنے خرچ پر کرتی تھی۔ غریبوں کو اگر بمشکل کوئی سہارا ملتا ہے تو وہ دلی کے محاورے میں "منہ لگائی ڈومنی، بال بچوں سمیت" کے مصداق جوتوں سمیت دیدوں میں گھس جاتے ہیں۔ عبدالقادر اپنے ساتھ دوسرے درمندوں اور غریبوں کو اس کے حوالے سے اردگرد کے ہسپتالوں میں لیے لیے پھرتا تھا۔ ان فلسطینی پس مندگان الفت کا المیہ یہ ہے کہ یہ سب اس کی آخری رسومات میں شریک ہونے کے لیے بے تاب ہیں۔ اسرائیل کا دار الحکومت تل ابیب ان کے لیے "سی" ایریا ہے۔ فلسطینی اپنے ہی وطن میں صرف" اے" ایریا میں رہ سکتے ہیں، "بی" ایریا میں رہ نہیں سکتے مگر ملازمت کرسکتے ہیں اور "سی" ایریا ان کے لیے ہر اعتبار سے نو گو ایریا ہے۔

سرجن کاشف مصطفےٰ جن کی وہ دوست تھیں وہ بہت زیرک آدمی ہیں۔ ان کی کتاب جس کا اردو ترجمہ ان کے لکھے ہوئے انگریزی نوٹس کی مدد سے خاکسار نے کیا ہے۔ اپنے طباعت کے آخری مراحل میں تھی۔ ڈاکٹر کلور لی "وجود" میں اس کی اشاعت سے بہت زچ ہوئی۔ پاکستانی مردوں نے اسے فیس بک پر ڈھونڈ نکالا تھا۔ وہ اسے تواتر سے مسلمان ہونے، پاکستان آنے کی اور شادی کی پیشکش کرتے تھے۔ یہ جان کر بھی کہ وہ پکی یہودن ہے، اسرائیلی ہے اور خیر سے میاں کو بھی پیاری ہوچکی ہے۔ وہ خواہش مند تھی کہ کتاب میں اس کو اس کے اصلی نام ڈاکٹر کلور لی اور میاں کو بھی کسی فرضی نام سے موسوم کیا جائے۔

سرجن کاشف مصطفےٰ نے تجویز دی کہ ہم سے فیس بک پر میسنجر کے ذریعے رابطہ کرے۔ فون پر ہم سے رابطہ ہوا تو کہنے لگی کہ میرا اور میاں کا نام بدل دو۔ ہم نے کہا ارے وہ کیوں؟ کلور تو ہماری شہد کی بوتل پر بھی "Clover Honey" لکھا ہے۔ کہنے لگی تمہارے پاکستانی مرد میرے پیچھے پڑے رہتے ہیں۔ ہم نے کہا یہودی عورتوں اور شریفوں کے کرپشن سے جنگ لڑنے کا حوصلہ ہمیں کپتان عمران خان نے دیا ہے۔ ہنسنے لگی۔ سرجن کاشف مصطفےٰ، کلور، پرنسس ڈیانا، جمائما اور ڈاکٹر حسنات کا ٹولا لندن میں ساتھ گھومتا تھا۔ ہم نے تجویز دی کہ اس کا نام سفیرہ اور میاں کا نام لیوی رکھ لیتے ہیں کہنے لگی تمہیں اسرائیل کی حسین لڑکیوں کے نام بہت یاد ہیں۔ میرا نام کچھ جینرک ہو تو اچھا ہے۔ فلسطینوں کی ہمدردی کی وجہ سے ویسے ہی میری بہت کھنچائی ہوتی ہے۔ طے ہوا کہ کتاب میں وہ سارہ اور میاں سنگر کے نام سے موسوم ہوگا۔ کتاب چھپی تو بہت خوش ہوئی، ہم سے کہنے لگی اس کا انگریزی ترجمہ بھی کردو۔ ہم نے اسے روسی صدر پیوٹن کا پسندیدہ لطیفہ سنایا تو بہت ہنسی۔ پیوٹن کسی پریس کانفرنس میں اپنے تین عدد وزراء کے ساتھ شریک تھے۔ دس میں سات سوال ان سے ہوئے تو چونک گئے۔ کہنے لگے ایک اسرائیلی جنرل کو کسی خاص مشن کے لیے ایک نوجوان کپتان کی تلاش تھی۔ انٹرویو میں شریک کپتان سے سوال ہوا کہ اگر تمہارے سامنے ایک عرب دہشت گرد ہو تو کیا کرو گے؟ ماردوں گا اور اگر چار ہوں تو؟ انہیں بھی ماردوں گا۔ وہ ٹینک میں بیٹھے ہوں تو؟ جواب ملا ان پر راکٹ فائر کرکے اڑا دوں گا۔ وہ اگر کسی ہوائی جہاز میں موجود ہوں تو کیا کرو گے؟ کپتان زچ ہو کر کہنے لگا کیا ساری اسرائیلی فوج میں، میں اکیلا ہی کپتان ہوں؟

کئی دن بعد ہم نے اس سے ہمت کرکے پوچھ لیا کہ یہ تمہاری دوست اب بھی اپنے ٹوئیٹر اکاؤنٹ پر خود کو جمائما خان کہلانا کیوں پسند کرتی ہے؟ کچھ دیر کو سکتے میں آگئی۔ پھر جواب دیا کہ میں نے جمائما سے کبھی یہ نہیں پوچھا مگر میرا خیال ہے کہ عمران کے پاکستان میں قیام اور سیاست میں دل چسپی کی وجہ سے یہ شادی "Workable" نہ سہی مگر دونوں کا تعلق بہت "Loveable" ہے۔ وہ اس کے بیٹوں کی ماں تو ہے اور اس کی بیٹی کو بھی بہت پیار اور ناز سے پالا ہے، عمران بہت اعلیٰ اقدار اور دلفریب شخصیت کا مالک ہے۔ اس جیسے اوصاف بہت کم مردوں میں یکجا ہوتے ہیں۔ جواب ہمیں بہت پسند آیا۔

ہم نے بتایا کہ ہمارے ایک قریبی عزیز ان دنوں کسی کانفرنس میں تل ابیب آیا ہے۔ "Drop-dead Handsome" ہے۔ اصرار کرنے لگی کہ اس کا نمبر دو میں اسے ڈنر پر لے جاؤں گی۔ بہت دن ہوئے کسی ہینڈسم مرد کے ساتھ ڈنر پر نہیں گئی۔ ہم نے کہا میاں سے پوچھو۔ دولت میں آدھا حصہ دیتا ہے تو ہم پہلے مسلمان کے طور پر "Aliyah" کرلیتے ہیں۔ کہنے لگی تمہیں تو موساد جہاز سے ہی غائب کردے گی۔ تمہاری اسلام، پاکستان اور عربوں سے محبت کا ان کے پاس مکمل پروفائل ہوگا۔

ہمیں کاشف کا میسنجر پر پیغام ملا کہ "ڈاکٹر کلور لی 1971-2017" تو ہم نے جواب میں سوالیہ نشان لکھا اور فون پر اس کی موت کی اطلاع ملی۔

غالب نے کہا دوسروں کی موت پر وہ سوگوار ہو جسے خود نہ مرنا ہو۔ یہ شاید اپنے لے پالک عارف خان کی موت پر لکھے گئے دل نشین نوحے

کیا تیرا بگڑتا جو مرتا نہ کوئی دن اور

سے پہلے کی بات ہے۔

ڈاکٹر کلور لی کی وفات حسرت آیات پر سرجن کاشف، غریب فلسطینی ٹیکسی ڈرائیور عبدالقادر اور ہم سوگوار ہیں۔

Comments

اقبال دیوان

اقبال دیوان

محمد اقبال دیوان صوبائی سیکریٹری کے طور پر ریٹائر ہوئے اور سندھ سول سروسز اکیڈمی کے بانی ڈائریکٹر جنرل رہ چکے ہیں۔ آپ پانچ کتابوں کے مصنف ہیں اور آپ کے افسانے ادبی جرائد میں بھی شائع ہوتے ہیں۔ مطالعہ، مصوری اور سفر کے شوقین ہیں۔

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com
/* ]]> */