یہ درفنطنیاں: ہوئے تم دوست جس کے… - سلیم منصور خالد

میں تسلیم ہی نہیں کر سکتا کہ یہ تحریر "جماعت کا پاور شو" اختر عباس صاحب نے لکھی ہوگی، کیونکہ میرا حسن ظن ایسی زیادتی کا تصور بھی نہیں کر سکتا۔

اب نکتہ وار دیکھیے:

۱-جمعیت اور جماعت کے درمیان ( بحیثیت دو متحارب جماعتیں) کبھی ایسا ٹکراؤ نہیں رہ، اور من حیث التنظیم کبھی تصادم نہیں رہا۔

۲- اگردسمبر ۱۹۸۴ کے ریفرنڈم کے بعد، جماعت اور جمعیت کے درمیان خلیج رونما ہو گئی تھی، تو:

اس جرم کے مرتکب حضرات (یعنی ناظمین اعلیٰ) میں: "معراج مرحوم سے لے کر ابھی کاکا خیل صاحب تک، تمام کے تمام قائدیں جمعیت ہی ناراض اور مائل بہ ٹکراؤ تھے، جن میں خود امیرالعظیم صاحب اور راشد نسیم صاحب اور سراج صاحب اور مشتاق صاحب اور وقاص جعفری صاحب اور حافظ نعیم صاحب، نوید صاحب وغیرہ اور اپنے نوجوان لیڈر زبیر گوندل صاحب وغیرہ بھی شامل تھے۔ "

کیا واقعی ایسا تھا؟ اور اگر ایسا تھا تو اس مارکیٹ اکانومی کے کالم کے مطابق ہمارے یہ تمام قیمتی ساتھی تحریک سے ناراض یا باغی قرار پاتے ہیں، حالانکہ حقیقت کی دنیا میں ایسا کچھ بھی نہ تھا۔ مجھے نہیں معلوم کہ تحریر نگار نے کس کی تعریف اور کس کی مذمت کی ہے؟ مگر یہ ضرور جانتا ہوں کہ ظلم بہت کیا ہے۔

۳- بظاہر “ خوش خطی” لگانے کی کوشش کی ہے، مگر کس قیمت پر؟ میاں طفیل محمد صاحب، قاضی حسین احمد صاحب اور منور حسن صاحب کو "خلیج" پاٹنے میں ناکام ثابت کر کے؟ اور یہی نہیں بلکہ اس ۳۳ برس پر پھیلے زمانے کی مرکزی عاملہ و شوریٰ کے ارکان کی نا اہلی بھی متعین کرنے کی کوشش فرمائی ہے۔ کیا واقعی ایسا تھا؟ کوئی ہوش مند یہ نہیں کہہ سکتا۔

۴- جمعیت کے سابق ناظمین اعلی، اپنی ذمہ داری کی سابقیت کے حوالے سے جمعیت کی تاریخ میں ایک حوالہ رکھتے ہیں، مگر جماعت میں وہ کسی "انجمن سابق ناظمین اعلیٰ" کا کوئی سٹیٹس نہ رکھتے ہیں اور نہ اس انجمن کی کوئی ضرورت اور اہمیت ہو سکتی ہے۔ محترم سراج صاحب نے اگر اس نوعیت کے چند بہترین ساتھیوں کو مشورے میں شریک کیا تھا تو وہ کسی "نئے طبقے" کی تشکیل نہیں تھی۔ الحمد للہ، چند ایک کو چھوڑ کر سب سابق ناظمین اعلیٰ، جماعت کا جزو لا ینفک ہیں اور وہ کسی خصوصی سلوک کے متلاشی بھی نہیں۔

یہ بھی پڑھیں:   مجھے کہنا ہے - موسیٰ مجاہد

میری التماس ہے کہ ایسی نئی درفنطنیاں چھوڑنے کا احسان نہ کیا جائے۔ مقبول نظر بننے کے اور بہت سے طریقے موجود ہوں گے ان پر قسمت آزمائی کی جائے، جماعت اور جمعیت کی تاریخ پر رحم کیا جائے۔

میری اس تحریر سے دل دکھا ہو تو معاف کر دیجیے، لیکن جن جانے والوں اور خود جماعت اور جمعیت پر جو تہمت لگائی گئی ہے اس کا مداوا کون کرے گا؟ اور جہاں تک پاور شو کا تعلق ہے، اللہ اس میں برکت دے، اور ترقی عطا فرمائے۔