کھال …… مبشر علی زیدی

’’شہر کے ایک علاقے سے کچھ جانوروں کی کھالیں ملی ہیں۔‘‘
ڈوڈو نے مطلع کیا۔
’’ان کھالوں کا کیا کیا جاتا ہے؟‘‘
میں نے پوچھا۔
’’عام طور پر یہ کھالیں درآمد کر دی جاتی ہیں۔
چین ان کھالوں کا سب سے بڑا خریدار ہے۔
وہاں ان کے اجزا دواؤں میں استعمال کئے جاتے ہیں۔‘‘
ٹینی نے آگاہ کیا۔
’’اور گوشت کہاں جاتا ہے؟‘‘
میں نے جاننا چاہا۔
ٹینی ڈوڈو کی طرف دیکھ کر مسکرایا،
’’کیا تم جانتے ہو کہ کس جانور کی کھالیں ملی ہیں؟‘‘
ڈوڈو نے لمبی ڈکار لی۔
اس کے بعد اس کے منہ سے نکلا،
’’ڈھینچوں ڈھینچوں!‘‘