آپ کا پیسہ خطرے میں! - یوسف سراج

کبھی کبھی آپ کو یہ بھی دیکھنا چاہیے کہ آپ کا پیسہ کہاں خرچ ہو رہا ہے؟ صرف کمانا ہی کافی نہیں، آپ کو پیسہ موزوں جگہ پر ٹھیک طرح سے لگانا بھی سیکھنا چاہیے۔ جب آپ اپنے روپے کا مصرف اچھی طرح نہیں جانچتے تو دراصل آپ ایک کوتاہی اور کرپشن کا ارتکاب کرتے ہیں۔ آئندہ دنوں میں جس کے خوفناک نتائج بھی مرتب ہو سکتے ہیں۔ دنیا اب بڑی شد ومد سے آپ سے یہ پوچھنے لگی ہے کہ جو پیسہ آپ کہیں خرچ کرتے ہیں، وہ کہاں کہاں خرچ ہو رہا ہے؟ اگرچہ زیادہ اہم یہ کہ آپ یہ پیسہ کماتے کہاں سے ہیں؟ اپنے اکاؤنٹ میں ایک لاکھ سے زیادہ روپے اگر آپ جمع کرواتے ہیں تو بنک آپ سے الگ رجسٹر میں دستخط لیتا ہے۔ آپ کسی کے اکاؤنٹ میں روپیہ جمع کرواتے ہیں اور یہ روپیہ مذکورہ شخص کی بساط سے زیادہ ہے تو اس پر بھی بینک اچھی خاصی تفتیش شروع کر دیتا ہے۔دراصل دن بہ دن روپے کی نقل و حرکت کے گرد گھیرا تنگ کیا جا رہا ہے۔ اب چیزیں زیادہ دیر تک چھپی نہیں رہ سکتیں۔

منظور پشتین یا کچھ دوسرے لوگ گمشدہ یا اٹھا لیے گئے لوگوں کے بارے میں بات کرتے ہیں۔ ان میں سے بہت سے وہ بھی ہوں گے کہ اسلامی کہلانے والی بعض شدت پسند تنظیموں سے متاثر ہو کر جو کہیں نہ کہیں نکل گئے، عین ممکن ہے، ان میں سے بعض اس باعث بھی نگاہوں میں آگئے ہوں کہ ان کے گرد روپے پیسے کی نقل و حرکت کے دائرے زیادہ تیزی سے بننے لگے تھے۔اگرچہ یوں اٹھا لیا جانا قانونی اور اخلاقی طریقہ نہیں۔ لوگوں کو بہرحال عدالت میں پیش کیا جانا چاہیے۔ خود عافیہ صدیقی کے متعلق بھی تنظیم کے لیے ہیروں کی سمگلنگ کی کہانیاں کہی جاتی رہیں۔ یاد رکھنا چاہیے کہ ایسا کرتے ہوئے، کچھ وقت کے لیے کوئی نظرا نداز بھی ہو سکتا ہے، لیکن وقت آتا ہے کہ پھر آدمی چھپ نہیں سکتا۔ سعودی بادشاہت میں کب کسی نے سوچا ہوگا کہ شہزادے بھی کبھی گرفت میں آ سکتے ہیں؟ لیکن آپ نے دیکھا کہ کس طرح شہزادوں کو غائب کر دیا گیا۔ کس طرح ہوٹلوں میں ان کے پڑے ہونے کی تصویریں سامنے آئیں اور بالآخر روپیہ ان سے نکلوا لیا گیا۔ ہمارے سابق وزیراعظم لندن میں اپنے فلیٹس پر خرچ ہوئے روپے کی صفائی کے سلسلے میں لگاتار احتساب عدالت میں حاضری ہو رہے ہیں۔ ان سب سے بخوبی عیاں ہے کہ پیسہ کہاں سے آیا اور کہاں گیا؟ یہ آج کا حساس معاملہ ہے۔

اس کے ساتھ ساتھ آپ کو یہ بھی دیکھنا چاہیے کہ آپ کے بچوں کے پاس چیزیں کہاں سے آ رہی ہیں؟ آپ کو یاد ہو گا کہ ارسلان نامی بیٹے نے کس طرح اپنے معزز اور مشہور باپ کی شہرت کو نقصان پہنچایا تھا۔ ہمیشہ آپ کو سوچنا چاہیے کہ آخر کوئی شخص آپ کے بیٹے، فیملی یا آپ کو اتنے قیمتی تحائف کیسے دے سکتا ہے؟ ہمیشہ تحفہ برابری کی سطح پر ہونا چاہیے۔ رسولِ رحمت ﷺ نے ہر قیمتی تحفے جتنا بیش قیمت تحفہ ضرور لوٹایا بھی۔ تب ہوا یہ کہ کچھ لوگوں نے اس خواہش کے پیشِ نظر بھی تحائف پیش کیے کہ بدلے میں وہ رسولِ اطہر ﷺ سے زیادہ حاصل کر سکیں۔ پچھلے دنوں ایک رسم چل نکلی تھی کہ مریم نواز صاحبہ جس شہر میں اترتیں، وہاں کے تاجر انہيں سونے کا تاج پہنایا کرتے۔ ایسے تحفے عموما رشوت ہوتے ہیں۔

سوچنے کے لیے زیادہ اہم یہ بھی ہے کہ حکمران آپ یعنی عوام کا پیسہ کہاں لگاتے ہیں؟ ایک آدمی کو آپ دیکھتے ہیں، وہ آپ ہی کے ملک میں رہتا ہے، چند سالوں میں لیکن وہ کہاں سے کہاں پہنچ جاتاہے۔ ہر وقت یہ منفی ہی نہیں ہوگا کہ آپ اس پر غور کریں۔ آنکھیں کھلی اور دماغ کو سوچتا رکھنا مفید ہوتا ہے۔ یہ کیسے ممکن ہے کہ کسی ملک میں لوگ زمیں سے اٹھ اٹھ کر آسما ن تک پہنچتے رہیں، سائیکلوں پر سواری کرنے والے جہازوں کے اور پلازوں کے مالک بن جائیں اور ملک لیکن زمیں میں دھنستا جائے؟

اگر آپ دیکھتے ہیں کہ غریب مزید غریب اور امیر مزید امیر ہوتے جا رہے ہیں تو آپ کو جان لینا چاہیے کہ کہیں کچھ غلط ضرور ہو رہا ہے۔ اس صورت میں ریاست یا حکمران آپ کے ساتھ اچھا نہیں کر رہے۔ ملک لوگوں کے لیے بنائے جاتے ہیں، حکومتیں لوگوں کے لیے قائم ہو تی ہیں۔ ادارے لوگوں کے تحفظ اور سہولت کے لیے کھڑے کیے جاتے ہیں۔ آئین بھی انسانوں کی بقا اور بہتر زندگی ہی کی ضمانت ہوتے ہیں۔ ریاست کا پہلا حق یہ ہے کہ شہریوں کو وہ بنیادی سہولیات فراہم کرے۔ امن اور معاش انسان کی دو بنیادی ترین ضرورتیں ہیں۔ پھر اس کے بعد تعلیم اور صحت آتی ہیں۔ باقی ساری ضروریات اس کے بعد ہیں اور عزتِ نفس ان سب سے بڑھ کر ہے۔ آپ کو ضروریات، سہولیات اور آسائشات کا فرق بھی ضرور ملحوظ رکھنا چاہیے۔ عام زندگی میں بھی اور قومی زندگی میں بھی۔ یہ حکومتوں کا کام ہے کہ وہ اپنی قوم کی تعلیمی اور تربیتی حالت پر نظر رکھے۔

کس قدر افسوس کی بات ہے کہ ہمارے پاکستان میں آسائشات کی ساری دکانیں روشن اور شاندار ہیں جبکہ ضروریات کی دکانیں انتہائی ناقص اور معیاری حفظانِ صحت کے اصولوں سے مطابقت نہیں رکھتیں۔دودھ کے نام پر لاہور میں کیمیکل کھلے عام فروخت ہوتا ہے اور بوتلوں میں بند پانی تک ٹیسٹوں میں معیاری نہیں نکلتا۔ سرکاری دفاتر میں رشوت کے بغیر آپ اپنا جائز کام بھی نہیں کروا سکتے۔ پولیس ہر اس آدمی کی چھترول کر دیتی ہے جو روپیہ جیب میں ڈالے بغیر جو ان کے پاس اپنی مظلومیت لے جائے۔ عدالت سے ہمارے کچھ دوستوں کو شکوہ ہے۔ درست ہے کہ گواہ بک جاتے ہیں اور آدمی کا فیصلہ اس کی تیسری نسل کو سنایا جاتاہے۔ انصاف بہت مہنگا بھی ہے لیکن یہ عدالت ہی ہے جس نے ہمیں بتایا کہ کتنے معاملات میں حکومت عوامی مفاد کے خلاف کام کر رہی ہے یا دانستہ اس نے عوامی مفاد کچلے جانے سے آنکھیں بند کر رکھی ہیں۔ یہ بھی عدالت ہی نے بتایا کہ 12600 پولیس اہلکار پورے ملک میں ان لوگوں کی سیکورٹی پر مامور تھے، قانوناً جنھیں یہ سیکیورٹی نہیں ملنی چاہیے تھی۔ کسی کو شرم نہ آئی کہ کس طرح وہ غریب عوام کے پیسے سے اپنے جعلی غرورِ نفس کو پروان چڑھاتے رہے۔ چاہیے تھا عدالت اس سب پر انہيں جرمانہ کر کے خرچ ہونے والا پیسہ خزانے میں واپس بھی لاتی۔ اس سے پہلے یہ سب دیکھنا حکومت کا کام تھا۔

آپ سندھ حکومت کی ڈھٹائی دیکھیے کہ فوراً ایک حکم نامے سے انہوں نے اس ناجائز کام کو جائز کر لیا۔ یہ ہیں عوامی حکومتیں! قومی پیسہ ان کے نزدیک مال مفت کے سوا کچھ نہیں۔ یہ سندھ حکومت ہی ہے کہ جس کے ہاں تعلیم کا زیادہ تر فروغ امتحانی مراکز میں کی جانے والی نقل پر منحصر ہے۔ پچھلی دفعہ میڈیا پر کھلے عام ہونے والی نقل کی فوٹیج چلی تو اس دفعہ حکومت نے اس کے سدِباب کا یہ انتظام کیا کہ میڈیا کے امتحانی مراکز کاجائزہ لینے پر پابندی عائد کر دی۔ اس بار ان اساتذہ کو بھی ڈیوٹی نہیں دی گئی، پچھلی بار جنہوں نے اس معاملے کو سامنے لانے میں کردار ادا کیا تھا۔ طلبا کے پیپر تحقیقات کے لیے تحویل میں لے لیے گئے تھے، اب جبکہ اگلا امتحان شروع ہو گیا تو عالم یہ ہے کہ نہ طلبا کے پیپر واپس آئے اور نہ ان کا رزلٹ مشتہر کیا گیا، ان طلبا میں سے کوئی کچھ نہیں جانتا کہ وہ پاس ہے یا فیل۔ ابھی تک وہ پچھلے امتحان کے رزلٹ کے منتظر ہیں۔ یہ حال ہے آپ کے پیسے سے چلنے والی حکومتوں کا!

لوٹ کی ساری کہانیاں جو آپ سنتے ہیں، وہ سب آپ کے پیسے کی بربادی کی کہانیاں ہیں۔ حکمران تو بس عوام کے پیسے پر پلتے ہیں

مانگنے والا گدا ہے، صدقہ مانگے یا خراج

کوئی مانے یا نہ مانے، میر و سلطاں سب گدا

Comments

حافظ یوسف سراج

حافظ یوسف سراج

ادب اور دین دلچسپی کے میدان ہیں۔ کیرئیر کا آغاز ایک اشاعتی ادارے میں کتب کی ایڈیٹنگ سے کیا۔ ایک ہفت روزہ اخبار کے ایڈیٹوریل ایڈیٹر رہے۔ پیغام ٹی وی کے ریسرچ ہیڈ ہیں۔ روزنامہ ’نئی بات ‘اورروزنامہ ’پاکستان‘ میں کالم لکھا۔ ان دنوں روزنامہ 92 نیوز میں مستقل کالم لکھ رہے ہیں۔ دلیل کےاولین لکھاریوں میں سے ہیں۔

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.