مثبت اقدام جسے سراہنا چاہیے - محمد عامر خاکوانی

اخبارات، نیوز چینلز اور سوشل میڈیا، ہر جگہ سب سے زیادہ استعمال ہونے والے چند الفاظ میں سے ایک اسٹیبلشمنٹ ہے۔ ہمارے ہاں اس لفظ کی اکثر گردان ملتی ہے۔ پرو اسٹیبلشمنٹ، اینٹی اسٹیبلشمنٹ کی اصطلاحات بھی بہت استعمال کی جاتی ہیں۔ پاکستان میں عام طور پر اسٹیبلشمنٹ سے مراد فوج اور ایجنسیاں لی جاتی ہیں، اگرچہ اس اصطلاح کی کلاسیکل تعریف میں کبھی صرف فوج مراد نہیں لی جاتی۔ اس میں ٹاپ بیوروکریسی کے علاوہ ملک کے چوٹی کے بزنس مین اور ایک سطح پر میڈیا بھی شامل ہے۔ایک لحاظ سے یہ اعلیٰ ترین سول، ملٹری، کاروباری اشرافیہ کا امتزاج ہے۔ قومی بیانیہ کی تشکیل میں ان تمام عناصر کا اہم کردار ہے۔ صرف پاکستان کی بات نہیں کر رہا، ہمارے پڑوسی ملک بھارت میں، جو خود کو دنیا کی سب سے بڑی جمہوریہ کہلانے میں فخر محسوس کرتا ہے اور جہاں کبھی مارشل لاء نہیں لگا، وہاں بھی اسٹیبلشمنٹ کا کردار ہے اور اس میں ملٹری اسٹیبلشمنٹ کچھ کم اہم نہیں۔ امریکی اسٹیبلشمنٹ شاید سب سے زیادہ وسیع سٹرکچر رکھتی ہے، وہاں تو رینڈ کارپوریشن جیسے بڑے تھنک ٹینک بھی اسٹیبلشمنٹ کا حصہ سمجھے جاتے ہیں۔

ایک اور نکتہ سمجھنا بڑا ضروری ہے کہ اینٹی اسٹیبلشمنٹ اور اینٹی آرمی ہونے میں فرق ہے، جسے لازمی ملحوظ خاطر رکھنا چاہیے۔ اسٹیبلشمنٹ کے سیاسی کردار پر تنقید کی جا سکتی ہے، ایسا کرنا بجا بھی ہے کہ اسٹیبلشمنٹ کو پیچھے رہ کر نیشنل سکیورٹی پالیسیوں میں تسلسل کا کام کرنا چاہیے۔ جب وہ فرنٹ پر آ جائے تو خرابیاں جنم لیتی ہیں۔ مجھے لگتا ہے کہ اگر 71ء میں جنرل یحییٰ خان حکمران نہ ہوتے اور کوئی سول حکومت موجود ہوتی تو الیکشن کے بعد جیتنے والے شیخ مجیب الرحمٰن کو اقتدارسے محروم رکھنا ممکن نہ ہوتا اور شاید پاکستان دو لخت بھی نہ ہوتا۔ وجہ سادہ ہے کہ اسٹیبلشمنٹ اگر اقتدار میں نہ ہوتی تو وہ پیچھے رہ کر حکومت کو غلط فیصلوں سے باز رکھ سکتی تھی۔ اسی طرح جنرل پرویز مشرف کے دور میں لال مسجد آپریشن اور اکبر بگٹی کی ہلاکت جیسے معاملات کبھی نہ ہو پاتے، اگر اس وقت کوئی بااختیار سول حکمران موجود ہوتا۔ سول حکومت اگر طیش میں آ کر غلطی کرنے لگتی تو اسٹیبلشمنٹ کی صورت میں اسے سمجھانے بجھانے والا کوئی غیر رسمی ادارہ موجود ہوتا۔

اس لیے پاکستان میں ہمیشہ اسٹیبلشمنٹ کو سیاست سے دور رہ کر قومی پالیسیوں کے تسلسل کو یقینی بنانے کا کردار ادا کرنا چاہیے۔ جب بھی اسٹیبلشمنٹ اپنا کام چھوڑ کر زیادہ بڑے ایجنڈے کے لیے داخلی سیاست میں انوالو ہونے لگے تو مسائل بڑھتے ہیں اور تب تنقید بھی ہوگی۔ پاکستانی سیاست میں اینٹی اسٹیبلشمنٹ موقف رکھنے کی گنجائش اور جگہ موجود ہے۔ یہ ایک سکول آف تھاٹ ہے، جس کی میڈیا، اہل علم، اہل قلم میں موجودگی روٹین کی بات ہے۔

اینٹی آرمی سٹانس لینا البتہ ایک بالکل مختلف اور نہایت سنجیدہ معاملہ ہے۔ فوج کا ملک کی سلامتی کے لیے غیر معمولی اہم کردار ہے۔ جوان اور افسر اپنی جانیں ملک وقوم کے لیے داﺅ پر لگاتے ہیں اور اس کے جواب میں انہیں غیر مشروط عزت، تکریم اور محبت ملنی چاہیے۔ نیشنل سکیورٹی پالیسیوں پر عمل درآمد اور دہشت گردوں کے خلاف آپریشن میں فوج جو قربانیاں دیتی ہے، انہیں غیرمعمولی احترام کے ساتھ سراہنا چاہیے۔ ہمارے ہاں بعض اوقات کچھ لوگ اینٹی اسٹیبلشمنٹ اور اینٹی آرمی موقف میں فرق نہیں کر پاتے، وہ ریڈ لائن کراس کر جاتے ہیں۔ عسکری حلقوں کو یہ جان لینا چاہیے کہ اسٹیبلشمنٹ کے سیاسی کردار پر یا کسی خاص نیشنل سکیورٹی پالیسی پر نظریاتی تنقید کا مطلب فوج پر تنقید نہیں لینا چاہیے۔ یہ سمجھ لیا جائے کہ اینٹی اسٹیبلشمنٹ موقف رکھنے والے بھی دوسروں کی طرح محب وطن اور اپنی دھرتی سے پیار کرنے والے ہیں۔ دوسری طرف اسٹیبلشمنٹ کی کسی پالیسی کو ناپسند کرنے والے عوامی، سیاسی حلقے کو بھی فوجی جوانوں کا مورال ڈاﺅن کرنے کی کوشش قطعی نہیں کرنی چاہیے۔ فوج ہم سب کی ہے،ملک وقوم کا دفاع کرنا اس کی ذمہ داری ہے، ہمارے عوام کو ہی اس کی اونر شپ لینی چاہیے۔

یہ طویل تمہید بی بی سی اردو ڈاٹ کام کی ایک رپورٹ دیکھ کر ذہن میں آئی۔ بی بی سی نے گزشتہ روز یہ رپورٹ شائع کی، جس کے مطابق، ”پاکستانی فوج کے سربراہ جنرل قمر جاوید باجوہ نے حال ہی میں قبائلی نوجوانوں کی تنظیم پشتون تحفظ تحریک (پی ٹی ایم) کی سرگرمیوں اور فاٹا کی موجودہ صورتحال پر مشاورت کے لیے فوج اور سول اداروں میں اہم عہدوں پر فائز رہنے والے سابق سینیئر پشتون افسران سے ملاقات کی۔ جی ایچ کیو میں ہونے والی اس ملاقات میں فوج کے سابق جرنیلوں جنرل احسان، جنرل علی قلی خان، جنرل حامد خان، جنرل عالم خٹک، میجر جنرل تاج الحق کے علاوہ بریگیڈیئر ریٹائرڈ سعد محمد، محمود شاہ، سابق چیف سیکریٹری جاوید اقبال اور پولیس کے سابق سربراہ عباس خان نے شرکت کی۔ ملاقات میں شریک بریگیڈیئر ریٹائرڈ سعد محمد نے بی بی سی کو بتایا کہ بات چیت بڑے اچھے ماحول میں ہوئی جس کا بنیادی مقصد جنرل قمر جاوید باجوہ کی طرف سے پی ٹی ایم کی تحریک اور خطے کی موجودہ صورتحال پر سینیئر افسران سے مشاورت کرنا اور ان کی تجاویز حاصل کرنا تھا۔ انہوں نے کہا کہ فوج کے سربراہ نے پشتون تحفظ تحریک، فاٹا کے معاملات اور افغانستان سے متعلق باہمی تعلقات پر تفصیلاً گفتگو کی اور ان تمام معاملات پر ان کا موقف انتہائی مثبت نظر آیا۔ سعد محمد کے بقول 'جنرل صاحب نے اس بات کا تذکرہ کیا کہ پی ٹی ایم چونکہ بیشتر نوجوانوں پر مشتمل تنظیم ہے لہذا انہیں اس بات کا احساس ہے کہ ان میں زیادہ تر جذباتی نوجوان ہیں اور ہم بھی چاہتے ہیں کہ ان سے مذاکرات کریں اور ان کے مسائل کو حل کیا جائے۔'انہوں (بریگیڈیئر سعد) نے کہا کہ پی ٹی ایم نے فوج کے ضمن میں انتہائی سخت موقف اپنایا ہوا ہے اور ان کے خلاف بعض ایسے نعرے لگائے جارہے ہیں جو کسی صورت نہیں ہونے چاہیئیں لیکن اس کے باوجود فوج کے سربراہ انتہائی مثبت تھے۔ بریگیڈیئر سعد محمد کے مطابق جنرل قمر جاوید باجوہ نے اس بات سے اتفاق کیا کہ پی ٹی ایم کے بعض مطالبات جائز ہیں اور ان کو فوری طورپر حل ہونا چاہیے، فوج نے پہلے ہی سے پشتون تحفط تحریک کے بعض مطالبات پر کام کا آغاز کیا ہوا ہے جس میں بارودی سرنگوں کا خاتمہ، چیک پوسٹوں میں کمی اور لاپتہ افراد کا معاملہ قابل ذکر ہے۔ بریگیڈیئر سعد کے بقول 'ہم تمام سنئیر افسران نے آرمی چیف کو تجویز دی کہ پی ٹی ایم میں شامل سب ہمارے اپنے بچے ہیں، اگر وہ تیزی بھی کرتے ہیں تو فوج یا حکومت کو نرمی کا مظاہرہ کرنا چاہیے تاکہ معاملات کو بگڑنے سے بچایا جاسکے، (تاہم) پی ٹی ایم کو بھی اب اپنے موقف میں نرمی لانی چاہیے بالخصوص اداروں کے حوالے سے ان کا موقف انتہائی نوعیت کا ہے۔“

آرمی چیف نے فاٹا سے اٹھنے والی بے چینی کی اس لہر اور ان تمام ایشوز کو جس اچھے اور مثبت انداز سے مشاورت کے ذریعے نمٹانے کا سوچا، اسے سراہنا چاہیے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ پختون تحفظ تحریک ہو یا منظور پشتین کے جلسے، بیانات، ان میں تلخی نظر آتی ہے، بعض غیر ذمہ دارانہ بیانات اور نعرے بازی بھی ان کے اجتماعات کا حصہ بنی، مگر ان کے مطالبات جائز اور مناسب ہیں۔ چیک پوسٹوں پر شہریوں کے لیے نرمی پیدا کرنے، بارودی سرنگوں کی صفائی تاکہ شہری اور بچے ان کا نشانہ نہ بنیں، دوران آپریشن تباہ حال مکانات، دکانوں کی تلافی اور مسنگ پرسنز کے معاملے کو قانون کے دائرے میں لے آنا .... ایسے مطالبات ہیں، جن کی ہر کوئی تائید کرے گا اور انہیں حل ہونا چاہیے۔ اچھی بات یہ ہے کہ ان پر عمل درآمد شروع ہوچکا ہے اور اگر ریلیف پہنچانے کی رفتار تیز کی جائے تو چند ہفتوں میں اس کے بہت اچھے نتائج برآمد ہوں گے۔ فوج نے آپریشن کے ذریعے دہشت گردوں کی جس طرح کمر توڑی اور صفایا کیا، وہ غیر معمولی کامیابی ہے۔ اس آپریشن کا اگلا منطقی مرحلہ متاثرین کی بحالی اور بعد از آپریشن مسائل کا حل نکالنا ہے۔ اگر ان مسائل کو لے کر کوئی فرد، گروہ یا تنظیم کھڑی ہوئی تو اسے دبانے، کچلنے کے بجائے ان مسائل پر توجہ دینی چاہیے۔ ممکن ہے کچھ عناصر ایسے ہوں جو فوج، حکومت یا ریاست کے خلاف فضا ہموار کرنا چاہتے ہوں، ایسی تمام شرپسندانہ کوششوں کا جواب عوامی مسائل کا حل ہی ہے۔ جب عام آدمی کو ریلیف ملے، وہ نظر بھی آئے اور اسے طمانیت کا احساس ہو،تب کوئی بھی منفی ایجنڈا رکھنے والی تحریک کامیاب نہیں ہوسکتی۔

پاکستانی اسٹیبلشمنٹ کا یہ روپ اور کردار ایسا ہے، جسے سراہنے میں بخل سے کام نہیں لینا چاہیے، قبائل اور پی ٹی ایم کے لوگوں کو بھی اب صبر اور کچھ احتیاط سے کام لینا چاہیے۔ اگر مقصد مطالبات منوانا ہے تو پھر اسی جانب پیش رفت ہو رہی ہے۔ مثبت، بامعنی پیش رفت!

Comments

محمد عامر خاکوانی

محمد عامر خاکوانی

محمد عامر ہاشم خاکوانی کالم نگار اور سینئر صحافی ہیں۔ روزنامہ 92 نیوز میں میگزین ایڈیٹر ہیں۔ دلیل کے بانی مدیر ہیں۔ پولیٹیکلی رائٹ آف سنٹر، سوشلی کنزرویٹو، داخلی طور پر صوفی ازم سے متاثر ہیں

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com