یادوں کے خزانے - ڈاکٹر رابعہ خرم درانی

کبھی کبھی کوئی خیال کوئی لفظ کوئی تصویر یا کوئی سر خوشبو رنگ پھول چہرہ یا کوئی ویڈیو ہمیں ماضی کی بھول بھلیوں میں لے جاتی ہے۔ ایف جی عباس پبلک سکول ڈیرہ نواب صاحب (احمد پور شرقیہ) کی یہ ویڈیو میرے لیے ایک فراموش کردہ یادوں کے خزانے کی کنجی ثابت ہوئی۔

کبھی کبھی کوئی خیال کوئی لفظ کوئی تصویر یا کوئی سر خوشبو رنگ پھول چہرہ یا کوئی ویڈیو ہمیں ماضی کی بھول بھلیوں میں لے جاتی ہے ۔ ایف جی عباس پبلک سکول ڈیرہ نواب صاحب(احمد پور شرقیہ ) کی یہ ویڈیو میرے لیے ایک فراموش کردہ یادوں کے خزانے کی کنجی ثابت ہوئی۔گھنے دو رویہ درختوں سے گھرے صاف ستھرے کینٹ ڈیرہ نواب صاحب کی سیاہ کارپٹڈ روڈ پر صبح صبح سکول پہنچنا مجھے بہت پسند تھا ۔ گھنے آم اور جامن کے باغات میں گھرا ڈی-شیپ اسمبلی گراونڈ ٹھنڈے سائے میں ڈوبا ہوتا ۔ آم اور جامن کا بور اور گلاب کی مہک صبح کی ہلکی دھند سے مل کر ایک خوابناک سا ماحول بنا دیتے۔نیشنل لیول پر تقریری مقابلے میں شریک سینئیر طلبہ اسمبلی میں روزانہ اپنی تقریر آواز و انداز کے مکمل پیچ و خم کے ساتھ دہرایا کرتے۔ حسن قرآت اور نعت خوانی کے مقابلے کے شریک بھی روزانہ یہی عمل دہراتے ۔ یہ تین ٹرافیاں پچھلے کئی سال سے ایف جی عباس پبک سکول کے نام تھیں اور ان کا سہرا ایک اسٹودنٹ رفاقت علی کے نام تھا ۔ یہ صاحب نویں جماعت میں پچھلے کئی سال سے پڑھ رہے تھے اور پاس ہو کے نہ دیتے تھے ۔ سکول بھی ان کی باقی خوبیوں کی وجہ سے انہیں ٹرافی ونر کی کیٹیگری میں برداشت کیے ہوئے تھا ۔ اپنے اساتذہ کے ہم عمر تھے اور بچوں کے ساتھ پڑھا کرتے تھے ۔ قرآت، نعت اور تقریر کے فن سے آشنا تھے بلکہ استاد کے درجے پر جا پہنچے تھے ۔ ان کی نعت "یا رسول اللہ " سننا ہر روز کا سب سے حسین وقت ہوتا تھا جب پتا گرنے کی اواز بھی محویت پر گراں گزرتی تھی۔جونئیر کلاسز کے بچے سکول کے باغ سے گلاب کے پھول توڑتے اور اپنی پسندیدہ ٹیچرز کو دیا کرتے ۔ایک من موہنی نوجوان سی ٹیچر جو کسی میجر کی بیگم تھیں ان کے ہاتھ میں پکڑا سفید کور والا حاضری رجسٹر ایک ٹرے کی طرح بچوں کے دیے پھولوں سے بھر جاتا ۔ہوتے ہوتے یہ پھول ننھے سے پہاڑ کی شکل اختیار کر لیتے ۔ باقی تمام ٹیچرز ان کو اتنے پھول ملنے پر چھیڑا کرتیں۔ محبت جہاں بھی ہو جس شکل میں ہو اپنا آپ منوا لیا کرتی ہے۔ سردیوں کے فری پیریڈز میں تمام ٹیچرز کھلے صحن میں کرسیاں بچھوا لیتے۔ چائے پیتے اور مالٹے کھایا کرتے ۔ بھاری جثے والی گوری چٹی ادھیڑ عمر میڈم ملک سر پر ڈوپٹہ رکھتیں ۔کمر دھوپ کی طرف کر کے اپنے گیلے لمبے بال سکھایا کرتیں ۔ میڈم میر انگلش، سر نذیر سائنس، سر عاشق انگلش ،میڈم ملک اردو اور میتھس اور اونچے لمبے گنجے سے ڈرائینگ ٹیچر سر آصف۔ کتنے ہی لوگ تھے جو میری زندگی کا حصہ ہیں لیکن بچھڑ چکے ہیں ۔ آٹھویں جماعت کے 28 اسٹوڈنٹس میں 5 لڑکیاں اور 23 لڑکے ہوتے تھے ۔ میں سب سے نئی اسٹوڈنٹ تھی اور فرسٹ پوزیشن لے لیتی تھی جس پر باقی کلاس فیلوز چڑتے تھے ۔ اچھی ڈرائینگ بنانے پر سر آصف نے تصحیح کے نام پر میری ڈرائینگ خراب کر دی تھی کیونکہ ان کے بیٹے کے نام سے ان کی بنائی ڈرائینگ جاپان میں منعقدہ انٹرنیشنل ڈرائنگ کمپیٹیشن میں بھجوائی جانی تھی۔ میری ڈرائینگ کو پاس ہی نہیں کیا گیا ۔ کبھی کبھی استاد کے درجے پر کم ظرف بھی بٹھا دیا جاتا ہے ۔ ٹیبلو میں علامہ اقبال بنی اور اردو تقریر کی تیاری کرتے میں اپنی کلاس انچارج میڈم ملک کا تلفظ درست کروانے کی غلطی کر بیٹھی نتیجتا اردو تقریری مقابلے سے ہاتھ دھوئے ۔ سر عاشق نے مجھے کلاس مانیٹر مقرر کیا اور سکول پرپفیکٹ ہیڈ گرل بنایا تو میڈم ملک نے " تلفظ درستی" والی جسارت کے نتیجے میں کلاس کی مانیٹر شپ سے بھی ریٹائر کر دیا ۔ میں کیا کر سکتی تھی ۔دل مسوس اور موڈ خراب کر کے رہ گئی ۔ طاقتور سے بنا کے رکھنا چاہیے یہ تو آج تک بھی نہیں سیکھ سکی تب تو چھوٹا سا اک بچہ تھی ۔ ہیڈ گرل بننے کی ذمہ داری ایسی نبھائی کہ ایک روز پریفیکٹ انچارج سر عاشق کو ہی کسی ڈسپلن کی خلاف ورزی پر ٹوک دیا اور وہ نفیس طبیعت انسان بس اتنا کہہ کر رہ گئے کہ مس درانی، استاد کو تو رولز نہ سکھائیں ۔۔ ریڈیو بہاولپور کا پروگرام ہمارے سکول میں ریکارڈ کیا گیا اس میں پیش کیے جانے والے اردو ڈرامے میں حصہ لیا ۔ میڈم میر سینئیر ٹیچر تھیں اور ریڈیو پروگرام کی انچارج تھیں۔ ہم تمام بچوں کی حوصلہ افزائی میں ہمیشہ پیش پیش رہتیں ۔ سال مکمل ہوتے ہوتے میری کلاس اور سکول پرفارمنس نے تمام استادوں کو مجھ سے شفقت کا برتاو کرنے پر مجبور کر دیا تھا ۔ اور جب 4 سال بعد میرا میڈیکل کامیرٹ آیا تو میڈم ملک کے مبارکباد کے فون نے تمام رنجشیں بھلا دیں اللہ کریم میری شفیق استاد کی مغفرت فرمائے اور ان کے درجات بلند فرمائےڈاکٹر رابعہ خرم درانی

Posted by ‎رعنائی خیال‎ on Monday, April 23, 2018

گھنے دو رویہ درختوں سے گھرے صاف ستھرے کینٹ ڈیرہ نواب صاحب کی سیاہ کارپٹڈ روڈ پر صبح صبح سکول پہنچنا مجھے بہت پسند تھا۔ گھنے آم اور جامن کے باغات میں گھرا ڈی-شیپ اسمبلی گراؤنڈ ٹھنڈے سائے میں ڈوبا ہوتا۔ آم اور جامن کا بور اور گلاب کی مہک صبح کی ہلکی دھند سے مل کر ایک خوابناک سا ماحول بنا دیتے۔ نیشنل لیول پر تقریری مقابلے میں شریک سینئیر طلبہ اسمبلی میں 2 روزانہ اپنی تقریر آواز و انداز کے مکمل پیچ و خم کے ساتھ دہرایا کرتے۔ حسن قرات اور نعت خوانی کے مقابلے کے شریک بھی روزانہ یہی عمل دہراتے۔ یہ تین ٹرافیاں پچھلے کئی سال سے ایف جی عباس پبک سکول کے نام تھیں اور ان کا سہرا ایک اسٹودنٹ رفاقت علی کے نام تھا۔ یہ صاحب نویں جماعت میں پچھلے کئی سال سے پڑھ رہے تھے اور پاس ہو کے نہ دیتے تھے۔ سکول بھی ان کی خوبیوں کی وجہ سے انہیں ٹرافی ونر کی کیٹیگری میں برداشت کیے ہوئے تھا۔ اپنے اساتذہ کے ہم عمر تھے اور بچوں کے ساتھ پڑھا کرتے تھے۔ قرات نعت اور تقریر کے فن سے آشنا تھے بلکہ استاد کے درجے پر جا پہنچے تھے۔ ان کی پڑھی نعت "یا رسول اللہ" ہر روز کا سب سے حسین وقت ہوتا تھا جب پتے گرنے کی آواز بھی محویت پر گراں گزرتی تھی۔ جونئیر کلاسز کے بچے سکول کے باغ سے گلاب کے پھول توڑتے اور اپنی پسندیدہ ٹیچرز کو دیا کرتے۔ ایک من موہنی نوجوان سی ٹیچر جو کسی میجر کی بیگم تھیں، ان کے ہاتھ میں پکڑا سفید کور والا حاضری رجسٹر ایک ٹرے کی طرح بچوں کے دیے پھولوں سے بنے ننھے سے پہاڑ کی شکل اختیار کر لیتا۔ باقی تمام ٹیچرز ان کو اتنے پھول ملنے پر چھیڑا کرتیں۔ محبت جہاں بھی ہو جس شکل میں ہو اپنا آپ منوا لیا کرتی ہے۔ سردیوں کے فری پیریڈز میں تمام ٹیچرز کھلے صحن میں کرسیاں بچھوا لیتے، چائے پیتے اور مالٹے کھایا کرتے۔ بھاری جثے والی گوری چٹی ادھیڑ عمر میڈم ملک سر پر دوپٹہ رکھتیں، کمر دھوپ کی طرف کر کے اپنے گیلے لمبے بال سکھایا کرتیں۔ میڈم میر انگلش، سر نذیر سائنس، سر عاشق انگلش، میڈم ملک اردو اور میتھس اور اونچے لمبے گنجے سے ڈرائنگ ٹیچر سر آصف۔ کتنے ہی لوگ تھے جو میری زندگی کا حصہ ہیں لیکن بچھڑ چکے ہیں۔ آٹھویں جماعت کے 28 اسٹوڈنٹس میں، 5 لڑکیاں اور 23 لڑکے ہوتے تھے۔ میں سب سے نئی اسٹوڈنٹ تھی اور فرسٹ پوزیشن لے لیتی تھی جس پر باقی کلاس فیلوز چڑتے تھے۔

اچھی ڈرائنگ بنانے پر سر آصف نے تصحیح کے نام پر میری ڈرائنگ خراب کر دی تھی کیونکہ ان کے بیٹے کے نام سے ان کی بنائی ڈرائنگ جاپان میں منعقدہ انٹرنیشنل ڈرائنگ کمپیٹیشن میں بھجوائی جانی تھی۔ میری ڈرائنگ کو پاس ہی نہیں کیا گیا۔ کبھی کبھی استاد کے درجے پر کم ظرف بھی بٹھا دیا جاتا ہے۔

ٹیبلو میں علامہ اقبال بنی اور اردو تقریر کی تیاری کرتے میں اپنی کلاس انچارج میڈم ملک کا تلفظ درست کروانے کی غلطی کر بیٹھی، نتیجتاً اردو تقریری مقابلے سے ہاتھ دھوئے۔ سر عاشق نے مجھے کلاس مانیٹر مقرر کیا اور سکول پریفیکٹ ہیڈ گرل بنایا تو میڈم ملک نے" تلفظ درستی" والی جسارت کے نتیجے میں کلاس کی مانیٹر شپ سے بھی ریٹائر کر دیا۔ میں کیا کر سکتی تھی؟ موڈ خراب کر کے رہ گئی۔ طاقتور سے بنا کے رکھنی چاہیے، یہ تو آج تک بھی نہیں سیکھ سکی تب تو چھوٹا سی اک بچی تھی۔

ہیڈ گرل بننے کی ذمہ داری ایسی نبھائی کہ ایک روز پرفیکٹ انچارج سر عاشق کو ہی کسی ڈسپلن کی خلاف ورزی پر ٹوک دیا اور وہ نفیس طبیعت انسان بس اتنا کہہ کر رہ گئے کہ مس درانی! استاد کو تو رولز نہ سکھائیں۔

ریڈیو بہاولپور کا پروگرام ہمارے سکول میں ریکارڈ کیا گیا۔ اس میں پیش کیے جانے والے اردو ڈرامے میں حصہ لیا۔ میڈم میر سینئیر ٹیچر تھیں اور ریڈیو پروگرام کی انچارج تھیں۔ ہم تمام بچوں کی حوصلہ افزائی میں ہمیشہ پیش پیش رہتیں۔

Comments

ڈاکٹر رابعہ خرم درانی

ڈاکٹر رابعہ خرم درانی

دل میں جملوں کی صورت مجسم ہونے والے خیالات کو قرطاس پر اتارنا اگر شاعری ہے تو رابعہ خرم شاعرہ ہیں، اگر زندگی میں رنگ بھرنا آرٹ ہے تو آرٹسٹ ہیں۔ سلسلہ روزگار مسیحائی ہے. ڈاکٹر ہونے کے باوجود فطرت کا مشاہدہ تیز ہے، قلم شعر و نثر سے پورا پورا انصاف کرتا ہے-

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.