ہمارا مذہبی کلچر - نعمان بخاری

کوئی بھی مذہب، کلچر یا نظریہ اپنے دور کے نظریات سے علیحدہ نہیں رہ سکتا۔ رفتہ رفتہ اس دور کے نظریات ایک دوسرے میں مل جاتے ہیں۔ کلچر اور نظریاتی ملاپ دس، بیس سال سے ہزاروں سال تک ہوتا رہتا ہے۔ آج ہم اسی مکس اپ میں ایک پوائنٹ پر بات کریں گے جو کہ ہمارے مسلمانوں میں اعلیٰ درجے میں پائی جاتی ہے، مذہبی رنگ اختیار کر گئی ہے اور ہم نے اس کو خدا کی طرف سے نازل کردہ حکم کا درجہ دے دیا ہے۔

ہندو مت کی ابتداء و ارتقاء کے وقت (عیسیٰ علیہ السلام سے دو ہزار سال قبل)، اس مذہب میں خدا کے بارے میں نظریات کچھ اس طرح سے تھے کہ وہ پراتمان کو سب سے بڑا خدا سمجھتے تھے اور وہ خدا ان کے نظریے کے مطابق کوئی بھی خامی سے مبّرا تھا۔ اس کے علاوہ ہندومت میں وہ اور خداؤں کو پوجتے تھے جو کہ ان کے خیال کے مطابق انسانوں کی طرح جذبات، پسند نا پسند رکھتے تھے۔ اس طرح ہندوؤں نے اپنے بڑے خدا کو خوش کرنے کے لیے چھوٹے خداؤں کو خوش کرنا شروع کیا۔ ہندو سادھو وہ لوگ تھے جو مراقبہ وغیرہ سے ڈائریکٹ آتمان سے کانٹیکٹ رکھ سکتے تھے مگر عام ہندو کو کچھ اور سوجھی۔ مثلاً انہوں نے پرآتمان کو خوش کرنے اور اپنے راستے سے تکالیف نکالنے کے لیے گناپتی کی پوجا شروع کی۔ دشمن کو مٹانے اور فتح پانے کے لیے شیوا نامی خدا کی پرستش شروع ہوئی۔ غرض بڑے خدا سے ڈائریکٹ رابطہ نہ ہوا اور اس کے بنائے ہوئے دوسرے خدا ہندوؤں کی دعا کا وسیلہ بن گئے۔

اس طرح آج سے دو ہزار سال قبل عیسی علیہ السلام کی پیدائش ہوئی اور عیسائیت کا مذہب شروع ہوا۔ پہلے تو یہ ایک خدا کا درس دینے والا مذہب تھا، پھر اس میں بھی ملاوٹ آگئی۔ مثلاً تثلیث کا نظریہ۔ پھر اس میں ہندوؤں کی طرح باتیں آنا شروع ہوگئی۔ مثلاً یہ مشہور ہونا شروع ہوا کہ ان کے سینٹ آگاٹیئس سر درد کے علاج میں عیسائیوں کو شفا دیتے ہیں، سینٹ اپولینا سے اگر عیسائی دعا مانگے تو وہ دانت کا درد ٹھیک کرتا ہے، اسی طرح سینٹ میتھیو قرض کے وقت کام آتا ہے۔ اب عیسائیوں نے خدا کے بجائے اس کے بندوں کو پوجنا شروع کیا کہ وہ وسیلہ بن جائے اور خدا کی سفارش کرکے ان کے غم دور کرے۔

اسی طرح مسلمانوں میں توحید کا نظریہ اپنے اصل میں موجود ہے۔ مسلمان یہ عقیدہ رکھتے ہیں کہ خدا سب کی سنتا ہے اور غم دور کرتا ہے۔ مگر ہم میں بھی ہندوؤں اور عیسائیوں والی وہ بات آگئی کہ ہم بھی صوفیاء اور خدا کے برگزیدہ بندوں کو خدا کے ولی سمجھ بیٹھے۔ یہ مشہور ہوا کہ آپ کی اولاد نہ ہو تو فلاں بابا کے مزار پر حاضری دو، سوال کرو، وسیلہ مانگو۔ خارش اور دانوں کے لیے الگ بابا، سر درد، پاگل پن، معذوری، کامیابی، غرض ہم نے بھی ہر ڈیپارٹمنٹ میں وسیلے ڈھونڈ لیے جو کہ ہمارا خدا سے کانٹیکٹ کراتے ہیں۔ یوں ہمارے مذہبی کلچر بھی رفتہ رفتہ ملاوٹ ہوگئی ہے۔

Comments

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

  • اللہ تعالیٰ کا خوف کرو۔۔ اللہ کے بندے ۔۔ اللہ تعالیٰ کے برگزیدہ بندوں کو بتوں سے ملا رہے ہو۔ کہاں بت پرستی اور کہاں اللہ کے ولیوں کے دربار گوہر بار۔۔ مزارات پر جا کر بھی ہر کوئی اللہ تعالیٰ جلاشانہ ہی سے مانگتا ہے اور وہ وحدہ لا شریک ہی سب کچھ عطا کرنے والا ہے۔ مسلمان پہلے ہی زبوں حالی کا شکار ہیں۔ برائے کرم مزید فرقہ واریت کو ہوا نہ دیں۔۔