حساب کتاب برابر کر لیں - عبداللہ آدم

اتوار کی رات ایک ولیمے میں بٹ صاحب ہمارے ساتھ تھے۔ سوموار کو چاق و چوبند دکان پر گئے، منگل کی صبح بھی ریس کورس میں معمول کی واک کر رہے تھے، ساتھ کا دوست ایک چکر کے بعد بیٹھنے لگا تو کہنے لگے ہمت کرو ایک اور چکر لگائیں گے اور دوسرے چکر کے لیے آگے چل پڑے۔ اچانک طبیعت خراب ہوئی، دوستوں نے اٹھانے کی کوشش کی لیکن ایک اور چکر کا کہنے والا جا چکا تھا۔ شام عصر کے بعد جنازہ ہوا اور مغرب کی اذانیں ہوئیں تو ہم ان کی تدفین سے فارغ ہو کر دعا کر رہے تھے۔

ابوبکر حماد بھائی ایک واقعہ سناتے ہیں۔ کہتے ہیں ہم لاہور میں پڑھ رہے تھے۔ مولانا اسماعیل السلفیؒ ہمارے استاد تھے۔ وہ جب بھی کبھی فوتگی کا اعلان کرتے تو ساتھ آیت پڑھتے'کل نفس ذائقۃ الموت'۔ ایک دن ایک بابا جی کھڑے ہو گئے۔

کہنے لگے مولانا صاحب آپ ہمیشہ یہ آیت ہی پڑھ دیتے ہیں، موت کا ذائقہ سب نے چکھنا ہے۔ موت تو آ گئی، اس کے بعد کیا ہے؟

مولانا نے فرمایا اس سے آگے حساب کتاب ہے۔ اب آپ دیکھ لیں کہ آپ کا حساب کتاب برابر ہے یا نہیں؟

یہ بات سن کر وہ بزرگ کہنے لگے میں ابھی درست کرتا ہوں۔ اس کے بعد پچھلی صفوں میں موجود اپنے چھوٹے بھائی کے پاس گئے جن سے کچھ رنجش تھی اور گلے لگا کر معافی مانگ لی۔ اگلے دن مولانا اسماعیل سلفیؒ نے نماز عصر کے بعد اعلان کیا کہ وہ بزرگ جنہوں نے کل سوال کیا تھا آج مالک کے حضور حاضر ہو چکے ہیں!

ہمارا ایک دوست تھا، بلکہ یوں کہنا چاہیے کہ 'دوست الدوست' تھا۔ ہنس مکھ، ہر وقت ظرافت کی باتیں۔ کچھ دن ملاقات رہی تو سلام دعا بڑھ کر شناسائی میں تبدیل ہو گئی۔ ایک دن فون آیا عظمت بیمار ہے۔ پتہ لینے گئے تو پتہ چلا کہ گردے اچانک فیل ہو گئے ہیں۔ پوچھا ہوا کیا تھا؟ جواب ملا بس رات کو ٹھیک ٹھاک سویا، صبح اٹھا تو سر میں درد سا ہوا، ڈاکٹر کے پاس گیا تو اسے کچھ سمجھ نہ آئی، ٹیسٹ کروائے تو پتہ چلا اچانک گردوں نے کام کرنا چھوڑ دیا ہے۔ کہتا ہے 'مجھے آج سے پہلے اندازہ ہی نہیں تھا کہ گردے بھی کچھ ہوتے ہیں کچھ کرتے ہیں، سارا پراسیس کیسے ہو رہا ہوتا ہے۔' قصہ مختصر، ڈائیلسس ہوتے رہے اور ایک دن خبر آئی کہ وہ گزر گیا۔ عمر 28 سال!

یہ بھی پڑھیں:   اطمینان موت ہے - عالیہ زاہد بھٹی

یونیورسٹی میں آخری پیپر تھا کہ مبین بھائی کا فون آیا، خون چاہیے اور او نیگیٹو چاہیے، سی ایم ایچ پہنچو۔ ساتھ ہی ایک محترمہ کا فون آ گیا، بھائی آپ کب آئیں گے؟ مجھے اس آواز کا کرب آج بھی نہیں بھولتا۔ بائیک کو کک لگائی اور آرمڈ فورسز بون میرو انسٹی ٹیوٹ پہنچ گیا۔ پتہ چلا بندے کو بلڈ کینسر ہے۔ خون دیا تو ساتھ موجود صاحب نے باتوں میں بتایا کہ مریض بزرگ نہیں، 29 سال کا نوجوان ہے اور یہ خاتون ان کی اہلیہ ہیں۔ اگلے مہینے ان کا انتقال ہو گیا۔

اللہ تمام مرحومین کی مغفرت فرمائیں۔

دوستو! حساب کتاب برابر کر لیں۔ بندوں سے بھی، مولا سے بھی اور بستہ باندھ کر رکھیں کہ آنے کی ترتیب مقرر ہے۔ جانے کی
نہیں!

کوئی بن گیا رونق پکھیاں دی، کوئی چھوڑ کے شیش محل چلیا

کوئی پلیا ناز تے نخریاں وچ، کوئی ریت گرم تے تھل چلیا

کوئی بُھل گیا مقصد آون دا، کوئی کر کے مقصد حل چلیا

ایتھے ہر کوئی یار مسافر اے، کوئی اج چلیا کوئی کل چلیا

بابافرید