پاکستان میں آزاد میڈیا کے بیس برس - صائمہ اسما

وارث، سمندر، ساحل، ان کہی،الف نون، تنہائیاں، اندھیرا اجالا، دھوپ کنارے، خواجہ اینڈ سن، الفا براوو چارلی، دھواں․․․․․یادش بخیر، ایک طول طویل فہرست ہے۔

سنہری دور کے پی ٹی وی ڈرامے اس وقت کی نوعمر نسل کے دل و دماغ پر ایسا نقش بٹھا گئے کہ اس کے بعد کوئی نقش مشکل ہی سے جما۔ پرائیویٹ چینل شروع ہونے پر تو گویا ڈراموں کی سیل لگ گئی۔ ایک سے ایک لش پش قسم کے سیٹ، زرق برق لباس، نئی نئی لوکیشنز، مہ روؤں کے جھرمٹ ․․․․․مگر حال یہ کہ ایک سے بڑھ کر ایک فلاپ۔ اوپر سے بیسیوں چینل اور ڈھیروں ڈرامے۔ ناظر بے چارہ کسے دیکھے اور کسے چھوڑے؟ پی ٹی وی کی پہنچ اپنے بوسٹر سسٹم کی وجہ سے پاکستان کے ایسے دوردراز علاقوں تک بھی ہے جو دیگر سہولیات سے محروم ہیں جبکہ پرائیویٹ ٹی وی کی ویور شپ اس کے مقابلے میں بہت کم ہے۔کیبل نیٹ ورک صرف شہری علاقوں تک محدود ہے۔اس کا بوسٹر نشریات سے کوئی موازنہ نہیں۔ سو ان پرائیویٹ چینلز پر نشر ہونے والے ایک ڈرامے کو ایک وقت میں زیادہ ناظرین کی توجہ ملنا خواب و خیال ہو گیا۔

دوسری طرف چینلز کا پیٹ بھرنے کے لیے کاروباری بنیادوں پر بننے والے ڈراموں سے معیاری ہونے کی توقع بھی دم توڑتی گئی۔ یہ عجیب بات ہے کہ پی ٹی وی کا سنہرا دور وہی تھا جسے پاکستان میں آمریت کا دور کہا جاتا ہے اور آج کل فیشن کے طور پر ہر شخص اس دور کو آرٹ اور کلچر کے سیاہ دور سے تعبیر کرنا اپنے روشن خیال ہونے کی علامت سمجھتا ہے۔ اگر وہ پابندی کا دور تھا تو لامحالہ ’آزادی‘ کا دور یعنی کیبل نشریات اور پرائیویٹ میڈیا شروع ہونے پر اعلیٰ سے اعلیٰ کام کا ایک سیلِ رواں امڈ آنا چاہیے تھا، تخلیقی صلاحیتیں جو مذہب اور رجعت پسندی کے نام پر دبا دی گئی تھیں، خوب ابھر کر سامنے آنی چاہیے تھیں۔ مگر ہوا کیا کہ ایک سے ایک بیمار ذہنیت، ساس بہو کے جھگڑے، گھریلو تشدد، جرم، آوارگی، بے وفائی اور بے راہروی کے رجحانات کھل کر ڈراموں کے موضوع بننے لگے۔ بھارتی چینل سٹار پلس اور زی ٹی وی کی طرز پر بنے ہوئے ڈرامے پاکستانی چہروں کے ساتھ بے حد عجیب لگتے جن میں سوئی ہوئی ہیروئن کے منہ پر بھی میک اپ تھپا ہوتا۔ ناظرین کے دلوں پر اب تک راج کرنے والے ہمارے مقبول ٹی وی آرٹسٹ خود حیران پریشان تھے کہ یہ کیا ہو رہا ہے؟ مگر کھل کر نہ بول سکتے تھے کیونکہ انہیں اسی میدان سے رزق کمانا تھا۔

مجھے ماضی کی ایک میڈیا ورکشاپ یاد آتی ہے جس میں معاشرے کی برائیوں کو میڈیا پر پیش کرنے کا مسئلہ زیر بحث آیا تو ڈاکٹر محمود احمد غازی نے بڑے اچھے انداز میں سمجھایا کہ دیکھیں ہم جہاں بیٹھے ہیں، اس صاف ستھرے فرش کے نیچے ہم سب جانتے ہیں کہ ایک گٹر بہہ رہا ہے۔ اگر اس کو صاف کرنے کی ضرورت ہوگی تو ہم حتی الامکان اس کی نیچے ہی صفائی کرنے کے طریقے اختیار کریں گے، گند کو اس فرش پر پھیلا کر اس کی نمائش نہیں کریں گے کہ صاف ماحول میں بھی اس کا تعفن پھیل جائے۔ معاشرے کی برائیوں کو درست کرنے کا طریقہ ان کی گھر گھر نمائش کرنا نہیں ہے، اس طرح برائی اور پھیلتی ہے۔ برائی کو تسلیم ضرور کریں مگر اصلاح کی نیت سے، اسے کم سے کم دکھائیں اور برا ہی دکھائیں قابل تقلید بنا کر پیش نہ کریں۔ حقیقت پیش کرنے کے نام پر معاشرے کی گندگی کو گھر گھر دکھانے کا مطلب تو یہ ہے کہ جو لوگ بچے ہوئے ہیں وہ بھی اس کا شکار ہو جائیں۔ آج جس طرح ٹی وی پر ریٹنگ بڑھانے کے لیے ایک سے ایک خرافات دکھائی جارہی ہے تو ان کی بات یاد آتی ہے۔ مغرب میں میڈیا کے اثرات پر خاصی تحقیق ہو چکی ہے، اور یہ بات ثابت ہے کہ تشدد، جرائم اور ہتھیاروں کے استعمال کو فلموں میں دکھانے کے نتیجے میں معاشرے میں ان رجحانات کو بے حد فروغ ملا ہے۔ یہی حال باقی معاملات میں ہے۔ ٹی وی کے اثرات کے بارے میں تو ساٹھ کی دہائی میں پیش کی گئی کلٹیویشن تھیوری بہت ہی خوفناک ہے۔

ہمارے ہاں پرائیویٹ ٹی وی کا آغاز ہوئے اب بیس سال ہونے کو ہیں۔ اس بات کی بے حد ضرورت ہے کہ سنجیدگی سے بیٹھ کر اس کے اثرات کا جائزہ لیا جائے، میڈیا کے میدان میں جدید علم سے فائدہ اٹھاتے ہوئے ٹاک شوز اور ڈراموں کو معاشرے کو بہتر بنانے کے لیے بھرپور استعمال کیا جائے۔ ایک ترقی پذیر ملک کے تمام سیکٹرز کی پالیسیاں قومی مقاصد کے تحت ہونی چاہیئیں۔ ہم ترقی یافتہ ممالک کی سطح پر آکر آزادی ِ اظہار، انسانیت، تخلیق وغیرہ جیسے آئیڈیلز کی عیاشی کے متحمل نہیں ہو سکتے کیونکہ ہماری اتنی اوقات نہیں ہے۔ ہماری تو حکومتیں تک گلوبل گیم کے آگے خود مختار نہیں ہیں تو میڈیا کی کیا حیثیت ہے جس کو خود ترقی یافتہ معاشروں میں بھی سرمایہ دارانہ نظام کی باندی سمجھا جاتا ہے؟ نوم چومسکی کو مینو فیکچرنگ کونسنٹ لکھنے کی ضرورت اسی لیے پڑی، حالانکہ جدید ممالک میں عوام بحیثیت شہری بھی اور بحیثیت ناظر بھی شعور کی انتہائی بلند سطح پر ہیں، اس کے باوجود وہ میڈیا کے پس پردہ ایجنڈوں کو سمجھ نہیں پاتے۔ اس سے اندازہ کر لیں کہ ہمارے عوام کے ساتھ تو میڈیا جو بھی کرے وہ کم ہے۔ ہمارے عوام اتنے باشعور نہیں ہیں کہ معاشرے کے لیے نقصان دہ مواد کو خود بخود رد کرسکیں۔

پاکستان میں جب پرائیویٹ میڈیا کا آغاز ہوا اس وقت یہ ایک امکانات سے بھرپور میدان تھا۔ مجھے ۲۰۰۳ء میں مشہور برطانوی صحافی ایوان ریڈلی کی پاکستان آمد پر ان سے انٹرویو کرنے کا موقع ملا۔ میڈیاکی آزادی پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اس وقت پاکستانی میڈیا کو اگر میں دنیا کا آزاد ترین میڈیا کہوں تو غلط نہ ہوگا کیونکہ یہ ابھی ہر قسم کے دباؤ سے آزاد ہے۔ مگر پھر یہ صورتحال بڑی تیزی سے تبدیل ہوئی اور کئی قسم کا سرمایہ اپنے مقاصد کے ساتھ میڈیا کو اپنے شکنجے میں جکڑنے لگا۔بلکہ کسی قومی پالیسی اور رہنما اصولوں کی غیر موجودگی میں محض پیسہ کمانے کا مقصد لے کر میڈیا کے میدان میں آنا بجائے خود معاشرے کے لیے نقصان کا باعث ثابت ہوتا ہے کیونکہ پھر ریٹنگ کے نام پر مواد زوال پذیر ہونے لگتا ہے۔یہی ہوا، یہاں تک کہ ایسا گھٹیا بھارتی مواد جو ہمارے ماحول سے کسی طرح بھی مطابقت نہیں رکھتا، اور خود ان کے ہاں بھی تنقید کا نشانہ بنتا ہے، ریٹنگ کے نام پر گھر گھر پہنچا دیا گیا، حالانکہ بھارت میں اچھا مواد بھی بنتا ہے جو دونوں ممالک کے یکساں مسائل کو ایڈریس کرتا ہے اور معاشرے میں تہذیب و ترقی کا باعث بنتا ہے۔

ہمیں بھی میڈیا پر پیش کیے گئے تفریحی مواد کو اپنے قومی مقاصد کے ساتھ ہم آہنگ کرنے کی ضرورت ہے۔ مگر اس کے لیے پہلے ایک مفصل قومی میڈیا پالیسی بنانے کی ضرورت ہے۔ ہم تو ابھی تک یہ ہی طے نہیں کر سکے کہ فحاشی کی تعریف کیا ہے۔ اس سے تو وہ تاریک دور اچھا تھا جس میں ایک چینل تھا جو قومی مقاصد کے تحت کام کرتا تھااور جس دور کے پروگراموں کی ملک کے اندر اور باہر دھوم تھی!

Comments

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

  • آپ نے بہت درست سمت میں قلم اٹھایا ہے ۔ میڈیا کو قومی مقاصد اور معاشرتی اقدار سے ہم آہنگ کرنے کی ضرورت تو ہے مگر سوال یہ بھی ہے کہ یہ کرے کون ؟ اور دوسرا یہ کہ آزاد چینلز کی مانیٹرنگ بھی ہونی چائیے ۔ ان کے پاس اپنی پروڈکٹ کو اچھا ثابت کرنے کی ایک ہی دلیل ہے اور وہ یہ کہ ریٹنگ بہت ہوئ ۔
    اب باہر سی بات ہے کہ زیادہ اچھلنے کودنے اور بے ہنگم دکھانے والوں اور پرتشدد مواد دکھانے والوں کی ریٹنگ تو بڑھے گی ہی ۔ مرچ مسالہ اور ہیجان انگیزی کیوں پسند نہ کی جائے گی ۔
    حالانکہ میرا خیال ہے کہ اب بھی حقیقت سے قریب اور گھریلو انداز کے ڈرامے پسند کئیے جاتے ہیں ۔

  • صائمہ کی چشم کشا تحریر، یہ حقیقت ہے کہ موجودہ میڈیا آزادی کے نام پر عالمی ایجنڈے کا محکوم میڈیا ہے، جسے خواہ مخواہ آزاد میڈیا گردانا جاتا ہے، آزادی پریشرز سے آزادی کا نام ہے نہ کہ مادر پدر آزادی۔
    گو فکر خدا داد سے سوشن ہے زمانہ
    آزادئ افکار ہے ابلیس کی ایجاد
    آزادئ افکار ہے ان کی تباہی
    رکھتے نہیں جو فکر و تدبر کا سلیقہ