خبر لیجے دہن بگڑا - حبیب الرحمٰن

ہم نے تو یہ سنا تھا کہ تعلیم انسان کو تہذیب و شائستگی سکھاتی ہے لیکن لگتا ہے کہ ایک روشن حقیقت کو زمانہ تاریک اور بے حقیقت کرنے کے درپے ہے۔

ایک وہ زمانہ تھا جب تعلیم عام نہیں تھی اور ہمارے پاکستان میں تعلیم یافتہ افراد بصد مشکل 15 فیصد پائے جاتے تھے جبکہ ان کو بھی پڑھا لکھا شمار کر لیا گیا تھا جو صرف اپنا نام ہی لکھ سکتے تھے۔ اب جبکہ لٹریسی ریٹ 50 فیصد سے بھی کہیں آگے بڑھ گیا ہے اور کم از کم پرائمری جماعت تک بڑھ جانے والے کو تعلیم یافتہ یا پڑھا لکھا سمجھا جاتا ہے، تو یوں لگنے لگا ہے کہ تہذیب و شائستگی کا دامن دن بدن ہاتھ سے چھوٹتا جا رہا ہے اور لوگ اعلیٰ سے اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے کے باوجود پرانی اقدار و روایات، تمدن اور تہذیب سے بے بہرہ و بیگانہ ہوتے جا رہے ہیں۔

دو بڑی بڑی وجوہات ایسی ہیں جو کسی بھی قوم کی تباہی و ہلاکت کا سبب بن جایا کر تی ہیں جس میں قوموں کا جاہل ہونا، علم کی روشنی سے دور ہونا یا پھر نہایت مفلس اور غریب ہونا۔ جس طرح ایک جاہل، ان پڑھ اور اجڈ انسان اور قوم میں اور جانوروں میں کوئی تمیز نہیں ہوتی اسی طرح غربت، مفلسی اور انتہائی تنگ دستی انسان سے ہر قسم کی مروت، انسانیت اور شرافت چھین کر اسے حیوان اور درندہ بنا دیتی ہے۔

یہ بات تاریخ اور ہر ملک کے ادب میں موجود ہے اور اس کی حقیقت سے آج تک نہ تو کسی کو اختلاف ہوا ہے اور نہ ہی کسی نے اس بات کو جھٹلایا ہے لیکن لگتا ہے کہ جیسے پرانی روایات اور قدروں کی طرح یہ بات بھی ایک قصہ پارینہ بنتی جا رہی ہے، اسی طرح اعلیٰ تعلیم بھی اس بات میں ناکام ہوتی جارہی ہے کہ وہ کسی وحشی اور جاہل انسان کے اندر سے اس کی وحشت یا جہالت کی ظلمت کو نکال سکے۔

یہ بات یونہی نہیں کہی جارہی، اس کے پس پردہ آج کل کی ”پڑھی لکھی“ جہالتیں اور وحشتیں ہیں جو آپ کو غریب اور جاہل انسانوں کی بستی میں رہنے والے انسانوں میں بہت کم اور اعلیٰ تعلیم یافتہ طبقے میں انتہائی درجے میں ملیں گی۔

ایک زمانہ تھا کہ ہمارے سیاست دان ہوں، دانشور ہوں، اعلیٰ تعلیم یافتہ افراد ہوں، ان کی ایک ایک بات اور بات کے ایک ایک لفظ اور لفظ کے ایک ایک حرف میں ایک رکھ رکھاؤ، وضعداری، سلجھاؤ، تہذیب اور شائستگی نظر آتی تھی اور خاص طور سے سیاست دانوں اور رہبران قوم میں یہ اوصاف اوج ثریا کو بھی شرما رہے ہوتے تھے۔ پاکستان میں بیشمار تحریکیں چلیں، بڑے بڑے جلسے ہوئے، بڑے بڑے آمروں کے خلاف مہمات چلائی گئیں، پرجوش نعرے بلند ہوئے اور آگ لگادینے والے خطابات بھی ہوئے لیکن ایسا کبھی نہیں ہوا کہ اس میں ادب و لحاظ، تہذیب و شائستگی یا شستگی کو ملحوظ خاطر نہ رکھا گیا ہو۔ تحاریک اور مہمات چلتی ہی مخالفت میں اور پہلے سے بنے ہوئے کسی سسٹم اور حکومت کے خلاف ہیں لیکن اس کا مقصد یہ کبھی نہیں ہوتا کہ اس قسم کی تحریکوں میں مخالف فریق کے لیے بازاری زبان استعمال کی جائے یا ایسے رکیک حملے کیے جائیں جس میں اخلاق ہی تباہ وبرباد ہو کر رہ جائے۔ لگتا ہے کہ پاکستان میں شستگی اور شائستگی کا یہ دور نواب زادہ نصراللہ خاں کے بعد دریا برد ہو گیا ہے۔

پاکستان نے بڑے بڑے سیاسی اور مذہبی رہنماؤں کو پیدا کیا ہے۔ مولانا ابوالاعلیٰ مودودی، مفتی محمود، غلام غوث ہزاروی، مفتی محمد شفیع، مولانا شفیع اکاڑوی، مولانا شاہ احمد نورانی جیسے وہ وہ مذہبی رہنما رہے ہیں جنہوں نے حق بات کہنے کی پاداش میں جیلوں تک کی صعوبتیں جھیلنے کے باوجود اپنی زبان اور زبان سے نکلنے والے ایک لفظ کو بے لگام نہیں ہونے دیا اور جب جب بھی عوامی اجتماعات سے خطاب کیا اس میں تہذیب کے دامن کو کبھی تار تار نہیں ہونے دیا۔ یہی عالم سیاسی رہنماؤں کا تھا۔ اس میں شک نہیں کہ انہوں نے شعلہ بیانیاں بھی دکھائیں اور جلسوں میں آگ بھی بھڑکائی لیکن ہر اس بات سے اجتناب کیا جس سے جہالت کی ظلمتوں کو پھولنے پھلنے کا موقع ملے۔ کیا ذوالفقار علی بھٹو، کیا اصغر خان، کیا عبد الستار نیازی، کیا خان عبد الولی خان، کیا بیگم نسیم ولی خان اور کیا نواب زادہ نصراللہ خاں، یہ سب وہ لوگ تھے جنہوں نے وہ وہ صعوبتیں اٹھائیں جس کا تصور آج کے سیاست دان زندگی بھر نہیں کر سکتے لیکن اس کے باوجود بھی ان میں سے کسی کی زبان نے شائستگی کو اپنی ہاتھ سے نہیں جانے دیا۔

اب، جبکہ اُس پاکستان کے دور سے جس پاکستان میں ایسے نامی گرامی رہنمایان قوم ہوا کرتے تھے، بہت پڑھا لکھا اور اعلیٰ تعلیم یافتہ پاکستان ہے مگر لگتا یوں ہے کہ جہالت کم ہونے کی بجائے بڑھتی جارہی ہے اور تہذیب شائستگی معدوم سے معدوم تر ہوتی جا رہی ہے۔

اسمبلی کا فلور ہو یا احاطہ، پریس کانفرنسیں ہوں، ریلیاں ہوں، جلسے ہوں، جلوس ہو یا عام بیٹھکیں، عالم یہ ہے کہ سیاست دان تو سیاست دان، مذہبی اسکالرز تک نہ تو زبان کے لحاظ سے تہذیب یافتہ نظر آتے ہیں، نہ کردار کے لحاظ سے اور نہ ہی ہاتھ پاؤں کے اشاروں سے وہ کوئی اعلیٰ تعلیم یا تہذیب کے حامل دکھائی دیتے ہیں۔ ان کی زبان بے لگام ہو چکی ہے، چشمکیں بے لحاظ ہو چکی ہیں، ہاتھ پاؤں نہ صرف مارپیٹ میں گستاخ ہو چکے ہیں بلکہ دورانِ دشنام طرازی ایسے ایسے بیہو دہ اشارے کر رہے ہوتے ہیں کہ شاید بازاری خواتین اور عام بازاریوں کی گردنیں بھی شرم سے جھک جائیں۔

ایسا کیوں ہے؟ اس اس لیے کہ تعلیم تو بے شک بہت عام ہو چکی ہے لیکن اعلیٰ سے اعلیٰ تعلیم ”تربیت“ کے سائے سے محروم ہے۔ جس زمانے میں تعلیم کا معیار آج کی تعلیم سے بہت پست تھا اُس زمانے میں پڑھانے والے بھی، پڑھنے والے بھی اور وہ والدین جن کی اولادیں تعلیم گاہوں کا رخ کیا کرتی تھیں، تربیت کی دولت سے مالا مال ہوا کرتے تھے اس لیے نامناسب تعلیمی معیار کے باوجود وہ سب کے سب نہایت مہذب اور شائستہ ہوا کرتے تھے۔

دوش صرف سیاست دانوں، مذہبی رہنماؤں اور حکومت پر متمکن اعلیٰ عہدیداروں کو ہی نہیں، ٹی وی پر بیٹھے وہ تمام افراد جن کو پروگراموں کے انعقاد کا ذمہ دار بنایا گیا ہے، پروگراموں کو تر تیب دینے والے ذمہ داران، وہ جو صرف سلائیڈ چلایا کرتے ہیں، تمام اینکرز حضرات، ٹاک شوز میں بلائے جانے والے مہمانان گرامی جو کسی نہ کسی سیاسی و مذہبی پارٹیوں کی نمائندگی کر رہے ہوتے ہیں، تبصرہ کرنے والے اور تجزیہ کار، جس کو بھی دیکھو وہ آپے سے باہر ہی نظر آتا ہے۔ نہ ان کی زبان، نہ لہجہ، نہ الفاظ کا چناو، نہ لفظوں کا استعمال اور نہ ہی انداز بیان مہذبانہ ہوتا ہے نہ ہی شریفانہ۔یہی نہیں بعض اوقات یہ عالم ہوتا ہے کہ

لگے منہ بھی چڑانے دیتے دیتے گالیاں صاحب

زباں بگڑی سو بگڑی تھی خبر لیجے دہن بگڑا

پاکستان میں رہنے والے ایک ایک پاکستانی کو یہ بات اچھی طرح معلوم ہونی چاہیے کہ جس سرزمین کے آپ سفیر ہیں اس کو مملکت خداداد کہا جاتا ہے۔ یہ اسلامی جمہوریہ پاکستان ہے۔ اس کے ایک ایک فرد کو اخلاق و کردار کا ایک اعلیٰ نمونہ ہونا چاہیے اور بہر لحاظ ہونا چاہیے۔ زبان آپ کے اندر کے انسان کی ترجمان ہے، جب جب بھی کوئی فرد لب کشائی کرتا ہے، اس کے جاہل اور قابل ہونے کا علم ہوجاتا ہے۔ لہٰذا ہر ہر فرد کو اپنی زبان کی حفاظت کرنی چاہیے اور خاص طورسے وہ رہنما جن کے پیچھے ایک قوم ہوتی ہے ان کے لیے تو یہ بات از حد ضروری ہے کہ وہ اپنی زبان کو اپنے قابو میں رکھیں اس لیے کہ ان کی زبان عام انسانوں کی زبان و بیان بن جاتی ہے اور ان کے منہ سے نکلا ہوا ایک ایک لفظ لاکھوں لوگ (نعوذ بااللہ) وحی الٰہی کی طرح سمجھ رہے ہوتے ہیں۔ لہٰذا وہ اپنی زبان سے نکلے ہوئے ایک ایک لفظ کی اہمیت کو سمجھیں اور قوم کو بگاڑ کی بجائے بناو کی جانب لیکر جائیں ورنہ حساب و کتاب سے بچنا بہت دشوار ہو جائے گا۔