یادوں کی محراب سے - عبدالباسط ذوالفقار

وہ پتھرائی آنکھوں سے چھت کو گھورتے، چند لمحوں بعد منتظر نگاہیں گھما کر دروازے کو تکتے، پھر آنسوؤں کے دو موٹے قطرے لڑھک کر تکیے میں جذب ہو جاتے۔ دھیمی سی منہ سے نکل کر فضا میں تحلیل ہو جاتی، کسی کے کان سے ٹکرا جاتی تو وہ جواب پا لیتے ورنہ وہ آوازہ وہیں فضا میں معلق ہی رہ جاتا۔ ایک دو بار کے استفسار پر جب انہیں بتایا گیا کہ "وہ نہیں آیا" تو انہوں نے سر کو دھیمے سے ادھر ادھر ہلایا اور لڑکھڑاتے الفاظ میں فقط اتنا کہا "شاباش! یہاں اس کا باپ…." وہ اپنی بات پوری نہ کر پائے تھے کہ دروازے کا کواڑ ہلا اور ان کی نظریں پھر دروازے کی جانب اٹھ گئیں۔

ابا گزشتہ کئی دنوں سے صاحب فراش تھے۔ آج معلوم نہیں کیوں اتنا بے چین ہو رہے تھے؟ حالانکہ صبح ہی انہوں نے دعاؤں سے مجھے رخصت کیا تھا۔ اب شاید انہیں ملک الموت کی آمد کا پتا چل گیا تھا یا نجانے کون سے خدشات تھے جو ان کے سینے میں سر اٹھا رہے تھے کہ میری غیر موجودگی انہیں چبھ رہی تھی۔ انہوں نے جب میرے بارے استفسار کیا تو انہیں بتایا گیا کہ وہ تو اس دکان گیا ہے جہاں کے بارے آپ کہا کرتے ہیں کہ موت اور گاہک کا کوئی پتا نہیں کب آجائے، تیار رہنا چاہیے۔ وہ بستر مرگ پر موت کے منتظر، میں بستر حیات پر گاہک کا منتظر۔ میں ان لمحات کو بہا رہا تھا جن لمحات میں انہیں میرا انتظار تھا۔ مجھے بیٹھے بیٹھے اچانک سے کانٹے چھبنے لگتے، دل بیٹھنے لگتا، کبھی اس رفتار سے دھڑکتا گویا اچھل کر منہ سے باہر آجائے گا۔ کبھی سانس رکنے لگتا اور یوں معلوم ہوتا جیسے گلے میں کانٹے پھنسے ہوں اور دم گھٹ رہا ہو۔ میں غٹا غٹ پانی پیتا، پسینہ پونچھتا، اوراد و وظائف کا سہارا لیتا مگر مجال کہ دل کے دھڑکنے کی رفتار کم ہوتی یا میری بے چینی مجھے بخش کر میری جان چھوڑتی؟ کسی طور جان بخشی ممکن نہ ہوتی تو اٹھ کر ٹہلنے لگتا۔

یکایک مجھے ابا کا خیال آیا تو میں نے نگاہوں کو راستے پر چھوڑ دیا کہ شاید کوئی آتا نظر آجائے۔ کوئی آئے تو میں گھر جا کر ابا کی قدم بوسی کروں۔ لیکن نہ کسی نے آنا تھا، نہ کوئی آیا۔ جب خاصا وقت گزر گیا، میں بے بسی سے بیٹھا رہا اور یقین کامل ہو گیا کہ اب کسی نے نہیں آنا تو گھڑی کو دیکھنا شروع کر دیا کہ کب عصر کی اذان ہو اور میں گھر جاؤں؟ مگر اس دن وقت کو جیسے زنگ لگ گیا ہو، گزرنے کا نام ہی نہیں لے رہا تھا۔ اسی اثناء میں دیکھتا ہوں کہ چچا زاد زرد چہرے کے ساتھ دوڑتا چلا آرہا ہے۔ جب قریب پہنچا تو سانس بحال کیے بغیر، آنسوؤں کی لڑی میں پروئی ایسی آواز نکالی گویا پیغام نہ سنایا ہو بم پھوڑ دیا ہو۔ "ابا ہم میں نہیں رہے،" میں نے بے یقینی کے عالم میں اسے بٹھایا۔ پانی پلایا کہ سانس بحال کرلو، مجھے شبہ تھا وہ دوڑتا ہوا آیا اور پھولے سانسوں، جلدی میں الفاظ بدل کر لڑھک گئے۔ مگر اس نے مجھے کندھے سے پکڑ کر ہلایا سچ میں ابا ہمیں چھوڑ گئے۔

میں افتاں و خیزاں اٹھ کر کھڑا ہو گیا۔ زمین میرے پاؤں کے نیچے سے نکل گئی۔ میرے کان یہ آواز سننے، دل قبول کرنے سے اور دماغ یقین سے عاری تھا۔ پھر معلوم نہیں گھر کیسے پہنچا۔ پانی کی چھینٹوں سے انکھ کھلی تو ہر طرف شور غوغا تھا۔ بھانت بھانت کی آوازیں تھیں، افراتفری تھی۔ سب سے پہلی آواز یہی سنی کہ ابا ہم میں نہیں رہے تو یقین ہو گیا کہ آج یتیمی کا داغ دامن پر لگ گیا۔ ادھر ابا تھے کہ پرسکون لیٹے رہے جیسے انہیں اس دنیا یا اس میں بسنے والوں سے کوئی سروکار ہی نہ تھا۔

مجھے بتایا گیا ابا تیرا پوچھتے رہے، بار بار تمہیں پکارا، تو فوراً مجھے بے چینی کی وجہ سمجھ آگئی مگر تب کیا ہو سکتا تھا جب خدا کا امر پورا ہو گیا تھا۔ ملک الموت ابا کی روح قبض کر چکے تھے۔ میں نے نگاہوں کو اپنی اماں کے چہرے پر ثبت کر دیا کہ شاید وہ ہی میرا دل رکھ لیں اور مجھ سے جھوٹ بول لیں کہ "ہاں! تیرے ابا زندہ ہیں" مگر اس دن تو سب ہی سچے بنے گھوم رہے تھے۔ وہ جو ہمہ وقت دروغ گوئی کےگھوڑے پر سوار رہتے تھے وہ بھی سچے بنے پھر رہے تھے۔ آج پہلی بار تھی جب دل چاہ رہا تھا کہ کوئی مجھ سے جھوٹ بولے۔ لیکن جب سب طرف سے امیدوں پر پانی پھر گیا تب دل چاہ رہا تھا میں چیخوں، چلاؤں، سب کے کانوں کے پردے پھاڑ دوں۔

پھر احساس ہوتا کہ رونے سے کیا ہوگا؟ جو ہونا تھا وہ تو ہو چکا۔ اب بس دعائے مغفرت اور صبر ہی ان کے درجات کی بلندی کا سبب ہوگا۔ کچھ ہی دیر بعد بصد نالہ و فغاں انہیں سپردخاک کر کے خالی چارپائی لیے ہم گھر آرہے تھے۔ کاش! میں آخری وقت میں ان کے پاس ہوتا تو یادوں کی محراب میں کچھ تو ایسا ہوتا جسے آج ان کی یاد آنے پر دماغ میں بساتا اور دل کو اطمینان دلاتا کہ آخری ملاقات میں تو ساتھ ہی تو تھا۔ صد حیف کہ دامن اس سے بھی خالی ہے۔ البتہ ایک احساس، جو داغ کی صورت ماتھے پر لگا ہوا ہے اور کسی طور مٹنے کا نام نہیں لے رہا۔ اس اس وقت تک مٹے گا بھی نہیں جب تک کہ میں بھی مٹی کے ساتھ مٹی نہ ہو جاؤں۔

آج دس سال بعد محرومی کا یہ خیال آتا ہے تو وہ واقعہ یاد آجاتا ہے جسے شاید کبھی فراموش نہ کر پاؤں اور جب جب یہ واقعہ یاد آتا ہے دماغ سن اور شعور مفلوج ہو جاتا ہے۔ بہتی آنکھیں اور ان کے منوں وزنی پپوٹے مسجد کی پرانی دریوں کی طرح سمٹتی ہیں تو دوبارہ سے کھل جاتی ہیں اور یاد کی مہر منہ پر ایسی چپکی معلوم ہوتی ہے جیسے ڈاک خانے کے لفافے پر ٹکٹ چپکا ہوتا ہے۔

ٹیگز

Comments

عبدالباسط ذوالفقار

عبدالباسط ذوالفقار

عبد الباسط ذوالفقار ضلع مانسہرہ کے رہائشی ہیں۔ سماجی موضوعات پر لکھی گئی ان کی تحاریر مختلف اخبارات، رسائل و جرائد میں شائع ہوتی رہتی ہیں۔

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.