شیخ سدو (2) - خرم علی راؤ

پچھلی قسط

شیخ صاحب اگر کسی بات پر اڑ جائیں تو پھر" زمیں جنبد نہ جنبد گل محمد" کی عملی تفسیر بن جاتے ہیں۔ اگر منہ سے کوئی بات نکل گئی تو چاہے کتنی ہی بے تُکی کیوں نہ ہو؟ اس کی اتنی خوبصورتی سے وضاحت اور اتنے وثوق سے وضاحت کرتے ہیں کہ سننے والا اپنا سر پیٹنے اور بال نوچنے کے سوا کچھ بھی نہیں کر پاتا۔ ابھی کچھ عرصہ پہلے تھڑے پر ان کی محفل حسب روایت جمی ہوئی تھی۔ میں بھی شومئی قسمت وہاں سے گزرا، ایک ضروری کام سے جا رہا تھا، جلدی میں تھا، تو کوشش کی کہ شیخ صاحب نہ دیکھ پائیں، اور میں یہ پل صراط عبور کرجاؤں۔ مگر صاحباے بسا آرزو کہ خاک شدہ! ان کی عقابی نظر پڑ ہی گئی اور للکار کر فرمایا "ابے او صحافی کی دُم! ادھر آ، کہاں بھاگا جارہا ہے نظر بچا کر؟ میرا ادھار تو نہیں دینا نہ تجھے؟" میں مرے مرے قدموں سے ان کے پاس پہنچا اور سلام کیا۔ لجاجت سے ان سےکہا شیخ صاحب! ذرا جلدی میں ہوں، جانا ہے۔ مگر وہ ایسی باتیں کہاں سنیں؟ ڈپٹ کر کہا بیٹھ جاؤ یہاں، اس صدی کی سب سے بڑی علمی بحث ہو رہی ہے اور میڈیا (یعنی کہ میں) موجود نہ ہو؟ یہ کیسے ہو سکتا ہے؟

میں چار و ناچار بیٹھ گیا۔ شرکاء محفل پر غور کیا تو قابلِ ذکر لوگوں میں، مقامی سرکاری اسکول کے ٹیچر اور ڈپٹی ہیڈ ماسٹر مرزا مقبول بیگ۔ دہ جماعت پاس تھے، کسی چاچے مامے کی سفارش پر اچھے وقتوں میں بھرتی ہو گئے تھے اور اب ملازمت کے آخری ایام میں آتے آتے نائب صدر مدرس تک پہنچ گئے تھے۔ ڈائجسٹوں کے دیوانے تھے اور پاکستان کے سارے ڈائجسٹ ان کے گھر آیا کرتے تھے اور یوں برسوں تک ڈائجسٹ گردی کر کر کے مزاجِ عالی بھی ڈائجسٹانہ اور شاعرانہ ہو گیا تھا۔ اور چاچا فلسفی موجود تھے، چاچا فلسفی بھی ایک علیحدہ ہی کردار تھے، ایک ایسے سرکاری ادارے میں چپراسی تھے جہاں شاعروں اور ادیبوں کا بہت آنا جانا تھا۔ ان کی دانشورانہ باتیں سن سن کے خود کو بزعم خود بڑا دانشور اور فلسفی سمجھتے تھے۔

شیخ صاحب نے میرے بیٹھتے ہی گفتگو کا سلسلہ دوبارہ جوڑا اور فرمانے لگے کہ مرزا صاحب! آپ جلتے توے پر بیٹھ کر بھی کہو گے کہ شیکسپیئر شیخوں کے خاندان سے نہیں تھا بلکہ جدی پشتی انگریز تھا تو میں تسلیم نہیں کروں گا۔ میں آپ کو تاریخی حوالہ دے چکا ہوں کہ اس کا تعلق شیخوپورہ سے تھا اور اس کا اصل نام شیخ پیرو تھا۔ آٹھویں میں فیل ہوگیا تو والد کی مار کے ڈر سے بھاگ کر پہلے ممبئی اور پھر ایک انگریز کا ذاتی ملازم بن کر انگلینڈ چلا گیا اور وہاں مشہور ہوگیا۔ یہ ساری باتیں مجھے میرے دادا جی کی زبانی براہ راست پتہ چلی ہیں۔ آپ ان پر شک نہیں کر سکتے، ہاں!

موضوع بحث سن کر میرے چودہ طبق روشن ہوگئے۔ میں نے دیکھا کہ مرزا مقبول صاحب کے چہرے پر زلزلے کی سی کیفیت تھی اور غصے کی شدت سے چہرہ عنابی سا ہوگیا تھا۔ وہ سمجھ نہیں پا رہے تھے کہ آخر کار اس عظیم دلیل اور روایت کا توڑ کریں تو کیسے کریں؟ جس کا راوی اتنا معتبر ہو یعنی شیخ صاحب کے دادا جان؟

چاچا فلسفی نے ہلکے سے ہنکار بھری اور سر ہلا کر یوں گویا ہوئے۔ ہاں! میں نے بھی دفتر میں مشہور ادیب احمق پھپھوندوی سے یہ بات بارہا سنی ہے مگر اشاروں میں۔

میں یہ بتانا تو بھول ہی گیا کہ چاچا فلسفی شیخ صاحب کے مرید خاص اور عاشق زار تھے اور ان کی ہر بات کی تائید کرنا گویا اپنا فرض سمجھتے تھے۔

مرزا صاحب نے جز بز ہو کر آخر حقارت سے مسکراتے ہوئے سرد لہجے میں فرمایا شیخ! میں نے تو محلے کے بڑوں سے سنا ہے کہ وہ چنیا بیگم (افیون) کے دلدادہ تھے، وہ جو کہلاتے تیرے دادا تھے؟ اور تپا دینے والی نظر سے شیخ صاحب کو دیکھا گویا بزبان حال فرما رہے ہوں کہ"دیکھ اس طرح سے کہتے ہیں سخنور سہرا"

شیخ جی نے اس ذاتی حملے کو بڑے تحمل سے، ٹھنڈے پیٹوں برداشت کیا اور زہریلی مسکراہٹ سے جواب دیا کہ جب جاہلوں کے پاس علمی دلائل ختم ہو جاتے ہیں تو وہ ذاتیات پر اتر آتے ہیں۔ سننے کو تو ہم نے بھی سنا ہے کہ تیرا باپ یعنی بڑے مرزا صاحب اصل میں دہلی کے سقے وغیرہ تھے۔ پارٹیشن کے بعد یہاں آکر مرزا بن گئے؟

بس صاحب پھر کیا تھا؟ مرزا صاحب کا مغل خون جوش مار گیا اور وہ مغل اعظم کے ظلِ الٰہی کی طرح گرج کر بولے شیخ! 40 سال ہوگئے، تری بک بک برداشت کرتے۔ اب ایسے نہیں چلے گا! پرانے تعلقات کا لحاظ نہ ہوتا تو خون کی ندیاں بہا دیتا۔ اور پھر وہاں سے تمتماتے چہرے کے ساتھ اس طرح واک آؤٹ کر گئے جیسے ہمارے ممبران اسمبلی استحقاق مجروح ہوجانے پر کیا کرتے ہیں۔ شیخ صاحب نے حقارت سے سر کو جھٹکا اور زیر لب کچھ بڑ بڑائے۔ پھر میری جانب متوجہ ہو کر فرمانے لگے کیوں صاحب آپ تو باخبر آدمی ہیں، میڈیا والے ہیں، بتائيں شیکسپیئر اصل میں شیخ پیرو، شیخوپورے والا تھا کہ نہیں؟ میں نے کراہ کر اپنا سر پکڑا اور کہا شیخ صاحب! سر میں بہت درد ہے دوا لینے جا رہا تھا، آپ نے روک لیا، میں جاتا ہوں، ورنہ ڈاکٹر صاحب اٹھ جائیں گے۔ یہ کہہ کر میں اٹھا اور اس وقیع الشان علمی مجلس سے سر پر پیر رکھ کر بھاگ کھڑا ہوا۔

شیخ صاحب آوازیں ہی دیتے رہ گئے کہ ارے ابھی افیون والی چائے منگوا دیتا ہوں گھر سے بنوا کر، سارا درد دور ہو جائے گا، مگر میں سنی ان سنی کر کے بھاگتا چلا گیا۔

ٹیگز