دو حکومتی تصور - حبیب الرحمٰن

کوئی پاکستانی خواہ کتنی ہی احتیاط سے کام لے اس کی گفتگو کا حاصل یہی نکلے گا کہ پاکستان ایک عرصہ دراز سے عملاً "دو حکومتی" نظام کا شکار ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ اس بات کی تردید بار بار کی جاتی ہے لیکن دنیا تو دنیا، وہ بچہ جس نے کچھ لمحوں قبل ہی جنم لیا ہو، یہی کہتا ہوا دنیا میں تشریف لاتا ہے مجھے دونوں میں سے کس نے نکالا؟ لطف کی بات یہ ہے جو "ظاہری" حکومت ہے وہ شاید ہی اس بات کی وضاحت کرتی ہوئی نظر آئے کہ پاکستان میں "دو حکومتی" نظام نہیں لیکن عسکری حلقوں کی جانب سے مسلسل اس بات کی وضاحت کی جاتی ہے اور کی جاتی رہی ہے کہ ہمارا سیاست سے کوئی تعلق نہیں اور ہم جمہوریت کے فروغ کے لیے ہر تعاون پیش کرنے کو تیار ہیں۔

اس میں کوئی شک نہیں کہ کسی بھی ادارے میں کسی بھی قسم کی کوئی مداخلت اس سے قبل ہو ہی نہیں سکتی جب تک کوتاہیاں اور کمزوریاں شامل حال نہ ہوں لیکن یہ بات بھی غور طلب ہے کہ کوتاہیاں اور کمزوریاں تو پاکستان کے ہر ادارے میں اسی طرح اور اسی نسبت سے موجود ہیں جس طرح پاکستان کے تمام معاشرے میں موجود ہیں تو کیا ہر ادارے کو ہر ادارے کے امور خاص میں مداخلتوں کا حق ہے؟ اور اگر ہر ادارہ ہر ادارے میں خلل انداز ہونے لگے گا تو کیا پاکستان آگے کی جانب بڑھ سکے گا؟

پورے پاکستان کو کوئی ایک ادارہ تنہا نہیں چلا سکتا۔ جب تک سارے ادارے ایک دوسرے سے دیوار میں چنی اینٹوں کی مانند پیوست نہیں ہوں گے اس وقت تک دیوار کا مضبوط ہونا ممکن نہیں ہو سکے گا اور کوئی بھی ہلکا سا دھکا ہلتی ہوئی دیوار کو زمیں بوس کرکے رکھ دے گا۔

بار بار کے تجربوں اور "تُو چل میں آیا" کی وجہ سے ہم اس موڑ پر آکھڑے ہوئے ہیں کہ اپنی کوتاہیوں اور کمزوریوں کا ذکر کرنے سے بھی ملک میں امن و امان کا مسئلہ کھڑا ہوتا ہوا محسوس ہونے لگتا ہے۔ یہ بھی عجب بات ہے کہ ہر ادارے، ہر پارٹی، ہر مذہبی اور سیاسی گروہ، لیڈر اور رہنما کو اپنی اپنی کمزوریوں اور خامیوں، چوریوں چکاریوں، ڈاکا زنی اور لوٹ مار کا بخوبی احساس ہے لیکن وہ قوم کو یہ بات سمجھانے میں لگا ہوا ہے کہ "بڑا" میں نہیں ہوں۔ یہی حال پاکستان کی قوم کا ہے کہ وہ یہ نہیں کہتی کہ اس کے لیڈر یا اس کی پارٹی میں کوئی خرابی نہیں لیکن وہ یہ بات تسلیم کرنے کے لیے تیار نہیں کہ اس کا لیڈر یا اس کی پارٹی ہی ملک کی کرپٹ ترین پارٹی ہے۔ اسی لیے پارٹیوں سے وابستہ ہر کارکن اور حامی کی یہ خواہش ہوتی ہے کہ اگر احتساب کا عمل شروع ہو تو دوسری پارٹیوں سے شروع ہو اور سب سے آخر میں اس کی پارٹی اور لیڈر کا نمبر آئے۔

1958ء سے ملک اس رسہ کشی میں پھنسا ہوا ہے کہ حکومت کس کی ہونی چاہیے؟ حکمرانی کے لائق وردی والے ہیں یا وائٹ کالر والے؟ آنے جانے اور جانے آنے والوں کا یہ سلسلہ دراز سے دراز تر ہوتا جارہا ہے اور اسی رسہ کشی کی وجہ سے پورا پاکستان انحطاط کا شکار ہے اور آگے بڑھنے کی بجائے مسلسل پیچھے کی جانب محو سفر ہے۔ جس طرح الٹا چلنے والے کو یہ خبر نہیں ہوتی کہ ہر پیچھے ہٹتے قدموں کی راہ میں کیا کیا رکاوٹیں، اینٹیں، روڑے اور کھائیاں آنے والی ہیں اسی طرح قوم کو یہ بات بالکل سمجھ میں نہیں آرہی کہ وہ کس تباہی اور بربادی کی جانب گامزن ہے۔ اگریہ مان لیا جائے کہ افواج پاکستان کے ادوار اچھے گزرے اور ان کے دور حکومت میں ملک کے عوام مطمئن اور خوش رہے تو پھر قوم ایک اچھی اور مضبوط حکومت کے خلاف میدان عمل میں کیوں اتری؟ اور اگر سول حکومتوں کا دور اچھا اور خوش کن تھا تو لوگ اپنے ہی ہاتھوں منتخب حکومتوں کے دھڑن تختے کے لیے کیوں سڑکوں پر نکل آئے؟ یہی وہ نقاط ہیں جن پر اگر سنجیدگی سے غور کرلیا جائے تو ہم بیشمار مسائل حل کرنے میں کامیاب ہو سکتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:   دانشور ادھر ادھر بھاگتے ہیں - محمودفیاض

بات یہ ہے کہ "حکومت" ایک ایسا ادارہ ہے جو ریاست کے وجود میں آنے کے فوراً بعد وجود میں آتا ہے۔ کسی بھی ریاست کا وجود مکمل ہی تین اجزا کے یک جا ہونے پر ہوتا ہے۔ اگر ان میں سے کوئی ایک جزو بھی کم ہو یا غیر مربوط ہو تو دنیا میں کوئی بھی ریاست وجود میں نہیں آسکتی۔ ان تین اجزا میں ”آبادی، خطہ زمین اور حکومت“ شامل ہیں۔ آبادی کے بغیر خطہ ز مین اور ان دونوں کے موجود ہونے کے با وجود حکومت کا نہ ہونا، ریاست کو جنم نہیں دے سکتا۔ اس کی مثال ہم ”کشمیر“ سے لے سکتے ہیں جہاں خطہ زمین بھی ہے اور خاطر خواہ آبادی بھی لیکن کیونکہ وہاں آبادی والوں کی حکومت نہیں اس لیے وہ گزشتہ ستّر برس سے اس جد و جہد میں مصروف ہیں کہ کسی طرح کشمیر ریاست کا روپ دھار لے۔

حکومت کیسی ہونی چاہیے اور کس طرز کی ہونی چاہیے؟ یہ کوئی پتھر پر لکیر کی نہیں۔ یہ وقت اور حالت پر یا کسی بھی قوم کے مزاج پر منحصر ہوتا ہے کہ اس کو کس طرح چلایا جاسکتا ہے۔جس طرح شہر کو گاؤں کے انداز میں اور کم پڑھے لکھوں کو پڑھے لکھے اور سمجھدار لوگوں کے انداز میں ڈیل نہیں کیا جاسکتا اسی طرح ہر قوم کو کسی ایک انداز میں یا ایک جیسے طرز حکومت کے تحت نہیں چلایا جاسکتا۔ یہی وجہ ہے کہ پوری دنیا میں ہر ملک اپنی آبادی، اپنے ملک کی حدود میں رہنے والے افراد کے مزاج، رسوم و رواج، مذہب اور تہذیب کے مطابق طرز حکومت کو چلا رہا ہے اور نہایت کامیابی کے ساتھ چلا رہا ہے۔ کیا روس کا نظام حکومت وہ ہے جو امریکہ میں رائج ہے؟ کیا چین ایک غیر ترقی یافتہ ملک ہے اور وہاں جمہوریت کا راج ہے؟ کیا امریکہ اور برطانیہ کا طرز جمہوریت ایک جیسا ہے؟ کیا جرمنی اور فرانس کے نظام حکومت میں کوئی تفاوت نہیں؟

حکمرانی افواج کی ہو یا سویلین کی، "حکومت" ہونا اولین شرط ہے۔ جب کسی ملک کے حالات ناگفتہ بہہ ہوجاتے ہیں اور سویلین کی حکمرانی کو ختم کیا جانا ضروری سمجھ کر فوج ملک کا نظام سنبھالنے پر مجبور ہوجاتی ہے تب بھی ایک "حکومت" کی تشکیل ضروری ہوتی ہے اس لیے کہ بناء حکومت کسی ریاست کے وجود کو بر قرار رکھا ہی نہیں جا سکتا۔ لہٰذایہ بات کہی جا سکتی ہے کہ حکومت کا سر براہ خواہ مارشل لا ایڈمنسٹریٹر ہو، بادشاہ ہو، خلیفہ ہو، وزیر اعظم ہو یا صدر، حکومت کا ہونا بہر صورت لازم ہے۔ یہاں اس بات کو سمجھنا بے حد ضروری ہے کہ خود حکومت کے "ہونے" کے لیے کیا ضروری ہے؟ حکومت میں آجانے کے بعد اکثر حکمران اس بات کو فراموش کر دیتے ہیں کہ خود ان کا اقتدار میں براجمان رہنے کا راز کیا ہے یا ان کے "دھڑن تختہ" ہوجانے کی وجوہات کیا کیا ہوں گی؟

کسی بھی ملک میں کسی بھی طرز کی حکومت ہو وہ چل ہی نہیں سکتی جب تک وہ مسلسل عوام کی حمایت حاصل کرنے میں کامیاب نہ رہے۔ عوام کی مرضی و منشا کے خلاف جبرِ مسلسل سے وہ کچھ عرصہ تو اپنے اقتدار کو طوالت دینے میں کامیاب ہو سکتی ہے لیکن اس کو دوام حاصل نہیں ہو سکتا۔ مرضی و مزاج کے خلاف عمل کرکے ایک گھر کو نہیں چلایا جاسکتا تو حکومت چلانا کیسے ممکن ہو سکتا ہے۔ پھر یہ بات بھی یاد رکھنے کی ہے کسی ایک گھر میں "دو گھر" نہیں ہو سکتے نہ ایسا گھر گھر کہلایا جاسکتا ہے۔ یہاں تک کہ اس کو مکان تک نہیں کہا جاسکتا البتہ ایسے گھر کو جہنم سے تشبیہ ضرور دی جا سکتی ہے۔ جب ایک گھر میں "دو حکمرانی" والا نظام نہیں چل سکتا تو یہ کیسے ممکن ہے کوئی ملک ملک بھی کہلائے اور وہاں "دو حکومتی" تصور بھی بدرجہ اتم موجود ہو؟

یہ بھی پڑھیں:   دانشور ادھر ادھر بھاگتے ہیں - محمودفیاض

فوجی حکومت کے حمایت میں کہنے والے اس بات کا حوالہ دیتے ہیں کہ ایک زمانے میں سپہ سالار ہی حکمران ہوا کرتے تھے۔ بات تو درست ہی ہے کہ حکمرانی کا حق سالار ہی کو ہونا چاہیے اس لیے کہ مضبوط حکومت کے حاکموں کو بھی مضبوط ہونا چاہیے لیکن وہ یہ بات بھول جاتے ہیں کہ اس وقت کے سالار زندگی کے آخری سانس تک سالار ہی ہوا کرتے تھے کیونکہ ایسی ساری حکومتیں کسی آئین و قانون کے بغیر ہوا کرتی تھیں اور قانون صرف اور صرف ”طاقت“ کا نام ہوا کرتا تھا۔ فی زمانہ ایسا اس لیے ممکن نہیں ہے کہ ہر ادارہ کسی نہ کسی آئین اور قانون کا پابند ہے۔ سالار اگر "فوج" کا بھی ہے تب بھی وہ اتنا بے نکیل نہیں کہ اپنی مدت ملازمت کو جتنا چاہے دراز کرتا چلا جائے۔ آخرش ایک وقت ایسا ضرور آتا ہے جب اسے اپنی وردی اتارنا پڑتی ہے۔ وردی ہی ایک فوجی حکمران کی طاقت ہوتی ہے چنانچہ جوں ہی وہ وردی اتارتا ہے اس کی ساری طاقت صفر ہو جاتی ہے اور پھر وہ وقت بھی آتا ہے کہ اسے کمزور عوام اقتدار سے دودھ کی مکھی کی طرح نکال کر باہر پھینک دیتے ہیں۔

پاکستان میں فوجی اور سول حکومت کی عروج و زوال کی یہی کہانی ہے۔ سول حکومت کو فوج کے ذریعے ختم کیا جانا پاکستان کی قسمت بن کر رہ گئی ہے اور فوجی حکومت کا سول حکومت میں تبدیل ہوتے ہی ختم ہوجانے یا کیا جانے کے پشت پر بھی کچھ اس سے مختلف کہانی نہیں۔

اگر دونوں کی ذلت اور رسوائی کا تجزیہ کیا جائے تو ”رسہ کشی“ کے علاوہ اور کوئی بات ایسی نہیں جس کو قدر مشترک کہا جا سکے۔ اس تمام اٹھا پٹخ کے بیچ جو بات دونوں اداروں کو سمجھ میں نہیں آتی وہ یہ ہے کہ دونوں عوام کی خواہشوں اور امنگوں کی ترجمانی کرنے میں بری طرح ناکام رہے ہیں۔ دونوں نے کبھی اس بات کو سمجھا ہی نہیں کہ عوام ان حکمرانوں سے کیا چاہتے ہیں۔ دونوں اس بات میں ناکام ہیں کہ پاکستان ان اصولوں، ضابطوں اور قوانین کے مطابق چلایا جائے جس کے لیے یہ ملک وجود میں آیا تھا۔ یہاں عدل ہو، انصاف ہو، اللہ کے قانون کی حکمرانی ہو، ملکانہ، جاگیردارانہ، خانانہ، چودھریانہ اور سردارانہ نظام کا خاتمہ ہو، عوامی فلاح و بہبود کا کام ہو، ہر شہری کو اظہار خیال کی مکمل آزادی ہو، اپنے اپنے مسالک اور مذاہب پر عمل کرنے کی اجازت ہو، کوئی ایک دوسرے کے نزدیک کافر اور مشرک نہ ہو، ہر فرد ایک دوسرے کا محافظ ہو، چوریاں چکاریاں، بھتہ خوری اور لوٹ مار کا بازار گرم نہ ہو اور ہر مظلوم کو انصاف اس کی دہلیز پر اور بنا اجرت ملتا ہو۔ لیکن یہ سب جب ہی ہو سکے گا جب حکمرانوں کو اپنی اپنی کرسیاں بچانے سے فرصت ملے گی اور یہ جب ہی ہو سکے گا جب ایک ہی ریاست میں "دوحکومتی" طرزِ حکومت کا تصور ختم ہوجائے گا۔