بازار - عظمیٰ ظفر

"زارا! بازار چل رہی ہو؟ سیل لگی ہے لان کے کپڑوں کی، پلوشہ بتا رہی تھی۔" مہک نے چہکتے ہوئے کہا۔

"نہیں! میرا کوئی موڈ نہیں جانے کا، میں نہیں جاؤں گی، تم آنٹی کے ساتھ چلی جاؤ۔" مگر میرے صاف انکار پر بھی وہ سر پہ سوار تھی۔

"چلو نا! تمہارے تو نخرے ہی ختم نہیں ہوتے، دس دس منتیں کرو تب ایک مانتی ہو۔ پتہ تو ہے کہ امی نہیں جائیں گی میرے ساتھ، بازار جانے کا سن کر ہی کانوں کو ہاتھ لگا لیتی ہیں۔ اللہ نے کوئی بہن دی ہوتی تو تم سے نہ کہتی۔" زمانے بھر کی معصومیت مکاری سے چہرے پر سجا کر مہک نے جس طرح کہا، مجھے ہنسی آگئی۔

"اچھا سوچنے دو کہ مجھے کیا لینا ہے۔ ٹھیک ہے، چلو مگر زیادہ دیر مت کرنا۔ مجھے بس الف لیلہ سے کچھ کتابیں لینی ہیں۔" آسانی سے تو وہ ٹلنے والی نہیں تھی۔

"اچھا پھر ظہر پڑھ کے نکلیں گے،" وہ کہتی ہوئی خوشی خوشی کمرے سے باہر نکل گئی۔

بھری دوپہر میں بازار جانا میرے لیے جوئے شیر لانے کے مترادف تھا۔

"چلو نا مہک کیوں دیر کر رہی ہو اب؟" میں اس کے گھر پہ موجود تھی، "اتنی تیار ہو کر بازار جاؤ گی؟ گرمی تو دیکھو۔"

مجھے اس کی تیاری دیکھ کر غصہ آگیا۔ "کچھ نہیں ہوتا یار! چلو" اُس نے دوپٹہ سر پہ ایک اسٹائل سے لپیٹا جس سے نہ بال چھپے نہ جسم ڈھکا مگر وہ تیار تھی۔

بازار کے ایک جانب مسجد کی دیوار پر کچھ احادیث درج تھیں جسے میں ہمیشہ پڑھ کر سوچ میں پڑ جاتی تھی کہ *بازار انسانوں کی بدترین گزرگاہوں میں سے ایک گزرگاہ ہے اور میں اتنا ہی بازار جاتی ہوں۔ میں نے دل میں سوچا۔ مگر میری سوچ ہوا ہو گئی۔

مشہور نام والے برانڈز کی لان اور ہوش اڑا دینے والی قیمتیں، اللہ اکبر! جبکہ ڈسکاؤنٹ پر خواتین ٹوٹی پڑیں تھیں۔ کسی کے ہاتھ میں دوسری خاتون کا دوپٹہ آگیا، محترمہ نے اس زور سے اپنی طرف کھینچا کہ دوسری کے گلے میں لپٹا وہ رسی نما دوپٹہ خود ان کے گلے کا پھندہ بن گیا۔ آہ کی صدا بلند ہوگئی۔ "میرا دوپٹہ تو چھوڑیں" خاتون نے غصے سے کہا۔

" ارے بھائی! اس شرٹ کا دوپٹہ نکال دیں۔" مہک نے اس نُورا کُشتی میں اپنا گوہر نایاب ڈھونڈ نکالا۔ دو سوٹ میرے، ایک امی کا اور ایک ماسی کا، مہک نے مجھے حساب سمجھاتے ہوئے بتایا۔ "اچھے ہیں نا زارا؟" اس نے تسلی کرنا چاہی۔

"ہاں بہت اچھے۔"

"اب چلو یہاں سے۔" میں نے اسے کھینچا۔

"ایک منٹ!"

"ماسی کو دینے والا پرنٹ ویسا ہی ہے نا جو تم نے مجھے گفٹ کیا تھا،" اب اس کو اس بات کی فکر ہو گئی۔ "چینج کروا لوں؟

"کوئی ضرورت نہیں۔ کیا ہوا اگر ملتا جلتا ہے، وہ بھی انسان ہے، تم نے پیارے نبی کا ارشاد نہیں سُنا کہ مسلمان وہ ہے جو اپنے بھائی کے لیے بھی وہی پسند کرے جو اپنے لیے پسند کرتا ہے۔"

میں اُسے سوچتا چھوڑ کر الف لیلہ کتاب گھر میں داخل ہوگئی جبکہ وہ اسی شش و پنج میں وہیں کھڑی کچھ سوچ رہی تھی۔

مجھے عامرہ احسان کی کتاب "تصویرِ کائنات میں رنگ" لینی تھی اور اتفاق سے کتاب میرے سامنے تھی۔ بِنا وقت ضائع کیے کتاب خرید کر میں واپس آگئی۔

"تم تو ہوا کے گھوڑے پر سوار رہتی ہو زارا! گھر میں تو تم سے چلا نہیں جاتا اور بازار میں تم کو پکڑنا مشکل، پنکھ لگ جاتے ہیں کیا تمہیں؟" مہک کو شاید غصہ آگیا تھا۔

"سوری مہک! مگر یہ سچ تھا کہ بازار میں مجھے بس جو لینا ہوتا، اسی دکان تک جاتی اور جلدی جلدی اپنی مطلوبہ چیزیں لیں اور واپس۔ اِدھر اُدھر دیکھنے میں وقت ضائع نہیں کرتی تھی۔"

مہک حسب عادت ایک دکان سے دوسری دکان پھر تیسری دکان میں گھس گئی۔ "تم کو کراکری لینی ہے کیا؟" اب میں چیخی۔

"نہیں بس ویسے ہی اچھے لگ رہے ہیں، دیکھنے میں کیا حرج ہے؟"

"بلاوجہ کیوں وقت ضائع کر رہی ہو گرمی میں؟ خود کو بھی ہلکان کر رہی ہو۔ زبردست رش لگا ہوا ہے۔"

"ایک منٹ، چلتے ہیں بس، جیولری تو دیکھ لوں۔"

"السلام علیکم" جیولری والے نے مہک کو دیکھ کر گرم جوشی دکھائی۔ "بڑے دنوں بعد چکر لگایا آپ نے، بالکل نئے ڈیزائن کے ائیر رنگز آئے ہیں، دکھاؤں آپ کو؟" دکان دار کا بس نہیں چل رہا تھا کہ بس کسی طرح مہک کچھ خرید لے۔

مہک نے بھی دلچسپی دکھاتے ہوئے کپڑوں کے شاپرز اس کے کاؤنٹر پر رکھ دیے۔ "ارے آپ نے ثناء سفیناز کی لان لی ہے؟" اُس نے شاپر کو دیکھا۔ "زبردست، پھر تو یہ والے ائیر رنگز ہی چلیں گے، یہ دیکھیں ہینڈ میڈ ہیں، کروشیے کے رنگ برنگ دھاگوں سے بنے۔"

مہک بھی اس کی چاپلوسی میں اپنے سوٹ کو باہر نکال کر میچنگ کرنے لگی۔ "واہ میم! آپ کی پسند تو بہت اچھی ہے۔ یہ والی چوڑیاں بھی اچھی لگیں گی، آپ کا تو رنگ بھی بہت فیئر ہے۔" آپ اپنے دام میں صیاد آگیا کے مترادف مہک صاحبہ کو وہ خوب مکھن لگا کر اپنے دام کھرے کر رہا تھا۔

ایک اجنبی کے منہ سے اپنی تعریف شاید اُسے اچھی لگ رہی تھی مگر مجھ سے برداشت کرنا مشکل ہو گیا تھا۔ عصر کا وقت بھی ہونے والا تھا۔ "مہک! میں رکشہ روک رہی ہوں، تم کو چلنا ہے تو آجاؤ، بہت دیر ہو گئی ہے۔" غصے سے بولتے ہوئے میں نے اس کا سامان بھی وہاں سے اُٹھالیا اور آگے بڑھ گئی۔

تب شاید اُسے بھی وقت کا احساس ہوا۔ پیسے دے کر وہاں سے تیزی سے نکل آئی اور تیز تیز چلنے لگی۔ جس تیزی سے وہ نکلی سامنے سے آتا ایک لڑکا جان بوجھ کر اُس سے ٹکرا گیا جو حلیے سے ہی آوارہ لگ رہا تھا۔ "دیکھ کر نہیں چلتے؟" مہک کو غصہ آگیا۔

"خوبصورت چیزوں کو دیکھتے ہی ہیں۔ دیکھ کر ہی تو چل رہا ہوں۔" بجائے شرمندہ ہونے کے اُس نے اسٹائل سے کہا۔

"کیوں تمہارے گھر میں ماں بہنیں نہیں ہیں کیا؟ شرم نہیں آتی؟" مہک نے تپ کے کہا۔

"ہاں۔ سب ہیں، مگر وہ ایسے نہیں پھرتیں بھرے بازار میں۔" اس لڑکے نے حد کر دی ڈھٹائی اور بے شرمی کی۔

"تم؟ تمہاری ہمت کیسے ہوئی؟" مہک کا غصے سے برا حال تھا۔ قبل اس کے کہ لوگ مزید تماشہ دیکھتے، میں اس کا ہاتھ پکڑ کر کھینچتے ہوئے رکشے میں لے آئی۔

"دماغ درست ہے تمہارا؟ کس سے بحث کرنے لگی تھیں؟" مہک کی سانسیں تیز چل رہی تھی۔

"اس کی ہمت کیسے ہوئی؟ منہ نوچ دیتی میں اس کا، جاہل، بدتمیز!"

"چلو چھوڑو جانے دو۔" میں نے اسے سمجھانا چاہا۔

"کیوں جانے دوں؟ تم نے اس کی باتیں سنی تھیں؟ وہ جان بوجھ کر ٹکرایا تھا۔"

میں سوچ رہی تھی اب مہک کو میں کیا کہوں؟ اچھے حلیے والے ایک غیر مرد کی تعریف تو اُسے بری نہیں لگی اور برے حلیے والے شخص کی تعریف پر وہ سیخ پا ہو رہی تھی۔ ہمت تو دونوں کو نہیں ہونی چاہیے تھی مگر نامحرم کو دعوتِ نظارہ بھی تو اس نے خود دیا تھا، چاہے نادانستہ ہی سہی۔ مگر یہ بات اُسے سمجھانے کا اس وقت موقع نہیں تھا۔ گھر پہنچ کر میں رات کے کھانے کے انتظام میں لگ گئی۔ عشاء کے وقت مہک کا فون آیا۔

"زارا!" اس کی آواز سے لگ رہا تھا کہ وہ خوش نہیں۔

"کیا ہوا مہک؟ سب ٹھیک تو ہے؟"

"خاک ٹھیک ہے؟" اس کی آواز بلند ہوئی۔ "میرے لان والے سوٹ میں ایک جگہ سوراخ ہے اور ایک ائیر رنگ بھی ٹوٹی ہوئی نکلی، دکان میں تو ٹھیک تھی۔" وہ روہانسی ہوگئی۔ آج بازار جانا ہی برا تھا۔ "اور وہ بدتمیز لڑکا، جان بوجھ کر کندھا مارا تھا اُس نے۔ ابھی تک خون کھول رہا ہے، جلدی نہیں ہوتی تو خوب گالیاں دیتی اس کو۔"

"غلطی تو تمہاری بھی تھی مہک! اتنے رش میں تمہیں ایک طرف ہو کر اور دیکھ کر چلنا چاہیے تھا۔ پتہ ہے ایک دفعہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مسجد سے باہر تشریف لا رہے تھے کہ راستے میں (رش اور بے ترتیبی کی وجہ سے) مرد اور خواتین میں اختلاط سا ہوگیا۔ یہ دیکھ کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے خواتین سے ارشاد فرمایا کہ "ایک طرف ہو جاؤ۔ راستے کے بیچ میں چلنے کا تمہیں حق نہیں، تمہیں راستوں کے کناروں پر چلنا چاہیے۔" (سنن ابی داؤد) اور کیا تم نے بازار جاتے ہوئے بازار جانے کی دعا پڑھی تھی؟" مجھے یاد آیا۔

"کیا؟ بازار جانے کی بھی دعا ہوتی ہے؟ مجھے تو نہیں پتہ تھا۔" مہک کو حیرت ہوئی۔

"ہاں بالکل! بازار جاتے وقت اگر ہم چوتھا کلمہ اور بازار جانے کی دوسری دعائیں پڑھ کر داخل ہوں تو ان شاءاللہ ہر طرح کی پریشانی اٹھانے اور دھوکے سے بچ جائیں گے اور کوشش بھی یہ کرنی چاہیے کہ بلا ضرورت بازار نہ جائیں۔ اگر جانا پڑ جائے تو جو ضروری خریداری ہو بس وہ کریں، بلا ضرورت وقت ضائع نہ کریں اور بن سنور کر بھی بازار نہیں جانا چاہیے، ورنہ جو کچھ آج ہوا ہے وہ دوبارہ بھی ہو سکتا ہے۔ بازار بد ترین جگہیں ہیں تو ظاہر ہے کہ وہاں شیطان کھل کر انسانوں کو گناہوں کی طرف مائل کرتا ہے۔ سمجھ رہی ہو نا مہک؟ میری بات کا پلیز برُا مت منانا۔ اُس وقت میں تم کو کہتی تو شاید تم بُرا مان جاتیں۔ اپنی بہن سمجھ کر کہہ رہی ہوں، سمجھیں؟" میں نے بہن پر زور دیتے ہوئے کہا۔

"ہاں بالکل سمجھ گئی جناب، اور برا نہیں منایا بالکل بھی۔ شکریہ بتانے کا۔ میں آئندہ خیال رکھوں گی، اچھا زارا اللہ حافظ!" اس نے اجازت چاہی۔ میں نے بھی ہدایت کی دعا مانگ کر فون بند کر دیا۔

ٹیگز

Comments

Avatar

عظمیٰ ظفر

عظمیٰ ظفر روشنیوں کے شہر کراچی سے تعلق رکھتی ہیں۔ اپلائیڈ زولوجی میں ماسٹرز ہیں ، گھر داری سے وابستہ ہیں اور ادب سے گہری وابستگی رکھتی ہیں۔ لفظوں کی گہرائی پر تاثیر ہوتی ہے، جو زندگی بدل دیتی ہے، اسی لیے صفحۂ قرطاس پر اپنی مرضی کے رنگ بھرتی ہیں۔

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.