حاملہ اور دُودھ پلانے والی عورت کے روزوں کا مسئلہ - عادل سہیل ظفر

اگر دوران حمل کسی حاملہ عورت کو، یا کسی دُودھ پلانے والی ماں کو ڈاکٹرز کی طرف سے یہ بتایا جائے کہ روزے رکھنا، اُس کی یا اُس کے ہونے والے بچے کی جان کے لیے کسی خطرے یا نقصان کا سبب ہوسکتا ہے۔ یا کسی اور سبب، یا ذریعے، یا تجربے، یا مُشاہدے سے اُوپر ذِکر گیا معاملہ یقینی ثابت ہوتا ہو تو، ایسی صُورت میں وہ اپنے رمضان کے فرض روزے بھی چھوڑ سکتی ہے، نفلی روزے رکھنے یا چھوڑنے کا تو کوئی سوال ہی نہیں۔

لیکن زچگی سے فراغت کے بعد، اور پھر بچے کو مُناسب مقدار میں دُودھ پلا سکنے کی حالت تک پہنچنے کے بعد، وہ عورت اپنے چھوڑے ہوئے فرض روزوں کی قضاء ادا کرے گی، اور ہر ایک روزے کا فدیہ بھی ادا کرے گی۔

خیال رہے کہ حاملہ عورت کو روزے رکھنے کی وجہ سے اُس کی اپنی جان یا صحت کے لیے خطرے، یا اُس کے ہونے والے بچے کی جان یا صحت کے لیے خطرے کی صُورت میں ہی مریض مانا جاتا ہے، لیکن وہ ایسی مریض ہوتی ہے جِس کے شفاء یاب ہونے کی عمومی اُمید ہوتی ہے۔ لہٰذا وہ رمضان کے روزے چھوڑ سکتی ہے اور مکمل صحت یاب ہونے کے بعد اُن روزوں کی قضاء ادا کرے گی۔

رہامعاملہ دُودھ پلانے والی ماں کا تو، اِس بارے میں فقہا کرام کا یہ کہنا ہے، کہ وہ اپنی کمزوری کی حالت میں روزے چھوڑ سکتی ہے، اور اُسے اُن روزوں کی قضاء ادا کرنا ہو گی۔ اِس فتوے کو فقہا ء کرام کی اکثریت کے اتفاق والا کہا گیا ہے۔ اِس کے علاوہ بھی اِس مسئلے کے بارے میں کچھ اور باتیں، فتاویٰ جات ملتے ہیں، جیسا کہ:

کچھ عُلماء کرام کا کہنا رہا ہے اور ہے کہ ایسی عورتیں صرف روزوں کی قضاء ادا کریں گی اور کچھ کا کہنا ہے کہ دونوں قسم کی
عورتیں چھوڑے ہوئے روزوں کی قضاء بھی ادا کریں گی، اور، ہر ایک روزے کے بدلے میں فدیہ کے طور پر مسکین (غریب)کو کھانا بھی کِھلائیں گی۔ اور کچھ کا کہنا ہے دونوں قِسم کی عورتیں صرف روزوں کی قضاء کریں گی، لیکن اگر اگلا کسی شرعی عذر کے بغیر سُستی یا کاہلی کی وجہ سے اگلا رمضان آنے تک چھوڑے ہوئے روزوں کی قضاء ادا نہ کی تو پھر قضاء کے ساتھ ساتھ ہر ایک روزے کے بدلے میں فدیہ (ایک مسکین کو کھانا) بھی دیں گی۔

إِمام احمد رحمہُ اللہ، اور إِمام شافعی رحمہُ اللہ کی طرف سے یہ فتویٰ نقل کیا گیا ہے کہ اگر تو حاملہ عورت اپنی صحت یا جان کی بجائے پیٹ میں پائے جانے والے بچے کی صحت یا جان پر خطرے کی وجہ سے روزے چھوڑتی ہے تو اِس صُورت میں اُسے روزوں کی قضاء کے ساتھ ہر ایک روزے کا فدیہ بھی دینا ہوگا اور دُودھ پلانے والی ماں کے لیے بھی یہی معاملہ ہے اور کچھ نے اِس مذکورہ بالا معاملے کو صِرف دُودھ پلانے والی(ماں)تک محدود قرار دِیا۔ (جان اور صحت کے خطرے والی اِس مذکورہ بالا شرط پر چاروں إِماموں رحمہم اللہ کے اتفاق کا ذِکر بھی ملتا ہے، اور اس کا ثبوت عبداللہ ابن عباس رضی اللہ عنہما کے فرمان میں ملتا، ابھی اِن شاء اللہ، اِس فرمان کا تفصیلی ذِکر کیا جائے گا) کچھ کا کہنا ہے کہ ایسی عورتیں صرف مسکین(غریب) کو کھانا کھلائیں گی اور اُن پر کوئی قضاء نہیں، وغیرہ۔

اِن سب مذکورہ بالا باتوں، یا فتاویٰ جات میں سے یہ آخر فتویٰ ہی دُرُست ترین لگتا ہے کہ:

ایسی عورتیں رمضان کے روزے چھوڑ سکتی ہیں، اور ہر ایک روزے کے بدلے میں ایک مسکین (غریب) کو کھانا کِھلائیں گی، اور چھوڑے ہوئے روزوں کی کوئی قضاء اُن پر نہیں۔

محترم قارئین! خصوصی گزارش ہے کہ اِس مضمون میں حاملہ عورت، اور دُوددھ پلانے والی ماں کے لیے رمضان کے روزے چھوڑنے کی صُورت میں شرعی احکام کی تفصیل بیان کی گئی ہے اور یہ تفصیل مختلف مذاہب کے أئمہ کرام رحمہم اللہ جمعیاً، اور فقہاء کرام رحمہم اللہ جمعیاً و حفظہم اللہ کی مختلف باتوں اور فتاویٰ میں سے اخذ کر کے تیار کی گئی ہے۔ لہٰذا اگر کسی قاری کو اِس مضمون میں کسی قِسم کی کوئی ایسی بات نظر آئے جسے وہ کسی ایک مذہب میں پائے جانے والے کسی قول یا کسی رائے یاکسی فتوے کے مُطابق دُرُست نہ سمجھتا ہو، تو اُس سے گزارش ہے کہ وہ اعتراض کرنے سے پہلے چاروں معروف مذاہب میں اِس مسئلے کا مطالعہ کرے، اور دلائل کا مطالعہ کرے اور اُن کی صحت کو جانے، اِن شاء اللہ، بحث یا اعتراض کرنے اور سوال و جواب میں وقت لگانے سے زیادہ بہتر اور فائدہ مند ہوگا۔ اِن شاء اللہ میں مذکورہ بالا فتوے کے دلائل، اور اِس کی موافقت نہ کرنے والے عُلماء کرام کی دلیل بھی پیش کروں گا تاکہ یہ مضمون پڑھنے والے تمام بھائی بہنوں پر معاملہ بالکل واضح ہو جائے۔ اللہ تبارک و تعالیٰ ہم حق جاننے ماننے اپنانے اور اُسی پر عمل پیرا رہنے کی توفیق عطاء فرمائے، اور ہر اُس قول، فعل اور عقیدے سے محفوظ رکھے جس پر وہ راضی نہیں۔

یہاں سے آگے مطالعہ اُن بھائی بہنوں کے لیے دلچسپ اور فائدہ مند ہو گا اِن شاء اللہ، جو مسئلے کو علمی طور پر سمجھنا چاہتے ہیں، اور جو بھائی بہن صِرف مسئلے کا حل جاننا چاہتے ہیں، یا صِرف سوال کا جواب پانا چاہتے ہیں، اُن کے لیے سابقہ معلومات ہی کافی ہیں، اِن شاء اللہ۔

مذکورہ بالافتاویٰ جات میں سے آخری فتوے کے بارے میں معلومات، دلائل:

اللہ جلّ شانہُ کا فرمان ہے کہ فَمَنْ كَانَ مِنْكُمْ مَرِيضًا أَوْ عَلَى سَفَرٍ فَعِدَّةٌ مِنْ أَيَّامٍ أُخَرَ وَعَلَى الَّذِينَ يُطِيقُونَهُ فِدْيَةٌ طَعَامُ مِسْكِينٍ پس تُم لوگوں میں سے جو کوئی مریض ہو، یا سفر پر (یعنی دوران سفر)ہو، تو وہ(ایسی صُورت میں رمضان کے روزے چھوڑ سکتا ہے لیکن بعد میں )دیگر دِنوں میں روزے پورے کرے، اور جو لوگ (فدیہ دینے کی)طاقت رکھتے ہیں وہ فدیہ دیں (سُورت البقرہ (2)/آیت 184)

اللہ عزّ وجلّ کے اِس فرمان مبارک کی تفسیر میں جلیل القدر صحابی، مفسر القران، عبداللہ ابن عباس رضی اللہ عنہ ُ و أرضاہُ نے کیا فرمایا، اور اِس کے روشنی میں کیا فتویٰ صادر فرمایا، ملاحظہ فرمایے:

اللہ تعالیٰ کے مذکورہ بالا فرمان میں سے وَعَلَى الَّذِينَ يُطِيقُونَهُ فِدْيَةٌ طَعَامُ مِسْكِينٍ اور جو لوگ (فدیہ دینے کی) طاقت رکھتے ہیں وہ فدیہ دیں کی عبداللہ ابن عباس رضی اللہ عنہما کی بیان کردہ تفسیر کے مطابق حاملہ عورت اور دُودھ پلانے والی (ماں یا کوئی اور عورت بشرطیکہ وہ کوئی معاوضہ لے کر دُودھ پلانے والی نہ ہو) ایسے لوگوں میں شامل ہوتی ہیں جنہیں روزے نہ رکھنے کی صُورت میں اُن روزوں کی قضاء ادا نہیں کرنی، بلکہ صِرف اُن چھوڑے ہوئے روزوں کی جگہ فدیہ ادا کرنے کی سہولت دی گئی ہے۔

پیسے یا کچھ اور مال وغیرہ لے کر دُودھ پلانے والی عورت چونکہ یہ کام ایک کاروبار کے طور پر کرتی ہے، لہٰذا وہ روزے چھوڑنے کی بجائے رمضان میں یہ کام چھوڑے اور بچے کے والدین یا ورثاء بچے کے لیے کوئی اور انتظام کریں، اب تو اللہ کی عطاء کردہ نعمتوں میں کسی دُودھ پیتے بچے کے ماں یا عورت کے دُودھ کے بہت سے نعم البدل میسر ہیں۔

آیت کریمہ کے اِس مذکورہ بالا حصے کے بارے میں عبداللہ ابن عباس رضی اللہ عنہ ُ کا فرمان ہے کہ كَانَتْ رُخْصَةً لِلشَّيْخِ الْكَبِيرِ وَالْمَرْأَةِ الْكَبِيرَةِ وَهُمَا يُطِيقَانِ الصِّيَامَ أَنْ يُفْطِرَا وَيُطْعِمَا مَكَانَ كُلِّ يَوْمٍ مِسْكِينًا وَالْحُبْلَى وَالْمُرْضِعُ إِذَا خَافَتَا (قَالَ أَبُو دَاوُدَ يَعْنِى عَلَى أَوْلاَدِهِمَا) أَفْطَرَتَا وَأَطْعَمَتَا یہ اجازت کہ روزہ رکھنے کی بجائے ہر دِن (روزے کی)جگہ (یعنی روزہ رکھنے کہ بجائے)ایک مسکین کو کھانا کھلا دیا جائے، بڑی عُمر کے ایسے بوڑھے مرد اور بوڑھی عورت کے لیے تھی، جو مشقت کے ساتھ روزہ رکھ سکتے تھے، (اور یہ اجازت )حاملہ عورت اور دُودھ پلانے والی (ماں) کے لیے بھی ہے، بشرطیکہ اُنہیں( اپنی جان یا صحت میں نقصان کا یقینی)ڈر ہو، (امام ابو داؤد نے مزید شرح کے طور پر کہا کہ، ایسی عورتوں کا یہ ڈر اُن کی اولاد سے بھی متعلق ہے، یعنی اگر اُنہیں اپنی نہیں لیکن اپنی ہونے والی اولاد، یا دودھ پینے والی اولاد کی جان یا صحت میں نقصان کا ڈر ہو) تو وہ دونوں عورتیں روزے چھوڑ سکتی ہیں اور (اُن روزوں کے بدلے میں بطور فدیہ)مسکینوں کوکھانا کِھلائیں گی(قضاء میں کوئی روزے نہیں رکھیں گی) (سُنن ابو داؤد /حدیث2320،کتاب الصوم/باب3)

اور سنن البھیقی کی روایت میں ہے کہ رُخَّصَ لِلشَّيْخِ الْكَبِيرِ، وَالْعَجُوزِ الْكَبِيرَةِ فِي ذَلِكَ وَهُمَا يُطِيقَانِ الصَّوْمَ أَنْ يُفْطِرَا إِنْ شَاءَا، وَيُطْعِمَا مَكَانَ كُلِّ يَوْمٍ مِسْكِينًا، ثُمَّ نُسِخَ ذَلِكَ فِي هَذِهِ الْآيَةِ (فَمَنْ شَهِدَ مِنْكُمُ الشَّهْرَ فَلْيَصُمْهُ ([البقرة: 185)

وَثَبِتَ لِلشَّيْخِ الْكَبِيرِ وَالْعَجُوزِ الْكَبِيرَةِ إِذَا كَانَا لَا يُطِيقَانِ الصَّوْمَ , وَالْحَامِلِ وَالْمُرْضِعِ إِذَا خَافَتَا أَفْطَرَتَا وَأَطْعَمَتَا مَكَانَ كُلِّ يَوْمٍ مِسْكِينًا بڑی عُمر کے ایسے بوڑھے مرد اور بوڑھی عورت کے لیے اجازت دی گئی، جو روزہ رکھنے کی طاقت رکھتے تھے، کہ وہ اگر چاہیں تو روزہ نہ رکھیں، اور روزہ رکھنے کی بجائے ہر دِن ایک مسکین کو کھانا کِھلا دیں (اور چھوڑے ہوئے روزوں کی کوئی قضاء نہیں)، اور پھر یہ حکم اس آیت شریفہ کے ذریعے منسوخ کر دِیا گیا کہ (لہٰذا تم لوگوں میں جو کوئی بھی یہ (رمضان کا)مہینہ پائے تو وہ روزے رکھے) (سورت البقرہ(2)/آیت185)

لیکن، بڑی عُمر کے بوڑھے مرد اور بوڑھی عورت کے لیے روزہ رکھنے کی (جسمانی) طاقت نہ ہونے کی صُورت میں یہ حکم برقرار رہا، اور حاملہ عورت اور دُودھ پلانے والی (ماں بھی)اگر (روزہ رکھنے کی وجہ سے اپنی اور اپنی اولاد کی جان یا صحت کے بارے میں)خوف زدہ ہوں تو (اُن کے لیے بھی یہ ہی حکم ہے کہ) وہ (اُس حالت میں) روزے چھوڑ سکتی ہیں، اور (جب اُس حالت سے نکل جائیں،صحت مند ہو جائیں تو چھوڑے ہوئے) روزوں کی جگہ اور (اُن روزوں کے بدلے میں بطور فدیہ) مسکینوں کوکھانا کِھلائیں(قضاء میں کوئی روزے نہیں رکھیں گی) (سُنن البیھقی الکبریٰ /کتاب الصیام /باب39 الحامل والمرضع إذا خافتا على ولديهما أفطرتا وتصدقتا عن كل يوم بمد من حنطة ثم قضتا)

إِمام الالبانی رحمہُ اللہ نے إرواء الغليل في تخريج أحاديث منار السبيل/حدیث رقم 912 کی تحقیق میں اِس اثر کی بہترین تحقیق پیش کی ہے اور اس کے علاوہ بھی کئی اہم معاملات کی بہترین شرح ہے۔ جس کی روشنی میں یہ پتہ چلتا ہے کہ دُرُست بات یہ ہی ہے کہ اگر کسی حاملہ عورت کو روزہ رکھنے کی وجہ اپنی یا اپنے ہونے والے بچے کی جان یا صحت میں نقصان کے یقین ہو تو وہ روزے چھوڑ سکتی ہے، اور فدیے میں مسیکنوں کو کھانا کھلائے گی، اُن روزوں کی کوئی قضاء ادا نہیں کرے گی۔"

تو حاصل کلام یہ ہوا کہ، حاملہ عورت اور دُودھ پلانے والی ماں، اپنی یا اپنے بچے کی جان، یا صحت کے بارے میں کسی یقینی خطرے کے اندیشے، یا خوف کی وجہ سے رمضان کے فرض چھوڑ سکتی ہے، اور خطرے سے نکلنے کے بعد وہ عورت چھوڑے ہوئےہر ایک روزے کے فدیے کے طور پر ایک مسکین، یعنی غریب مُسلمان کو کھانا کِھلائے گی۔

ایسا کھانا جِس میں کوئی تکلف نہ ہو، بلکہ معاشرے میں ایک متوسط طبقے کے بلا تکلف کھانے کے جیسا ہو، اور وہ خود بھی غریب ہے تو جیسا خود کھاتے ہیں ویسا ہی کھانا کھلا دِیا جائے۔

پس کوئی ایسی خاتون جِس نے حمل کی وجہ سے رمضان کے کوئی روزے چھوڑے ہوں، تو وہ چھوڑے ہوئے ہر ایک روزے کے بدلے ایک مسکین کو کھانا کھلائے گی۔

عبداللہ ابن عباس رضی اللہ عنہما کے اِس فتوے کو رسول صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کے اِس فرمان کی تائید بھی حاصل ہے کہ إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ وَضَعَ عَنِ الْمُسَافِرِ شَطْرَ الصَّلاَةِ وَعَنِ الْمُسَافِرِ وَالْحَامِلِ وَالْمُرْضِعِ الصَّوْمَ أَوِ الصِّيَامَ یقیناً اللہ عزّ و جلّ نے مسافر پر سے نماز کا آدھا حصہ ہٹا دِیا ہے، اور اور مسافر پر سے، اور حاملہ عورت پر سے، اور دُودھ پلانے والی (ماں) پر سے روزہ (یا فرمایا) روزے ہٹا دیے ہیں (سُنن ابن ماجہ/حدیث/1736کتاب الصیام/باب12، سُنن ابو داؤد/حدیث/2410کتاب الصوم/باب43،سُنن النسائی/حدیث/2287کتاب الصیام/باب51،إِمام الالبانی رحمہُ اللہ نے پہلی دو روایات کو"حسن صحیح" قرار دِیا،اور تیسری روایت کو "حسن")

قضاء روزے رکھنے میں کسی تسلسل یا مدت یا وقت کا تعین نہیں ہے

إِیمان والوں کی والدہ محترمہ امی جان عائشہ رضی اللہ عنہا و أرضاھا کا فرمان ہے کہ إِنْ كَانَ لَيَكُونُ عَلَىَّ الصِّيَامُ مِنْ رَمَضَانَ فَمَا أَقْضِيهِ حَتَّى يَجِىءَ شَعْبَانُ مجھ پر رمضان کے روزوں میں سے کچھ باقی ہوتے تھے، اور میں اُن کی قضاء ادا نہ کر پاتی تھی حتیٰ کہ(اگلے سال کا) شعبان آ جاتا(سُنن النسائی /حدیث/2331کتاب الصیام/ باب64وَضْعِ الصِّيَامِ عَنِ الْحَائِضِ،إِمام الالبانی رحمہُ اللہ نے صحیح قرار دِیا، مؤطا مالک حدیث/688کتاب الصیام/باب20 جَامِعِ قَضَاءِ الصِّيَامِ)

اس حدیث شریف سے معلوم ہوا کہ کسی مرض کی وجہ سے رمضان میں چھوڑے ہوئے روزوں کی قضاء ادا کرنے کے لیے کم از کم اگلے رمضان تک کی مہلت تو ہے، اگر یہ مہلت بھی کسی شرعی عذر کی وجہ سے گزر جائے، یا خواہ کسی کی سُستی اور کاہلی کہ وجہ سے ہی گزر جائے تو بھی اُس پر قضاء ادا کرنے کے ساتھ یا الگ سے کوئی فدیہ ادا کرنے کا فتویٰ تو ملتا ہے، لیکن اُس فتویٰ کی کوئی دلیل مجھے نہیں مل سکی۔

جی ہاں! اِس بات کا ضرور تاکید کے ساتھ خیال اور اہتمام کیا جانا چاہیے کہ جتنی جلدی ممکن ہو، چھوڑے گئے روزے رکھ لیے جانے
چاہیے، جان بوجھ کر کسی شرع عُذر کے بغیر اُن کی قضاء کی ادائیگی میں تاخیر نہیں کرنا چاہیے۔

رمضان کے قضاء روزے سارے اکٹھے ایک تسلسل میں رکھنا بھی لازمی نہیں، کیونکہ ایسا کرنے کی بھی کوئی دلیل میسر نہیں، لہٰذا رمضان میں چھوڑے ہوئےگئے روزوں کی قضاء کسی بھی وقت ایک ایک دو دو روزے رکھ کر کی جاسکتی ہے۔ لیکن یہ خیال رہے اِن میں سے کوئی روزہ ہفتے والے دِن نہ رکھا جائے، اور نہ ہی کوئی بھی نفلی روزہ ہفتے والے دِن رکھا جانا جائز ہے (اِس موضوع کی کافی تفصیلی بحث میری زیر تکمیل کتاب "ہفتے کے دِن نفلی روزہ رکھنے کا شرعی حکم" میں ہے، اللہ توفیق عطاء فرمائے کہ اِس کی کتاب کی تکمیل بھی ہو جائے، اور یہ بھی برقیاتی ذرائع پر نشر ہو جائے، اور اللہ اِسے بھی میرے لیے اور میرے مُسلمان بھائی بہنوں کے لیے نفع مند بنائے۔)

رمضان کے چھوڑے ہوئے نفلی روزوں کی قضاء ادا کرنے کے لیے فضیلت والے دِن اختیار کرنا زیادہ بہتر ہے، جیسا کہ پیر (سوموار) اور جمعرات، اور ہر مہینے میں ایام بیض، یعنی قمری (اِسلامی )مہینے کے درمیان کی تین راتیں 13،14،15۔

چھوڑے ہوئے روزوں کی قضاء ادا کرنے کا فتویٰ دینے والے عُلماء کرام کی حُجت

مذکورہ بالا معلومات حاصل کرنے کے بعد، اِن شاء اللہ بہتر معلوم ہوتا ہے کہ ہم اُن عُلماء کرام کی حُجت بھی جانیں جن عُلماء کرام نے، حاملہ عورت اور دُودھ پلانے والی (ماں) کے لیے چھوڑے ہوئے روزوں کی قضاء ادا کرنے کا فتویٰ دِیا، اُن کی وہ حُجت جِس کی وجہ سے وہ ایک صحابی رضی اللہ عنہ ُ کا صحیح ثابت شدہ فتویٰ قُبُول نہیں فرماتے، درج ذیل ہے:

اِن عُلماء کرام کے کلام کا حاصل یہ ہے کہ یہ جو عبداللہ ابن عباس رضی اللہ عنہما کا فتویٰ منقول ہے تو یہ مرجوح ہے(یعنی یہ فتویٰ اِس کے مقابل یا مخالف فتوے کے سامنے ترک کردہ ہے) کیونکہ یہ شریعت کے دلائل کے مُطابق نہیں، کیونکہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے کہ فَمَنْ كَانَ مِنْكُمْ مَرِيضًا أَوْ عَلَى سَفَرٍ فَعِدَّةٌ مِنْ أَيَّامٍ أُخَرَ پس تُم لوگوں میں سے جو کوئی مریض ہو، یا سفر پر (یعنی دوران سفر) ہو، تو وہ (ایسی صُورت میں رمضان کے روزے چھوڑ سکتا ہے لیکن بعد میں) دیگر دِنوں میں روزے پورے کرے(سُورت البقرہ (2)/آیت 184)

اور حاملہ عورت اور دُودھ پلانے والی(ماں) مریض کے حکم میں آتی ہیں، (روزوں کی جگہ فدیہ ادا کرسکنے والے) بوڑھے لوگوں میں نہیں، لہٰذا یہ عورتیں اگر استطاعت پا لیں تو روزوں کی قضاء ادا کریں گی۔

اس بات کے جواب میں کہا گیا کہ، کسی صحابی کا فہم قران کسی غیر صحابی سے کہیں زیادہ بہتر ہے اور خاص طور پر عبداللہ ابن عباس رضی اللہ عنہما جسے صحابی کا جنہیں صحابہ رضی اللہ عنہم میں سے مفسر القرآن مانا جاتا ہے، اور بڑے فقیہ صحابہ رضی اللہ عنہم میں سے ہیں، لہٰذا اِس آیت شریفہ کی تفیسر اور اِس میں مذکور احکام کو سمجھنے کے لیے اِن کی بات سب سے زیادہ معتبر ہے، سوائے اِس کے کہ اِن کی بات کسی اور آیت شریفہ یا کسی صحیح ثابت شدہ حدیث شریف کے خلاف ہو، اور ایسا نہیں ہے، لہٰذا عبداللہ ابن عباس رضی اللہ عنہما کے اِس فتوے کو کسی اور کے فتوے پر فوقیت ہی دیے جانا دُرست ہے، اِن شاء اللہ۔

پس اِن سب معلومات کی روشنی میں یہ واضح ہوا کہ "حاملہ عورت، اور دُودھ پلانے والی عورت (ماں یا کوئی بھی اور عورت، بشرطیکہ وہ پیسے لے کر دُودھ پلانے والی نہ ہو) رمضان کے روزے چھوڑ سکتی ہیں، اور ہر ایک روزے کے بدلے میں ایک مسکین (غریب) کو کھانا کِھلائیں گی، اور چھوڑے ہوئے روزوں کی کوئی قضاء اُن پر نہیں۔"

پیسے یا کچھ اور مال وغیرہ لے کر دُودھ پلانے والی عورت چونکہ یہ کام ایک کاروبار کے طور پر کرتی ہے، لہٰذا وہ روزے چھوڑنے کی بجائے رمضان میں یہ کام چھوڑے، اور بچے کے والدین یا ورثاء بچے کے لیے کوئی اور انتظام کریں، اب تو اللہ کی عطاء کردہ نعمتوں میں کسی دُودھ پیتے بچے کے ماں یا عورت کے دُودھ کے بہت سے نعم البدل میسر ہیں۔

اللہ تبارک و تعالیٰ ہم سب کو حق جاننے ماننے اپنانے اور اُسی پر عمل پیرا رہتے ہوئے اُس کے سامنے حاضر ہونے والوں میں سے بنائے۔

Comments

عادل سہیل ظفر

عادل سہیل ظفر

عادِل سُہیل ظفر جیاد ، معاشی ذمہ داریاں نبھانے کے لیے ملٹی فنگشن پراڈکٹس ٹیکنیشن کے طور پر ملازمت کرتے ہیں۔ اللہ عزّ و جلّ کا دِین ، اللہ ہی کے مُقرر کردہ منہج کے مُطابق سیکھنے اور جو کچھ سیکھا اُسے نشر کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.