اس نے مجھے گمراہ پایا، پھر مجھے ہدایت دی - صبیح احمد

"مما مجھے یہ سلیولیس کرتی پہننے دیں ناں پلیز!"

یہ جملہ ایک Modern Educated Mind کی 14 سال کی نادان بچی کا تھا جس کے ذہن پہ سمجھداری والی عمر میں پردے ڈلنا شروع ہوگئے تھے۔ عید کے دن بالوں کی خوبصورت کٹنگ بازوں سے ذرا نیچے آتی آستینیں اور گلے میں دوپٹے کے نام پہ سانپ جیسی پتلی رسی۔ دنیا کی نظر میں وہ واقعی خوبصورت لگ رہی تھی۔ پھر بھی کسی نے اسے یہ ضرور کہا تھا کہ "کہاں گئے تمہارے مسلمانوں والے کپڑے؟"

کچھ سال ایسے ہی بیتے کے ایک بہت اچھی دوست اللہ نے زندگی میں فرشتے کی طرح بھیج دی، بہت اچھے گھر سے تعلق رکھنے والی باپردہ۔ اسے اچھا لگتا تھا جب اس کی دوست غیر مردوں کے آتے ہی اپنا نقاب آگے کرلیتی تھی۔ 3 سال بعد اس دوست کو نمرہ احمد کا ڈریمی ناول جنت کے پتے" پڑھتے دیکھا تو اس کی بھی چاہ ہوئی اور ناول پڑھا لیکن شاید سمجھا کبھی نہیں آیا شاید جنت کے پتوں سے کہیں زیادہ ذہن کے پردے تھے۔ وقت گزرتا گیا کہ وہ وقت بھی آگیا جب FSC کے ایگزامز سے فارغ ہو کر career کی بھاگ دوڑ شروع ہوگئی۔ ہر کوئی دعاؤں میں مگن۔ اس نے بھی خود غرض ہوکر اللہ سے یہ وعدہ کرلیا کہ اگر اس کا medical college میں ایڈمیشن ہوجائے تو وہ حجاب لینے لگےگی جیسے اللہ کو اس کے حجاب کی ضرورت ہو، استغفرللہ۔ بہت مننتوں اور دعاؤں کے بعد بھی اللہ نے اس میں بہتری نہ سمجھی اور نہیں ہوا ایڈمیشن۔ دل ٹوٹا، خواب ٹوٹے، زندگی کا کھیل سمجھ آیا۔ ان سب میں اس لڑکی نے بھی یہی کیا جو آج لوگ کرتے ہیں، اللہ سے شکوے شکایتیں اور ناشکری۔ ضدی بن جانا کہ اللہ نے یہ نہیں دیا تو بس آج سے میری اور اس کی جنگ۔ پہلے نماز میں دعا مانگنا چھوڑی اور پھر نماز۔

رات کی تاریکی بس برے کاموں کے لیے یوں ہی بدنام ہے۔ ضمیر کا "ض" بھی زندہ ہو تو تاریکیوں میں سے کھینچ ہی لاتا ہے۔ خالی نگاہیں، ٹوٹا دل، بکھرے ارمان اور تنہائی، اللہ کے دائمی وجود کا ثبوت ضرور دیتے ہیں۔ دل میں خیال آیا کہ ساری زندگی میں ایک چیز نہیں ملی تو یہ رویہ اور جو کچھ ملا اس کا کیا؟ ناشکری کا یہ عالم اور شکرانے کا ایک نفل بھی اعمال میں موجود نہیں؟ واہ رے اللہ کی بنائی خودغرض مخلوق! بہت "Modern Educated Mind" نے شعور کی ایک سیڑھی تو طے کی اور اللہ کی رضا کے لیے حجاب لیا۔ تب لوگوں نے کہا "اسلام میں یہ نہیں ہے۔ ڈھانکنا ہے تو منہ ڈھانکو!" تو کچھ نے کہا "فیشن کی آگ لگی ہے اس لیے سر ڈھانکا جا رہا ہے بس کچھ دن کی چمک ہے۔"

فیشن کی آگ 4 سال تک لگی رہی۔ گھر میں شادیوں کا دور آیا، ناچ گانے اور ڈھول کی دھن پہ بجتی تالیوں میں اس کی تالی بھی شامل ہوتی تھی اور بدقسمتی سے مایوں کے دن ڈانڈیا میں اسکا نام سرفہرست تھا۔ اس دن دنیاوی چمک اتنی تھی ک حجاب پیچھے چھوٹ گیا۔ کمر سے نیچے آتے اور پھولوں کی لڑیوں میں سجے بالوں کی تعریف سب نے ہی کی لیکن دل 4 سال پرانے ساتھی کو چھوڑنے پہ اداس ضرور تھا۔ شریفوں کے مجروں کی ویڈیوز ضرور بنائی جاتی ہیں تاکہ حالت نزع کے وقت پرانی یادیں تازہ کی جاسکیں۔ (اللہ ہدایت دے مجھے) جس کا افسوس انتہاء سے زیادہ ہے کیونکہ ہر کسی کی زندگی میں میجر احمد نہیں ہوتے۔ تقریب اختتام پہ پہنچی تو کسی خیرخواہ نے کہا " بس ڈانڈیا کے لیے اتر گیا حجاب؟" تکلیف ہوئی اور گھر آکر آنسوؤں کا دریا بہا ڈالا۔ کیونکہ وہ جانتی تھی کہ جو گناہ اس نے حجاب لے کر کیے اللہ نے کبھی ان گناہوں کی وجہ سے اس کے اجر میں کمی نہیں آنے دی۔

ان دنوں وہ کراچی کی ایک "پوش" یونیورسٹی کی طالبہ تھی۔ جہاں کی جھوٹی چمک دیکھ کر اس کا حجاب اترا تو نہیں لیکن چھوٹا ہوتا چلا گیا۔ لڑکیوں کے خوبصورت لباس دیکھ کر ایک بار پھر وہ اپنے مقصد سے ڈگمگائی تھی لیکن بھٹکی نہیں تھی جس کی وجہ اس "پوش" دلدل میں پڑے کچھ سچے موتی تھے جو اسے اس سفر میں آگے بڑھنے کی تلقین کرتے رہتے تھے، اللہ انہیں ہمیشہ خوش رکھے اور وہ اپنا دل یہ کہ کر بہلالیتی کہ ایسے کپڑے پہننے میں کوئی برائی نہیں ہے، سر تو ڈھکا ہے ناں۔ کاش اسے یہ خبر بھی ہوتی کہ سر کے ساتھ ساتھ "ذہن" بھی ڈھکا ہوا ہے۔ اس بات کا اندازہ تو تھا لیکن احساس تب ہوا جب ایک دن اسکول کی ری یونین پارٹی سے آئی ہی تھی کہ اماں نجانے کب سے غصہ دبائے بیٹھی تھیں کہ کہا "تم اور تمہارے بے حیا کپڑے! خود بھی گناہ میں مبتلا ہو اور ہمیں بھی کیا ہوا ہے۔" اس نے خود پہ ایک نگاہ ڈالی بظاہر تو کپڑے ایسے ہرگز نہ تھے سوائے کاندھوں تک آتے حجاب اور نیچے موجود ٹائیٹز کے۔ اماں کا غصہ اتنی جلدی ٹھنڈا ہونے والا نہ تھا کہ پھر بولیں "اتار کر پھینک دو یہ 2 بالشت کا حجاب! اللہ کے واسطے ہم پہ رحم کرو اور اسلام کا مذاق بنانا بند کردو، خود کو دھوکے میں رکھنا بند کرو۔ تم بےحیا تھیں اور بےحیا ہو!" اماں کے الفاظوں نے ایک حاضر جواب لڑکی کو لاجواب اور بے ساکت چھوڑ دیا تھا۔

اسے لگا جیسے پچھلے 4 سال کی محنت کو بے حیائی کا نام دے دیا گیا تھا۔ ایسا لگا جسے موتیوں کا محل وہ سمجھ رہی تھی وہ دراصل محض کنکریوں کا ڈھیر تھا۔ سب بس معمولی ریت، کنکر اور مٹی بس۔ وہ رات کاٹنا واقعی مشکل تھی اور ذہن میں بس ایک ہی بات گھوم رہی تھی کہ اگر اپنی ماں کے لیے بےحیا تھی تو وہ رب جس کے لیے یہ سب کیا تھا وہ تو ماں سے ستر گناہ زیادہ چاہتا ہے، مطلب اس کے لیے تو وہ ستر گناہ زیادہ بےحیا ہوئی؟ کاش! یہ دو بالشت کا ٹکڑا سر پہ رکھنے کے بجائے منہ پہ رکھا ہوتا تو آج اماں کی اور اللہ کی نظر میں ستر گناہ زیادہ باحیا ہوتی۔ وہ جانتی تھی کہ آج نہیں تو کبھی نہیں۔ شاید یہ اس کی زندگی کا وہی موڑ ہے جو اسے چاہیے تھا، جس کی ہمت وہ خود نہ کرسکی تھی۔ اگلے دن یونیورسٹی کے لیے اپنا 2 سال سے رکھا سعودی عبایا نکالا اور استری سے جلا کر 5 سال پرانا پاکستانی عبایا پہن کر نقاب لگالیا۔

لوگ اب بھی کہتے ہیں کہ "اسلام میں یہ نہیں ہے۔ تم extremist ہو رہی ہو،" "تم نقاب صحیح نہیں کر رہیں، تمہاری بھنویں دِکھتی ہیں" اور آج یہ فخر سے کہہ سکتی ہوں کہ یہ کہانی "میری" ہے اور میں لوگوں کے لیے جینا شاید چھوڑ چکی ہوں تو اب فرق نہیں پڑتا کیونکہ انسان تو کبھی خوش نہیں ہوگا لیکن مجھے یقین ہے کہ ایک دن میں اپنے رب کے آگے ضرور سرخرو ہوں گی۔ اللہ مجھے استقامت دے۔اللہ نے ہدایت دی،جنت کے پتے دیے، حیا دی تو جیہان سکندر بھی وہ ہی دے گا۔ دل کی گہرائیوں سے آمین!

ٹیگز
WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com
/* ]]> */