مایوس کن نظریات میں پوشیدہ نفسیاتی جنگ - نجیب اللہ محسود

جس وقت سامراجی طاقتوں نے پورے ہندوستان کو تخت و تاراج کیا تھا تو جنت نظیر وادی وزیرستان بھی اس ابوالہول کے طوفانی تھپڑوں سے محفوظ نہ رہ سکی۔جس کی وجہ سے محسود قوم کو بے پناہ دشواریوں کا سامنا کرنا پڑا۔ تب بھی ہماری جھولی میں شہادتیں، بچوں کی چیخ و پکار اور بیواؤں کی سسکتی آہوں نے جنم لیا اور آج بھی یہاں چین و سکون مفقود ہے۔ بالخصوص 2005ء سے آج تک جن حالات کا سامنا رہا، اس سے کوئی ناآشنا نہیں ہے۔ بدترین حالات میں بھی محسود قوم نے پشتون روایات پر سمجھوتہ کیا اور نہ ہی اپنا کلچر تبدیل کیا۔ سب سے بڑھ کر یہ کہ اس غم و الم نے ان کے حوصلوں کو پست کرنے کے بجائے مزید بلند کیا اور یہ آپس کے اتحاد واتفاق کا سبب بنا۔

1950ء کی دہائی میں میں امریکہ کی کوریا سے جنگ کے خاتمے کے بعد امریکی فوج کے ایک ماہر نفسیات جنرل ولیم مایر نے جنگوں کی تاریخ کے ایک بہت ہی پیچیدہ مسئلے پر تحقیق کی۔ اس جنگ میں امریکہ کے تقریباً ایک ہزار فوجی گرفتار کیے گئے، انہیں ایک ایسے کیمپ میں قید کرکے رکھا گیا، جہاں عالمی معیار کے جیلوں کی سہولیات موجود تھیں، جہاں پر قیدیوں کے ساتھ عالمی قوانین کے مطابق سلوک کیا جاتا تھا اور قیدی کے لیے ساری سہولیات مہیا کی جاتی تھیں، نیز یہ جیل دوسرے جیلوں کی طرح اونچی دیواروں سے گھیرا ہوا نہیں تھا، بلکہ قیدی جیل سے بھاگ بھی سکتے تھے۔ یہی نہیں بلکہ کھانے پینے کی اشیاء کی فراہمی سے لیکر دیگر ساری سہولیات کا بھرپور انتظام بھی تھا اور سب سے بڑھ کر یہ کہ دوسری جیلوں کی طرح یہاں سزا دینے کے مختلف طریقے نہیں اپنائے جاتے تھے۔لیکن تعجب کی بات یہ تھی کہ اتنی ساری سہولیات اور انتظامات کے باوجود اس جیل میں مرنے والے قیدیوں کی تعداد دوسرے جیلوں سے زیادہ تھی۔ اس مسئلے پر کئی سالوں کی ریسرچ اور تحقیق کے بعد ماہر نفسیات مائر اپنی کوششوں اور معلومات کی روشنی میں جس نتیجے پر پہنچا وہ کچھ اس طرح تھیں:

1- ان قیدیوں کو صرف اور صرف مایوس کن بری خبریں اور تکلیف دہ پیغامات پہنچائے جاتے تھے۔

2- جیل میں قیدیوں سے کہا جاتا تھا کہ وہ اپنی زندگی کے تلخ واقعات میں سے کوئی ایک واقعہ سارے لوگوں کے سامنے بیان کریں۔

3- ان سے یہ بھی کہا جاتا کہ جیل میں جو اپنے ساتھیوں کی جاسوسی کرے گا، اسے انعام سے نوازا جائے گا۔ اس سے سارے قیدیوں کو ایک دوسرے کے خلاف جاسوسی کرنے کی شہ مل گئی اور پھر ان لوگوں کو اسی طرح جاسوسی کرنے کی عادت سی پڑگئی۔ تحقیقات سے معلوم ہوا کہ یہی وہ تین چیزیں تھیں، جن سے وہ فوجی قیدی نفسیاتی طور پر شکست خوردہ ہو کر موت کا نوالہ بن جاتے ہیں۔

بعینہ بعض محسود نوجوانوں کے مایوس کن نظر یات کا مطالعہ کرنے کے بعد میں اس نتیجے پر پہنچا کہ

1۔ محسود قوم کے عزائم جسے سامراجی طاقتوں سے لے کر آج کے فسادات تک زیر نہ کرسکے، آج ہم خود اپنے پاؤں پر کلہاڑی مار کر خود کو پست کرنے پر تلے ہوئے ہیں

2۔ آنے والی نسل مایوس ہوکر اپنی ہی دھرتی کی دشمن اور غیروں کے لیے آلہ کار ثابت ہوگی۔ جس کی وجہ سے غلامی در غلامی کی زنجیر میں جکڑ کر تاریک مستقبل کا شکار ہو جائے گی۔

اس مسئلہ کا حل:

1۔ اس کا حل یہ ہے کہ ناخواندگی کا خاتمہ کیا جائے، عصری علوم کے ساتھ ساتھ دینی تعلیم کو بھی فروغ دیا جائے کیونکہ جو قومیں اس طرح کے حالات سے گزر جائیں کہ جن حالات سے محسود قوم گزری ہے، وہاں کے باشعور لوگ میدان کارزار کے ہیرو اور سیاست میں امام بن جاتے ہیں، لیکن ناخواندگی کی وجہ سے محسود قوم پروپیگنڈے اور ملک دشمن عناصر کے مختلف تدبیروں اور چالوں کا شکار ہوجائے گی۔

2۔ جوان اپنے جذبے کو برقرار رکھتے ہوئے اپنے بڑوں کے مشوروں سے لائحہ عمل طے کریں۔

3۔ غریب اور ناچار لوگوں کی مدد کی جائے اور انہیں سینے سے لگایا جائے اور انہیں یہ احساس دلایا جائے کہ تم اکیلے نہیں۔

4۔ علاقائی اختلافات کو پس پشت ڈال کر نئے مستقبل کے لیے پرعزم ہو جائیں۔

5۔ مایوس کن خبروں اور ملک و ملت کی بیخ کنی والی باتوں سے ہر کسی کو روکا جائے اور پرامید باتوں کو فروغ دیا جائے۔

6۔ والدین کو اپنے بچوں کے روزمرہ سرگرمیوں سے باخبر ہونا چاہیے تاکہ غلط قدم رکھنے سے پہلے ان کو راہ راست کی تلقین کی جائے۔

7۔ علاقے کے مشران اور علماء کرام کی خاطرمدارت کی جائے اور انہیں یہ باور کرایا جائے کہ ہم نوجوان تمہارے بغیر کچھ نہیں اور تم ہی ہمارے بہترین مستقبل کے لیے نجومِ سحر کی حیثیت رکھتے ہو۔

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com
/* ]]> */