کیا مرد بھی "می ٹو" کہہ سکتے ہیں؟ - سمیع احمد کلیا

ہالی ووڈ پروڈیوسر ہاروے وینسٹن کی طرف سے جنسی طور پر ہراساں کیے جانے کے انکشاف کے بعد ہالی ووڈ فلم ایکٹریس الیسا میلانو نے سوشل میڈیا پر اکتوبر 2017 میں ایک مہم شروع کی جس کو ’’می ٹو‘‘ کے ساتھ پھیلایا گیا، مقصد تھا جس خاتون کو بھی ہراسگی کے کرب کا سامنا کرنا پڑا، وہ اپنے آپ کو اس ہیش ٹیگ سے نمایاں کر دے۔ یہ کیمپین بہت تیزی سے مقبول ہوئی اور فیس بک، ٹوئٹر، انسٹاگرام اور دیگر سوشل پلیٹ فارمز پہ بہت سی خواتین اس ہیش ٹیگ کے ساتھ اپنی داستانیں بیان کیں۔ ان میں بڑی بڑی نامور خواتین بھی شامل ہیں جیسا کہ سابق امریکی صدر بل کلنٹن کی سابق گرل فرینڈ مونیکا لیونسکی بھی۔

ہمارے ہاں عورت کو جنسی طور پر ہراساں کرنے کا الزام ہمیشہ مرد پر لگتا ہے آپ نے اکثر دفاتر میں یہ لکھا دیکھا ہوگا کہ اگر کسی ملازم نے کسی خاتون کو جنسی طور پر ہراساں کرنے کی کوشش کی تو اُسے نوکری سے نکال دیا جائے گا۔سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ایسی کوئی حرکت اگر کسی خاتون کی طرف سے ہو تو اُس کے لیے کیا سزا ہے؟

آپ نے بے شمار ایسی خواتین دیکھی ہوں گی جو چلتی پھرتی دعوت گناہ ہوتی ہیں، مرد اگر اِن کی طرف نہ بھی دیکھنا چاہے تو ان کے پاس مرد کو متوجہ کرنے کے لاجواب حربے ہوتے ہی۔ لباس سے لے کرگفتگو تک اِن کا ہر انداز مردوں کے عین مطابق ہوتا ہے۔ اِن کے اُٹھنے بیٹھنے کا انداز گھر میں کچھ اور ہوتا ہے اور دفتر میں کچھ اور۔ یہ بلاتکلف کسی بھی مرد کولیگ سے بات کرلیتی ہیں، ہاتھ بھی ملا لیتی ہیں، کھانے کی فرمائش بھی کرلیتی ہیں لیکن کسی مرد کو ہمت نہیں ہوتی کہ اِن کی شکایت لگا سکے اور اگر ہمت کر بھی لے تو آگے سے ڈانٹ یا قہقہہ سننے کو ملتا ہے۔ اور "تم تو خوش قسمت ہو" جیسے الفاظ بھی طبیعت صاف کردیتے ہیں۔

حقیقت تو یہی ہے کہ بے شمار خواتین بھی مردوں کو جنسی طور پر ہراساں کرتی ہیں لیکن اِس بات کا کوئی کیس نہیں بنتا۔ کیس بننے کے لیے مرد کا عورت کو ہراساں کرنا ضروری ہے۔ بیچارے وہ مرد کہاں جائیں جنہیں ایسی خواتین اپنی ادائیں دکھا کر اس حد تک مجبور کر دیتی ہیں کہ وہ کوئی الٹی سیدھی حرکت کر بیٹھیں۔ یہ حرکت اگر خاتون کے مفاد میں ہو تو پیار کہلاتی ہے ورنہ بدتمیزی!

خیر، میں اپنے ادارے کے ایک معروف کالم نگار کی طرح کچھ زیادہ خوش شکل نہیں ہوں مگر ان کے کے کالم کے کچھ واقعات آپ سے شیئر کرتا ہوں، امید ہے وہ مجھے معاف کر دیں گے۔ کسی لڑکے کا اچھی شکل و صورت کا حامل ہونا بھی اس کے لیے بعض اوقات عذاب کا باعث بن جاتا ہے۔ مجھے یاد ہے کہ میرے بچپن میں ہم محلے کے بچے رات کو مل کر چھپن چھپائی کھیلا کرتے تھے۔ ایک نسبتاً بڑی عمر کی لڑکی ہمیشہ وہیں آ کر چھپتی تھی جہاں میں چھپا ہوا ہوتا تھا۔ میں باجی باجی کہتا ہوا پسینے میں شرابور ہو جاتا تھا مگر وہ باجی اپنا شوق پورا کر کے رہتی تھی۔ میرے لڑکپن میں ہی ایک اور باجی نے ایک دن موقع پا کر جب وہ اپنے گھر میں اکیلی تھی اور مجھے والدہ نے کسی کام سے ان کے گھر بھیجا، مجھے باقاعدہ پریکٹیکل کر کے یہ سمجھانے کی کوشش کی تھی کہ بچہ کیسے پیدا ہوتا ہے؟ وہ تو شکر ہے کہ میری عمر چھوٹی تھی ورنہ پریکٹیکل کامیاب ہو ہی گیا ہوتا۔ ایک اور باجی اپنے گھر کی تنہائی میں مجھ سے اپنے غسل خانے کا سختی سے بند نلکا کھلوانے کی خواہشمند تھی۔ یہ بتانا تو ضروری نہیں کہ ہمارے معاشرے میں غسل کا لباس کیسا ہوتا ہے؟ وہ تو عقل آ گئی اور خشک حلق لیے وہاں سے نکل آیا ورنہ معلوم نہیں کیا کچھ کھل جاتا؟ کراچی کی ان باجیوں سے تب جان چھوٹی جب ہم لوگوں نے کراچی چھوڑا۔ اس وقت تک عمر 16 برس اور تجربہ 32 برس کا ہو چکا تھا۔ پھر راولپنڈی میں ایک آنٹی سے پالا پڑا جو مطلقہ اور محلے کی جان تھیں۔ اکثر محلے کے نوجوانوں سے رات گئے سودا سلف منگوانے میں شہرت رکھتی تھیں۔ محلے میں ان کے گریبان کی شہرت ان کے زنانہ والٹ کے نام سے تھی جس سے سر عام زر کی برآمدگی یوں ہوتی تھی کہ نوجوانوں کی جوانی کو پسینے آ جاتے تھے۔ ان سے ایک بار گلی میں سامنا ہوا تو انہوں نے ہنس کر ایک ایسی پیشکش کی تھی کہ مجھے گھر میں داخل ہونے سے پہلے اپنے جذبات کو معمول پر لانے کے لیے گلی میں کچھ دیر اکڑوں بیٹھنا پڑا تھا۔

ہم یہ بات کیسے کہہ سکتے ہیں کہ مرد عورت کو ہراساں کرتا ہے مگر عورت ایسا کچھ نہیں کرتی؟ میں قانون کے طالب علم کے طور پر پورے یقین سے کہہ سکتا ہوں کہ جہاں مرد عورتوں کو ہراساں کرتے ہیں وہاں عورتیں بھی مردوں کو ہراساں کرتی ہیں مگر بنیادی فرق یہ ہے کہ جن پیغامات پر مرد زیادہ تر مسکراتے اور لطف اندوز ہوتے ہیں وہاں خواتین کو ان کی سماجی اور معاشرتی حیثیت کی وجہ سے قیمت چکانی پڑتی ہے۔ ابھی اس حوالے سے بنائی گئی وفاقی محتسب کشمالہ طارق نے کہا ہے کہ ان کے ادارے کے پاس مردوں کی شکایات بھی آ رہی ہیں میری اس بات کا یہ مطلب ہرگز نہیں لیا جائے کہ تمام خواتین بدکردار ہوتی ہیں مگر اتنی ضرور درخواست کروں گا کہ تمام خواتین کومعصوم عن الخطا بھی نہ سمجھا جائے۔

Comments

Avatar

سمیع احمد کلیا

سمیع احمد کلیا پولیٹیکل سائنس میں گورنمنٹ کالج یونیورسٹی، لاہور سے ماسٹرز، قائد اعظم لاء کالج، لاہور سے ایل ایل بی اور سابق لیکچرر پولیٹیکل سائنس گورنمنٹ دیال سنگھ کالج، لاہور ہیں۔

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com
/* ]]> */