میری امی! - مہوش کرن

میں سوچتی ہوں کہ دنیاوی اعتبار سے گنوں تو اتنا اور اتنا وقت بنتا ہے لیکن قلبی اعتبار سے گنوں تو لگتا ہے بے حساب وقت بیت چکا ہے میری امی کو دنیا سے گئے۔

وہ جو سراپا محبت تھیں، صرف میرے لیے نہیں بلکہ ہر ایک کے لیے۔ پرُ خلوص، مشفق، ہمدرد، غمگسار۔ اپنوں تو اپنوں غیروں کی تکلیف پر بھی آنسو بہانے والی، وہ ماں ہی ہو سکتی ہے۔

ہر ایک کا حوصلہ بڑھاتیں، چاہے وہ تعلیمی میدان ہو یا گھریلو۔ خاندان کے ہر فرد کو یاد رکھتیں ہر غم، ہر خوشی میں۔ اور پورا خاندان اُن کے گُن گاتا۔ دکھ سکھ میں سب کے کام آتیں اور سب عزت و احترام میں اُن کے آگے جھکے جاتے۔ کتنوں کی مامی، خالہ، چچی اور پھوپھی ہوتے ہوئے بھی وہ سب کی امی ہی رہیں۔

مجھے آج تک یاد ہے کہ میرے کچھ رشتے کے بھائی (کزنز) جنہیں میرے والدین نے اپنی اولاد کی طرح تعلیم، نوکری اور شادی تک اپنے گھر رکھا، وہ کس طرح اپنی زندگی شروع ہونے کے بعد بھی صرف امی سے اپنے سَروں پر دستِ شفقت رکھوانے کے لیے وقتاً فوقتاً آتے رہتے اور اِسی طرح ایک بھائی نے آخری وقت تک امی کو اپنے پاس رکھ کر اُن کی بے لوث خدمت کی۔ کتنی کزنز بہنیں جو شادی کر کے دور دور بیاہی گئی تھیں، وہ ہر عید و بقرعید اور بیماری میں ضرور آتیں اور تو اور اُن سب کے شوہر بھی امی سے اِس طرح ملتے جیسے وہ داماد نہیں، بیٹے ہوں۔ یہاں تک کہ پڑوس میں رہنے والی ایک باجی تعزیت کرنے ایک شہر سے دوسرے شہر آ گئی تھیں۔

وہ جب جب بیمار ہو کر ہسپتال میں داخل ہوتیں تو کمرے میں عیادت گزاروں کا تانتا بندھا رہتا اور کھڑے ہونے کی بھی جگہ نہ ہوتی۔

ہمیشہ اُنہیں نماز اور قرآن کے ساتھ دیکھا۔ چاہے گھر کے کاموں سے فارغ ہوتے کتنی دیر ہوجائے، چاہے تھکن سے جسم نڈھال دکھائی دے، مگر اُن کے دن کا اختتام اور شروعات ہمیشہ اللہ تعالٰی کے نام سے ہی ہوتی۔

جو کچھ امی ہمیں سکھا گئیں، وہ تاحیات کام آنے والا سرمایہ ہے۔ اُن کی بیماری پر محیط اُس تمام لمبے عرصے میں کبھی بھی زبان سے کوئی ناشکری کا لفظ نہیں سنا۔ اُس اذیت ناک تکلیف میں بھی اپنے سب کام خود ہی کرتیں اور ذرا سی خدمت پر بھی یوں دعائیں دیتیں جیسے پتا نہیں کیا کر دیا ہو اُن کے لیے۔ ہر حال میں اللہ کا شکر ادا کرنے والیں۔

ہم بہنوں کے تعلیمی دور میں کوئی امتحان ہو یا کوئی نتیجہ، کوئی رنج ہو یا کوئی اطمینان، وہ سراپا تشکر اپنی جگہ مضبوطی سے کھڑی ہوتیں۔ ہماری جوانی اور شادیوں کے بعد بھی ہماری بیماری میں وہ ہمارے سرہانے سراپا دعا بنی بیٹھی رہتیں اور ہم سب کی اولادوں سے تو اُن کی محبت عجب ہی والہانہ رہی۔ نئے سِرے سے جوش مارتی، اُنہیں پھر سے جوان کرتی مامتا! اور میرے لیے وہ کیا تھیں؟ اللہ کے بعد اِس دنیا میں میرا آسرا۔ سسرال میں کوئی تکلیف یا پریشانی میں نے تو کبھی اُن سے ذکر نہیں کی تھی لیکن انہیں پتا چل جاتا تھا۔ بیماری میں طاقت کی خوراک کے سامان سے بھرا تھیلا گھر آجاتا تھا۔ عید و بقر عید، موسم بے موسم اور وجہ بے وجہ سوغات۔ اُن کا ہاتھ ہمیشہ دینے میں کُھلا ہی رہا چاہے وہ دنیاوی آسائشیں ہوں چاہے آخرت کے موتی ہوں یعنی دعائیں۔

یہ بھی پڑھیں:   میرے پیارے عبداللہ - سعدیہ مسعود

اُن کی دعائیں ہی تھیں جنہوں نے مجھے ہمیشہ ہر مشکل میں ثابت قدم رکھا۔ اُن کی زندگی میں بھی، آج بھی، اور یہ یقین ہے کہ آئندہ بھی۔ کیونکہ پتا نہیں وہ میرے لیے کیا کیا مانگ گئی ہیں جو وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ مجھے ملتا جائے گا۔ یہ بھی اُن کی دعا ہی ہے جس نے مجھے آج تک ٹوٹ کر بکھرنے نہیں دیا۔ یہ اُن کا دلاسہ ہے جس نے آج تک کھل کر رونے نہیں دیا۔ کیونکہ جب وہ جا رہی تھیں تو آسمان اتنا رویا تھا کِہ جیسے بارش کا پانی سب کچھ اپنے ساتھ بہا لے جائے گا۔ مگر پھر ایک سکوت سا چھا گیا تھا جیسے ہر چیز اپنی جگہ پہنچ کر مطمئن ہو گئی ہو۔ ( ان شاء اللہ)

اُن کے جاتے وقت ایک اجنبی شہر میں اُن کے ساتھ اتنے لوگ تھے اور اُن کے شناسا شہر میں کتنی آنکھیں اشک بار تھیں۔ کتنے دل ملول تھے، کتنے ہونٹ چپ تھے۔ آج بھی جب آنسوؤں کو روکنا مشکل ہو جاتا ہے تو اُن کا پُر نور مسکراتا چہرہ نگاہوں کے سامنے آجاتا ہے اور آنسو خود بہ خود تھم جاتے ہیں۔ پھر میں سوچتی ہوں کہ وہ تو ہمیشہ موجود رہیں گی، ہماری باتوں میں، یادوں میں، ذہنوں میں، خوشیوں میں، دکھوں میں۔

اللہ سبحان و تعالٰی اُن کی بہترین مہمانی کریں۔ (آمین یا رب العالمین)

اِس سب کے ساتھ میں یہ بھی سوچتی ہوں کہ کیا میں ویسی ماں بن پا رہی ہوں جیسے وہ تھیں؟ اور یقیناً میری طرح ہر ماں اپنی ماں کی مثال سامنے رکھ کر یہ ضرور سوچتی ہوگی۔

آج کل کے پُر فتن دور میں ہم کیسے اپنے بچوں کی ڈھال بنیں اور وہ بچے ہمارے فرمانبردار بنیں جبکہ بہت سے فتنوں کو ہم بذاتِ خود گھر کے دروازے کھول کر خوش آمدید کہتے ہیں۔ یہ اسمارٹ فون، آئی پیڈ، لیپ ٹاپ، ہر وقت انٹرنیٹ کی سہولت، ٹی-وی چینلز کی بہتات، بے حیائی اور بے پردگی کی کھلے عام تشہیر۔ جن ماؤں کو احساسِ ذمہ داری ہے اور وہ اپنی اولاد کو اِس سے بچانے کی کوشش کرتی بھی ہیں تو گھر والے نہیں سمجھتے۔

یہ بھی پڑھیں:   عظیم ماں - لطیف النساء

خاندان والے اپنے انداز سے جی رہے ہیں اور معاشرہ تو بالکل الگ ہی ڈھنگ سے اپنی چال چل رہا ہے۔ چاروں طرف سے شیطانی ہتھکنڈے۔ ایسے میں ایک نیک اور باعمل ماں کو واقعی پریشانی کا سامنا ہے اور یہ سب کہنا کہ یوں کریں اور یوں نہ کریں۔ تو یہ بھی سب کو ہی پتا ہے کہ کیا کرنا چاہیے اور کیا نہیں لیکن ایک خاص درجہ پر پہنچ کر اُس ماں کے ہاتھ بندھ جاتے ہیں۔ وہ بے بسی سے تکنے کے سوائے اور کچھ نہیں کر پاتی۔ کہیں گھریلو پابندیاں تو کہیں معاشرتی مسائل۔ تو ایسے میں جو واحد ہتھیار اُس ماں کے پاس ہے وہ ہے اُس کا اپنا تعلق بااللہ!

1۔ وہ کتنی ایمانداری و اخلاص سے جائے نماز پر آتی ہے؟ نماز کے اوّل وقت اور پابندی کا کتنا خیال رکھتی ہے۔

2۔ وہ مسنون اذکار کو کتنی اہمیت دیتی ہے اور ذکر پر کتنا وقت لگاتی ہے؟

3۔ وہ کتنا وقت قرآن کو پڑھنے اور سمجھنے میں صَرف کرتی ہے؟

4۔ وہ روزمرہ زندگی میں کس حد تک سنتوں کو شامل رکھتی ہے؟

5۔ وہ حضرت محمد ﷺ اور ازواجِ مطہرات کی زندگیوں کو کتنا اپنی زندگی پر لاگو کرتی ہے؟

6۔ وہ کس حد تک گھر میں موجود فتنوں جن سے نحوست پھیلتی ہے یعنی ٹی۔وی، موبائل کا بے جا استعمال، غیبت، دیر تک سونا، سے بچتی ہے!

7۔ وہ کتنا وقت تعمیری و تخلیقی کاموں میں لگاتی ہے مثلاً کوئی اچھی کتاب پڑھنا یا لیکچر سننا؟

8۔ وہ گھر والوں کی خدمت کو فرضِ اولین سمجھتی ہے یا بوجھ سمجھ کر اتار پھینکتی ہے؟ وہ شوہر اور بچوں کے کاموں کو خوشدلی سے کرتی ہے یا احسان جتاتی ہے!

9۔ وہ رشتہ داروں کے حقوق خوشی سے ادا کرتی ہے؟

10۔ روز سونے سے پہلے وہ سب کو معاف کر کے، اپنا دل صاف کر کے اور اپنی کوتاہیوں کی معافی مانگتی ہے یا نہیں؟

11۔ وہ کتنا ریا سے پاک اور سچی شکر گزار ہے؟

12۔ وہ کتنا توبہ و استغفار کرتی ہے؟ 13۔ وہ کس درجے کی صابرہ ہے؟

یہ چیک لسٹ تو کبھی ختم نہ ہو، اگر مومنہ کے دل میں اللہ کی قدرت کا سچا خوف ہو۔ اور یہ سب کر کے جو لاک اسے اپنی محنتوں پر لگانا چاہیے وہ ہے “دعا”۔ ہر ہر بات اور چھوٹی سے چھوٹی پریشانی کے لیے بھی اللہ سے مانگنا اور بس اُسی پر توکل کرنا، اپنی دعاؤں میں گڑگڑا کر اپنی بے بسی اور محتاجی کا اقرار کرنا اور اُسی ربّ ذوالجلال سے سہارا اور مدد مانگنا۔

یہ ہے اصل حکمتِ عملی کہ اللہ تعالٰی ہمیں صحیح عمل کرنے کی حکمت سمجھا دیں۔ آمین یا رب العالمین!