چیف جسٹس صاحب! وضاحت نہ دیں، سزا سنائیں - یاسر محمود آرائیں

آزادی کے ستر سال گزرنے کے بعد بھی بطور ریاست ہم اپنی ترجیحات اور سمت متعین نہیں کر سکے۔ نہ ہی بطور قوم ہم اب تک یکسو ہو پائے ہیں کہ ہمارا طرز معاشرت، انداز رہن سہن، اور نظام حکومت کیا ہوگا حالانکہ ہمارے پاس ایک آئین موجود ہے، اور اس پر اتفاق رائے بھی پایا جاتا ہے۔ اس آئین میں اس نوعیت کے تمام بنیادی سوالات کے جواب بھی موجود ہیں مگر پھر بھی طے شدہ معاملات بار بار موضوع بحث بن جاتے ہیں۔ آج تک یہ فیصلہ نہیں ہو رہا کہ قائد اعظم ایک اسلامی ریاست کا خواب دیکھتے تھے یا پھر سیکولر ریاست کا۔ کبھی یہ بحث شروع ہو جاتی ہے کہ جمہوریت ہمیں موافق ہو سکتی ہے یا نہیں۔ ابھی یہ باتیں جواب طلب ہیں لیکن یہ سوال بھی کبھی کبھار اٹھ جاتا ہے کہ ملک میں پارلیمانی نظام نافذ ہونا چاہیے یا پھر صدارتی نظام۔ اسلامی نظام حکومت کے مطالبے سے پہلے ابھی مذہبی جماعتوں کا اس پر اتفاق ہونا باقی ہے کہ اسلامی حکومت کس فقہ کے مطابق بنے گی؟ الغرض اس طرح کی فضول بحثوں پر قوم کا وقت نہایت فیاضی سے برباد کیا جاتا ہے۔ شاید اسی لیے ہمارے ساتھ آزادی حاصل کرنے والی خطے کی دیگر ریاستیں آسمان کی وسعتیں کھوج رہی ہیں اور ہم اب تک اپنا آپ پہچاننے میں ناکام ہیں۔

آج کل نگران حکومت اور ممکنہ نگران وزیراعظم کے حوالے سے بحث جاری ہے۔ نگران وزیراعظم کی نامزدگی کا طریقہ کار بھی واضح ہے کہ موجودہ وزیراعظم اور اپوزیشن لیڈر باہم اتفاق رائے سے کسی نیک شہرت کے حامل شخص کو وزیراعظم مقرر کر سکتے ہیں۔ یہ دو حضرات اگر کسی ایک نام پر متفق نہ ہو سکیں تو پھر نگران وزیراعظم کا فیصلہ ایک مدت کے اندر آٹھ رکنی پارلیمانی کمیٹی کرے گی جس میں حکومت اور اپوزیشن کے چار چار نمائندے شامل ہوں گے۔ اس کے باوجود دی گئی مدت کے اندر کسی نام پر اتفاق رائے پیدا نہ ہو تو پھر الیکشن کمیشن کو اختیار ہوگا کہ وہ اپنی مرضی سے نگران وزیراعظم مقرر کرے۔ اصولی طور پر اب ہونا تو یہ چاہیے کہ وزیراعظم شاہد خاقان عباسی اور اپوزیشن لیڈر خورشید شاہ باہم مشاورت سے کسی ایک نام پر اتفاق کر لیں۔ تحریک انصاف لیکن اس معاملے میں کوئی استحقاق نہ رکھنے کے باوجود بھنگ ڈالنے کی کوشش کر رہی ہے۔ خود پیپلز پارٹی بھی آج کل کسی اور فضائوں میں ہے لہٰذا زیادہ امید نہیں ہے کہ وہ بھی اس معاملے کو خوش اسلوبی سے کسی پار لگنے دے گی۔ ایسا اگر ہوا تو پھر لازما معاملہ پارلیمانی کمیٹی کے سپرد ہوگا اور ہمارے ملک میں کیونکہ پارلیمانی نمائندے اپنی قیادت کی مرضی کے بغیر پانی تک پینے کی جرات نہیں رکھتے لہٰذا یقین ہے کہ یہ مسئلہ پھر وہاں بھی حل نہیں ہوگا۔

اکثر دنیا میں اس وقت نگران حکومت کا کوئی تصور موجود نہیں رہا۔ تقریباً ہر ملک میں پہلے سے موجود حکومت کی نگرانی میں انتخابات ہوتے ہیں اور وہی حکومت نئی آنے والی قیادت کو اقتدار منتقل کرتی ہے۔ اس کے باوجود نہ تو یہ سمجھا جاتا ہے کہ حکمران جماعت حکومتی وسائل کو اپنے حق میں استعمال کر لے گی اور نہ ہی بعد از انتخابات دھاندلی اور پنکچرز جیسے الزامات لگتے ہیں۔ بہت سے ممالک میں یہ تمام کام ایک معمول کی صورت انجام پذیر ہوتے ہیں اور کسی بھی قسم کی ہنگامہ آرائی اور ہیجان خیزی کبھی سننے میں نہیں آئی۔ امریکی انتخابات کی تو تاریخ تک مقرر ہے اور پوری دنیا کو علم ہوتا ہے کہ امریکی صدارتی انتخاب کس دن اور کس تاریخ کو ہوں گے۔ میرے خیال میں ایک واحد ہمارا ملک ہے جس کے انتخابات میں چند ہفتے باقی رہ جانے کے بعد بھی شش و پنج کی کیفیت برقرار رہتی ہے اور انتخابات کے انعقاد کے بارے میں یقین سے کچھ نہیں جا سکتا۔

ہمارے بہت سے مجاہد کالم نگار حضرات اس صورتحال کا ذمہ دار سیاستدانوں کو ٹھہراتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ دیگر ممالک میں ادارے مضبوط ہیں اس لیے وہاں انتظامی معاملات میں کسی قسم کی حکومتی مداخلت کا امکان نہیں لہٰذا وہاں نگران حکومت کی ضرورت محسوس نہیں کی جاتی۔ چلیں ان کی بات درست مانتے ہیں کہ ماضی میں سیاسی مداخلت کے ذریعے اداروں کو کمزور کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی گئی لیکن آج خود انہیں حضرات کا فرمانا ہے کہ ادارے آزاد اور غیر جانبدار ہیں تو پھر حالیہ سینیٹ الیکشن سے پہلے اور اس کے بعد جو شکوک و شبہات پیدا ہوئے اس کا ذمہ کسے دیا جائے؟ چلیں اسے بھی چھوڑتے ہیں مگر اب جو پنڈی کے بقراط نے در فنطنی چھوڑی ہے کہ نگران حکومت کا دورانیہ سات یا نو ماہ تک بڑھا دیا جائے گا اس پر تادیب کی ذمہ داری کس کی ہے؟ حالانکہ چیف جسٹس اور آرمی چیف پچھلے کئی ماہ سے مسلسل جمہوریت اور آئین سے اپنی کمٹمنٹ بتا رہے ہیں اس کے باوجود ایک مشکوک کردار کے حامل سیاستدان کے بیان کی بنیاد پر ملک میں افواہیں کیوں پھیل رہی ہیں؟ ہمیں سوچنا ہوگا کہ دو قابل احترام ریاستی اداروں کے سربراہان کی جانب سے واشگاف الفاظ میں یہ کہنے کے باوجود کہ وہ کسی بھی غیر آئینی اقدام کا پر یقین نہیں رکھتے جمہوریت کے مستقبل پر تحفظات کیوں موجود رہتے ہیں۔

اس بات میں کوئی دو رائے نہیں کہ سیاستدان اپنے مخصوص مقاصد کے تحت اس طرح کے شگوفے چھوڑتے رہتے ہیں اور ہماری نا خوشگوار سیاسی تاریخ کی بدولت ایسی باتوں کو پذیرائی بھی مل جاتی ہے۔ یہ بھی تسلیم کرنے کی بات ہے کہ آج واقعتا تمام ملکی اداروں کی سوچ میں تبدیلی آ چکی ہے اور وہ آئین و قانون کے دائرے میں رہتے ہوئے اپنے فرائض کی انجام دہی کے عزم پر کاربند ہیں۔ پچھلے کچھ عرصہ سے معزز عدلیہ کی جانب سے عوام کے بنیادی حقوق کے تحفظ کے لیے آرٹیکل 184(3) کے تحت بہت سے از خود نوٹسز دیکھنے میں آ رہے ہیں اور بلا شبہ یہ سب اقدامات عوام کے مفاد میں ہی تھے۔ پچھلے دنوں چیف جسٹس صاحب نے قصور میں ایک بچی کے ساتھ ہوئے افسوسناک واقعے کے بعد خوف و ہراس پھیلانے کے جرم میں از خود نوٹس لیکر ایک ٹی وی اینکر کو سزا بھی سنائی تھی۔ چیف جسٹس صاحب کو چاہیے کہ عوام کو سراسیمگی میں مبتلا کرنے والے ایسے سیاستدانوں کے خلاف بھی کاروائی کریں جو اپنے سیاسی عزائم کو پورا کرنے کے لیے اس طرح کی بے بنیاد باتیں پھیلا کر اداروں کی غیر جانبداری متنازعہ بناتے ہیں اور پھر کسی ممکنہ کاروائی سے بچنے کے لیے اداروں سے یکجہتی کی آڑ لیکر ان کے پیچھے چھپتے ہیں۔

گزشتہ روز چیف جسٹس صاحب نے بہت خوبصورت بات کی کہ اس ملک کا مستقبل صرف جمہوریت سے وابستہ ہے اور جوڈیشل مارشل لاء کی آئین میں کوئی گنجائش نہیں۔ انہوں نے مزید فرمایا کہ ان کے علاوہ باقی ججز بھی کسی ماورائے آئین اقدام کو قبول نہیں کریں گے۔ بحیثیت ایک در مند شہری کے میرے لیے یہ بات بہت تشویشناک ہے کہ چیف جسٹس کو بار بار عوام میں اپنی نیت کی وضاحت پیش کرنی پڑتی ہے۔ اس بیان کے بعد چیف جسٹس صاحب کو چاہیے کہ اس صورتحال کے مستقل سدباب کے لیے ایسے تمام کرداروں کو لازما کڑی سزا سنائیں جو اتنی واضح یقین دہانیوں کے بعد بھی بد گمانیاں پھیلانے سے باز نہیں آ رہے۔ یہ کاروائی اگر نہ ہوئی تو پچھلے چند سالوں میں اداروں کا وقار بحال کرنے لیے جس قدر محنت ہوئی ہے وہ سب ضائع ہونے کا خطرہ ہے۔

Comments

یاسر محمود آرائیں

یاسر محمود آرائیں

یاسر محمود آرائیں "باب الاسلام" اور صوفیوں کی سرزمین سے تعلق رکھتے ہیں۔حافظ قرآن ہیں اور اچھا لکھنے کی آرزو میں اچھا پڑھنے کی کوشش میں سرگرداں رہتے ہیں۔

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com
/* ]]> */