کیوں بھول جاتے ہیں کہ کس مقصد کے لیے آئے ہیں ہم؟ - ابو حسن

ذوالحجہ کے برکتوں بھرے ایام تھے اور میں نے حج کرنے کا ارادہ کیا اور پھر ریاض شہر سے کچھ اور دوست بھی ساتھ مل گئے اور ہم سب نے مکہ معظمہ کے لیے رخت سفر باندھا اور راستے میں میقات سے احرام باندھا اور حج افراد کی نیت کی اور اللہ کے فضل و کرم کے ساتھ خیروعافیت سے مکہ معظمہ پہنچ گئے اور طے یہ پایہ کہ اگر کوئی بچھڑ جائے تو اس کو ڈھونڈنے کی کوشش نہ کی جائے بلکہ اپنے اعمال میں مشغول رہیں۔

ہوا کچھ یوں کہ میں ہی ان سب سے وادی منیٰ میں بچھڑ گیا اور پھر میں بھی مناسک حج میں مشغول ہوگیا۔ جمرات سے کنکریاں مار کر واپس آرہا تھا کہ راستے میں ایک جگہ رک گیا دیکھا کہ کچھ لوگ کنکریا ں مارنے کے بعد اسی راستے کو اختیار کرتے ہوئےواپسی کا رخ کرتے جس پر سے وہ گزر آئے تھے اور عسکری نوجوان ان کو دوسرے راستے سےجانے کا کہتے کیونکہ گزشتہ برس حادثہ پیش آگیا تھا کہ لوگ ایک دوسرے پر چڑھ گئے تھے ازدحام کی وجہ سے اور سب سے بڑا سبب یہ تھا کہ لوگ ایک ہی راستے سے آتے جاتے تھے اور دوسرا یہ کہ لوگ اپنا سامان بھی اٹھا کر ساتھ لیے چلتے جو کہ حادثے کا سبب بنتا۔

اب ایک بندہ ہاتھ میں اپنا بیگ، تھیلا یا پھر شاپنگ بیگ اٹھائے کنکریاں مارنے چل دے اور وہ بھی دس ذوالحجہ کو کہ جس دن سبھی کوصرف بڑے شیطان کو کنکریاں مارنی ہوتی ہیں اور پھر قربانی کرنی،بال کٹوانے، پھر طواف زیارہ اور یہ دن بہت زیادہ مشغولیت کا دن ہوتا ہے۔

اب یہ بندہ کنکریاں مارے یا بیگ کو سنبھالے؟ جبکہ کندھے سے کندھا جڑا ہو (اس زمانے میں دو ہی جگہیں تھیں کنکریاں مارنے کی یعنی اس وقت صرف ایک ہی برج تھا، زمینی سطح پر یا برج پرجاکر کنکریاں مار سکتے ہیں ) اگر دھکم پیل میں بیگ ہاتھ سے چھوٹا تو اس کو اٹھا نہیں سکتے اور پیچھے آنے والے کو اس سے ٹھوکر لگتی اور گرگیا تو بس پھر موت کے سوا کچھ نہیں اور میں نے اپنی آنکھوں سے حجاج کی لاشیں دیکھی ہیں اور عسکری ایسے لوگوں سے بیگ پہلے ہی لے لیتے پر بہت سے ایسے بھی تھے جو بیگ کو نیچے لٹکائے ہوئے رش میں گزرجاتے اب ایسے لوگوں کا یہ کیا کرسکتے تھے جو خود کے لیے نہیں بلکہ دوسروں کے لیے اذیت کا سبب بنتے ہیں؟

کچھ لوگ تو ایسے ہوتے جو اپنے نونہالوں کو کاندھے پر اٹھائے کنکریاں مارنے کے لیے چل دیتے اور یہ اکثریت عربوں پر مشتمل تھی اور عسکری ان سے بچوں کو لے لیتے اور بتاتے کہ فلاں راستے سےواپس آکر اپنے بچے کو لے لینا ابھی آپ جاؤ اور کنکریاں مارو جاکر۔ اب ہم ان کے کیے ہوئے انتظامی امور پر دھیان ہی نہ دیں اور پھر برا بھلا بھی انہی لوگوں کو کہیں تو ہم سے بڑا عقلند اور کون ہوسکتا ہے؟ حالانکہ یہ سب انتظامات حجاج بیت اللہ کی بھلائی کے لیے ہی کیے جاتے ہیں۔

تو میں عرض کر رہا تھا واپسی کے بارے میں، عربی بولنے والوں کو تو ان کی سمجھ آجاتی اور ہمارے ہند و پاک سے حج کے لیے آنے والےلوگوں کوسمجھ ہی نہ آتی کہ یہ کیا کہہ رہے ہیں کیونکہ وہ عربی میں کہتے، تو میں بھی سلام و دعا کے بعد ان کے ساتھ کھڑا ہوگیا اوران کے سامنے اپنی خدمات کوپیش کرنے کا کہا جو کہ انہوں نے بخوشی قبول کرلیں۔ اب اردو، پنجابی اورہندی بولنے والوں کو میں نے بتانا شروع کیا کہ آپ دوسرے راستے سے واپس جائیں یہ جمرات کو کنکریاں مارنے کے لیے جانے والوں کا راستہ ہے، اسی دوران مختلف مزاج کے لوگوں سے واسطہ پڑتا رہا اور پھر ایک صاحب نے تو حد کردی اور وہ یہ بھی بھول گئے کہ کس مقصد کے لیے آئے ہیں؟ اور کس غلطی پر بحث کر رہے ہیں، ہمارے درمیان جو گفتگو ہوئی، وہ پیش خدمت ہے:

ابو حسن: بھائی صاحب رکیں وہ اس طرف سےجائیں

لیکن وہ سنی ان سنی کرتے ہوئے پلاسٹک کے بلاک کو دھکیل رہے تھے

ابو حسن: بھائی صاحب اپنے دائیں طرف دیکھیں وہ سامنے، وہاں سے نکل کر واپسی کا راستہ اختیار کریں کیونکہ یہ راستہ جمرات کی طرف جانے والوں کے لیے ہے

حاجی صاحب: یہاں سے واپس جاؤں گا تو کیا غلط ہو جائے گا؟

ابو حسن: بھائی صاحب آپ سے گزارش ہے کہ دوسرے راستہ کو اختیار کریں اور غلط یہ ہوجائے گا کہ ایک ہی راستے سے جب آمنے سامنے سے لوگ آئیں گے تو رش بڑھے گا اور اس کی وجہ سے دونوں ا طراف کے لوگوں کو دقت پیش آئے گی چلنے میں

حاجی صاحب: یار میرے اکیلے کے جانے سے رش تھوڑی ہوجائے گا؟ مجھے یہیں سے جانے دو

ابو حسن: بھائی صاحب یہی تو میں آپ کو سمجھانے کی کوشش کرہا ہوں جوکہ آپ سمجھ نہیں رہے یہ معاملہ سب کے لیے ہے اور کسی کے لیے رعایت نہیں، اس میں سبھی کے لیے بھلائی ہے

حاجی صاحب: یار آپ پتہ نہیں کیوں چھوٹی سی بات کو بڑھا رہے ہو؟

ابو حسن: بھائی صاحب بات کو میں نہیں بلکہ آپ بڑھا رہے ہیں اور جتنا وقت آپ بحث میں ضائع کررہے ہیں اتنی دیر میں آپ آدھا راستہ بھی طے کرچکے ہوتے

حاجی صاحب: یار ان کو ( عسکریوں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے) اتنی پریشانی نہیں جتنی تمہیں تکلیف ہو رہی ہے اور اپنا پاکستانی ہوتے ہوئے بھی تم اپنے لوگوں کا خیال نہیں کر رہے، سیانے صحیح کہتے ہیں کہ "اپنے ہی اپنوں کی جڑیں کاٹتے ہیں۔"

ابو حسن: بھائی صاحب آپ حج کرنے آئے ہیں یا لوگو ں سے جھگڑا کرنے آئے ہیں؟ (جب ان صاحب نے عسکریوں کی طرف ہاتھ اشارہ کیا تھا تو ایک عسکری ہماری طرف آگیا )

عسکری: عربی میں بولا، خیر إن شاءاللہ، کیا ہوا؟ یہ کوئی جاننے والا ہے؟

ابو حسن: نہیں

عسکری: میں کافی دیر سے دیکھ رہا ہوں یہ تمہارے ساتھ باتیں کر رہا ہے اور میں یہی سمجھا شاید یہ تمہارا کوئی جاننے والا ہے یہ کیا پوچھ رہا ہے؟ راستہ بھول گیا ہے اپنے خیمہ کا؟

ابو حسن: ایسا کچھ نہیں ہے یہ اسی راستے پر سے جانے کے لیے مجھ سے بحث اور ضد کر رہے ہیں اور میں ان کو سمجھا رہا ہوں پر یہ پھر بھی بضد ہیں

پھر کیا تھا اس عسکری نے آناً فاناً ان صاحب کا بازو پکڑا اور کھینچتے ہوئے دروازے کے پاس لے گیا اور وہاں پہنچ کرغصہ سے بولا جاؤ یہ راستہ ہے واپس جانے کا، اور مجھے آکر کہنے لگا پہلے بتانا تھا یہ تمہارا دماغ کھا رہا ہے میں کب کا اس کو راستہ دکھا چکا ہوتا، اب میں اس کو کیا بتاتا کہ ہمارے کچھ لوگوں کا حال اس مثال جیسا ہے "لاتوں کے بھوت باتوں سے نہیں مانتے " کب سے عزت و احترام سے کہہ رہا تھا پر نہیں اب اس سے آگے کیا کہوں

ہم حج کا طریقہ اوراس میں کن کن ناجائز امور سے بچنا ہے کون کون سے امور کا اہتمام کرنا ہے اور اس دوران ہر قسم کے لڑائی جھگڑے سے بچنا ہے، اخلاق سے پیش آنا ہے اور بداخلاقی سے بچنا ہے یہ سب سیکھے بغیر اور سید الاولین و الآخرین ﷺ کی سنت کو جانے بغیر اور علماء سے اس عبادت کے بارے علم جانے بغیر نکل پڑتے ہیں اوراسی وجہ سے حج کے بعد بجائے ہماری زندگیوں میں کچھ تبدیلی رونما ہو، ہم اسی ڈگر پھر سے چل رہے ہوتے ہیں جو حج کرنے سے پہلے ہم زندگی گزار رہے تھے( الا ماشاء اللہ)

اس میں سب سے اہم یہ ہے کہ ہم بذات خود آپ ﷺ کی سیرت کا مطالعہ کریں اور جانیں کے وہ ہستی کیسی تھی کہ جو خود لکھنا پڑھنا بھی نہیں جانتے تھے لیکن انہوں نے اللہ کے حکم سے اس دنیا کے جن و انس کو گمراہی کے اندھیروں سے نکال کر توحید اور کلام اللہ کی روشنی دکھائی جو مخلوق کو اس کے حقیقی مالک سے تعلق کا ذریعہ اور اس دنیا سے جنت الفردوس کے راستہ کی دشواریوں کو آسانی میں بدلتی ہے، اللہ اکبر

آپ ﷺ سے محبت کی علامت یہ بھی ہے کہ آپ ﷺ کی سیرت کا مطالعہ کریں، آپ ﷺ کے بارے میں مزید معلومات حاصل کریں، کیونکہ یہ بھی محبت کا تقاضا ہے کہ آپ ﷺ کی سیرت، سوانح، اوصاف اور اخلاقیات کے متعلق معرفت حاصل کریں، جس کے بارے میں آپ بالکل نہیں جانتے اس کی محبت دل میں پیدا ہی نہیں ہو سکتی، نہ اس کا آپ کبھی دفاع کریں گے، اسی طرح آپ ﷺ کی سنت کا دفاع بھی انہیں جانے اور سمجھے بغیر ممکن نہیں ہے، حتیٰ کہ جانوروں اور جمادات کو بھی آپ ﷺ کی معرفت حاصل ہوئی تو آپ ﷺ سے محبت کی مثالیں قائم کر دیں، چنانچہ آپ ﷺ کی محبت میں کھجور کا تنا رو پڑا، آپ ﷺ کو پتھروں نے بھی سلام کیا، رسول اللہ ﷺ سے اپنی محبت اور احترام کے اظہار کے لیے جبل احد بھی حرکت میں آیا، اونٹنیاں ایک دوسرے سے بڑھ کر آپ ﷺ کے آگے آتیں کہ آپ ﷺ انہیں ذبح کر دیں، اسی طرح آپ ﷺ نے چاند کو اشارہ کیا تو دو لخت ہو گیا، بادلوں کو اشارہ کیا تو سب منتشر ہو گئے یہ سب کچھ اللہ تعالی کے حکم سے ہوتا تھا۔

یا اللہ! آپ ﷺ کو ہماری آنکھوں کی ٹھنڈک بنا دے اور آپ ﷺ کی محبت ہمارے سودائے قلب میں بسا دے، آپ ﷺ سے محبت ہمارے دلوں میں ہماری جانوں اور اہل و عیال سے بھی زیادہ اہم بنا دے، اور ہمیں آپ ﷺ کی محبت کے تقاضوں کو پورا کرنے کی توفیق عطا فرما، یا رب العالمین

اللہ تعالى سے دعا ہے كہ وہ مسلمانوں كى حالت درست كردے اور ہم سب كو صحیح راہ كى توفیق نصیب فرمائے، یقینا اللہ تعالى سننے والا اور قبول كرنے والا اور قریب ہے، اللہ تعالی ہمیں اس دین پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے کہ جس دین کو لیکر سیدالاولین و الاخرین ﷺ آئے اور جس پر صحابہ کرام رضوان اللہ اجمعین نے عمل کرتے ہوئے اپنی زندگیوں کو گزارا اور جنت کی بشارتیں پاتے ہوئے اس دنیا سے رخصت ہوئے اللہ تعالی ہمیں بھی ان کے نقشے قدم پر چلنے کی توفیق عطا فرمائے اور اللہ تعالى ہمارے نبى محمد صلى اللہ علیہ وسلم اور ان كى آل اور ان كے صحابہ كرام پر اپنى رحمتیں نازل فرمائے، یا رب العالمین!

Comments

ابو حسن

ابو حسن

میاں سعید، کنیت ابو حسن، 11 سال سعودی عرب میں قیام کے بعد اب 2012ء سے کینیڈا میں مقیم ہیں الیکٹرک کے شعبے سے وابستہ ہیں۔ دین کے طالب علم اور اسلامی کتب و تاریخ سے گہرا لگاؤ رکھتے ہیں۔ دعوت الی اللہ اور ختم نبوت کو اپنا مقصد سمجھتے ہیں۔

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.