تصوف کیا ہے؟ - مدثر ریاض اعوان

دین اسلام ایک مکمل ضابطہ حیات ہے۔ زندگی کا کوئی پہلو ایسا نہیں جس کے بارے میں دین اسلام ہماری رہنمائی نہ کرتا ہو، چاہے وہ پہلو سماجی ہو، سیاسی ہو، معاشرتی ہو یا روحانی۔ دین اسلام نے ہر ایک پہلو کے بارے میں رہنمائی فرما کر اپنی تکمیل کا ثبوت دیا ہے۔ یہاں پر میں اسلام کے روحانی پہلو یعنی تصوف یا احسان کے حوالے سے چند گزارشات پیش کروں گا۔

جنید بغدادی رحمہ اللہ نے تصوف کی تعریف یوں کی ہے "تصوف اعلیٰ اخلاق کا نام ہے اور جو اپنے کردار کو بہتر بنانے کی کوشش کرے، وہ صوفی ہے۔"

کردار کو بہتر بنانے کے اس سفر میں جو شخص بھی آپ کی مدد و رہنمائی کرے وہ آپ کا روحانی استاد ہے۔ سنت رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے داخلی پہلو کو اپنے اوپر عملی صورت میں نافذ کرکے اپنے کردار کو بہتر بنانا ہی تصوف یا احسان ہے۔ اس نفاذ سے انسان اس قابل بن جاتا ہے کہ نفس کی پیچیدگیوں کو سمجھ سکے اور ان تمام نفسی حجابات کو دور کر سکے جو اسے خدا کی معرفت و محبت سے مانع رکھے ہوئے ہیں۔

تصوف علم و عمل، حکمت اور مستقل مزاجی سے کیا جانے والا وہ سفر ہے جس میں انسان خود شناسی کے ارتقائی مراحل سے گزر کر خدا شناسی تک اپنی رسائی ممکن بناتا ہے۔ انسان جسم و روح کا مرکب ہےاور نفس انسانی جبلتوں کے مجموعے کا نام ہے۔ انسانی جبلتیں بقائے انسانی کے لیے ضروری ہیں مگر انہیں جبلتوں کا حد سے تجاوز گناہ اور فساد کو جنم دیتا ہے۔ قرآن حکیم نے گناہ کو اسی لیے "اسراف"سے تعبیر کیا ہے۔ (سورہ الزمر، آیت53)۔

کوئی بھی گناہ یا فساد خارجی دنیا میں عمل کے ذریعے وجود میں آنے سے پہلےانسان کی داخلی دنیا میں وجود پاتا ہے اگر اس کے وجود کو وہیں ختم کردیا جائے تو گناہ اور فساد سے بچاؤ ممکن ہے۔ اس کے علاوہ کسی انسان کے اندر پیدا ہونے والی ہیجانی کیفیات اس کے عمل اور قوت فیصلہ کو بری طرح سے متاثر کرتی ہیں مثلاً شریعت میں غصے کی حالت میں قاضی کو فیصلہ دینے سے منع کیا گیا ہے۔ اسی طرح ایک مفتی کو نفسی ہیجان میں فتوے کی اجازت نہیں۔ داخلی اعتدال شخصیت کے نکھار کے لیے جزو لازم ہے۔

دور حاضر کا بڑا المیہ یہ ہےکہ حسد، بغص، کینہ، دشمنی، تشویش کے عفریت جو کہ محاسبہ نفس سے دور ہوتے ہیں ہم نے محاسبہ نفس کو پس پشت ڈال دیا ہے۔ اگر زیادہ تر موجودہ مسائل کا تجزیہ کیا جائے تو ان کی وجوہات میں انا اور ہوائے نفس کا کردار سب سے زیادہ ہے۔ اگر ان نفسی برائیوں کا بروقت سدباب نہ کیا جائے تو وہ تمام لوگ جو دین اسلام کو ماننے والے ہیں جن کے کردار کی وجہ سے دین کی عملی شکل معاشرے میں تشکیل پاتی ہے اور جن کی وجہ سے محبت اور امن کا پیغام جانا چاہیے وہی لوگ شرمساری کا باعث بنتے ہیں۔ سنت رسول صلی اللہ علیہ وسلم دین کا عملی پہلو ہے اگر ہم اسی سنت کے داخلی پہلو کو قطع نظر کرکے حسد، بغض اور باقی اخلاقی برائیوں کا اظہار کریں گے تو یقیناً یہ بھی گستاخی سے کم نہیں۔

ٹیگز

Comments

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

  • تصوف ایک افیون ہے جو صدیوں پہلے بڑی خوبصورتی سے امت کو چٹا دی گئی۔۔۔ تمدن تصوف شریعت کلام،بتان عجم کے پجاری تمام،،حقیقت خرافات میں کھو گئی،،یہ امت روایات میں کھو گئی۔۔ اقبال۔۔

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com
/* ]]> */