اشرافیہ کون ہے؟ - امجد طفیل بھٹی

آج کل ہمارے سیاستدانوں کا یہ وتیرہ بن چکا ہے کہ ہر تقریر میں ایک لفظ “ اشرافیہ “ استعمال کرتے ہوئے اپنے ارد گرد دیکھتے ہیں اور عوام کو یہ باور کرانے کی کوشش کرتے ہیں کہ وہ خود تو عام اور غریب عوام کی طرح ہیں، اشرافیہ تو وہ ہے جو ملک کو لُوٹ کر کھا گئے ہیں۔ جبکہ حقیقی اشرافیہ تو خود ہمارے ملک کے سیاستدان اور اُنکے کارندے ہیں جو کہ اپنے آقاؤں کو خوش کرنے اور اپنا اُلو سیدھا کرنے کے لیے ہر حد تک جانے کو تیار ہیں، چاہے وہ ملکی سلامتی کے اداروں پر تنقید ہو یا پھر عدالتی شخصیات کو دھمکیاں ہوں۔ اصل اشرافیہ تک پہنچنے کے لیے ہمارے ملک کے سیاستدانوں اور اُن کی چہیتی بیوروکریسی کو اپنے اپنے گریبان میں جھانکنے کی ضرورت ہے، اگر وہ اپنے گریبان میں جھانک کر دیکھیں گے تو اُنہیں اصل اشرافیہ کے چہرے نظر آنا شروع ہوجائیں گے مگر ایسا وہ نہیں کر سکتے کیونکہ انہوں نے تو ابھی قومی خزانے کو اور لوٹنا ہے، قومی اداروں کو اور نوچنا ہے۔ اشرافیہ خود ہی روز لائیو ٹی وی شوز میں بیٹھ کر اشرافیہ کو تنقید کا نشانہ بناتی ہے۔ بلکہ کچھ ٹی وی اینکرز اور صحافی بھی اشرافیہ کے زمرے میں آتے ہیں جو کہ مہینے میں کروڑوں روپے کماتے ہیں مگر اشرافیہ کو تلاش کرنے میں مصروف ہیں جو کہ عام عوام کی آنکھوں میں دھول جھونکنے کے مترادف ہے۔

ہمارے کچھ سیاستدان تو تقریر کرتے کرتے وطن کی محبت میں اس قدر جذباتی ہو جاتے ہیں کہ ان کی آنکھوں سے آنسو ٹپکنا شروع ہوجاتے ہیں کیونکہ تقریر میں بابائے قوم قائداعظم کا ذکر اور آزاد وطن کی خاطر قربانیاں دینے والوں کا واسطہ دے دے کر عوام کو مخاطب کیا جاتا ہے، اس عمل سے نہ صرف عوام متاثر ہوتے ہیں بلکہ عوام ان جھوٹے سیاستدانوں کو بھی سچا محب وطن تصور کرنے لگتے ہیں۔ اور یُوں ہمارے سادہ لوح اور کم تعلیم یافتہ عوام اشرافیہ کے ہاتھوں بار بار لُٹتے ہیں مگر اشرافیہ کو ہی پہچان نہیں پاتے، بلکہ یوں کہیں کہ اشرافیہ ہر بار چکمہ دینے میں کامیاب ہو جاتی ہے۔ یہ سلسلہ پچھلے ستر سال سے چل رہا ہے، پاکستان پہ مجموعی بیرونی قرضہ سو ارب ڈالر کے قریب پہنچ چکا ہے مگر عوام اور ملک کی حالت جوُں کی تُوں ہے بلکہ وہ غریب عوام جو پہلے دو وقت کا کھانا باآسانی کھا لیتے تھے اب ایک وقت کا کھانا بھی کھانے کے قابل نہیں رہے اور جو پہلے امیر تھے اب امیر ترین بن چکے ہیں۔

آئیں اب ذرا “ اشرافیہ “ کی چند ایک نمایاں خصوصیات پر ایک نظر ڈالتے ہیں، اشرافیہ کا بیشتر کاروبار، جائیدادیں اور بچے بیرون ملک موجود ہوگا، اشرافیہ کو اس بات کی فکر نہیں ہوگی کہ ملک کس سمت جارہا ہے، اشرافیہ مہنگائی اور لوڈشیڈنگ جیسے مسائل سے ناواقف ہوں گے، وہ ہر وقت کسی نہ کسی عوامی عہدے پر رہنا پسند کرتے ہوں گے، وہ برائے نام رفاہی اداروں کو چلانے کی ذمہ داریاں بھی بتائیں گے، پروٹوکول کے بغیر چلنا وہ اپنی توہین سمجھتے ہوں گے، بجلی چوری، ٹیکس چوری، منی لانڈرنگ، بھتہ، سپاری دے کر اپنے مخالفین کو رستے سے ہٹانا، سرکاری زمینوں پر قبضہ، بڑی بڑی ہاؤسنگ سوسائٹیوں میں شیئرز، بڑے بڑے پلازوں کی ملکیت، میڈیا ہاؤسسز، اخبارات، اور بڑے بڑے تعلیمی اداروں کے نیٹ ورک کی ملکیت، مختلف شہروں کے ارد گرد ایکڑوں پر محیط عالیشان فارم ہاؤسسز، نوکروں چاکروں اور سکیورٹی گارڈز کی فوجیں، درجنوں لگژری اور امپورٹڈ گاڑیاں، یہ سب بھی ہمارے ملک کی اشرافیہ کی مختلف علامات ہیں۔ اگر غور سے اوپر گنوائی گئی چیزوں کو دیکھا جائے تو پاکستان کے غریب کا یا پھر مڈل کلاس طبقے کا ان سے دور دور تک بھی کوئی واسطہ یا تعلق نہیں ہے، کیونکہ غریب طبقہ یا پھر مڈل کلاس طبقہ کے مسائل اس قدر گھمبیر اور مشکل ہیں کہ ان پر “ اشرافیہ “ کی نظر تک نہیں پڑتی حل کرنا تو دُور کی بات ہے، پاکستان کے عام عوام جو کہ 70 سے 80 فیصد ہیں کے مسائل میں دو وقت کا کھانا، بچوں کی تعلیم، ہسپتالوں اور ادویات کے اخراجات، گھر والوں کے کپڑے، بے روزگاری، مہنگی بجلی، صاف پانی کی عدم فراہمی اور روز مرہ کی ضروریات زندگی کو پورا کرنا شامل ہیں۔ یہ تمام مسائل ہمارے ملک کی اشرافیہ کے قریب نہیں بھٹک سکتے۔ ہم عوام کے لیے یہ پہچاننا بہت آسان ہے کہ دراصل یہ اشرافیہ ہے کون؟

ہمارے عوام اپنے جن لیڈروں کے جلسوں میں ایک وقت کے کھانے یا بریانی کی ایک پلیٹ (وہ بھی دھکے کھا کر نصیب ہو پاتی ہے) کی خاطر سارا سارا دن دھوپ، گرمی، دُھول اور بھوک پیاس برداشت کرتے ہیں وہی لیڈر ہیلی کاپٹر کے ذریعے جلسہ گاہ میں مقررہ وقت سے گھنٹوں بعد پہنچتا ہیں۔ اور چند منٹ اسٹیج پر گزرانے اور خود کو عوامی لیڈر، محب وطن رہنما اور غریب پرور ثابت کرنے کی کوشش میں مصروف رہنے کے بعد ہیلی کاپٹر کے ذریعے کسی پُرفضا مقام کی جانب پرواز کر جاتا ہے اور عوام کو اُسکی پرانی حالت میں چھوڑ کر آنے والے الیکشن میں کامیابی حاصل کرنے کے لیے پلاننگ شروع کر دیتا ہے۔

جس تھانے کچہری میں غریب کی داد رسی اور شنوائی نہیں ہوتی اس تھانے کا ایس ایچ او تک اسی اشرافیہ کی آشیر باد سے تھانے کا نہ صرف چارج سنبھالتا ہے بلکہ بڑے صاحب، ملک صاحب، چوہدری صاحب، رانا صاحب، شاہ صاحب، نواب صاحب، پیر صاحب یا پھر سردار صاحب کے در پر صبح، دوپہر، شام حاضری کے لیے تیار بیٹھا ہوتا ہے، جس پولیس کے پاس مجرموں کو پکڑنے کے لیے موبائل وین کے لیے ڈیزل نہیں ہوتا وہ اشرافیہ کی خدمت کے لیے بمعہ اسٹاف ہر وقت تیار حالت میں موجود ہوتی ہے، جہاں غریب عوام چھوٹے جرائم کی وجہ سے اپنی ساری زندگی جیل میں ضائع کر دیتی ہے تو وہیں پہ ہماری اشرافیہ کے بگڑے بچے قتل جیسے بڑے جرائم کے بعد بھی باآسانی بیرون ملک فرار ہوجاتے ہیں کیونکہ ہمارے ملک کے ادارے اور سارا نظام ہی اسی اشرافیہ کے تابع ہے، وہ جب چاہے، جہاں چاہے اور جیسے چاہے اس ملک کے قانون کو استعمال کر سکتی ہے۔ جس دن ہمارے ملک کے عوام نے اشرافیہ کی حقیقت کو جان لیا اس کے بعد اشرافیہ کو اس ملک میں شاید رہنے کو جگہ بھی نہ ملے، اس لیے اشرافیہ کو خدا خوفی کرنے اور اپنے ملک کے غریب کے بارے میں سوچنے کی ضرورت ہے تاکہ سب کو برابری کی سطح پر سہولیات اور حقوق مل سکیں۔

Comments

Avatar

امجد طفیل بھٹی

امجد طفیل بھٹی پیشے کے لحاظ سے انجینئر ہیں اور نیشنل انجینیئرنگ سروسز (نیس پاک) میں سینئر انجینیئر کے طور پر کام کر رہے ہیں۔ آپ مختلف اردو روزناموں اور ویب سائٹس کے لیے سماجی و سیاسی موضوعات پر لکھتے رہتے ہیں۔

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.