الیکٹیبلز کی شمولیت اور پی ٹی آئی کا ویژن - ثمینہ رشید

بیس سال قبل سیاست کا آغاز کرنے والی جماعت ”پاکستان تحریک انصاف“ نے پچھلی دو دہائیوں میں بہت سے اتار چڑھاؤ دیکھے ہیں۔ پاکستان میں کسی بھی سیاسی جماعت کو اسکے آغاز کے بعد سے شاید ہی اتنی مخالفت یا مزاحمت کا سامنہ رہا ہو جتنا کہ تحریک انصاف کو بحثیت ایک سیاسی جماعت اور عمران خان کو بطور پارٹی سربراہ کی حیثیت سے کرنا پڑا۔ ملک میں موجود دونوں بڑی سیاسی جماعتوں کے علاوہ مذہبی جماعتیں کی اکثریت سمیت قوم پرستوں جماعتیں بھی، تحریک انصاف کی مخالفت میں ہمیشہ ایک ہی پلیٹ فارم پر نظر آتی ہیں ۔

آخر کیا وجہ ہے کہ ایک جماعت کو اس قدر مخالفت کا سامنہ کرنا پڑا ؟ وجہ بہت واضح ہے پاکستان تحریک انصاف کو اپنے آغاز سے ہی اپنے ویژن کے لحاظ سے انفرادیت حاصل ہے۔ عمران خان کا ویژن غریب اور امیر کے لئے یکساں نظام کا قیام ہے۔ وہ پارٹی جو صحت، تعلیم ، قانون اور انصاف کے لیے غریب اور امیر کی تخصیص کی قطعی حامی نہیں۔ وہ پارٹی جو "جسٹس فار آل" یا "انصاف سب کے لئے" کی قائل ہے۔ جو 'اسٹیٹس کو' کے خلاف آواز اٹھانے کو اپنا اولین مشن گردانتی ہے۔ وہ پارٹی جس کا ویژن صرف روشن پاکستان ہے "دو نہیں ایک پاکستان ہے"۔

اگر پارٹی کا یہ ویژن باقی روایتی جماعتوں کی طرح صرف کاغذی ہوتا تو پاکستان تحریک انصاف آج سے کئی سال پہلے اس ملک کے اقتدار کی دوڑ میں شامل ہوچکی ہوتی ۔ اگر روایتی جماعتوں کی طرح اس کا اولین مقصد صرف اقتدار ہوتا تو یہ وژن کب کا اپنی موت آپ مرگیا ہوتا لیکن ایسا نہیں ہوا۔ کیونکہ روایتی جماعتوں کی طرح تحریک انصاف نے کبھی اپنے ویژن پہ سمجھوتہ نہیں کیا۔

سب سے پہلے پچھلے بیس سال کی پار ٹی کی جدوجہد پر نظر ڈالیں اور عمران خان کے اپنے ویژن پر کسی طور سمجھوتہ نہ کرنے کے بے داغ ماضی کو سامنے رکھیں ۔ اسکے بعد عملی مثال لیں خیبر پختونخواہ کی۔ سوال یہ اٹھتا ہے کہ باوجود اس کے کہ یہ تحریک انصاف کی جماعت اسلامی کے کچھ ارکان کو ساتھ لے کر بنائی گئی ایک مخلوط حکومت تھی، کیا کبھی عمران خان نے اپنے کسی بھی بنیادی ویژن پر سمجھوتہ کیا؟ کیا خیبر پختونخواہ کے سارے ایم پی ایز کسی اور دنیا سے تعلق رکھتے تھے؟ کیا ان میں الیکٹیبلز شامل نہیں تھے؟
تو اس کا جواب بہت سادہ ہے کہ یقینا ان میں بہت سے روایتی سیاستدان تھے جو پی ٹی آئی کے پلیٹ فارم سے سامنے آئے لیکن اس کے بعد انہوں نے پارٹی ویژن کو ہی آگے بڑھایا ۔ اور اگر کسی نے پارٹی ویژن سے اختلاف کرکے روایتی ہتھکنڈے اپنانے کی کوشش کی یا پارٹی ویژن سے اختلاف کیا اس کے لئے پارٹی میں یا عمران خان کی جانب سے کبھی کسی قسم کی نرمی کا مظاہرہ نہیں کیا گیا ۔ ان پانچ سالوں کے درمیان خصوصا پارٹی میں تطہیر اور احتساب کا سلسلہ جاری رہا جس سے ہر قسم کے روایتی عناصر کو علیحدہ کرنے کا عمل پارٹی ویژن پر اثر انداز نہ ہوسکا ۔ اس دوران کچھ ایسے لوگ بھی پارٹی میں شامل ہوئے جن کے حوالے سے سپورٹرز کو اختلافات اور تحفظات بھی تھے لیکن عمران خان نے ہر موقع پر نہ صرف اس حوالے سے تنقید کو کھلے دل سے سنا بلکہ اپنے پارٹی سپورٹرز کو مطمئین کرنے کی بھی پوری کوشش کی۔

یہ بھی پڑھیں:   فارن فنڈنگ کیس، کیا عمران خان نا اہل ہو سکتے ہیں؟ آصف محمود

پندرہ سال کی جدوجہد کے بعد خیبر پختونخواہ میں حکومت بنانے والی پی ٹی آئی کا پہلا دورِ حکومت گواہ ہے کہ تبدیلی کا نعرہ محض نعرہ نہیں تھا۔ یہ پانچ سال خیبر پختونخوا کے لوگوں کے لئے بہت سی آسانیاں لے کر آیا ہے، ایسا نظام جہاں عام انسان کے لئے سہولت ہے آسانی ہے اور تحفظ ہے۔ جہاں قانون سب کے لئے برابر اور سیاسی مداخلت سے پاک ہے ۔ جہاں تعلیم اور صحت کے شعبے میں ترقی سے صرفِ نظر کرنا ممکن نہیں۔ مخالف خصوصا حکمران جماعت کے پروپیگنڈے کے باوجود ایک نئی جماعت نے خیبر پختونخواہ میں جس طرح کی پرفارمنس دی ہے وہ دوسرے صوبوں کے لئے ایک مثال ہے۔

پچھلے الیکشنز کے نتیجے میں قومی اسمبلی میں بھی عددی لحاظ سے نہ سہی ووٹوں کے لحاظ سے پی ٹی آئی دوسرے نمبر کی جماعت تھی اور دو ہزار تیرہ کے بعد اگر ملک میں کسی نے حقیقی اور مضبوط اپوزیشن کا کردار ادا کیا تو وہ صرف پاکستان تحریک انصاف ہی تھی۔

دو ہزار اٹھارہ الیکشنز کا سال ہے پی ٹی آئی اپنے ویژن کے ساتھ میدان میں ہے ۔ اور اس وقت نہ صرف ایک فیورٹ اور مضبوط جماعت بن کر سامنے آئی ہے بلکہ تمام ملک کی سیاست کا مرکز بن چکی ہے۔ پی ایم ایل این کے لیڈرز کی کرپشن زدہ سیاست جیسے جیسے اپنے منطقی انجام کی طرف بڑھ رہی ہے اگلے الیکشن میں پی ٹی آئی کی کامیابی کے امکانات روشن ہوتے جا رہے ہیں۔

پی ٹی آئی کی ویژنری سیاست سے روایتی سیاست کی دیوار میں شگاف پڑچکا ہے اور بہت سے سیاستدان اس ویژن کے سائے تلے آنے میں نہ صرف اپنی سیاست کی بقا سمجھتے ہیں بلکہ اسے کھلے زہن اور کھلے دل سے تسلیم کرنے میں بھی عار محسوس نہیں کرتے۔یہی وجہ ہے کہ الیکشن سے کئی سیاسی رہنماؤں اور الیکٹیبلز نے نہ صرف روایتی سیاسی جماعتوں سے راہ فرار کو بہتر سمجھا ہے۔ اس وقت جب کہ پارٹی ایک مرکزی جماعت کے طور پر ابھر کر سامنے آرہی ہے، سیاسی رہنماؤں کا یا الیکٹیبلز کا اس میں خود سے شامل ہونا دراصل عمران خان کے ویژن کی ہی مقبولیت اور جیت ہے ۔

یہ بھی پڑھیں:   شہباز ٹیم ان، بزدارٹیم آؤٹ - شہزاد سلیم عباسی

اس شمولیت کو لے کر مخالف جماعتوں اور ان کے میڈیا اور سوشل میڈیا ونگز کی جانب سے زور و شور سے ایک نئے بیانئے کو ترتیب دیا جا رہا ہے کہ ان روایتی سیاستدانوں اور الیکٹیبلز کی شمولیت کے بعد پاکستان تحریک انصاف کسی روایتی سیاسی جماعت سے مختلف نہیں رہے گی اور اس صورت میں عمران خان کے لئے اپنے ویژن پہ عمل کرنا ممکن نہیں رہے گا۔ اس بیانئیے یا پروپیگنڈےکا مقصد پارٹی سپورٹرز کے اذہان میں ایک الجھاؤ یا کنفیؤژن پیدا کرنا تھا۔ لیکن عمران خان کے ایک انقلابی قدم نے اس مخالف بیانئے کی بساط الٹ دی ہے۔ اپنے ہی بیس ایم پی ایز کو الیکشن سے صرف چند ماہ پہلے پارٹی سینیٹ کے الیکشن میں پیسے لینے کے شبے میں پارٹی سے نکال دینا ایک اتنا بولڈ اسٹیپ ہے کہ جس کی پاکستان کی ستر سالا تاریخ میں کوئی مثال نہیں ملتی ۔ اس ایک قدم سے پاکستان کی سیاسی تاریخ میں ایک نئے باب کا آغاز ہوچکا ہے ۔ اس اعلان نے پارٹی کو ایک نئی اخلاقی برتری عطا کی ہے ۔ ایک سوچی سمجھے منصوبے کے تحت کیا جانے والا پروپیگنڈہ کہ الیکٹیبلز کے آنے سے عمران خان اپنے ویژن پر عمل نہیں کرسکیں آج دم توڑ چکا ہے۔ آج کے عمل نے ثابت کردیا ہے کہ اچھا لیڈر اپنے ویژن پر کبھی سمجھوتہ نہیں کرتا ۔

“ دو نہیں ایک پاکستان” کے سلوگن کے ساتھ عمران خان کا ویژن ہی کل کے روشن پاکستان اور عام انسان کی فتح کی ضمانت ہے ۔ اس لئے جماعت کا حصہ بننے والا چاہے الیکٹیبلز ہی کیوں نہ ہو وہ اس ویژن کی تکمیل میں حائل نہیں ہوسکتا کیونکہ جز ہمیشہ کُل کا حصہ ہوا کرتا ہے ۔ عمران خان اور پارٹی کی تاریخ گواہ ہے کہ خان صاحب نے اپنے ویژن پر نہ کبھی کوئی سمجھوتہ کیا ہے اور نہ ہی کبھی مستقبل میں ایسا کریں گے ۔

Comments

ثمینہ رشید

ثمینہ رشید

ثمینہ رشید برطانیہ میں مقیم ہیں، قانون اور بزنس مینجمنٹ کی تعلیم و تجربے اور دیار غیر کے تجربات کو نظم و نثر میں ایک سے کمال کے ساتھ منتقل کرتی ہیں۔ ویب سائٹ شاہکار کی چیف ایڈیٹر ہیں۔

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.