ہماری تن آسانی اور فلسفہ اقبال - طلحہ زبیر بن ضیا

مولانا عطاءاللہ شاہ بخاری فرماتے ہیں "اس مرد درویش کا پیغام نہ تو مسلمانوں کو سمجھ آیا اور نہ ہی انگریز اسے سمجھ سکے اگر مسلمان سمجھ لیتے تو وہ انگریزوں کے غلام نہ ہوتے اور اگر انگریز سمجھ جاتے تو انہوں نے کب کا اقبال کوپھانسی چڑھا دیا ہوتا۔"

انگریز کا تو اقبال سے واسطہ کچھ خاص نہیں تھا لیکن ہم نے بھی ان کو سمجھنے کی زحمت نہ کی۔ علامہ سیاستدان بھی تھے مصنف بھی تھے اور شاعر بھی۔ شاعری کی اصل پہچان تھی اور سیاست میں نظریہ پاکستان ان ہی کی مرہون منت تھا۔ ان کی شاعری جب بھی ہم پڑھنے بیٹھے ایک وجدان کی کیفیت میں چلے گئے کہیں کھو کر اس مرد درویش کی آنکھ سے دیکھنا چاہا لیکن بصارت کی کمی ہمیں شاید اس مقام تک نہیں لے جا سکتی تھی جس کا اقبال کی ہر نظم ہر لفظ میں ذکر تھا۔

فلسفہ خودی ہو یا شاہین کی پرواز جنوں، مکتب کی کرامات کا ذکر ہو یا ملّا و مجاہد کی اذان کی کیفیت ہمیں اقبال سے بہتر دور جدید میں کوئی غم خوار نہ مل سکا۔ اقبال کی بصارت نے جن باتوں کا ذکر کیا وہ زندگی کے کسی نہ کسی موڑ پر ہمیں کہیں نہ کہیں ضرور ملتی ہیں۔

مرد درویش علامہ اقبال کو پڑھ کر ہم نے سفر کیا تو ہمیں میدانی علاقوں میں تن آسانی کی بہترین مثالیں ملیں جبکہ مرد کوہستانی ہو یا مرد صحرائی۔ ہم نے ان کو محنتی اور خودار دیکھا۔ ہم نے مکتب کے افکار کا مطالعہ کیا تو ہمیں کرگس کا جہاں سامنے اور شاہیں کا جہاں اس سے کہیں دور پایا ۔ ملا اور مجاہد کی اذان سنی تو ہمیں نظریات و مقالات میں تضاد نظر آیا۔

اہل علم کی اقبال شناسائی نےاقبال کے تمام موضوعات پر علم کا سمندر ہمارے لیے موجزن کر دیا مگر شاید ہم ہی اس سے استفادہ نہ کر پائے کیونکہ ہم تن آسانی کا شکار ہو کر خوداری، مکتب اور علم و عمل کے تمام نظریات کو بھلا بیٹھے ہیں اقبال اسی تن آسانی پر فرماتے ہیں

اسی سلسلہ میں ایک ڈاکٹر صاحب سے بات ہوئی، کہنے لگے کہ وہ پشاور اور پنجاب میں اپنی خدمات انجام دے چکے ہیں میدانی علاقہ جات میں جہاں خوداری کی کمی ہے بلکہ بیماریاں تن آسانی کے سبب بہت زیادہ ہیں۔ تن آسانی کو ہم نے اس لیے منتخب کیا کہ اس موضوع پر اہل علم نے لکھا تو سہی مگر پزیرائی نہ پاسکے۔ یہ موضوع بھی اقبال کے تمام موضوعات کی طرح اہمیت کا حامل ہے اور یہ نسبت ہمارے تعلیمی نطام سے بھی جڑتی ہے۔

ہم اکثر محفلوں میں یہ سنتے تھے کہ ہمارے نوجوان غلط راستے پر چلے جا رہے ہیں ان کو روکنا مشکل ہوتا جا رہا ہے! کیوں؟ کیونکہ ہمارے نوجوان اپنا مقصد حیات کھو چکے ہیں اور اپنی خودی کو نہیں جانتے وہ نہیں جانتے کہ خدا تعالیٰ نے ان کو اپنا نائب منتخب کرکے دنیائے فانی میں بھیجا ہے اور ایک وقت کے بعد ان سے پوچھا جائے گا کہ تم میرے نائب تھے تو تم نے اس دنیا میں میرے نائب کی حیثیت سے کیا کام کیا؟ ہمارے نوجوان اس کو کیوں نہیں جانتے؟ کیونکہ ہمارا تعلیمی نطام اس کی اجازت نہیں دیتا کیونکہ اقبال نے فرما دیا تھا

اقبال! یہاں نام نہ لے علمِ خودی کا

موزوں نہیں مکتب کے لیے ایسے مقالات

بہتر ہے کہ بیچارے ممولوں کی نظر سے

پوشیدہ رہیں باز کے احوال و مقامات

ہمارے مکتب ہی نہیں ہمارے اساتذہ بھی یہ بھول چکے ہیں کہ ہم نے ایک نسل تیار کرنا ہے ہم نے رٹّا سسٹم کو پروموٹ نہیں کرنا بلکہ تعلیم کامقصد اچھے انسان پیدا کرنا ہے اور وہ اچھے انسان اس وقت پیدا ہوں گے جب ہم اس شعر کو عملی طور پر اپنی زندگی میں لازم کر لیں گے

جب ہم اپنے رزق کو پاک کر لیں گے تو ہمارے ملّا اور مجاہد کی اذان کا تضاد بھی ختم ہو جائے گا، تن آسانی کی عادات ختم ہو جائیں گی اور یہ ممکنات میں اس وقت شامل ہوگا جب ہم اپنے تعلیمی نظام کو حقائق کے مطابق کر لیں گے۔

اس وقت دنیا کا کوئی بھی ادارہ تعلیم کے اصولوں کو صحیح طرح روشناس کروانے میں ناکام نظر آتا ہے۔ ہارورڈ کے اک پروفیسر کا ایک مشہور آرٹیکل تھا جس میں انہوں نے کہا کہ ہم نے ایسے لوگ پیدا کر دیے جنہوں نے چند ملین ڈالرز کے لیے دنیا میں جنگیں کروا دی کیونکہ ان کو پڑھایا گیا تھا کہ دوسرے کے مقابلے میں اس کو مارنا بھی پڑے تو اپنا مفاد دیکھا کرو۔ اقبال اس نے یہاں سرمایہ دارانہ نظام کا ذکر کیا ہے

تمہاری تہذیب اپنے خنجر سے آپ ہی خودکشی کرے گی

جو شاخ نازک پہ آشیانہ بنے گا ناپائیدار ہوگا

اقبال نے اسی سرمایہ دارانہ نظام پر علم اقتصاد کے نام سے ایک کتاب لکھی جس پر انگریز نے پابندی لگا دی اس کتاب میں اقتصاد کی تمام شاخوں پر تفصیل سے بحث کی گئی تھی یہ کتب اس وقت مارکیٹ میں میسر ہے۔

علامہ اقبال کا یوم وفات اکثر خاموشی سے گزر جاتا ہے اکثریت ان کی تاریخ وفات سے ناآشنا ہے اور ہم ان کو قومی شاعر کا درجہ تو دیتے ہیں مگر ان کے کلام اور دوراندیشی کو زندگی ہر موڑ پر فراموش کر کے گزر جاتے ہیں۔ اقبال کا کلام جو کہ قرآن پاک کے بیشتر حصے کا ترجمہ بھی کہا جا سکتا ہے ہم اس کو فراموش کر چکے ہیں ہمیں اگر دوبارہ واپس لوٹنا ہے اور دوبارہ اسی مقام پر پہنچنا ہے جس کی اقبال کچھ یوں خواہش کرتے ہیں کہ

لا پھر اک بار وہی بادہ و جام اے ساقی

ہاتھ آجائے جھے میرا مقام اے ساقی