بیمار کا حال اچھا ہے - خرم علی راؤ

دنیا بھر میں یوں تو بے شمار پیشے، بہت سے پروفیشنز ہیں جن میں زمانۂ قدیم سے چلے آنے والے پیشے بھی شامل ہیں اور دور جدید میں سائنس اور ٹیکنالوجی کی محیر العقول ترقی سے تخلیق ہونے والے ذرائع روزگار بھی۔۔ مگر ہر دور میں چند پیشے یا پروفیشنز ایسے ہیں جنہیں معزز پیشے یا نوبل پروفیشنز کہا جاتا ہے، مثلاً تعلیم، طب اور عدلیہ وغیرہ، ان شعبوں اور پیشوں سے وابستہ افراد کی ہمیشہ دل سے عزت کی گئی اور کی جاتی رہی ہے بہ نسبت دوسرے شعبہ جات کے افراد کے۔ ایک طبیب یا ڈاکٹر، ایک استاد اورایک قاضی یا جج ہمیشہ اور ہر دور میں باعثِ تکریم و عزت سمجھے جاتے رہے ہیں۔

وطن عزیز میں کم قسمتی سے یہی تین معزز شعبہ جات اس لحاظ سے بد ترین زوال کا شکار ہیں کہ ان ہی شعبوں میں سب سے زیادہ کرپشن اور پیسے کا عمل دخل ہو گیا ہے اور انسانی خدمت کا جذبہ کمزور پڑ گیا ہے۔ زیر نظر تحریر انہی تین شعبوں میں سے ایک یعنی شعبہ طب کے بارے میں ہے۔ اس ضمن میں ایک واقعہ پیش خدمت ہے جس سے آپ کو اندازہ ہوگا کہ پیسے کی ہوس نے کس طرح اخلاقی قدروں کا جنازہ نکال دیا ہے۔

ہمارے ایک دوست کی اہلیہ کے پیٹ میں تکلیف شروع ہوئی۔ علاقے کے مقامی ڈاکٹر صاحب نے شبہ ظاہر کیا کہ پتے میں پتھری ہو سکتی ہے۔ ٹیسٹ وغیرہ کرائے گئے تو کنفرم ہو گیا کہ پتے میں پتھری ہی ہے۔ جب یہ بات دوست احباب اور خاندان والوں کو پتہ چلی تو جیسا کہ ہمارے ملک میں عام ہے کہ حسب ِ روایت مختلف نسخے، ٹوٹکے اور علاج بتائے جانے لگے کہ بھائی بس یہ آزما لیں پتھری غائب ہو جائے گی، یہ کرلیں تو بس جیسے جادو ہو جائے گا، وغیرہ وغیرہ۔ وہ صاحب اور ان کی اہلیہ پڑھے لکھے لوگ تھے چناچہ انہوں نے ان باتوں کو ایک کان سے سنا اور دوسرے سے نکالا اور سیدھے ایک ایسے اسپتال جا پہنچے جو کہ اس علاقے کا معروف اسپتال تھا اور ان کے ادارے کے پینل پر تھا۔ بس ان سے یہی چوک ہوگئی کہ انہوں نے جاکر معلوماتی کاؤنٹر پر پہلے ہی کہہ دیا کہ میرا پینل ہے۔ ان کا ادارہ ایک معروف ادارہ تھا، بس پھر تو جیسے ایک جادو سا ہو گیا۔ انہیں ہاتھوں ہاتھ لیا گیا اور فوراً سرجن صاحب کے پاس ریفر کر دیا گیا جو لیزر ٹیکنالوجی سے پتّے کی پتھری نکالنے کے ماہر تھے۔ انہوں نے سادہ لوحی میں سرجن صاحب کو بھی ادارے کا نام اور پینل کا بتا دیا۔ بس جی، پھر کیا تھا؟ سرجن صاحب نے بغور ساری رپورٹوں کو دیکھا اور پھر بڑے سنجیدہ لحجے میں یوں گویا ہوئے کہ " آپ کا کیس کافی خراب ہوگیا ہے، پتہ سکڑ کر خطرناک حدود میں داخل ہو گیا ہے، اور کچھ دن نہ آپ آتے تو اس نے کینسر بن جانا تھا وغیرہ وغیرہ۔" غرض انہوں نے جب تک اچھی طرح ہوش نہیں اڑا دیے خاموش نہ ہوئے۔ مزید فرمایا کہ آپریشن تو ہو جائے گا مگر کافی دن اسپتال میں رکنا پڑے گا۔ انہوں نے مزید ٹیسٹوں کی ایک فہرست اس ہدایت کے ساتھ عطا کی کہ یہ ٹیسٹ اس اسپتال سے کرانے ہوں گے کہیں اور کے میں قبول نہیں کروں گا۔ وہ مع بیگم گھبرائے ہوئے باہر نکلے تو شاید کوئی نیکی یا دعا کام آ گئی کہ ایک دم خیال آیا وہ بھی ان سے زیادہ پریشان ان کی اہلیہ کو کہ کسی اور ڈاکٹر سے سیکنڈ ا وپینیئن (مشورہ ثانی )بھی لینا چاہیے۔ قصہ مختصر، وہ کسی عزیز کی معرفت اسی شعبے کے ایک بڑے ڈاکٹر کے پاس پہنچے کیونکہ ریفرنس تگڑا تھا یا شاید وہ معروف ڈاکٹر صاحب میں انسانیت اور اپنے ایم بی بی ایس کی ڈگری لیتے وقت کا "ہیپوکریٹک اوتھ" یاد تھا۔ سو انہوں نے بتایا کہ ایسا کچھ مسئلہ نہیں ہے مائنر لیزز آپریشن ہے۔ 24 گھنٹے میں آپریشن کرا کر آپ کی اہلیہ گھر پر ہوں گی اور ان سرجن صاحب نے صرف بل بڑھانے کے لیے آپ کو یہ کہانی سنائی ہے۔ پھر ایسا ہی ہوا، ان کی اہلیہ ایک دن کے قیام کے بعد پتّے کا کامیاب آپریشن کر وا کر گھر آ گئیں۔

یہ بھی پڑھیں:   "ماں میں ڈاکٹر بن گیا " عالم خان

تو جناب کسی معاشرے میں جب مسیحا سمجھے جانے والا ظالم، رہبر سمجھے جانے والا رہزن اور اچھا سمجھے جانے والا اندر سے برا ہو اور پیسہ ہی سب سے بڑی فضیلت اور خصوصیت سمجھا جانے لگے تو پھر ایسے معاشرے خطرے کی سرخ لکیر جس کے بعد صرف تباہی اور بر بادی ہی بچتی ہے۔ پھر ہم تو مسلمان ہونے کے مدعی بھی ہیں اور کسی نے کیا خوب کہا ہے کہ ایک عام مسلمان ہمیشہ اچھا انسان اور ایک اچھا مسلمان تو بہت اچھا انسان ہوتا ہے، کیا ہم اس تعریف پر پورا اتر رہے ہیں؟ یہ سوال خود سے ضرور پوچھیے گا۔