فاروق ستار کی لوڈ شیڈنگ ختم نہ ہونے پر وزیر اعلیٰ ہاؤس کے گھیراؤ کی دھمکی

کراچی: متحدہ قومی موومنٹ پاکستان (پی آئی بی) کے سربراہ ڈاکٹرفاروق ستارنے وفاقی وصوبائی حکومت کو پانی، بجلی سمیت کراچی کے عوام کے مسائل کے حل کیلیے 72 گھنٹے کا الٹی میٹم دیتے ہوئے کہا ہے کہ اگر حکومت نے ان مسائل کو حل کرنے کے لیے کسی حکمت عملی اعلان نہیں کیا تو پھر گورنرہاؤس، وزیراعلیٰ ہاؤس،کے الیکٹرک، کراچی واٹر اینڈ سیوریج بورڈ کے دفاتر کا گھیراؤکیا جائے گا اور دھرنے دیے جائیں گے۔

فاروق ستار نے کے الیکٹرک، کراچی واٹر اینڈ سیوریج بورڈ اور صوبائی حکومت (بجلی و پانی کا بحران )کے خلاف کراچی پریس کلب کے باہر احتجاجی مظاہرہ سے خطاب کیا۔ مظاہرے میں اراکین قومی و صوبائی اسمبلی اور اراکین رابطہ کمیٹی نے بھی شرکت کی۔مظاہرین نے کے الیکٹرک کے خلاف نعرے بازی کی۔ واٹربورڈ اور کے الیکٹرک انتظامیہ کے پتلے نذر آتش کیے۔ مظاہرین سے سینیٹر نگہت مرزا، قمر عباس اور دیگر نے بھی خطاب کیا۔

ڈاکٹر فاروق ستار نے کہا کہ جب تک ہمارے مظاہرے میں کرنٹ نہیں ہوگا تب تک ہم کوپانی ملے گا نہ بجلی ملے گی۔ عوام کا کرنٹ کچھ لوگوں کو لگے گا جب ہی عوام کو بجلی ملے گی۔ 60سے70فیصدٹیکس ہم دیں اور ہم ہی مظاہرہ کریں۔
انھوں نے کہاکہ آج کا احتجاج کے الیکٹرک کی غیرعلانیہ لوڈشیڈنگ کے خلاف ہے۔ ہمارا احتجاج وفاقی و صوبائی حکومتوں کے خلاف ہے۔ ہمارا احتجاج کراچی اور سندھ کے ساتھ ہونے والی زیادتیوں کے خلاف ہے۔کے الیکٹرک اپنا منافع کم کرکے کراچی کے عوام کے مسائل کا حل کرے۔

سربراہ ایم کیو ایم پاکستان نے کہا کہ کراچی کے عوام اپنے حصے کا پانی و بجلی چاہتے ہیں۔ وفاقی و صوبائی حکومت کو72گھنٹے کا الٹی میٹم دیتے ہیں۔ اگر 72 گھنٹے میں ہمارے مطالبات پورے نہ ہوئے تو ہم وزیر اعلیٰ ہاؤس اور گورنر ہاؤس کا گھیراؤ کریں گے۔ کراچی کے عوام کے مسائل حل کریں ورنہ سندھ بھر میں بھرپور اجتجاج کیا جائے۔ بلنگ کے نام پر کراچی کے عوام سے زیادتی کی جارہی ہے۔

ڈاکٹر فاروق ستار نے کہا کہ اگر ہم نے فیصلہ کرلیا یا عدم تعاون کی تحریک چلانے کا فیصلہ کرلیا تو دیکھتے ہیں وفاق اور صوبائی حکومت کیسے چلتی ہے۔ فرنس آئل سے بجلی پیدا نہیں ہوسکتی تو گیس سے پیدا کریں۔گیس کا بحران تھا تو گیس کے پلانٹس کیوں لگائے کہ اب ان کو بند کرنا پڑ رہاہے۔ میں صوبائی اور وفاقی حکومت کو بھی72گھنٹے کا وقت دیتا ہوں۔

سینیٹر نگہت مرزا نے کہا کہ مردم شماری میںکراچی کی آبادی کو کم کر کے وسائل کو بھی کم کردیا گیا ہے۔ عوام کے مسائل کے حل کے لیے ایم کیوایم پاکستان ہر سطح پر اجتجاج جاری رکھے گی۔ رکن سندھ اسمبلی قمر عباس نے کہا کہ کراچی میں کے الیکٹرک نے عوام کی زندگی عذاب میں مبتلا کردی ہے۔ کراچی کی بیشتر علاقوں میں کئی کئی ماہ سے پانی نہیں ہے۔

ایم کیو ایم کے رہنماؤں نے کہا کہ کے الیکٹرک اور واٹر بورڈ نے قبلہ درست نہ کیا تو احتجاج علاقوں تک پھیلا دیا جائے گا۔ نااہلی پر کے الیکٹرک ، واٹر بورڈ حکام اور وزیراعلی کو مستعفی ہوجانا چاہیے۔عوام کو ریلیف دینے میں متعلقہ ادارے ناکام ہوچکے ہیں۔

متحدہ قومی موومنٹ پاکستان ( پی آئی بی) کے سربراہ ڈاکٹر فاروق ستار نے بہادرآباد کے ساتھ کام کرنے کے لیے نئی شرط رکھ دی ، میں بہادر آباد کے ساتھ کام کرنے کے لیے تیار ہوں لیکن میری واحد شرط یہ ہے کہ بہادر آباد والوں کو مجھ میں اور عامر خان میں سے کسی ایک کا انتخاب کرنا ہوگا ، اب فیصلہ بہادر آباد والے کریں کہ وہ کس کے ساتھ کام کرنا چاہتے ہیں۔

سربراہ ایم کیو ایم پاکستان نے کہا کہ اب ایم کیو ایم میں یا تو میں رہوں گا یا عامر خان رہیں گے۔ عامر خان ایک سازشی شخص ہیں ، 11 مارچ کو نائن زیرو پر ریڈ بھی عامر خان نے کرایا جس کا ذکر کارکنان کرتے ہیں ، بہادر آباد کے صحیح معنوں میں سربراہ عامر خان ہیں اور میں عامر خان کے ساتھ مزید کام نہیں کرسکتا، میں نہیں جانتا کہ عامر خان کے ساتھ کیا ذہنی مسئلہ ہے۔ ان خیالات کا اظہار انھوں نے اتوار شب اپنی رہائش گاہ پر پریس کانفرنس کرتے ہوئے کیا ۔

ڈاکٹر فاروق ستار نے کہا کہ آج میں نے رابطہ کمیٹی کا مشاورتی اجلاس کیا ، اپنے تمام ساتھیوں سے مشورہ کیا ، رابطہ کمیٹی سے مشاورت کے بعد ایک اہم فیصلہ کیا ہے ، بہادر آباد اور پی آئی بی میں ثالثوں کے ذریعے بات چیت جاری تھی لیکن بہادر آباد والوں نے ثالثوں کے فارمولے کو مسترد کر دیا ، میں نے ثالثوں کے فارمولے کو مانا تھا ، مگر میرے بہادر آباد کے کچھ نادان دوستوں نے ثالثوں کی بات نہیں مانی تھی۔

انھوں نے کہا کہ بہادر آباد کی رابطہ کمیٹی کی تحلیل پر اصرار نہیں کرتا ، بہادر آباد کی رابطہ کمیٹی کے ساتھ کام کرنے کو تیار ہوں ، میں بہادرآباد کی رابطہ کمیٹی کے ساتھ کام کرنے کو تیار ہوں مگر وہ ایک فیصلہ کریں۔بہادرآباد کے میرے ساتھی ایک فیصلہ کر کے بتائیں کہ سربراہ عامر خان یا میں؟ ۔ اس سے قبل تقسیم در تقسیم کی وجہ بھی عامر خان تھے ، بہادر آباد کے سہی معنوں میں سربراہ عامر خان ہیں ، ڈاکٹر خالد مقبول کو کچھ دنوں میں یہ بات سمجھ میں آجائے گی ، بہت سے کارکنان عامر خان کی وجہ سے آج بھی ایم کیوایم سے دور ہیں۔

فاروق ستار نے کہا کہ مہاجر قاتل مہاجر مقتول کے آغاز کرنے والے عامر خان ہیں۔شہداء کی فیملی نے مجھے بولا کہ آپ اور خالد مقبول صدیقی مل کر جماعت کو چلائیں۔الطاف حسین کے کہنے پر شہداء کی فیملیز نے عامر خان کو معاف کیا۔شہدا کی فیملیز عامر خان کو ایم کیو ایم میں دیکھنا نہیں چاہتیں ، عامر خان نے جولائی 2017 میں اکثر رابطہ کمیٹی کو اپنے گھر بلاکر کہا کہ فاروق ستار کے ساتھ کام کرنا ہے یا میرے ساتھ کام کرنا ہے۔عامر خان کے ساتھ مزید کام نہیں کرسکتا ہوں ، میں نہیں جانتا کہ عامر خان کے ساتھ کیا ذہنی مسئلہ ہے۔

سربراہ ایم کیو ایم پاکستان نے کہا کہ 19 جون 1992 کے شہداء کی ذمہ داری عامر خان پر آتی ہے۔11 مارچ کو نائن زیرو پر ریڈ بھی عامر خان نے کرایا جس کا ذکر کارکنان کرتے ہیں۔ فاروق ستار نے کہا کہ میں پوری رابطہ کمیٹی کے ساتھ مل کر کام کرسکتا ہوں ، انھوں نے کہا کہ ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی اس ایم کیو ایم کو آپ نہیں کوئی اور چلا رہا ہے یعنی عامر خان چلا رہے ہیں ، بات عزت و احترام کی ہے ، 23 اگست کا فیصلہ میں نے خود ذاتی طور پر کیا ، ایسی سربراہی مجھے نہیں چاہیے جس میں میری عزت نہ ہو۔

فاروق ستار نے کہا کہ چیف جسٹس آف پاکستان ، آرمی چیف ، ڈی جی آئی ایس آئی سے ملکر بات کرنا چاہتا ہوں، میرے بہادر آباد کے دوست ایک دم میرے خلاف ہوگئے کہیں اس کے پیچھے کوئی سازش تو نہیں؟ ، اداروں کو عزت و احترام کی نگاہ سے دیکھتا ہوں ، اگر ایم کیو ایم کو مائنس کیا گیا تو یہ زیادتی ہوگی۔ انہوں نے کہا کہشہباز شریف کو کراچی کا اتنا درد ہے تو کراچی کا اختیار کراچی والوں کو دیں ، آج ہائیکورٹ کے فیصلے سے قبل حقائق سے آگاہ کر رہا ہوں ، کارکنان کو معلوم ہوجائے کہ میں بہادر آباد کیساتھ کام کیوں نہیں کررہا۔