ماہ شعبان کی فضیلت میں ناقابل حُجت روایات - عادل سہیل ظفر

شعبان کے مہینے کے بارے میں کئی ایسی روایات ہمارے درمیان گردش کرتی ہیں جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کے قول مُبارک کے طور پر ثابت شدہ نہیں ہیں، اُن میں سے عام طور پر پھیلائی جانے والی روایات اور اُن کی تحقیق پیش خدمت ہے،

(1) "یا علی من صلی لیلۃ النصف من شعبان مئۃ رکعۃ بالف قل ہو اللہ احد قضی اللہ لہ کل حاجۃ طلبہا تلک اللیلۃ وساق جزافات کثیرۃ واعطی سبعین الف حوراء لکل حوراء سبعون الف غلام وسبعون الف ولدان اے علی جس نے شعبان کی درمیانی رات میں سو رکعت نماز، ہزار دفعہ قل ھو اللہ احد کے ساتھ پڑھی تو وہ اللہ سے جس ضرورت کا بھی سوال کرے گا اللہ وہ دے گا، اور اللہ بہت سے انعامات دے گا اور ستر ہزار حوریں دی جائیں گی اور ستر ہزار درمیانی عمر کے بچے اور ستر ہزار چھوٹی عمر کے بچے۔"

درجۂ صحت

اِمام ابن القیم رحمہُ اللہ نے "المنار المنیف فی صحیح و الضعیف" میں اِس حدیث کے بارے لکھا "حیرت ہے کہ کوئی سُنّت کے عِلم کی خوشبو پاتا ہو اور پھر بھی اِس قِسم کی فضول باتوں سے دھوکہ کھائے، یہ نماز اِسلام میں چار سو سال کے بعد بیت المقدس کے علاقے میں بنائی گئی اور پھر اِس کے بارے میں بہت سی احادیث بنائی گئیں۔"

(2) "من صلی لیلۃ النصف من شعبان ثنتی عشرۃ رکعۃ یقرا فی کل رکعۃ ثلاثین مرۃ قل ہو اللہ احد شفع فی عشرۃ من اہل بیتہ قد استوجبوا النار جِس نے شعبان کی درمیانی رات میں بارہ رکعت نماز پڑھی اور ہر رکعت میں تیس دفعہ قل ھو اللہ احد پڑھی تو وہ اپنے گھر والوں میں سے ایسے دس کی شفاعت کر سکے گا جِن پر جہنم میں جانا واجب ہو چکا ہو گا۔"

درجۂ صحت

سابقہ حوالہ /جلد 1 /صفحہ 98 (ناشر کے فرق سے صفحات کے نمبر مختلف ہو سکتے ہیں)

(3) "خمس لیال لا ترد فیہن الدعوۃ اول لیلۃ من رجب ولیلۃ النصف من شعبان ولیلۃ الجمعۃ ولیلۃ الفطر ولیلۃ النحر پانچ راتیں(ایسی) ہیں جن میں دُعا رد نہیں کی جاتی (قُبُول کی جاتی ہے )رجب کی پہلی رات، شعبان کی درمیانی رات، جمعہ کی رات اور عید ِفطر کی رات۔"

درجۂ صحت

حدیث مَن گِھڑت جھوٹی ہے، اِس کی سند میں ابو سعید بندار بن عمر بن محمد بن الرویانی نامی راوی ہے جسے محدثین نے جھوٹا اور حدیثیں گَھڑنے والا قرار دِیا ہے۔

ایک تنبیہ خیال رہے کہ اسلامی قمری نظام میں رات دِن سے پہلے آتی ہے جبکہ عیسوی نظامِ تاریخ میں دِن رات سے پہلے آتے ہیں، عیدِ فِطر کی رات وہ رات جو عید کے دِن سے پہلے ہے، جِسے عام طور پر چاند رات کہا جاتا ہے اور جو اللہ کی نعمتوں کا شکر ادا کرتے ہوئے اور شکر کی ادائیگی کی تیاری کرنے کی بجائے نافرمانی کرتے ہوئے اور مزید نافرمانی کی تیاری کرتے ہوئے گزاری جاتی ہے۔ اِس موضوع پر اِن شاء اللہ رمضان کے آخر میں بات ہو گی۔ اسی طرح جمعہ کی رات وہ رات جو جمعرات کے دِن اور جمعہ کے دِن کے درمیان ہوتی ہے اور اسی طرح ساری راتیں دِنوں سے پہلے شمار کی جاتی ہیں اور اسی لیے ہماری اسلامی قمری تاریخ سورج غروب ہونے سے شروع ہوتی ہے نہ کہ آدھی رات گزرنے پر۔

(4) "من احیا اللیالی الخمس وجبت لہ الجنۃ لیلۃ الترویۃ ولیلۃ عرفۃ ولیلۃ النحر ولیلۃ الفطرولیلۃ النصف من شعبان جِس نے پانچ راتیں زندہ کِیں (یعنی عِبادت کرتے ہوئے گُزارِیں ) تو اُس کے لیے جنّت واجب ہو گئی، ترویہ (یعنی آٹھ ذی الحج) کی رات، اور عرفہ ( نو ذی الحج) کی رات، اور نحر (قربانی کے دِن یعنی دس ذی الحج ) کی رات، اور( عیدِ ) فِطر کی رات، اور شعبان کی درمیانی رات۔"

درجۂ صحت

مَن گَھڑت جھوٹی حدیث، ضعیف الترغیب والترھیب /کتاب العیدین و الاضحیۃ / پہلے باب کی دوسری حدیث۔

(5) "اِن اللہ تعالی ینزل لیلۃ النصف من شعبان اِلی السماء الدنیا فیغفر لاکثر من عدد شعر غنم کلب اللہ تعالیٰ شعبان کی درمیانی رات میں دُنیا کے آسمان کی طرف اُترتاہے اور بنی کلب کی بکریوں کے بالوں کی تعداد سے زیادہ لوگوں کی بخشش کرتا ہے۔"

درجۂ صحت

سنن النسائی / کتاب الصوم / باب 39،میں امام النسائی نے یہ روایت نقل کرنے کے بعد لکھا کہ "میں نے محمد (یعنی امام البخاری )کو سنا کہ وہ اِس حدیث کو کمزور (نا قابل حُجت ) قرار دیتے تھے۔

(6) '"اِذا کانت لیلۃ النصف من شعبان فقوموا لیلہا وصوموا نہارہا فاِن اللہ ینزل فیہا لغروب الشمس اِلی سماء الدنیا فیقول الا من مستغفر لی فاغفر لہ الا مسترزق فارزقہ الا مبتلی فاعافیہ الا کذا الا کذا حتی یطلع الفجر جب شعبان کی درمیانی رات ہو تو اُس رات قیام (یعنی نماز پڑھا) کرو، اور اُس رات کے دِن کو روزہ رکھا کرو کیونکہ اِس رات میں سورج غروب ہوتے ہی(یعنی رات کے آغاز میں ہی) اللہ تعالیٰ دُنیا کے آسمان پر اُتر آتا ہے اور کہتا ہے، ہے کوئی مجھ سے بخشش مانگنے والا کہ میں اُس کی بخشش کر دوں، ہے کوئی رزق مانگنے والا کہ میں اُسے رزق دوں، ہے کوئی مصیبت زدہ کہ میں اُس عافیت دوں، ہے کوئی ایسا، ہے کوئی ایسا، یہاں تک فجر کا وقت ہو جاتا ہے۔

درجۂ صحت

حدیث سنن ابن ماجہ میں ہےاور اِسکی سند میں ابن ابی سبرہ نامی راوی کو حدیثیں گھڑنے والا کہا گیا ہے (بحوالہ التقریب التھذیب اور الزوائد للبوصیری) اس حدیث کے بعض حصے دوسری صحیح روایات میں ملتے ہیں لیکن ہمارے اِس موضوع سے متعلق حصہ مَن گَھڑت ہی ہے۔

(7) "رجب شهر الله، و شعبان شهري، ورمضان شهر أمتي رجب اللہ کا مہینہ ہے، اور شعبان میرا مہینہ ہے، اور رمضان میری اُمت کا مہینہ ہے۔"

درجۂ صحت

یہ روایت بھی ضعیف، یعنی کمزور ناقابل حجت ہے، تفصیل کے لیے دیکھیے سلسلۃ الاحادیث الضعیفہ/حدیث رقم 4400۔

(8) "و شعبان شهري، فمن عظم شعبان؛ فقد عظم أمري، ومن عظم أمري؛ كنت له فرطاً وذخراً يوم القيامة اور شعبان میرا مہینہ ہے، پس جس کِسی نے شعبان کی تعظیم کی، اُس نے میرے معاملے کی تعظیم کی، اور جِس نے میرے معاملے کی تعظیم کی میں قیامت والے دِن اُس کے لیے جنت کی طرف لے جانے والا، اور مشکل میں کام آنے والا ہوں گا۔"

درجۂ صحت

امام ابن حجر العسقلانی رحمہُ اللہ نے اسے "تبیین العجب بما ورد فی فضل رجب" میں خود ساختہ جھوٹی روایت قرار دِیا ہے اور اِمام البانی رحمہُ اللہ نے "سلسلہ الاحادیث الضعیفہ /حدیث 6188" میں اِس کی مکمل تخریج و تحقیق پیش کی ہے، جو امام ابن حجر رحمہُ اللہ کی بات کو بالکل درست ثابت کرتی ہے۔

(9) "اللَّهُمَّ بَارِكْ لَنَا فِي رَجَبٍ وَشَعْبَانَ وَبَلِّغْنَا رَمَضَانَ اللہ ہمیں ر جب و شعبان میں برکت دے اور رمضان تک پہنچا دے۔"

درجۂ صحت

منکر، اِس روایت کو محدثین نے "منکر" قرار دِیا ہے، اِس کی تمام تر اسناد میں ، زائدہ بن ابی الرقاد نے زیاد النمیری کے ذریعے یہ روایت بیان کی ہے اور زائدہ بن ابی الرقاد کو امام بخاری او رامام النسائی رحمہما اللہ نے "منکر الحدیث" قرار دِیا ہے، یعنی ایسا راوی جو ناقابل یقین اور نا قابل قبول قِسم کی احادیث روایات کرتا ہو اور جِس سے اِس زائدہ نے روایت کیا ہے، یعنی، زیاد النمیری تو اِسے امام ابن معین اور امام ابو داؤد رحمہما اللہ نے ضعیف یعنی کمزور ناقابل قبول روایات والا قرار دِیا ہے، اور امام ابن حبان رحمہُ اللہ جو کہ راویوں پر گرفت کرنے میں نرمی کرنے والے معروف ہیں، اُنہوں نے بھی اِسے "منکر الحدیث" قرار دِیا ہے۔

(10) "كان رسول الله صلى الله عليه و سلم يصوم ثلاثة أيام من كل شهر فربما أخر ذلك حتى يجتمع عليه صوم السنة فيصوم شعبان رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہر مہینے میں تین دِن روزے رکھا کرتے تھے، کبھی ایسا بھی ہوتا تھا کہ اُن روزوں کے رکھنے میں تاخیر کرتے یہاں تک ایک پورے سال کے روزے جمع ہوجاتے اور پھر انہیں شعبان میں رکھتے۔"

درجۂ صحت

یہ روایت بھی ضعیف ہے، یعنی ناقابل حجت، کیونکہ اِس کی سند میں "ابن ابی لیلی" نامی ضعیف راوی ہے۔ گو کہ شعبان میں اضافی نفلی روزے رکھنے کی فضیلت صحیح حدیث میں موجود ہے لیکن اِس کیفیت کے ساتھ جو کہ اِس مذکورہ بالا روایت میں ہے، صحیح نہیں ہے۔

شعبان کے مہینے، اور نِصف شعبان کی رات کی فضیلت کے بارے میں کمزور، ناقابل حُجت روایات صِرف یہی نہیں ہیں، میں نے صِرف اُن روایات کا ذِکر کیا ہے جو عام طور پر گردِش میں رہتی ہیں۔ محترم قارئین! اب میں آپ کے سوچنے کے لیے کچھ سوالات پیش کرتا ہوں، لیکن میں اِن کے جوابات کا طلب گار نہیں ہوں، یہ سوالات صِرف آپ کے لیے ہیں، جوابات بھی آپ اپنے لیے تلاش کیجیے:

اِن مندرجہ بالا احادیث اور اِن جیسی کچھ اور کی بنیاد پر یا محض سنی سنائی کہانیوں، قصوں، خوابوں اور نام نہاد الہامات اور کشوفات کی بنیاد پر یہ مذکورہ بالا اور ان جیسے جو کام اور عقائد جِن کا قُران اور سُنّت میں کوئی صحیح ثبوت نہیں بنا لیے گئے، اپنا لیے گئے، وہ کیا مغفرت کا سبب ہیں یا عذاب کا؟

شعبان کی فضیلت کے بارے صحیح احادیث کی روشنی میں سوچیے تو کہ آپ کِن میں سے ہیں؟

کِسی سے بُغض و عناد رکھنے والوں میں سے؟

یا معاف اور درگزر کر کے اللہ کی بخشش پانے والوں میں سے؟

کیا آپ کِسی مَن گھڑت، نئی عِبادت کو ادا کر کے یا کوئی بے بُنیاد عقیدہ اپنا کر کِسی بدعت یا شرک کا شکار تو نہیں ہو رہے؟

اللہ نہ کرے کہ ایسا ہو، کیونکہ اگر ایسا ہے تو پھر آغاز میں نقل کی گئی حدیث شریف کے مطابق پندرہ شعبان کی رات میں آپ کے لیے خیر کی کوئی اُمید نہیں اور اگر ایسا نہیں تو اِن شاء اللہ آپ کی مغفرت کر دی جائے گی۔

Comments

عادل سہیل ظفر

عادل سہیل ظفر

عادِل سُہیل ظفر جیاد ، معاشی ذمہ داریاں نبھانے کے لیے ملٹی فنگشن پراڈکٹس ٹیکنیشن کے طور پر ملازمت کرتے ہیں۔ اللہ عزّ و جلّ کا دِین ، اللہ ہی کے مُقرر کردہ منہج کے مُطابق سیکھنے اور جو کچھ سیکھا اُسے نشر کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.