گزشتہ نصف صدی سے امت کے زوال کا سفر (1) - مفتی منیب الرحمٰن

1967ء میں عرب اسرائیل جنگ ہوئی، اس میں مصر، اُردن اور شام شامل تھے، اس جنگ میں عرب ممالک کو ذلت آمیز شکست ہوئی۔ مصر کے وسیع علاقے صحرائے سینا، شام کی طرف سے گولان کی پہاڑیوں اورغربِ اردن کے کافی علاقے پر اسرائیل نے قبضہ کرلیا۔ اردن کے اسی مقبوضہ علاقے میں سے غزہ کی پٹی کوبعد میں فلسطینی اتھارٹی کے کنٹرول میں دیا گیا۔ مصر کے سابق صدرانور سادات نے 1978میں کیمپ ڈیوڈ میں کم تر پوزیشن میں امریکی صدر جمی کارٹر کی سربراہی میں اسرائیلی وزیرِ اعظم مینکھم بیگن کے ساتھ معاہدہ کیا اور بمشکل اپنا علاقہ واپس لیا۔ گولان کی پہاڑیوں پر بدستور اسرائیل قابض ہے اوروہ فلسطینی علاقوں میں یہودی بستیاں بھی بسارہا ہے تاکہ آبادی کے توازن کو بدلا جاسکے، حال ہی میں امریکہ بیت المقدس کو اسرائیل کا دارالحکومت تسلیم کرچکا ہے۔ 1971میں بھارت کی سازش، فوجی یلغار، اپنوں کی جفا اور اپنی غلطیوں کے نتیجے میں مشرقی پاکستان ملک سے کٹ کر جدا ہوگیا، پھربنگلہ دیش کی صورت میں بھارت نواز پاکستان دشمن اور دستوری طور پر سیکولر ملک بن گیا۔ جنہوں نے بنگلہ دیش کی تحریکِ آزادی میں پاکستان کا ساتھ دیا تھا، حسینہ واجد کی حکومت نے گزشتہ چند سالوں میں ایک ایک کر کے ان کو پھانسی پر چڑھایا، لیکن پاکستان ریاستی سطح پر کوئی مؤثر احتجاج بھی نہ کرسکا۔ اس سے ایک دل شکن مثال قائم ہوئی کہ جب پاکستان کا ساتھ دینے والوں کو مشکل وقت میں بے یارومددگار چھوڑ دیا جائے، پاکستان سے وفا کے جرم میں لوگوں کوسزائے موت دی جائے، عملی اقدام تو درکنار ریاستی سطح پرعلامتی احتجاج کی نوبت بھی نہ آئے، توآئندہ اس طرح کی صورتِ حال میں لوگ پاکستان کا ساتھ دینے سے پہلے اپنے ممکنہ انجام کے بارے میں سوچیں گے۔

افغانستان کے بادشاہ ظاہر شاہ کو1973ء میں معزول کرکے سردار محمد داؤد خان نے اقتدار پر قبضہ کرلیا، پھرجب اس نے خود کو کمزور محسوس کیا تو پاکستان کی طرف جھکاؤ ظاہر کیا، لیکن اس دوران بائیں بازو کی سوویت نوازجماعت پیپلز ڈیموکریٹک آف افغانستان کے نورمحمد ترکئی نے سردار داؤد خان کو قتل کر کے اقتدار پر قبضہ کرلیا۔ یہ کمیونسٹ جماعت خلق اور پرچم دو دھڑوں پر مشتمل تھی، پھر نور محمد ترکئی قتل کردیے گئے اور حفیظ اللہ امین اقتدار پر فائز ہوئے، پھر ان کو بھی پھانسی دے دی گئی اور 1979میں سوویت یونین کی افواج افغانستان میں داخل ہوئیں اوراُن کی طاقت سے ببرک کارمل تخت نشین ہوا، 1987ء میں اُسے معزول کر کے ڈاکٹر نجیب اللہ اقتدار پر فائز ہوئے، 1992میں افغان مجاہدین نے نجیب اللہ کی افواج کو شکست دی اور ڈاکٹر نجیب اللہ کو نظربند کردیا، کابل پرطالبان کی حکومت قائم ہونے کے بعدڈاکٹر نجیب اللہ اُن کے ہاتھوں قتل ہوئے۔ 1979میں روس کے خلاف افغان جہاد شروع ہوااور1988ء میں سوویت فوج کے انخلا تک امریکہ کی قیادت میں پوری مغربی دنیا اورسعودی عرب ومصر کی سرپرستی میں مشرقِ وُسطیٰ کے ممالک بھی اس جہاد کے پشتیبان بنے رہے۔ کسی متفقہ قیادت کے بغیرمجاہدین کے کئی گروپ بنے، ان کے بین الاقوامی روابط قائم ہوئے، انہیں اسلحہ اور مالی وسائل فراہم کیے گئے، اس زمانے میں سوویت یونین سے برسرِ پیکار افغان مجاہدین سب کے محبوب تھے، پاکستانی پاسپورٹ اور شناختی کارڈ کے ساتھ سعودی عرب، امارات، یورپین یونین، آسٹریلیا، کینیڈا اور امریکہ جہاں بھی جاتے، انہیں پذیرائی ملتی، انہیں ان ملکوں میں قانونی اقامت اور کاروبار کی سہولتیں میسر آتیں، سو انہوں نے ان تمام ممالک میں اپنے کاروبار بھی جمائے۔ پاکستان کا جہادِ افغانستان میں مرکزی کردار رہا، کئی ملین افغانیوں کو پناہ دی، مجاہدین کو تربیت دی، پاکستان کو فرنٹ لائن اسٹیٹ کا لقب ملا۔ بظاہر افغانیوں کو پاکستان کا ممنون ہونا چاہیے، مگر آج پاکستان ان کا مغضوب ہے اورانڈیا ایک بھی جان کا نقصان اٹھائے بغیر کابل میں بیٹھا ہے۔

میخائل گوربا چوف سوویت یونین کی کمیونسٹ پارٹی کے سیکرٹری جنرل بنے توانہوں نے پہلی بار کھلے پن اور عملیت کو اپنی پالیسی کا محور قرار دیا، لیکن اپنے توسیع پسندانہ عزائم اورمعاشی ضُعف کی وجہ سے سوویت یونین اپنے وجود کو قائم نہ رکھ سکا، اُسے 1988میں افغانستان سے اپنی فوجوں کو ناکام ونامراد واپس بلانا پڑا، آخرِ کارسوویت یونین تحلیل ہوگیااور رشین فیڈریشن کے صدر بورس یلسن نے برطانوی ’’دولتِ مشترکہ‘‘کے طرز پرایک تنظیم قائم کی اور سوویت یونین سے آزاد ہونے والی ریاستوں کے ساتھ اشتراکِ عمل کا ایک فورم بنایا۔ وسطی ایشیائی ریاستیں ازبکستان، تاجکستان، قازقستان، کرغیزستان، آذربائیجان اور آرمینیا آزاد ہوگئے۔ اسی طرح یوکرائن، بیلاروس، جارجیا، استونیا، لٹویا، لتھوینیا، مالدویا بھی آزاد ہوئے۔ دیوارِ برلن گرگئی اور جرمنی متحد ہوگیا، پولینڈ بھی آزاد ہوگیا اور چیکوسلاویکیا آزاد ہوکر اپنا اتحاد قائم نہ رکھ سکا اور چیک اور سلاویک ریاستوں میں منقسم ہوگیا۔ اسی طرح یوگوسلاوین فیڈریشن بھی بوسنیاہرزگووینا، کرویشیا، سربیا، سلوینیا، مسوڈونیا، مونٹینگرو اورکوسووو میں منقسم ہوگئی۔ وسطی ایشیائی مسلم ممالک آزادتو ہوگئے، لیکن تاحال وہ رشین فیڈریشن ہی کے زیرِ اثر ہیں، ان کا ریاستی نظام روسی زبان میں چل رہا ہے، نظام آمرانہ ہی ہے اور سوویت دور کی باقیات ہی ان ممالک پر حکمران ہیں۔ شروع میں بعض تبلیغی و جہادی تنظیموں اور سلفیوں نے ان ممالک میں کسی حد تک نفوذ کیا، لیکن پھرجہاد اور فساد خَلط مَلط ہوگئے اورروایتی حکمران انہیں اپنے لیے خطرہ محسوس کرنے لگے، اس لیے سوویت یونین کے زوال کے بعد ان ممالک میں وقتی طور پرمذہب کے نفوذ یاغلبے کے جو امکانات پیدا ہوئے تھے، وہ اپنوں کی نادانیوں کے سبب معدوم ہوگئے، بلکہ اب ازبکستان میں تو اٹھارہ سال سے کم عمر کے نوجوانوں کو مساجد میں جانے کی اجازت بھی نہیں ہے۔ سلفیوں کا مسئلہ یہ ہے کہ ان کے ایجنڈے میں مسلک کو بھی سرمائے کے بل پر برآمد کرنا اور مسلّط کرنا ہوتا ہے، اس لیے اب ان سے سب خطرات محسوس کر رہے ہیں، حال ہی میں سعودی شہزادے ولی عہد محمد بن سلمان نے اس حقیقت کا اعتراف کیا ہے اورایک معروف کالم نگار نے شہزادہ بندر بن سلطان کے حوالے سے لکھا ہے کہ وہ گورباچوف کو افغانستان سے سوویت افواج کے انخلا پر آمادہ کرنے کے لیے گئے تو ابتدائی مصنوعی رعونت کے بعد گورباچوف نے اس شرط پر آمادگی ظاہر کی کہ ان کے لیے باعزت واپسی کی صورت پیدا کی جائے، لیکن ظاہر ہے شکست اور عزت ایک دوسرے کی ضد ہیں۔

افغانستان سے سوویت افواج کا انخلا بے حد عجلت میں کیا گیا، سوویت یونین کو اپنے معاشی ضُعف اورامریکہ کو اشتراکی نظام پر اپنی فتح کے جھنڈے گاڑنے کی وجہ سے انخلا کی جلدی تھی، اس لیے افغانستان میں کوئی متبادل نظمِ اجتماعی قائم کر کے مجاہدین کو اُس میں جذب کیے بغیر انخلا سے ملک میں خلا پیدا ہوگیاجس کے نتیجے میں ڈاکٹر نجیب اللہ کی افواج اور افغان مجاہدین کے درمیان خانہ جنگی شروع ہوگئی جوکہ ڈاکٹر نجیب اللہ کی شکست تک جاری رہی۔ مجاہدین کی حکومت قائم ہونے کے بعد شروع میں صبغۃ اللہ مجددی اور اس کے بعدبرہان الدین ربانی کی صدارت میں ایک ڈھیلا ڈھالا حکومتی ڈھانچہ قائم ہوا، مگر وہ بے اثر ثابت ہوا اور پھر ملک مختلف علاقوں کے وارلارڈز کے کنٹرول میں آگیا۔ یہ دور بدنظمی، افراتفری اور انتشار کا دور تھا، لوگ اس سے عاجز تھے۔ اس پسِ منظر میں اچانک ملّا محمد عمر کی قیادت میں تحریکِ طالبانِ افغانستان نمودار ہوئی اور رفتہ رفتہ پورے افغانستان کا کنٹرول سنبھال لیا۔ 1996ء میں سابق تاجک جہادی لیڈر احمد شاہ مسعود کی قیادت میں طالبان مخالف دھڑوں نے ایرانی حکومت کے تعاون سے شمالی اتحاد کے نام سے مزاحمتی اتحاد بنایا، رشید دوستم، کمانڈر فہیم، جنرل عبدالمالک اور ہزارہ بھی اس میں شامل تھے، اس کے باوجود طالبان ملک کے پچانوے فیصد حصے پر قابض ہوئے، 2001ء میں انجینئر احمد شاہ مسعودافغانستان کے صوبے تخار میں ایک دہشت گرد حملے میں قتل کردیے گئے۔ طالبان کے دور میں افغانستان میں کافی حد تک امن قائم رہا، اسلامی حدود وتعزیرات کے نفاذ اور عاجلانہ انصاف کے نتیجے میں جرائم کافی حد تک کم ہوگئے، پوست کی کاشت اور افیون کی پیداوار پر قابو پالیا گیا۔ لیکن چونکہ دنیا بھر سے آئے ہوئے جہادی گروپ القاعدہ کی چھتری تلے افغانستان اور اس سے متصل قبائلی علاقوں میں موجود تھے، لہٰذا اسامہ بن لادن کی قیادت میں انہوں نے یہاں بیٹھ کر اپنے عالمی ایجنڈے پر عملدرآمد جاری رکھا، آخرِ کار نائن الیون کا واقعہ ہوا اور امریکہ اپنے اتحادیوں سمیت اکتوبر2001میں ایک لاکھ چالیس ہزارمسلّح افواج، جدید حربی وسائل اور سائنس وٹیکنالوجی کی برتری کے ساتھ افغانستان پر چڑھ دوڑا، طالبان کی حکومت ختم ہوگئی، وہ روپوش ہوگئے اور پھرپانچ سال کے اندر انہوں نے دوبارہ زیرِ زمیں اپنی تنظیم قائم کر کے گوریلا کارروائیاں شروع کردیں اور یہ آ ویزش تاحال جاری ہے۔

ملّا عمر اور طالبان نے اپنی حکومت گنوانا اور ایک طویل ابتلاکو برداشت کرنا گوارا کیا، لیکن اسامہ بن لادن اور القاعدہ قیادت کو امریکہ کے حوالے کرنے پر آمادہ نہ ہوئے، آیا یہ فیصلہ افغانستان کے وسیع تر مفاد، خود طالبان کے مستقبل اور دینی حکمت کے مطابق درست تھا یا غلط؟ اس سوال کا جواب تاریخ پر قرض ہے۔ اُس وقت کے فوجی حکمران اور ہمہ مقتدر جنرل پرویز مشرف امریکہ کے آگے سرنگوں ہوگئے، پاکستان کے ہوائی اور بحری اڈے، زمینی راستے اور سراغ رسانی کی معلومات امریکہ کو فراہم کرنے سمیت تمام شرائط قبول کیں اور اس مکمل خودسپردگی کے بارے میں چند سطور پر مشتمل کوئی تحریری میثاق یا دستاویز ریکارڈ پر موجود نہیں ہے کہ یہ سب کچھ کن شرائط پر ہوا؟ جنرل پرویز مشرف نے یہ تمام اقدامات ’’سب سے پہلے پاکستان‘‘ کے خوبصورت سلوگن میں لپیٹ کر کیے، اس کے نتیجے میں وقتی طور پراُن کی حکومت امریکہ کے لیے قابلِ قبول ہوگئی، ان کے اقتدار کو دوام ملا اور پاکستان طویل ابتلا کے دور میں داخل ہوگیا، تاحال بظاہر اس ابتلا کے خاتمے کی کوئی امید نظر نہیں آرہی۔ یہ بات لکھ چکا ہوں کہ عالَم عرب امریکہ اور مغرب کے جدیدتسلُّط کا نکتۂ آغاز صدام حسین کا 1980ء میں ایران اور کویت پر حملہ تھا، عالَمِ عرب میں جو کچھ ہورہا ہے، وہ اسی کا منطقی نتیجہ ہے۔

ٹیگز

Comments

مفتی منیب الرحمن

مفتی منیب الرحمن

مفتی منیب الرحمن، چیئرمین مرکزی رؤیت ہلال کمیٹی پاکستان، صدر تنظیم المدارس اہلسنت پاکستان، سیکرٹری جنرل اتحاد تنظیمات مدارس دینیہ پاکستان، مہتمم دارالعلوم نعیمیہ اہلسنت پاکستان

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.