ہندوستان کی بیٹیاں عزت اور انصاف کی محتاج – منصور الدین فریدی

ایک بار پھر لہولہان ہے ہندوستان، ہندوستان کی بیٹیاں ”بچاؤ بچاؤ‘ کی صدائیں لگا رہی ہیں، کوئی منہ کے بل برہنہ پڑی ہے تو کوئی اپنے جسم میں آگ لگانے پر مجبور ہے۔ کوئی محافظ ہے نہ مسیحا بلکہ جو منصف ہیں وہی قاتل بن رہے ہیں۔ بھوکے بھیڑیے مہذب سماج میں وردی اور واسکٹ میں گھوم رہے ہیں، جہاں کوئی ”بیٹی“ نظر آرہی ہے اسے نوچ کھسوٹ رہے ہیں، مگر ملک ڈوبا ہوا ہے سیاست میں اور فرقہ وارانہ زہر میں۔ جس کے سبب کسی کو کچھ نظر نہیں آرہا ہے اورکچھ سنائی نہیں دے رہا ہے۔ یہاں تک کے ملک میں ”جاگتے رہو‘‘ کی صدا لگانے والا بھی اسی کا حصہ بن گیا ہے۔ حوا کی بیٹی پکاررہی ہے مگر دنیا بہری ہے اور گونگی بنی ہوئی ہے۔ جموں اور اناﺅ میں عصمت دری کے دو خوفناک واقعات نے ”ریپ کلچر‘‘ کے ملک کے سر پر سوار ہونے کا ثبوت دے دیا ہے، ساتھ ہی ایک بار پھر ہندوستانی سیاست میں بھونچال پیدا کردیا ہے۔ سرکار پسینہ پسینہ ہے، کیونکہ یہ ریپ صرف ریپ نہیں بلکہ یہ دہشت گردی ہے، وہی دہشت گردی جو عراق میں داعش نے یزیدی خواتین کے ساتھ کی تھی، ایک منصوبہ بند جرم، نفرت انگیز جرم، ایک سازش، سبق سیکھانے کا عزم۔ ایسی نفرت اور جنون جس نے ملک کا کلیجہ چیر دیا، سیاست اور حکومت د اغدار ہوگئیں، سب اپنا اپنا دامن جھاڑنے لگے، عوام کو بتانے لگے کہ یہ گندگی ہماری نہیں۔

مگر ایک بات واضح ہے کہ ملک پر ایک بار پھر ریپ کی سیاست کا سایہ ہے۔ کانگریس کے گلے میں تو ایک ریپ کا پھندا تھا جسے”نربھیا“ریپ کے نام سے جانتا ہے، اب بی جے پی حکومت کے گلے میں ریپ کے دو تنازعات کے پھندے ہیں۔ بی جے پی کے لیے معاملہ اس لیے بھی نازک ہے کہ جموں اور اناﺅ کے دو خوفناک معاملات میں اس کے دامن کے داغ بن گئے ہیں۔ ایک میں تو زانی بی جے پی کا ممبر اسمبلی ہے اور جموں میں زانی کی حامی بی جے پی ہے کیونکہ پارٹی کے تین وزراء نے عصمت دری کے ملزمین کی حمایت میں جلسے اور جلوس میں حصہ لیا تھا۔ اب ان دونوں معاملات میں بی جے پی گلے تک پھنسی ہوئی ہے۔ سوال ہی سوال ہیں اور کوئی کسی سوال کا سیدھا جواب دینے کےلیے تیار نہیں ہے۔ کیونکہ سب کو ڈر ہے کسی کا ایک بھی لفظ یا جملہ پکڑا گیا تو سیاسی عصمت دری ہوجائے گی۔ جس سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ سیاست کا معیار کہاں ہے؟ مگر ان دونوں ریپ کے واقعات نے ملک کو کچھ اس طرح جھنجھوڑ ڈالا ہے کہ عوامی غم وغصہ کے سبب مودی، مودی، مودی کے نعرے لگانے والے میڈیا نے بھی ”تھو تھو“ کرنا شروع کردیا، سب پلٹ گئے اور سوال کرنے لگے، جواب مانگنے لگے۔ ملک میں زلزلہ آگیا، کیا فلمی ہستیاں، کیا سماجی شخصیات اور کیا دانشور سب کی آوازوں نے ملک میں شور و غل پیدا کردیا۔ دنیا نے دیکھا کہ ہندوستان چیخ رہا ہے تب کہیں کسی ”مہورت“ کے تحت مودی جی کو بھی ”ٹوئٹر“ پر ”دو بول“ بولنے پڑے۔

اس کا ایک سبب یہ تھا کہ کانگریس کے صدر راہل گاندھی نے بڑی خاموشی کے بعد اچانک آدھی رات کو ”’انڈیا گیٹ“ پر موم بتی مارچ میں حصہ لے لیا۔ ساتھ میں پرینکا گاندھی بھی تھیں یہ الگ بات ہے کہ مارچ میں ریپ پر ملال سے زیادہ پریانکا اور راہل کے ساتھ سیلفی کا جوش نظر آرہا تھا۔ دوسرے دن صبح کو سی بی آئی نے اناﺅ کے ملزم اور بی جے پی کے ممبر اسمبلی کو گرفتار کرلیا تو اس کے بعد سیاست میں اور تیزی آگئی۔ ”بیٹی بچاﺅ“ نعرے کا بھرم ختم ہوگیا۔ اب لگ رہا ہے کہ یہ تنازع ”کالا کنواں“ بننے والا ہے، مودی حکومت کےلیے بھی ریپ سیاسی دلدل بن جائے گا۔ ایک ایسا تنازع جو بی جے پی کےلیے چناﺅ میں جان لیوا مرض بن سکتا ہے۔

کیسے بدلے گا ہندوستان، کل کا نعرہ آج کی حقیقت بن کر ہمیں منہ چڑا رہا ہے کہ بدل رہا ہے ہندوستان۔ عصمت دری کے دو واقعات اس بات کا ثبوت ہیں کہ بدل چکا ہندوستان، وہی کا وہی ہے۔ کوئی نہیں بھولا ہوگا کہ 2012 میں دہلی میں ایک میڈیکل طالبہ کی عصمت دری کے بعد زبردست احتجاج ہوئے، جس کے بعد اس وقت کی حکومت کو ریپ کیس کے سلسلے میں سخت قانون بنانا پڑا، مگر ا س کے باوجود صورتِ حال میں کچھ بھی بدلاؤ نہیں آیا، نہ پولیس بدلی، نہ حکومت بدلی، نہ سیاست داں بدلے، نہ نفرت کے سوداگربدلے۔ سب اسی سوچ کے ساتھ میدان میں ہیں۔ جموں میں پولیس کا کہنا ہے کہ عصمت دری اور قتل کا یہ واقعہ علاقے کے مسلم قبیلے کو وہاں سے بھاگنے پر مجبورکرنے کی سازش کا حصہ ہے۔ اس واقعے کو بعض شدت پسند ہندو گروپوں کی جانب سے مذہبی رنگ دے دیا گیا ہے۔ اناؤ اور کٹھوعہ جیسے واقعات موجودہ حکمراں پارٹی، بطورِ خاص “بیٹی بچاؤ، بیٹی پڑھاؤ“ کا نعرہ دینے والے پی ایم نریندر مودی کےلیے بھی شرمناک ہے بلکہ اناؤ کیس میں توعصمت دری کا ملزم خودبی جے پی کا ممبر اسمبلی ہے اور متاثرہ خاتون حصولِ انصاف سے مایوس ہوکر یوپی کے وزیرِ اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ کی رہائش گاہ پر جا کر خودکشی کی کوشش تک کرچکی ہے۔ اس کا الزام ہے کہ انتظامیہ نے اس کی شکایت پر کوئی ایکشن نہیں لیا بلکہ اس کے برعکس اس کے والد کو گرفتار کرلیا گیا، جس کی پولیس حراست میں ہی موت ہوگئی۔ ایک بیٹی مر چکی ہے شاید آسمان پر بیٹھ کر اس گندی دنیا کو دیکھ کر خوش ہو رہی ہو کہ کم سے کم اس گندی دنیا سے نجات تو ملی، جہاں بیٹی بیٹی پکارنے والے تو ہیں مگر بچانے والا کوئی نہیں۔ ایک بیٹی گھر میں آنسو بہا رہی ہے کیونکہ اس کی عزت کی جنگ لڑتے ہوئے باپ دوسری دنیا چلا گیا۔

ہم سب سوچ رہے ہیں کہ کیا ایسے بدلے گا ہندوستان؟ جموں کی آصفہ کے ساتھ درندگی اور قتل کے بعد پورے ملک میں ہنگامہ ہے مگر یہ واقعہ تین ماہ سے پک رہا تھا۔ حکومت نے کوئی سخت کارروائی کی تھی اور نہ پولیس نے، لیکن سیاستدانوں نے اس کو دونوں ہاتھوں سے بھنایا اور ایسا بھنایا کہ اب پورا ملک اس کی آگ میں بھن رہا ہے۔ حالات کا اندازہ اس سے لگایا جاسکتا ہے کہ بچی کے والدین کو خوف اور دہشت کے سبب گاﺅں چھوڑنا پڑا کیونکہ انہیں اپنے ساتھ تو کوئی نظر نہیں آیا مگر مقامی لوگوں کی مخالفت اور ریپ-مرڈر کے ملزمان کو بچانے کے لیے ہو رہے مظاہروں نے خوفزدہ کردیا۔ ڈر کر آصفہ کا خاندان گاؤں چھوڑ کسی نامعلوم جگہ پر چلا گیا ہے۔ آصفہ کے والد نے براہ راست مودی سے سوال کیا ہے کہ” بیٹی بچاؤ، بیٹی پڑھاؤ کی بات کی تھی، کیا یہی ہے ان کا نعرہ؟ بی جے پی کے وزراء ہماری بیٹی کے قاتلوں کے ساتھ کھڑے ہیں اور مودی کچھ بھی نہیں بول رہے ہیں۔“ آصفہ کی والدہ نے کہا ہے کہ اسے اپنی بیٹی کے لیے انصاف چاہیے اور جیسے ان لوگوں نے آصفہ کا مارا، اسی طرح ان لوگوں کو بھی پھانسی دی جانی چاہیے۔

جب اس معاملہ نے فرقہ وارانہ رنگ کے ساتھ آگ بھڑکی توسب باہر نکل آئے کیونکہ اب سب کی سیاست پر اثر پڑرہا ہے، کوئی ننگا ہے اور کوئی ادھ ننگا۔ اب مودی بھی بولے، اب راہل بھی سڑک پر آگئے۔ سوال یہ ہے کہ یہ کیسا ریپ تھا؟ ایسے ریپ اور قتل کی کوئی اور نظیر نہیں مل سکتی۔ لڑکی کے اغوا کا منصوبہ تین ماہ قبل بنایا گیا تھا، اس میں کیا بچہ اور کیا بوڑھا، کیا بدمعاش اور کیا وردی پوش، سب شامل تھے۔ مگر سب سے اہم بات یہ ہے کہ اس سازش کے پیچھے نفرت تھی۔ بکریوال برادری سے انتقام لینے اور سبق سکھانے کا جنون تھا۔ ایک خطرناک رجحان جس کو کھلی دہشت گردی کہا جائے گا۔ جب عراق میں داعش کے دہشت گردوں نے یزیدی خواتین کے ساتھ اسی سوچ کے ساتھ ایسا ہی کچھ کیا تھا تو دنیا کانپ گئی تھی، اب جموں میں ویسا ہی ہوا ہے۔

افسوس اس بات کا ہے کہ ریاست میں بی جے پی اور پی ڈی پی کی مخلوط حکومت ہے، اس معاملے پر دونوں طویل عرصے تک خاموش رہیں اورجب دامن جلنے شروع ہوئے تو بھاگ دوڑ شروع ہوئی ہے۔ ریاست کی وزیر اعلیٰ محبوبہ مفتی کےلیے آگے کنواں پیچھے کھائی کا عالم ہے۔ کیا کریں اور کیا نہ کریں؟ بی جے پی کا ساتھ ختم کرتی ہیں تو اس بات کی کیا ضمانت کے عوام دوبارہ چن لیں گے؟ اس لیے انہوں نے مودی پر دباﺅ ڈالا کہ کچھ نہ کچھ ایسا کریں جو یہ پیغام جائے کہ آصفہ کے ساتھ انصاف ہورہا ہے جس کے سبب دو وزراء نے استعفا دیا۔ مگر زخم اتنا گہرا ہے کہ اس قسم کے مرہم سے نہیں بھرے گا۔

حقیقت یہی ہے کہ یہ سیاست ہے جس نے آصفہ کی اس کہانی کو لکھا ہے، جموں میں فرقہ وارانہ ماحول سازی اور مذہب کی بنیاد پر سیاست نے لوگوں کے دل و دماغ کو ایسا متاثر کیا ہے کہ ان کو ایک بچی کے ساتھ حیوانیت کا ننگا ناچ کرنے میں ذرا سی بھی ہچکچاہٹ محسوس نہیں ہوئی۔ اس معاملے میں کوئی سیاستداں دامن جھاڑ سکتا ہے نہ ہاتھ کیونکہ یہ سیاست ہے جس نے جموں میں ایک حب الوطن برادری کو نفرت کا نشانہ بنا دیا ہے۔ یہی بکریوال برادری ہے جس نے تقسیم ملک کے دوران کشمیر میں ہندوستان کا ساتھ دیا تھا۔ آج ان کے خلاف زہر اگلا جارہا ہے۔ ان کو ناقابل برداشت مانا جارہا ہے۔ سیاست کا اندازہ اس سے لگایا جاسکتا ہے کہ دو وزراء نے استعفا دیا تو بی جے پی کے ترجمان اشوک کول کا کہنا ہے کہ استعفا دینے کا مطلب یہ نہیں کہ انہوں نے کچھ غلط کیا ہے، حالات کے پیش نظر ایسا کیا گیا ہے۔

یہ سیاست ہے جس نے ملک کو ریپستان بنا دیا ہے، زانیوں کی پشت پناہی اور سینہ زوری ملک کےلیے تباہ کن ہوگی۔