درس نظامی: چند مباحث (3) - محمد دین جوہر

پچھلی قسط

سوال نمبر ۱: درس نظامی اپنی ترتیب میں آخر کس علمی روایت سے جڑا ہوا ہے؟

جواب: یہ جاننا آسان ہے کہ درسِ نظامی اسلامی تہذیب کی علمی روایت سے جڑا ہوا ہے۔ مشکل یہ جواب دینے سے پیدا ہوتی ہے۔ اس کی بڑی وجہ یہ ہے ہماری پوری علمی روایت فراموشگاری میں ہے، عدم تسلسل میں ہے، انقطاع میں ہے۔ لیکن دینی عقائد و اعمال کی روایت اپنے تسلسل میں باقی ہے۔ اس بات کا سمجھنا ضروری ہے۔ دینی عقائد و اعمال کا نسل در نسل منتقل ہونا ایک بدیہی امر ہے اور اسی تسلسل ہی کی وجہ سے ہم آج مسلمان ہیں۔ ہدایت کا کوئی جز بھی گم شدہ نہیں ہے۔ یہ بات پورے یقین سے کہی جا سکتی ہے کہ حضور علیہ الصلوٰۃ و السلام جس ہدایت کے ساتھ مبعوث ہوئے وہ اپنے اجزا میں بھی محفوظ ہے، معلومیت میں ہے، اور قابل رسائی ہے۔ اس تسلسل میں کئی معروف عوامل کارفرما ہوتے ہیں اور اس کی حیثیت ضروری ”معلومات“ کے ایک نسل سے دوسری نسل تک منتقل ہونے کی ہے۔ ضروری ”معلومات“ کے تسلسل کے لیے معمولی درجے کا تعلیمی عمل کافی ہوتا ہے، اور اس میں گھریلو ماحول اور تربیت، مسجد، مکتب، اچھی صحبت، اور کئی دیگر سماجی عوامل وغیرہ کارفرما ہوتے ہیں۔ یہ عمل غیر رسمی (infromal) یا نیم رسمی (semi-infomral) ہوتا ہے۔ یہ امر ممکن ہے اور مشاہدے میں بھی ہے کہ دیندار والدین کی اولاد بھی دیندار ہو، اور ایسا ہونا دینی روایت کے تسلسل ہی کو ظاہر کرتا ہے۔ یہ بات عام مشاہدے اور ہر کسی کے تجربے میں ہے کہ ہم نے جن لوگوں سے دین سیکھا ان میں کوئی بھی اساطین یا اکابرین میں سے نہیں تھا اور وہ عام لوگ تھے اور ایک بڑے روایتی تسلسل کا حصہ تھے۔

لیکن ہماری یا کسی بھی دوسری علمی روایت کے بارے میں یہ بات نہیں کہی جا سکتی۔ علم، ضروری معلومات کی طرح منتقل نہیں ہوتا کیونکہ اس کے لیے نہایت رسمی (formal) طریقۂ ہائے کار وضع کیے جاتے ہیں، اور انہیں بڑی محنت سے باقی رکھا اور آگے منتقل کیا جاتا ہے۔ یہ معمول ہے کہ کوئی آدمی مثلاً اصول فقہ سے مکمل لاتعلقی میں متقی اور دیندار ہو، لیکن یہ ممکن نہیں کہ وہ درس نظامی یا علوم میں بنیادی تربیت سے عاری اور لاتعلق ہو اور عالم بھی ہو۔ صرف و نحو، لفظ و معنی اور اصول وغیرہ کی بحث تقویٰ کے لیے غیرضروری ہے، لیکن علم کے لیے لابدی ہے۔ اس امر کو سمجھنا آسان ہے اگر تعلیم اور علم کی مماثلتوں کے ساتھ ساتھ ان کے امتیازات معلوم ہوں اور مباحث میں ان کی رعایت بھی رکھی جائے۔ درسِ نظامی کی نہایت معمولی ذمہ داری یہ تھی کہ دینی احکام و عبادات یعنی دینی معلومات کو علی حالہٖ اگلی نسلوں تک منتقل کیا جائے۔ لیکن اس کی اصل ذمہ داری یہ تھی کہ تاریخی مؤثرات سے دینی روایت پر جو دباؤ پیدا ہوتے ہیں، ان کا درست ادراک کیا جائے، اور ان کے تدارک کے امکانات کا فکری اندازہ لگایا جائے اور اس کام کے لیے علمی وسائل فراہم کیے جائیں۔

مثلاً استعماری دور میں معترضین نے عقائد بالخصوص معجزات کو مشتبہ بنانے کے لیے جدید علمی وسائل کو استعمال کیا۔ اس صورت حال کی بصیرت کا حاصل کرنا درست جواب کے لیے لازمی تھا۔ جب کوئی علمی اعتراض سامنے آ جائے تو دینی موقف دہرانے یا فتویٰ دینے سے کوئی مسئلہ حل نہیں ہوتا، کیونکہ متعلقہ دینی موقف کی ثقہ معلومیت ہی وجہِ اعتراض ہوتی ہے۔ اعتراض کے دو مقاصد ہوتے ہیں۔ ایک یہ کہ کسی دینی مسئلے کی ثقہ معلومیت کو مشتبہ بنا دیا جائے۔ یہ دینی روایت، اس کے مشمولات، اور ان کے استناد پر حملہ ہے۔ اس اعتراض کا جواب دینے کے لیے ایک ایسی تاریخی اسکالرشپ ناگزیر ہو جاتی ہے جو پوری دینی اور علمی روایت پر محیط ہو۔ مستشرقین، مشنری عیسائیت اور متجدیدین کے ”تحقیقی“ اعتراضات ایسی ہی تاریخی اسکالرشپ سے پیدا ہوئے تھے اور اس کے مساوی اسکالرشپ سے دفع کیے جا سکتے تھے۔ مثلاً برصغیر میں مشنری عیسائیت کی طرف سے اٹھائے گئے اعتراضات کے رد میں مولانا رحمت اللہ کیرانویؒ اور ناصر الدین محمد ابو المنصورؒ کا کام ایسی اسکالرشپ ہی کی شاندار مثالیں ہیں۔ اعتراض کا دوسرا مقصد دینی اور علمی روایت کے تاویلی اور تعبیری وسائل کو مشتبہ بنانا اور انہیں مسترد کرنا ہوتا ہے۔ اعتراض کے اس پہلو سے نمٹنے کے لیے نظری یعنی فلسفیانہ وسائل کی ضرورت ہوتی ہے۔ نظری پہلوؤں سے ہماری کارکردگی کہیں زیادہ مایوس کن ہے کیونکہ اس کی کوئی مثال بھی نہیں دی جا سکتی۔ لیکن ماضی میں اصول دین کی روایت نظری کارگزاری کی شاندار مثال ہے۔

مجھے اس میں قطعی کوئی شبہ نہیں کہ درس نظامی طالب علم کو تحقیقی اور نظری وسائل سے لیس کرنے کے مکمل وسائل رکھتا تھا۔ اس امر میں بھی کوئی کلام نہیں کہ نظری سرگرمی کی بنیاد محکم تحقیقی کام یا مستند روایت پر اٹھائی جانی چاہیے۔ افسوس کہ ہم نے اپنی نادانی میں درس نظامی کو فرقہ واریت اور جہالت سازی کا ہی ذریعہ بنایا ہے۔ اللہ ہمارے حال پر رحم کرے۔

سوال نمبر ۲: کیا ”حقیقی“ درس نظامی اور عصری تقاضوں میں کوئی ایسی نسبتیں موجود ہیں جنہیں عملی طور پر بروئے کار لایا جا سکے؟

جواب: کیوں نہیں۔ اس سوال کو دوسرے طریقے سے پوچھتے ہیں: کیا ہمیں درس نظامی اور علمی اور دینی روایت کی باہمی نسبتیں معلوم ہیں؟ چونکہ وہ معلوم نہیں ہیں، اور نہ ان کا کوئی مفصل بیان سامنے ہے، اس لیے یہ ممکن نہیں کہ ہمیں درس نظامی اور عصری تقاضوں کی نسبتیں بھی معلوم ہو سکیں۔ ”نسبتیں معلوم کرنا“ فعال عقل کی بنیادی ترین نظری سرگرمی اور اس کی اولین ذمہ داری ہے۔ درس نظامی میں فعال عقل اور عقلیت کو معروف شرائط پر بہت مرکزی جگہ دی گئی تھی۔

جدیدیت اور اس کے زائیدہ علوم میں مذہب کو غیر عقلی ”ثابت“ کرنا ایک اساسی علمی اور سیاسی موقف کی حیثیت رکھتا ہے۔ ہم نے اس کو دو اطوار سے اپنایا۔ متجددین نے اس جدید استعماری اور استشراقی موقف کو من و عن قبول کر کے جدیدیت کے وسائل کو استعمال کرتے ہوئے دینی روایت پر دھاوا کیا اور یہ ثابت کرنے کی کوشش کی کہ دینی روایت کے کثیر مشمولات یا تو عقل کے خلاف ہیں یا غیرمستند ہیں۔ یہ دینی روایت پر باہر سے حملہ تھا۔ نام نہاد ”روایت پسندوں“ نے درس نظامی میں فراہم شدہ عقلی اور نظری وسائل کو بتدریج ختم کر کے یا ان سے دستبردار ہو کر جدیدیت کی معاونت کی۔ یہ جدیدیت کو ملنے والی داخلی کمک تھی کیونکہ اس عمل نے کسی بھی جوابی علمی کام کے امکانات کو ختم کر دیا۔ ہم نے بہت محنت اور ریاضت سے ”مذہبی ہونے“ اور ”عقل دشمن ہونے“ میں بہت مضبوط نسبتیں قائم کر لی ہیں، اور ایسے ایسے جعلی علوم پیدا کیے ہیں کہ عقل دنگ رہ جاتی ہے۔

اگر ہم دو سوالوں کا جواب دینے کی سکت رکھتے ہوں تو صورت حال کو سمجھنے اور تبدیل کرنے کی طرف پیشرفت ہو سکتی ہے: ایک، گزشتہ تین سو سال میں تشکیل شدہ ہمارے علوم میں کارفرما تصورِ عقل کیا ہے؟ دوم، عین اسی عرصے میں سامنے آنے والے ہمارے علوم میں کارفرما ہماری منہج علم کیا ہے؟ ان دونوں سوالات کا جواب پہلے دیے بغیر علم کی کوئی تشکیل نہیں ہوتی۔ تبلیغی، تشریحی اور توضیحی دروس اور مواعظ کسی بھی علمی روایت کی داخلی سرگرمی اور تعلیمی عمل کا حصہ ہیں اور اس کا محور عموماً اقدار، احکام اور عبادات ہوتی ہیں۔ اس تعلیم کو علم سمجھنے کا التباس نہ صرف علمی روایت بلکہ پوری تہذیب کے لیے جان لیوا ہے اور ہمارے ہاں یہی ہوا ہے۔

یہ گزارشات کرنے کی ضرورت اس لیے پیش آئی کہ ”درس نظامی اور عصری تقاضوں میں نسبتوں“ کا مسئلہ عقلی اور نظری ہے، تجربی نہیں ہے۔ لیکن اس مسئلے کو جس احمقانہ تجرباتی انداز میں حل کیا جا رہا ہے، اسے کم از کم مجرمانہ ہی کہا جا سکتا ہے۔ آپ نے ان نسبتوں کو عملی طور پر بروئے کار لانے کی بات بھی کی ہے۔ اسے میں نے اگلے سوال کے تحت زیربحث لانے کی کوشش کی ہے۔

سوال نمبر ۳: کیا اس دور محکومی میں درس نظامی کی روزگار کے حوالے سے کوئی افادیت ممکن ہے؟ شاید مندرجہ بالا دو اعتراض یعنی سوال نمبر ٢ اور ٣، فی الوقت درس نظامی پر سنگین نوعیت کے اعتراضات میں سے ہیں۔

جواب: گزارش ہے کہ لارڈ میکالے کے دیے گئے نظام تعلیم کے نظری اور عملی پہلوؤں کا مطالعہ کرنے کے بعد میں اس نتیجے پر پہنچا ہوں کہ اس کے دو مقاصد بہت اہم تھے۔ ایک یہ کہ تعلیم کو مکمل طور پر سیاسی طاقت اور سرمائے کی ترجیحات پر تشکیل دیا جائے، یعنی اسے تدریجی عمل سے مکمل طور پر سیکولر بنا دیا جائے۔ دوسرا مقصد ضمناً اسی سے پیدا ہوا تھا کہ مقامی لوگوں کی زبانوں کو بالکل مسمار کر دیا جائے۔ سیکولر معاشرے کا قیام غیب کے دروازوں کو مکمل بند کیے بغیر ممکن نہیں ہوتا، اور اس کے لیے عمل کو فعل بنانا اور ”لفظ“ کو شے اور فعل کی حوالات میں مقید کرنا ضروریاتِ جدیدیت سے ہے۔ سیکولر معاشرہ لفظ کو مکمل طور پر ارضی بنانے پر اصرار کرتا ہے کیونکہ کلام وحی سیکولر معاشرے کی کھنڈت ہے۔

درس نظامی میں عربی زبان کی حیثیت مرکزی اور فارسی کو ثانوی درجہ حاصل تھا۔ اردو اس میں ضمناً شامل تھی۔ اگر ”حالات کے تقاضوں“ کو مدنظر رکھتے ہوئے اس میں انگریزی کو بھی شامل کر لیا جاتا تو شاید وہ سوال ہی پیدا نہ ہوتے جو آپ پوچھ رہے ہیں۔ اگر درس نظامی کی تدریسی روایت میں رہتے ہوئے ان چاروں زبانوں کی اعلیٰ تدریس کو ممکن بنایا جاتا تو عملی مسائل بھی حل ہو جاتے۔ درس نظامی صرف زبانوں کی اعلیٰ تدریس سے پورے معاشرے کی نہ صرف ضرورت بن سکتا تھا، بلکہ اس کا مکمل تہذیبی شعور بننے کی صلاحیت بھی رکھتا تھا۔ آج کی کارپوریٹ جدید تعلیم میں بھی انگریزی کی تدریس ازحد پست اور محض ڈھکوسلا ہے۔ پبلک اور پرائیویٹ ایجوکیشن میں بھی انگریزی اور اردو کا معیار ناگفتہ بہ ہے۔ اگر کچھ بھی بصیرت ہوتی اور درس نظامی کو سیاست بازی کا ایندھن نہ بنایا جاتا تو یہ ممکن تھا کہ پورے معاشرے میں تدریسِ زبان کی ذمہ داری درس نظامی کے سپرد ہو جاتی۔ اگر درس نظامی میں موجود دینی، علمی اور عقلی وسائل ہی کو بروئے کار لایا جاتا تو جدید تاریخ میں اس کو غیرمعمولی افادیت کی چیز بنانا مشکل نہ تھا۔

سوال نمبر ۴: درس نظامی کو چھوڑنا جو کہ تقریباً آپ کے جوابات کی روشنی میں شاید بر صغیر میں ہماری تہذیبی روایت کو چھوڑنے کے مترادف ہوا اور اس جگہ کے دروازے کو بند کرنے کے مترادف ہوا جہاں سے ہم اپنی تہذیبی زندگی کی نمو کے لیے خون لیتے ہیں، آپ کے خیال میں درس نظامی کے غیر مؤثر ہونے کے کیا معانی ہیں؟ اس کے اسباب کیا ہیں؟ اور درس نظامی کو چھوڑنے کے کیا واضح نقصانات ہوئے؟ چند کی نشاندہی کر دیں۔

جواب: یہ کہنا درست نہیں کہ درس نظامی ہماری ضروریات کو پورا نہیں کرتا۔ یہ کہنا قرین قیاس ہے کہ ہمیں اپنی اجتماعی ضروریات کا نہ کوئی شعور ہے، اور نہ انہیں کسی بھی تہذیبی معیار پر پورا کرنے کے کوئی اہلیت باقی رہی ہے۔ کیا ہم نے پبلک ایجوکیشن سے اپنی قومی اور معاشرتی ضروریات کو معروف شرائط پر پورا کرنے اہلیت پیدا کر لی ہے؟ اس کا جواب نفی میں ہے۔ ایسی صورت میں درس نظامی پر یہی سوال اٹھانا لغو ہے۔ درس نظامی کے غیرمؤثر ہونے کے اسباب بالعموم وہی ہیں جو ہماری قدیم و جدید چیزوں کے غیرمؤثر ہونے کے ہیں۔

درس نظامی کے غیرمؤثر ہونے اور اس کی احمقانہ قطع و برید کا سب سے بڑا نقصان یہ ہوا ہے کہ ہم دینی روایت سے جڑنے کے وسائل سے محروم ہو گئے ہیں۔ ہماری موجودہ صورت حال اس تہی دامنی کی وجہ سے ہے۔ درس نظامی زوال اور استعمار سے قبل کی دینی روایت سے جڑنے کا واحد ذریعہ تھا۔ اب شاید ہمیں یہ بھی معلوم نہیں رہا کہ ہماری یا کسی بھی زندہ معاشرے کی اجتماعی اور تہذیبی ضروریات ہوتی کیا ہیں۔

سوال نمبر ۵: درس نظامی دوسرے علوم کے علاوہ خاص کر صرف و نحو اور منطق پر کافی زیادہ زور دیا جاتا ہے، کہ صرف کی تقریبا ٧ کتب اور نحو کی تقریبا ٥ کتب جبکہ منطق کی تقریبا ٨ کتب درس کا حصہ ہیں اس کی کیا وجہ ہو سکتی ہے؟ جبکہ حدیث کی صرف مشکات المصابیح اور تفسیر میں بیضاوی اور جلالین، اور بیضاوی کے ڈھائی پارے ہوتے ہیں اور جلالین کے اختصار کا حال یہ ہے کہ اس کے بارے مشہور ہے کہ اس کےالفاظ وحروف قرآن مجید کے الفاظ و حروف کے برابر ہیں۔

جواب: یہ تو معلومات ہیں، سوال کوئی نہیں۔ ان معلومات سے متعلق گفتگو دیگر سوالات کے ضمن میں ہو چکی ہے۔