رمضان المبارک اور خود احتسابی (2) - بشریٰ تسنیم

پچھلی قسط

اصلاح کے طریقے

• تجدید ایمان کی تلقین" لا اله الا اللہ"کا ذکر کرنے سے کی گئی ہے۔ جب بھی یہ ذکر کیا جائے تو اپنے اور اللہ رب العزت کے درمیان جو رشتہ ہے اس کو شعوری کوشش کرکے دل میں محسوس کیا جائے۔

• اسماء الحسنی کو یاد کرنے پہ جنت کی بشارت ہے۔ أسماء الحسنی در اصل اللہ تعالیٰ کی معرفت ہے۔ معرفت محض زبان سے نام دہرانے سے نہیں مل سکتی۔ اللہ تعالیٰ سے اس کی ذات کی معرفت مانگیں بھکاری بن کر۔ جس کی جھولی بھر گئی وہ ولی اللہ ہوگا۔

• اللہ رب العزت کی بارگاہ میں کھڑے ہونے کے شعوری تصور کی پریکٹس دن میں پانچ مرتبہ فرض کی گئی اس لیے کہ باقی اوقات میں بھی یہ عمل جاری رہے۔

رمضان المبارک کے قیام اس پریکٹس میں اضافہ کرتے ہیں تاکہ اگلے گیارہ ماہ یہ مشق جاری رہے۔

توحید تو یہ ہے کہ خدا حشر میں کہہ دے

یہ بندہ دو عالم سے خفا میرے لیے تھا

اے اللہ! ہم تجھ سے اپنے سارے معاملات کی درستی کے لیے التجا کرتے ہیں اس لیے کہ ہم صدق دل سے گواہی دیتے ہیں کہ تیرے سوا کوئی معبود نہیں۔ تو اکیلا ہے، بے نیاز ہے، نہ تیری کوئی اولاد ہے اور نہ تو کسی کی اولاد ہے اور نہ کوئی تیرا ہمسر ہے نہ کبھی ہوگا۔

ہم ان سب قصوروں کی معافی چاہتے ہیں جو تیری ذات و صفات کے ساتھ ہم سے سرزد ہوئے۔ اور تیری خالص بندگی کے لیے تجھ سے ہی اعانت طلب کرتے ہیں۔

لا الہ الا انت سبحانك انا کنا من الظالمين

اللہ رب العلمین اور بندہ مؤمن کے درمیان عبد اور معبود کا رشتہ جس قدر مضبوط ہوگا ایمان کی دوسری شق "محمد رسول اللہ" کی گواہی اتنی ہی سچی ہوگی۔ اگر احتساب نفس سے یہ نتیجہ نکلا کہ عقیدہ توحید کے شیشے میں بال ہے تو عقیدہ رسالت میں جھول لازمی ہوگا اور یہ اللہ الخالق کے ساتھ شرک کی مزید ایک کڑی ہوگی۔

اللہ پہ پختہ ایمان ہی ہمیں یہ ماننے پہ مجبور کرتا ہے کہ اس نے اپنا ایک پیغمبر ہماری راہنمائی کے لیے مبعوث فرمایا۔ وہ انسانوں میں سے ایک انسان، اللہ کے بندوں میں سے ایک بندہ ہے۔ خاص الخاص خاصیت یہ ہے کہ اللہ نے اس بندے کو اپنے لیے منتخب کر لیا۔ اپنا محبوب بنایا، امام الانبیاء بنایا، ہمارے لیے اسوہ کامل بنایا۔ رب نے ان کا درجہ جو مقرر کر دیا کوئی اس کو نہ بڑھا کر رب کے برابر کر سکتا ہے نہ اس کی شان میں کوئی گستاخی کر سکتا ہےاس لیے کہ وہ خاتم النبیین ﷺ ہے۔

اللہ تعالىٰ نے فرمایا اگر توحید کی اعلیٰ ترین ایمانی کیفیت پاکر مجھ سے محبت محسوس ہوتی ہے تو اس کا ثبوت بھی پیش کرو۔ اور وہ ثبوت رسول ﷺ کی اطاعت کرنا ہےسب کے لیے اسوہ کامل وہی ہے۔

قُلْ إِنْ كُنْتُمْ تُحِبُّونَ اللَّهَ فَاتَّبِعُونِي يُحْبِبْكُمُ اللَّهُ وَيَغْفِرْ لَكُمْ ذُنُوبَكُمْ ۗ وَاللَّهُ غَفُورٌ رَحِيمٌ (سورہ آل عمران 31)

ہم اللہ سے محبت کے دعوے دار اپنا محاسبہ کریں کہ جو رشتہ اللہ تعالیٰ نے ہمارے اور نبی اکرم ﷺ کے درمیان قائم کیا وہ کس نہج پہ ہے؟ اللہ تعالیٰ نے تو قانون بنایا کہ اتباع نبی کی شرط پہ میری محبت حاصل ہوگی۔ ہم نبی اکرم ﷺ کی اطاعت میں کتنے سرخرو ہیں؟ اگر نبی کریم ﷺ کے مقام کو اس کی اطاعت کو اپنی مرضی سے من کی خواہش پہ سمجھا اور اسی کو دین سمجھا تو پھر یہ بھی سوچیں کہ ہم نے رب کی مرضی کے خلاف کیا اور اس پہ اصرار بھی کیا۔ گویا کہ جو پیمانہ اللہ نے اپنی محبت کے لیے بنایا ہم نے اس سے انحراف کی پالیسی اپنائی۔ اللہ رب العزت نے اپنے نبی کو بشر کہا ہم نے غلو کیا۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا غیب کا علم میں نے کسی کو نہیں دیا۔ ہم نے نبی اکرم ﷺ کی محبت میں انہیں حاضر و ناظر بنا دیا۔ نبی کریم ﷺ خود وضاحت کر رہے ہیں کہ اگر مجھے غیب کا علم ہوتا تو میں اپنے لیے خیر ہی جمع کر لیتا اور مجھے کوئی تکلیف یا پریشانی کا سامنا نہ کرنا پڑتا۔ مگر ہم مصر ہیں کہ وہ غیب سے واقف ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے شفاعت کے لیے سارے اختیارات اپنے پاس رکھے ہیں اور شفاعت کے لیے ایک پیمانہ رکھا ہے مگر ہم اس پہ مطمئن ہیں کہ شفاعت کے لیے قرآن و سنت کے مطابق عمل کریں نہ کریں شفاعت ہمارا حق ہے کہ اس کے امتی ہیں۔

کیا کبھی سوچا ہم نے کہ جب میدان حشر میں ہمارا نام پکارا جائے گا تو نبی کریم صل اللہ علیہ و سلم کا چہرہ خوشی سے دمک اٹھے گا یا اداس ہوگا؟

کیا ہم ان لوگوں میں شامل ہوں گے جو اللہ کے اذن سے جنت میں پہلے پہل داخل ہوں گے اور نبی ﷺ فخر کریں گے یا وہ نکمے نالائق امتی ہوں گے جن کی شفاعت کا اذن ملنے کے انتظار میں نبی صل اللہ علیہ و سلم کھڑے رہیں گے اور ہمیں ڈرنا چاہیے اس وقت سے جب ہمارے نبی کریم صل اللہ علیہ و سلم کچھ لوگوں کی شکایت اللہ سے کر رہے ہوں گے کہ انہوں نے میرے بعد قرآن کو چھوڑ دیا تھا وَقَالَ الرَّسُولُ يَا رَبِّ إِنَّ قَوْمِي اتَّخَذُوا هَٰذَا الْقُرْآنَ مَهْجُورًا (سورہ الفرقان 30)

سیرت النبی کی روشنی میں اپنےاعمال کا جائزہ لیں اور لسٹ بنائیں کتنی بدعات زندگی میں فرض سمجھ کر اپنا رکھی ہیں۔ محاسبہ کریں اپنا کہ شفاعت کے قابل کون کون سے اعمال ہم کر رہے ہیں؟ اس لیے کہ اللہ تعالیٰ جس بندے کے اعمال سنت رسول ﷺ کے مطابق پائے گا اسی کو قبول کرے گا اسی کی شفاعت کا اذن دے گا۔ رب العزت تو اسی سے خوش ہوگا جو اس کے نبی کا کہنا مانے گا۔ ہم اندازہ لگائیں کہ صبح سے شام تک کتنے کام ایسے ہیں جو مسنون طریقہ سے کرتے ہیں اور بدعات سے پاک ہوتے ہیں؟

ایک بار پھر سوچ لیں ہم اللہ کے ساتھ، اپنے نبی ﷺ کے ساتھ کس طرح کا رشتہ بنائے ہوئے ہیں؟ اگر اللہ تعالیٰ نے جو مقام کامل اپنے نبی کا مقرر کرکے ہمیں دیا ہم اس کو بعینہ تسلیم نہیں کرتے تو اللہ کے معاملات میں مداخلت کرتے ہیں۔ کیا یہ عقیدہ توحید اور ایمان کے منافی نہیں؟ عقیدہ توحید و رسالت میں پختگی نہ ہوگی تو ساری عبادتیں بھی اللہ کے رنگ میں رنگی نہ ہوں گی۔

اصلاح کیسے ہو؟

• اپنے غلط افکار پہ اللہ تعالیٰ کے حضور صدق دل سے معافی مانگی جائے اور دعا کی جائے کہ اللہ رب العزت ہمیں عقیدہ رسالت اور نبی اکرم صل اللہ علیہ و سلم کی محبت، عقیدت، اتباع کے لیے سچا علم، عطا فرمائے۔ وہی علم جو خود رب نے اتارا ہے۔ غلو کے فتنہ سے بچائے

• سیرت النبی کا مطالعہ قرآن و حدیث کے ساتھ ساتھ لازمی کیا جائے۔

• روزانہ ایک سنت کو زندگی میں شامل کیا جائے اور بدعات کو ختم کیا جائے

• نبی کریم کی شفاعت حاصل کرنے کے لیے وہ اعمال کیے جائیں جن سے شفاعت ملنے کی امید دلائل گئی ہے۔

• درود شریف پڑھنا دراصل اللہ تعالیٰ سے عہد کی تجدید ہے کہ ہم اپنے نبی کریم صل اللہ علیہ و سلم کی تعلیمات اور مشن کو جاری رکھیں گے۔

کیا وعدے کی تجدید کے الفاظ سینکڑوں کے حساب سے ہوں اور وعدہ وفا نہ کیا جائے تو یہ اتباع رسول ﷺ ہوگی؟ اگر اتباع رسول ﷺ نہ ہوئی تو اللہ سے محبت کیسے مانی جائے گی؟

لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ دراصل وہ شجر طیبہ ہے جس پہ اعمال صالحہ کے پھل لگتے ہیں۔

لا اله الا اللہ محمد رسول اللہ پہ ایمان کی اگلی شق کلام اللہ پہ مکمل ایمان ہے۔ ذالک الکتب لا ریب فیه کے اقرار کے بعد اس کے کسی حکم، جملے آیت پہ شک ہونا یا اس کو اس دور میں قابل عمل نہ سمجھنا ایمان کے منافی ہے اور اس منفی سوچ سے لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ کا اقرار بھی مشکوک ہوجاتا ہے۔ اللہ، رسول اور قرآن پہ ایک ساتھ مکمل لاریب ایمان ہی اسلام کا مکمل دائرہ ہے۔ قرآن پاک وہ دستور زندگی ہے جس کے مطابق زندگی گزارنا ہی دائرہ اسلام میں رہنے کی شرط ہے۔

ہم قرآن پاک کو آئینہ بنا کر اپنے اقوال و أعمال کو پرکھیں اپنا احتساب کریں تو معلوم ہوگا کہ ہم اپنے آپ کو مسلمان کے نام پہ دھوکا دے رہے ہیں۔

قرآن پاک سے ہمارا سلوک ظالمانہ ہے۔ اس کے کیا حقوق ہیں؟ بہت کم مسلمان جانتے ہیں۔ اس کا حقیقی ادب و إحترام کیا ہے؟ اس سے ناواقف ہیں۔ ہم انتہائی کم عمری میں کتابوں کے ڈھیر اپنی اولاد کی کمر پہ لاد دیتے ہیں۔ سالہا سال وہ علم کے نام پہ معلومات کا ذخیرہ جمع کرتے ہیں کہ کسی روزگار کے قابل ہو جائیں۔ مگر وہ علم جو دستور زندگی ہے اس کے لیے زندگی کے پورے پرائم ٹائم میں سے صرف چند گھنٹے کافی سمجھے جاتے ہیں۔ وہ کتاب جس پہ حقیقی زندگی کا دارومدار ہے اس سے شناسائی سرسری سی ہوتی ہے۔ تعلیم تو یہ تھی کہ اس قرآن کو زندگی کے کسی مرحلے میں بھی پس پشت نہ ڈالا جائے ہم نے اس کی طرف پشت نہ ہونے کے خدشے کے پیش نظر اسے ایسے اونچے طاق پہ رکھ دیا کہ رسائی مشکل ہو گئی۔ مقصد تو یہ تھا کہ اپنی بچیوں کی تعلیم و تربیت پرورش قرآن کی تعلیمات کے سائے میں کرتے ہوئے شوہر کے ساتھ رخصت کی جائے۔ ہم نے اس کا بڑا آسان حل نکالا کہ پرورش تو جیسے مرضی کرلیں مگر دلہن کو قرآن مجید کے سائے میں رخصت کرکے سمجھتے ہیں کہ قرآن کا حق ادا کر لیا۔ اپنے معمولات زندگی میں قرآن پاک کے اثر رسوخ پہ غور کریں تو عموماً ایسی صورت حال نظر آتی ہے کہ وہ صرف اس وقت یاد آتا ہے جب کسی دنیاوی مشکل کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ کسی مرنے والے کے سرہانے یامرنے کے بعد کئی جمعرات اجرت پہ بلائے گئے قاریوں سے متعدد بار پڑھوا لیا۔ سمجھے بغیر، غور و فکر اور تدبر کیے بغیر اس کلام کو زبان سے ادا کر دینا اس کا حق ادا کرنا نہیں ہے۔ أفلا یتدبرون القرآن؟

قرآن مجید اللہ کا کلام ہے، کسی انسان کا نہیں، اس کی عظمت اسی طرح سب پہ برتر ہے جس طرح اللہ رب العزت کی اپنی ذات۔ اللہ کی ذات تک پہنچنے کا ذریعہ اس کا کلام ہے۔ اس کی معرفت حاصل کرنے کے لیے اس کا فہم اس پہ تدبر لازمی ہے۔ اس کا علم دنیا کے سارے علوم کو وقعت عطا کرتا ہے قرآن کے علم کے بغیر دنیا کا ہر علم صفر ہے۔ قرآن مجید کی تعلیم کو دنیاوی تعلیم کے مقابلے میں ثانوی حیثیت دینا اپنے اوپر ظلم ہے اور اللہ کے کلام کی توہین ہے۔ دنیا کی اعلیٰ سے اعلیٰ ڈگری حاصل کر لینا اس وقت اہم ہو جائے گاجب قرآن پاک کا فہم و تدبر بھی حاصل ہو جائے گا۔

جاری ہے