سیمینارز سے ووٹ کو عزت ملے گی؟ - یاسر محمود آرائیں

اسلام آباد میں "ووٹ کو عزت دو" کے عنوان سے ایک سیمینار کا انعقاد ہوا، لیکن کیا یہ اجتماع ووٹ کو عزت دلانے کے لیے کافی ہو سکتا ہے؟ اس سوال اور میاں صاحب کے دیگر تحفظات پر غور کرنے سے قبل یہ تسلیم کرنے میں کوئی حرج نہیں کہ ہماری تاریخ میں غیر جمہوری قوتوں کی جانب سے سیاسی امور میں مداخلت واقعتاً موجود رہی ہے۔ سیاسی جماعتوں میں اکھاڑ پچھاڑ، وفاداریاں تبدیل کرانے کا سلسلے، دھرنوں، عدم اعتماد کی تحریکوں اور مختلف انتخابی اتحاد قائم کرنے میں نادیدہ قوتوں کے ہاتھ سے کوئی انکار نہیں کر سکتا۔ میرے خیال میں کوئی بھی باشعور اور ہوش مند شخص اس مطالبے سے بھی انکار نہیں کر سکتا کہ جمہوری ریاست میں عوامی قسمت کا فیصلہ عوامی نمائندوں کے ہاتھ میں ہونا چاہیے اور عوام کو مرضی حاصل ہونی چاہیے کہ وہ جسے چاہیں اپنے اوپر حکمرانی کا حق آزادانہ طور پر سونپ سکیں۔

سوال لیکن یہ بھی اٹھتا ہے کہ محض نادیدہ قوتوں پر عوامی مینڈیٹ یا حق رائے دہی کے استحصال کی ذمہ داری تھوپنا درست ہوگا؟ نوّے کی دہائی میں جب دو بڑی جماعتوں کی آپسی چپقلش جاری تھی، اس وقت کیا ایک جماعت وہی کردار ادا نہ کر رہی تھی جو آج تاریخ اس کے ساتھ دہرا رہی ہے؟ اسلامی جمہوری اتحاد بنا کر اس کے پلیٹ فارم سے انتخابی نتائج تبدیل کرنے اور ایسے اتحادوں کو منتخب حکومت کے خلاف استعمال کرنے کی کاوش میں بے شک نادیدہ قوتوں کا ہاتھ رہا ہوگا مگر، کیا یہ سب سیاست دانوں کی معاونت کے بغیر ممکن تھا؟ اصغر خان کیس میں نادیدہ ہاتھوں سے پیسے لینے کے الزام سے کسی ایک بھی جماعت کو فرار حاصل ہے؟ ایک آدھ سیاست دان کو چھوڑ کر باقی کون دعویٰ رکھ سکتا ہے کہ اس نے نادیدہ انگلی تھام کر چلنا نہیں سیکھا؟ سب سے اہم بات کہ کوئی ایک جماعت بھی اپنا یہ امتیاز ثابت کر سکتی ہے کہ اس کی پرداخت کسی غیر جمہوری نرسری میں نہیں ہوئی۔

ایک شخص پر جب بُرا وقت موجود ہو تو اسے مطعون کرنا آسان ہوا کرتا ہے، میاں صاحب بھی چونکہ آج کل حوادث زمانہ کی لپیٹ میں آئے ہوئے ہیں لہٰذا وہ نشتر زنی کا آسان ہدف ہیں۔ ان کو یاد کرایا جاتا ہے کہ ان کی سیاست بھی ایک غیر جمہوری حکمران کی دریافت ہے۔ دو دہائی قبل ان کی جانب سے پیپلز پارٹی کی حکومتوں کے خلاف اٹھائے گئے اقدامات اور آج کے بیانات کا موازنہ کر کے ان کے قول و فعل کا تضاد دکھانے کی کوشش جاری ہے۔ انہیں شرمندہ کرنے کی کوشش ہو رہی ہے کہ جلا وطنی کے دور میں چارٹر آف ڈیموکریسی پر دستخط کر کے آئندہ محاذ آرائی نہ دہرانے کا وعدہ کیا گیا تھا مگر موقع ملتے ہی انہوں نے پھر مخالفین کو چھرا گھونپتے دیر نہ کی۔ آج جب وہ تسلیم کر رہے ہیں کہ ماضی میں ان سے غلطیاں ہوئی ہیں، آئندہ موقع ملا تو وہ اپنی غلطیوں کی اصلاح کے ساتھ تلافی کی کوشش بھی کریں گے۔ بد قسمتی سے مگر ایک بڑی تعداد پھر بھی ان کی بات پر یقین کرنے سے انکاری ہے اور کہا جا رہا کہ ووٹ کو عزت دو کے نعرے کے پیچھے اپنے اقتدار کو بحال کروانے کے سوا میاں صاحب کا کوئی دیگر مقصد نہیں۔

یہ بھی پڑھیں:   خواب فروشوں سے کوئی خواب خریدے - عبدالباسط ذوالفقار

میرا احساس مگر یہ ہے کہ میاں صاحب اپنی ماضی کی کوتاہیوں پر نادم ہیں تو ان کی بات پر یقین کر لینے میں کوئی حرج نہیں ہونا چاہیے۔ ہمارے مذہب کی تعلیمات بھی رہنمائی فراہم کرتی ہیں کہ توبہ اور اصلاح کی گنجائش آخری سانس تک موجود ہے۔ کسی کے پاس اگر زمین اور آسمان کی وسعت کے برابر گناہ بھی موجود ہوں تو صدق دل سے نادم ہونے کے بعد وہ معاف ہو سکتے ہیں۔ بہر حال اس دلیل سے انکار پھر بھی ممکن نہیں کہ تائب شخص کا کردار آئندہ اس کے افکار کے مطابق ہی نظر آنا چاہیے۔ حسن ظن سے کام لیتے ہوئے ہمیں امید رکھنی چاہیے کہ میاں صاحب واقعتا نظریاتی ہو چکے ہوں گے۔ میاں صاحب پر بھی مگر لازم ہے کہ وہ اپنے عمل سے اپنی سوچ میں آنے والی نظریاتی تبدیلی ثابت کریں۔

اس دیس کے ہر بچے کو علم ہے کہ یہاں اقتدار میں آنے کا مطلب اختیار کا مالک ہونا ہرگز نہیں ہوتا۔ جمہوری اور غیر جمہوری قوتوں کا اصل جھگڑا ہی اختیار پر ہوا کرتا ہے۔ میاں صاحب کو لہذا اپنے بیانیے کا مقصد اقتدار کے بجائے اختیار کا حصول بنانا ہوگا۔ اس مقصد کو حاصل کرنے کے لیے مگر اعصاب کی مظبوطی اور اقتدار سے بے رغبتی درکار ہوگی، جس کا ماضی میں میاں صاحب کے پاس فقدان رہا۔ زیادہ پرانی بات نہیں، محض اپنے اقتدار کو طول دینے کی خاطر میاں صاحب نے اپنے سرد گرم چشیدہ دو دیرینہ ساتھیوں کی وزارت کی بلی چڑھادی۔ آج وہ ڈھکے چھپے لفظوں میں اپنی حکومت کے خلاف ہونے والی شورش اور دھرنوں کا سبب ایک ڈکٹیٹر کو کٹہرے میں لانے کی کوشش بتا رہے ہیں۔ اس وقت لیکن وہ اس بھاری پتھر کو محض چوم کر پیچھے نہ ہٹتے اور "انصاف سب کے لیے" کے اصول پر ڈٹے رہتے تو آج ان کے بجائے خلق خدا سوال کر رہی ہوتی کہ میاں صاحب کو کیوں نکالا؟

یہ بھی پڑھیں:   خلائی مخلوق - حبیب الرحمٰن

میاں صاحب کے بیانیے کے اصل مخاطب ان کے ورکرز اور عوام ہیں اور اس بیانیے کو کامیاب بنانے کی ذمہ داری بھی انہیں پر عائد ہوتی ہے۔ افسوس سے لیکن کہنا پڑتا ہے کہ ہر مشکل میں ان کے شانہ بشانہ کھڑے رہنے والے ورکر آج ان کی جماعت میں عتاب کا شکار ہیں جبکہ ایسے خوشامدی اور چمچہ گیر ان کے دائیں بائیں نظر آتے ہیں جو ایک ایسے ڈکٹیٹر کی کابینہ میں بھی وزارتوں کے مزے لیتے رہے جب میاں صاحب کے لیے اس دیس میں جگہ نہ تھی۔ ایسے بہت سے مطلب پرست ایک بار پھر انہیں چھوڑنا شروع ہو چکے ہیں اور کچھ بعید نہیں کہ مزید کڑا وقت آنے پر باقی بھی چلے جائیں گے۔ جب مخلص کارکن یہ دیکھتے ہیں کہ اقتدار میں آنے کے بعد میاں صاحب کی نظر کرم مفاد پرستوں پر ہوتی ہے تو میرا نہیں خیال کہ آئندہ کوئی ان کی خاطر صعوبتوں کو گلے سے لگانے پر تیار ہوگا۔

اسی طرح عوام جب اپنے مصائب اور میاں صاحب کا طرز زندگی دیکھتے ہیں تو کوشش کے باوجود وہ اس بیانیے کا ساتھ دینے میں ہچکچاہٹ محسوس کرتے ہیں۔ کاش میاں صاحب اپنے بیانیے کو مظبوط بنانے کے لیے صرف فساد کی جڑ لندن فلیٹس کو ہی غریب عوام کے لیے وقف کر دیتے۔ یہ ممکن نہیں تو کم از کم اپنی بیرون ملک جائیداد ہی واپس لانے کا اعلان کر دیں۔ اس ملک میں خواہ جمہوری حکومت رہی ہو یا غیر جمہوری عوام ہمیشہ استحصال کا شکار رہے ہیں۔ شاید یہی وجہ ہے کہ اس وقت عوام اس تمام مقدمے سے لا تعلقی اختیار کیے بیٹھے ہیں۔ میاں صاحب نے بھی اپنے حالیہ دور اقتدار میں عوام کو بری طرح مایوس کیا جس کی وجہ سے عوام ووٹ کی حرمت بحال کرانے کے مطالبے پر ان کے ساتھ کماحقہ کھڑے نہیں ہو رہے۔ میاں صاحب اپنے بیانیے کو مقبول دیکھنا چاہتے ہیں تو انہیں عوام سے اپنا رشتہ بہتر کرنا ہوگا اور اقتدار کی جنگ سے بالاتر ہو کر عوامی استحصال کے خاتمے کو بیانیے کا موضوع بنانا پڑے گا، اس کے علاوہ کسی دوسرے طریقے سے "ووٹ کو عزت" ملنے کا خواب ہرگز شرمندہ تعبیر نہیں ہوسکتا۔