ہم مانگتے کیوں ہیں؟ - علی غوری

"معصومہ دیکھ! پرات اٹھا کے قطروں کے نیچے رکھ دے، ورنہ فرش پر کیچڑ ہو جائے گا۔"

" رکھتی ہوں اماں! یہ گڈی میری بات نہیں مان رہی۔"

"اب رکھ دے اسے، کچھ سمجھ نہیں آرہا اسے۔"

"نہیں اماں اس کی آنکھیں دیکھو کتنی بڑی بڑی ہیں، اسے سب کچھ سمجھ آ رہی ہے۔ یہ بھی شمو کی طرح ضد کر۔۔۔"

"اچھا بس کردے پہلے پرات نیچے رکھ۔"

معصومہ نے گڈی کو پیار سے گڑیا والے گھر میں رکھ دیا جو اس نے جوتے کے ڈبے کو رنگ کر کے بنایا تھا۔ پرات کو کپڑوں سے خالی کیا اور چھت سے ٹپکتے قطروں کے نیچے رکھ دیا۔ کیسے ٹپ ٹپ گر رہے تھے یہ قطرے؟ اسے بڑی حیرانی ہوتی کہ اوپر بادلوں سے یہ سارے قطرے نیچے زمین میں آ جاتے ہیں۔

"اماں تمہاری آج والی دوائی ختم ہوگئی ہے۔"

اس نے میز پر پڑی پرانی سی شیشی کو الٹ پلٹ کر کے دیکھا۔

ماں چھوٹی سی بیٹی کی فکرمندی کو دیکھ کر آپ بھی فکرمند ہوگئی۔

"تو فکر نہ کر آج جمعہ نماز ہوگی۔ کوئی اللہ کا نیک بندہ ہماری مدد کر دے گا۔"

اسے پھر سے کھانسی کا دورہ پڑا اور معصومہ خاموشی سے اپنی کمزور کھانستی ماں کو دیکھے گئی۔

"اماں باہر تو بارش ہو رہی ہے تمہاری طبعیت باہر جاکر خراب ہوجائے گی"

"کچھ نہیں ہوتا!"

"دوائی اور آٹا گھی بھی لینے ہیں۔" اس نے پرانے بٹوے میں دیکھتے ہوئے معصومہ کو تسلی دی۔"اچھا تو جا، اگلی گلی والی باجی سے سالن لے آ، رات والا بچا ہوگا۔"

معصومہ نے پیالہ الماری میں برتنوں والے خانے سے اٹھایا اور بڑی سی چادر میں خود کو اچھی طرح لپیٹ لیا کیونکہ اس کی اماں کہتی تھی"لڑکیاں جب باہر جاتی ہیں تو خود کو چھپا کر جاتی ہیں اور کام کرکے جلدی سے گھر واپس آجاتی ہیں۔"

وہ اپنی اماں کی ہر بات مانتی تھی۔ وہ اس کا سب سے زیادہ خیال جو رکھتی تھی۔ وہ اکثر اسے اپنی روٹی کھلا دیتی اور خود بہانہ بنالیتی"ساری روٹی تو کھا لے مجھے بھوک نہیں ہے۔"

وہ چھوٹی ضرور تھی مگر اسے سمجھ تو سب کچھ آتا تھا۔

وہ چادر لپیٹتے ہلکا سا مسکرا دی اور باہر گلی میں نکل گئی۔

معصومہ کے جانے کے بعد ماں بسترے سے اتری، چادر کھیس کو تہہ لگا کر کھڑکی میں رکھا اور چارپائی کو کھڑا کر دیا۔ اتنی سی مشقت سے ہی وہ ہانپنے لگی تھی"کتنی کمزور ہو گئی ہوں میں۔ وقت انسان کو کیا سے کیا کردیتا ہے؟" پیڑی پر بیٹھ کر اس نے لمبے لمبے سانس بھرے تو ماضی چھن سے اس کے سامنے آ کھڑا ہوا۔ اسی ماضی اور مستقبل کے اندیشوں کے باعث جو معصومہ کا روپ دھار کر اسے ڈراتے رہتے اور اس کی صحت پہ شب خون مارتے رہتے وہ کمزور اور مسلسل بیمار رہنے لگی تھی۔ خیالات کو جھٹک کر اس نے ٹرنک کا ڈھکن اٹھایا اور پرانا سا نیلا سویٹر باہر نکالا۔ سویٹر کا نیلا رنگ بھی کہیں کھو کیا تھا بالکل اس کی گزری پچھلی زندگی کی طرح۔ جب وہ اپنے شوہر کے ساتھ سادہ مگر خوش باش زندگی گزارتی تھی۔ پھر ایک دن ایکسیڈنٹ میں زخمی ہو کر اس کا شوہر ہسپتال پہنچا اور پھر قبر میں جا سویا۔ شوہر کے خاندان والے اسے پہلے بھی بہو نہیں مانتے تھے سو اب بھی انہوں نے اسے اور اس کی بیٹی کو بے آسرا چھوڑ دیا۔ اپنی چھوٹی سی معصومہ کو لیے وہ شہر کے ایک طرف کچی بستی میں کمرہ کرایہ پر لے کر رہنے لگی۔

دروازہ کھلا اور چرچراہٹ اسے اصلی دنیا میں واپس لے آئی۔ معصومہ سالن لے کر آ گئی تھی۔ اس نے ٹرنک بند کیا اور چارپائی کو دوبارہ واپس بچھا دیا۔ دونوں ماں بیٹی نے سالن گرم کر کرکے باجی کی ہی بھیجی خمیری روٹی سے پیٹ بھر کے ناشتہ کیا۔ خدا بھوکا کسی کو نہیں مارتا پیٹ کی آگ بجھانے کا انتظام وہ بہر حال کر دیتا ہے۔

روٹی کھا کر معصومہ نہانے چلی گئی۔ وہ ہر جمعہ کو کپڑے تبدیل کرتی تھی کیونکہ اس کی اماں کہتی تھی "معصومہ!جمعہ کے دن نہانا اور صاف کپڑے پہننا نبی ﷺ کی سنت ہے۔ ہم مسلمان نبیﷺ کے طریقے پر چلیں گے تو کامیاب ہوں گے۔"

"چل معصومہ! اچھی طرح چادر لپیٹ لے جمعہ ہونے والا ہے مسجد میں"،اماں نے اسے چلنے کو کہا۔ وہ جلدی سے چادر لپیٹ کر تیار ہو گئی۔

ہر جمعہ کو وہ اور اس کی اماں باہر والی مسجد کے باہر کھڑے ہوتے اور کچھ نیک نمازی ان کی پھیلی جھولیوں میں ریزگاری ڈال جاتے۔ اس ریزگاری سے اماں کی ڈسپنسری والی دوائی آجاتی اور ایک دو دن کی سبزی بھی آ جاتی تھی۔

آج جمعہ ختم ہوا اور چند نمازی حسب سابق گھروں کو جاتے ہوئے ان کے پھیلے دامن میں چند پیسے ڈال کر گزرتے گئے۔ معصومہ اپنے ہم عمر بچوں کو دیکھنے میں مصروف تھی جو ٹوپی لیے صاف ستھرے کپڑے پہنے جمعہ نماز پڑھنے آئے ہوئے تھے۔ دو لڑکے جو اس کی عمر کے تھے مسجد سے نکلتے ہی اس کے پیچھے آ کر کھڑے ہوگئے۔ جب نمازی تقریباُ چلے گئے تو ان میں سے بڑے نے قریب ہوتے ہوئے آہستگی سے پوچھا، "تم مانگتی کیوں ہو؟"معصومہ حیرت سے ان دونوں کو دیکھتی رہ گئی۔اس کو خاموش دیکھ کر وہ دوبارہ بولا،"مانگنا بری بات ہوتی ہے تم نہ مانگا کرو دیکھو ہم دونوں کوئی مانگتے ہیں؟"

اتنے میں اماں ان کی جانب آئی تو وہ دونوں اس کو آتا دیکھ کر وہاں سے چلے گئے "چل گھر چلیں۔"

معصومہ ابھی تک لڑکوں کے پوچھے سوال کا جواب ڈھونڈ رہی تھی۔ چلتے چلتے اس نے اماں سے سوال پوچھ ہی لیا "اماں ہم مانگتے کیوں ہیں؟ وہ دونوں کہہ رہے تھے مانگنا بری بات ہوتی ہے۔"

ماں نے خاموشی سے اسے دیکھا اور کرب سے منہ پھیر لیا۔ آنسو گال پر آپ سے آپ ہی لڑھک آئے تھے۔ معصومہ نے جواب نہ پاکر دوبارہ پوچھا،"اماں ہم مانگتے کیوں ہیں؟"

"ابھی تو گھر چل۔" ماں نے قدرے غصے سے کہا تاکہ بیٹی کو معلوم نہ ہوسکے کہ ماں رو رہی ہے۔ معصومہ جھڑک کے بعد اماں کا ہاتھ پکڑے خاموشی سے چلتی رہی۔

"اماں پہلے تو ایسے نہیں کرتی پتہ نہیں اب کیا ہوا؟"

معصومہ نے معصومیت سے سوچا۔