کس حکیم کا نسخہ کہ نگران سیٹ اپ بے ضرر ہو؟ ایاز امیر

ہمارے ہاں روایت بن گئی ہے کہ جو لوگ اور کسی کام کے نہ رہیں اُنہیں نگران وزیر اعظم اور وزرائے اعلیٰ چُن لیا جاتا ہے ۔

وقت ٹپاتے ہیں اور پھر انتخابات کے بعد اندھیروں میں گم ہو جاتے ہیں‘ ماسوائے ہمارے دوست نجم سیٹھی جیسے جو اپنی چھپی ہوئی صلاحیتوں کی بنا پہ اور ترقیاں کر جاتے ہیں۔ اس ایک آدھ مثال کے علاوہ کسی کو یاد بھی نہ ہو گا کہ ماضی کے ادوار میں نگران حکمران کون رہے۔

آج کل کے حالات نارمل حالات نہیں ہیں۔ پاکستان ایک خاص صورتحال سے گزر رہا ہے۔ لمبے دورانیے کا دور ختم ہو رہا ہے اور نئے حالات جنم لے رہے ہیں۔ ایسی صورتحال میں نگران سیٹ اپ کا مؤثر اور فعال ہونا وقت کی ضرورت ہے۔ با صلاحیت لوگ وفاق اور صوبوں میں نامزد کیے جانے چاہئیں تاکہ نگران دورانیے کا وقت ضائع نہ ہو۔

نگران سیٹ اپ کا اوّلین مینڈیٹ تو انتخابات کرانا ہے ۔ لیکن ساتھ ہی ساتھ اس اَمر پہ بھی توجہ ہونی چاہیے کہ احتساب کا جو سلسلہ شروع ہو چکا ہے اس میں کوئی رَخنہ یا رکاوٹ پیدا نہ ہو۔ موجودہ حالات میں تین اشخاص کلیدی کردار ادا کر رہے ہیں ۔

پہلے‘ آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ، دوسرے‘ چیف جسٹس آف پاکستان جناب ثاقب نثار اور تیسرے چیئرمین نیب جناب جسٹس (ر) جاوید اقبال۔ نگران سیٹ اپ ایسا آنا چاہیے جو ان تین اشخاص کے کام کو مزید آسان کرے‘ اور تقویت دے ۔ فی الوقت نون لیگی حکومتیں احتسابی عمل سے ناخوش ہیں کیونکہ اس عمل کے بڑے ٹارگٹ وہی ہیں۔

مثال کے طور پہ جب نیب پنجاب حکومت کی بنائی گئی کمپنیوں سے دستاویزات مانگتی ہے تو ساری کی ساری مہیا نہیں کی جاتیں۔ وزیر اعظم کے پرنسپل سیکرٹری فواد حسن فواد کو نیب طلب کرتی ہے تو وہ غیر حاضر ہونے میں عافیت سمجھتے ہیں۔ وزیر اعلیٰ پنجاب کے داماد کو نیب کی طرف سے بلاوا آتا ہے، وہ پیش نہیں ہوتے۔ نیب سفارش کرتی ہے کہ میاں نواز شریف اور دیگر افراد کے نام ای سی ایل میں ڈال دئیے جائیں۔ وفاقی حکومت ٹال مٹول سے کام لیتی ہے اور نیب کی سفارش پر عملدرآمد نہیں ہوتا۔

نگران سیٹ اپ جاری احتساب عمل کا معاون ثابت ہونا چاہیے۔ مثالی صورتحال تو یہ ہونی چاہئے کہ نگران وزیر اعظم ایسے شخص ہوں جن کے نام سے کرپٹ نوکر شاہی میں خوف کی لہر اُٹھے۔ پہلا کام ایسے وزیر اعظم کا یہ ہو کہ فواد حسن فواد کو ان کے عہدے سے ہٹایا جائے‘ اور نیب کے سامنے پیش ہونے پہ مجبور کیا جائے۔ بے ضرر لوگوں کو لگائیں گے تو ظاہر ہے کہ ایسے عملی اقدامات نہ ہو سکیں گے۔ نگران سیٹ اپ ایسا ہونا چاہیے کہ ایسی فضا پیدا ہو جس سے وفاقی اورصوبائی حکومتوں کی طرف سے احتسابی عمل کے حوالے سے حیلے بہانے یکسر ختم ہو جائیں۔

یہ تب ہی ہو سکتا ہے جب مضبوط لوگ سامنے آئیں۔ پی ٹی آئی کے تجویز کردہ نام تو پُھسپُھسے سے ہیں ۔ سابق گورنر سٹیٹ بینک جناب عشرت حسین تو باقاعدہ لابنگ کرتے رہے ہیں کہ اُن کا نام بطور نگران وزیر اعظم آئے۔ اس عمل کی وجہ سے اُن کا نام مسترد ہونا چاہیے ۔ ہاں ماہرِ اقتصادیات کے طور پر اُن سے استفادہ کیا جا سکتا ہے لیکن اگر نگران سیٹ اپ کے سربراہ ہوئے تو احتسابی عمل کے ٹھنڈا پڑنے کا خطرہ رہے گا۔

تین اہداف نگران سیٹ اپ کے سامنے ہوں گے : (1) قومی زندگی میں ڈسپلن پیدا کرنا۔ (2) احتسابی عمل کا ساتھ دینا ۔ (3) خطرناک معاشی صورتحال کا کچھ ازالہ کرنا۔

نون لیگی حکومت ریاست کو قرضوں کے شکنجے میں جکڑ کے جا رہی ہے۔ سب سے بڑا مسئلہ پاکستان کے سامنے یہی ہے کہ معاشی صورتحال کیسے بہتر ہو ۔ زر مبادلہ کے ذخائر خطرناک حد تک کم ہو رہے ہیں۔ قرضوں کی ادائیگی ہماری قوت سے باہر ہو رہی ہے۔ ایسی صورتحال کا سامنا کرنے کیلئے مزید قرضوں کی طرف دیکھا جائے گا۔ یہ تو سب سے آسان بات ہے کہ نیا فنانس منسٹر یہ رائے دے کہ پاکستان آئی ایم ایف سے رجوع کرے اور ایک نیا پیکیج لے۔ ایسی رائے دینے کیلئے کسی ماہر اقتصادیات کی قطعاً ضرورت نہیں وہ تو ہم جیسے بھی دے سکتے ہیں۔

بات تو تب ہے کہ ایسے اقدامات کیے جائیں جس سے آئی ایم ایف کی طرف رجوع نہ کرنا پڑے۔ وہاں جائیں گے تو اُن کی شرائط بھی ماننا پڑیں گی۔ ہماری حالت اب یہ ہے کہ اُن کی طرف سے لگائی گئی کڑی شرائط کو ٹالنا مشکل ہو گا۔ نگران سیٹ اپ تو ایسا ہونا چاہیے کہ معاشی محاذ پہ صحیح فیصلے کر سکے۔

غیر ضروری عیاشیاں کم کی جائیں اور مشکلات آئیں بھی تو مزید قرضوں سے پرہیز کی پالیسی اپنائی جائے۔

جنرل راحیل شریف ہوتے تو اچھے نگران وزیر اعظم ثابت ہو سکتے تھے لیکن وہ سعودی عرب کی کمان تلے اور قسم کے فرائض سرانجام دے رہے ہیں۔ قومی سیاست میں کردار ادا کر سکتے تھے لیکن اُنہوں نے اپنے لئے یہ راستہ منتخب نہ کیا۔ سپہ سالار بہت اچھے رہے لیکن ریٹائرمنٹ کے بعد سعودی منصب لینے کے حوالے سے مار کھا گئے۔ البتہ عسکری حلقوں میں یہ رائے پائی جاتی ہے کہ اُن کے نیچے دو جرنیل ایسے تھے جن کا کردار بہت فعال تھا۔

ایک چیف آف دی جنرل سٹاف لیفٹیننٹ جنرل اشفاق ندیم جو اب ریٹائر ہو چکے ہیں اور دوسرے لیفٹیننٹ جنرل عامر ریاض جو ابھی تک سروس میں ہیں ۔ عسکری حلقے عموماً ان دونوں جرنیلوں کی صلاحیتوں کے معترف ہیں۔ ایسا ہو گا تو نہیں لیکن اگر یہ معجزہ رُونما ہو سکے تو جنرل اشفاق ندیم بہترین نگران وزیر اعظم ثابت ہوںگے ۔ اگر دو یا تین ماہ کیلئے بھی ریاست کا کاروبار بہتر انداز سے چلے تو حکومتی مشینری میں ایک نئی جان آ جائے گی۔ لیکن جیسا عرض کیا ایسا ہو گا نہیں۔

جنرل راحیل شریف کے شروع کے دنوں میں کور کمانڈر منگلا لیفٹیننٹ جنرل طارق خان تھے۔

اُن کے بارے میں بھی مشہور تھا کہ بڑے دبنگ کمانڈر ہیں۔ ایسے لوگوں کی صلاحیتوں سے فائدہ اٹھایا جانا چاہیے ۔ اِ ن کو بھی نگران سیٹ اپ میں فعال کردار ادا کرنے کا موقع ملے تو ملک کا فائدہ ہو گا۔ کوئی مانے یا نہ مانے فوج ہی وہ واحد ادارہ ہے جو ہر چیز کو سنبھالا دئیے ہوئے ہے۔

بہت کم لوگوں کو توقع تھی کہ جنرل قمر جاوید باجوہ وقت کی نزاکت کے حوالے سے اپنے کندھوں پہ پڑی ذمہ داریوں کو بطریق احسن نبھا سکیں گے اور اُنہوں نے ایسا ہی کیا ہے۔ کئی حلقے سمجھ رہے تھے کہ وہ کمزور کمانڈر ثابت ہوں گے لیکن ایسا نہیں ہوا۔

چیف جسٹس صاحب کے ناقدین بہت ہوں گے لیکن اس بات سے انکار نہیں کیا جا سکتا کہ اُنہوں نے سپریم کورٹ میں ایک نئی روح پھونک دی ہے۔ ہر روز کچھ نہ کچھ مثبت کام کر دکھاتے ہیں۔ نگران وزیر اعظم ہو تو اُن جیسا ہو جو نہ صرف معاملات کو سمجھ سکے بلکہ فیصلہ سازی کی بھی صلاحیت رکھتا ہو۔ ہمارے ہاں تو یہ ہے کہ جن کو فیصلے لینے چاہئیں وہ اس صلاحیت سے محروم ہیں۔

وزیر اعلیٰ پنجاب نے اپنا کیا تاثر پیدا کر رکھا تھا کہ بلا کے منتظم ہیں۔ تشہیری مہم ایسی چلائی جاتی تھی کہ گمان ہوتا کہ شیر شاہ سوری کے بعد صرف یہی آئے ہیں۔ جناب ثاقب نثار نے سرکاری خزانے پہ چلنے والی تشہیری مہم کو ختم کیا کرایا کہ سارا بھانڈا ہی پھوٹ گیا۔ اب پتہ چل رہا ہے کہ پنجاب حکومت نے فنکاری میں یہ پانچ سال گزار دئیے۔ کبھی ہیٹ پہنے دیکھے جاتے، کبھی اُنگلی ہلاتے اور کبھی مائیک توڑتے۔ حقیقت میں کچھ بھی نہیں تھا سوائے ایسی اداکاری کے۔

نگران دور بھی ایک موقع ہے۔ صحیح لوگ سامنے آئیں تو بہت کچھ بہتر ہو سکتا ہے‘ نہیں تو وقت ضائع کرنے کے ہم ہمیشہ ماہر رہے ہیں۔ یہ بھی ضائع کر دیںگے۔