گلابی کالم - محمد قاسم سرویا

پریشانیوں اور ٹینشنوں کے اس دور میں کسی کے چہرے پر سمائیلاں کھلارنا، کلیجے کو ٹھنڈااور روح کو راضی کرنا کسے صدقے سے گھٹ نہیں ہوتا۔ ویسے بھی اب گرمیاں کا موسم لاگے آ ای گیا تو گرمیوں میں بھی ہمارا اندر اور باہر ’’کُول کُول‘‘ ای رہنا چاہیے۔ اسی لیے آپ کے من کو شانت اور دل کو ٹھنڈا اور پرسکون رکھنے کے لیے دلیل پر اردو، پنجابی اور انگریجی میں مکس ’’گلابی کالم‘‘ اب تسلسل سے لکھا جاتا رہے گا تاکہ آپ کے سوہنے من موہنے Faces پر ’’پُھل مکھانے‘‘ ہمیشہ کھلرتے رہیں۔

پنجابی پاکستان میں سب سے زیادہ (پنجاہ فیصد تک) بولی اور سمجھی جانے والی زبان ہے کیونکہ یہ بڑی سوادی اور مٹھی زبان ہے اور ہر کوئی اس کے چسکے لینا پسند کرتا ہے۔ ہمارے محترم بابا جی اشفاق احمد مرحوم اپنی تحریروں اور محفلوں میں اردو کے ساتھ ساتھ پنجابی کی خوب ’’پھلجڑیاں‘‘ چھڈیا کرتے تھے جن کو سارے ای بڑا like کرتے تھے اور اب بھی کرتے ہیں اور آج کل معروف اداکار جناب سہیل احمد صاحب جو کہ عظیم پنجابی شاعر بابا جی فقیر محمد فقیر مرحوم کے پوتے ہیں، وہ بھی اپنے ہر دل عزیز پروگرام’’حسب حال‘‘ میں اردو کے ساتھ پنجابی کا خوب تڑکا لگاتے ہیں اور سب ’’حاجرین و ناجرین‘‘ کو ’’کِنّا جیادہ‘‘ ہسا ہسا کر لوٹ پوٹ کرتے ہیں۔

گلابی کالم لکھنے کا خیال اور محرک بھی ایسی ہی ’’گلاں باتاں‘‘ ہیں جو ہمارے’’لاگے شاگے‘‘ کھلری پڑی ہیں۔ بس ان کو’’ہاسیاں دی پنڈھ‘‘ بنا کے آپ دے حضور پیش کرنے کا ’’ٹھیکہ‘‘ ہم نے اٹھا لیا ہے۔ ظاہر ہے جو کسے دا ’’چنگا چاہی وان‘‘ ہوتا ہے، اوہو ای دوسروں کو ’’خُش‘‘ رکھنا اور دیکھنا چاہتا ہے۔ تو پھر اپنے دل چہ’’ایلفی جنا پکا‘‘ یقین کر لو کہ تُسیں ایہہ کالم پڑھ کے اپنے پیاریاں ’’بُلھاں‘‘ تے ’’نِمّی نِمّی‘‘ سمائل جرور لے کے آنی ہے، کیونکہ’’متھے تے وٹ‘‘، مُچھاں وٹدا جٹ، پکے رنگ دا بٹ، ودھیا ہویا مٹ، تے منگنا بوہتا تے دینا گھٹ، کدوں کسے کو چنگے لگتے ہیں۔

ہمارے سکول میں اک ’’نواں منڈا‘‘ داخل ہوا جو گھر والوں کی لاپروائی، اپنی پکھنڈ بازی اور ’’پُٹھیاں حرکتاں‘‘ کی وجہ سے’’واہوا ای وڈھا‘‘ ہوگیا تھا۔ اتنا وڈھا کہ دس سال کے ایس منڈے کو پریپ کلاس وچ داخل کرنا پیا۔ کیوں جے اوہدے پَلے کجھ بھی نہیں تھا۔ تاں فر اوہدی Base بناؤنی وی نے جروری سی ناں۔ فیر اک دن اس کے وڈھے بھرا کو خیال آیا کہ میں تو رُل ای گیا ہوں۔ چلو اپنے نکے بھرا کو ای چنگے سکولے داخل کرا دیتا ہوں کہ چار جماعتاں پڑھ کے پُلساں وچ ’’شپائی شپوئی‘‘ بھرتی ہو جاوے گا۔

نام تو اس کا اشرف تھا لیکن اس کی ماں پیار سے اسے ’’اچھا اچھا‘‘ کہتی تھی۔ پہلے دن تو جماعت میں منہ وٹ کے نُکرے لگ کے بیٹھا رہیا اور الف بے اور ABC کے چار حرفاں کو واہوا رٹا لالیا۔ فیر جب ’اک تے تھک‘ گیا تو ٹیچر سے بہانے لگان لگ پیا۔

’’ٹیچر جی، میری مائی نے اج گونگلوؤں اور پالکوں کا سلونا پکایا تھا تے میں نے جرا بوہتی رج کے روٹی کھا لئی تھی جی ایس لئی میرے ڈِھڈ میں بڑی پِیڑ ہو رہی ہے جی۔ میرے کو جرا گھار جا لین دیں۔ میرے ابے نے اک وری بس چوں بڑی ودھیا پھکی لئی تھی جی۔ بڑی سوادی آ جی۔ میں ہنے گیا تے منٹ مار کے چھیتی نال کھا کے آجاؤں گا جی۔ ‘‘

ٹیچر نے کہا۔ ’’آرام سے بیٹھ جاؤ۔ میں نے ابھی سر کو بتا دینا ہے۔ ‘‘

کانوں کو ہتھ لا کے کہنے لگا۔ ’’نہ جی ٹیچر جی! سر جی کو نہ دسنا جی۔ سر جی نے تو آ کے میری ایتھے ای چِھل لا چھڈنی آ جی۔ میرا بھرا سر جی کو آکھ کر گیا ہے کہ اگر یہ کوئی ’’چوں چراں‘‘ کرے تو اس کو ’’لمیاں پا کے‘‘ خوب ٹہل سیوا کرنا۔‘‘

فیر اپنے منہ میں ہی کچھ بُڑ بُڑ کر نے لگ گیا۔ جو نال دے منڈے نے اوسے ٹَیم دس دیا۔ ٹیچر جی ایہہ کہہ رہیا اے کہ پتا نئیں میرا بھرا تے سر جی کیوں میرے پچھے پئے ہوئے ہیں؟

جب سر کو پتا لگا تو انہوں نے بڑے آرام سے سمجھایا کہ ہم اس لیے تمہارے پچھے پئے ہوئے ہیں، تاکہ تم چنگے بندے بن جاؤ۔

کہنے لگا۔ ’’سر جی سارے مجھے ’’اچھا اچھا‘‘ کہتے ہیں۔ میں چنگا ای ہوں تو مجھے اچّھا کہتے ہیں۔‘‘

سر نے کہا۔ ’’بے وقوفا! تیرا نام اشرف ہے اس لیے تمہیں سارے اچّھا کہتے ہیں۔ چنگا تے توں بنن آیا ہے یہاں۔‘‘

اشرف نے اگلے دن سکول سے چھٹی کر لی کیونکہ وہ آزاد پنچھی تھا اور سکول میں چھے گھنٹے ’’بَجّھ کے‘‘ بیٹھنا اُس کے لیے بڑا اوکھا کم تھا۔ اسے تو آوارہ کبوتروں کے پچھے نسنا، پنڈ میں آئی جنجیں لٹنا، پنڈ آئے خسروں کے ساتھ ٹچکراں کرنا، نیانیاں کولوں چیجاں کھونا، مسیتوں نویاں جُتیاں چُکنا، نال دے کھیتاں چوں خربوجے تے ہدوانے توڑنا، باہر کھلوتی کسے دی موٹر سیکل دا پلگ کڈھ کے دوڑ جانا، کسے دے سیکل دی ہوا کڈھ دینا اور جھوٹ بول بال کے گھار والیاں کو چارنا اس کا محبوب مشغلہ تھا اور وہ ان کاموں میں بڑا ماہر بھی تھا۔ لیکن سکول والوں نے بھی اسے چنگا بندہ بنانے کا پختہ ارادہ کر لیا تھا۔

اگلے دن سویرے تڑکے ای اس کا بھرا ڈنڈا پکڑے اس کو اگے لائی لیا رہا تھا۔ اچھا آتے ہی کہنے لگا ’’سر جی! میرے ولوں سوری من لو جی۔ میں اگے سے چھٹی نئیں کراں گا جی۔ دراصل وچ جی میری نیت بڑی گندی ہوئی گئی تھی جی کہ میں نے پڑھ پُڑھ کے کیہ کرنا ہے جی۔ ایہے ای تے چار دن موجاں کے دن ہیں۔ عیش کر کُر لیتے ہیں۔ پر اج میرے بھرا نے اور میرے ابے نے میر ی ’’واہوا سیوا‘‘کر دتی ہے تے مینوں چنگا سیکا لایا ہے جی۔ یہ دیکھو جی ہجے وی نیل پئے ہیں جی۔ ایہہ میرے پِنڈے میں لاساں پَین کی وجہ سے بڑی پِیڑ ہو رئی آ جی۔ پر میں پکی نیت کر لئی آ جی۔ ہن میں سدھے راہے چلاں گا۔ رب دی قسمے! جو مینوں آپ آکھیں گے میں دلوں مناں گا جی۔ ہن میں اچھا بن جاواں گا جی۔ میرے کو تسی وی معاف کر دیو۔ میں سوری آکھدا ں جی۔

اگے کیا ہوا؟ اگلی قسط میں۔ رب راکھا!