علوم القرآن اور شاہ ولی اللہ محدث دہلوی- مقصود حسین

قرآن کے علمی مطالعے کے سلسلے میں اب تک اہل علم نے متعدد کاوشیں کی ہیں۔ اس ضمن میں علامہ جلال الدین سیوطی کی "الاتقان فی علوم القرآن" ایک جامع اور مستند تصنیف ہے، جو قرآن کے جملہ مضامین، مباحث اور موضوعات کا احاطہ کرتی ہے۔ علامہ سیوطی نے اپنی اس گراں قدر تصنیف میں ہر موضوع کو ایک سے زائد ابواب میں تقسیم کر کے مفصل طور پر بیان کیا ہے جبکہ بحث کا مدار زیادہ تر احادیث، اقوال صحابہ و ائمہ اور روایات کو بنایا ہے۔ اس اعتبار سے الاتقان، علوم القرآن پر نہایت ہی مفید اور عمدہ کتاب ہے اور جامعیت میں بے نظیر ہے۔ اسی طرح دیگر علمائے اصول نے بھی اپنے اپنے انداز میں قرآن فہمی کے سلسلہ میں اپنی خدمات سر انجام دی ہیں جو سب اپنی جگہ قابل قدر اور مفید ہیں لیکن ان سب کاوشوں میں ہر لحاظ سے منفرد اور تقریباً ہر اعتبار سے بے نظیر کاوش شاہ ولی اللہ محدث دہلوی کی ہے۔

حقیقت یہ ہے کہ شاہ ولی اللہ کی قرآنی فکر دیگر تمام اصولیین کی فکر سے ممتاز، منفرد اور جداگانہ ہے۔ جامعیت، اختصار اور مجتہدانہ اسلوبِ فکر شاہ ولی اللہ کی قرآنی فکر کے اہم تشکیلی عناصر ہیں، ان تینوں عناصر ایک جھلک اصول التفسیر پر آپ کے شاہکار رسالے الفوز الکبیر فی اصول التفسیر میں دیکھی جا سکتی ہے۔ مثلاً آپ نے اپنے اس رسالہ کے آغاز ہی میں علوم القرآن کی جو شاندار تقسیم فرمائی ہے، یہ شاہ صاحب قرآنی فکر کی جامعیت کی دلیل اور آپکے مجتہدانہ اسلوبِ فکر کا ثبوت ہے، جو شاید صرف آپ ہی کا خاصہ ہے۔

شاہ ولی اللہ نے کمالِ مہارت سے جملہ قرآنی علوم کو صرف پانچ علوم میں سمیٹ کے رکھ دیا ہے۔ دریا کو کوزے میں بند کرنے کی مثال شاہ صاحب کے اس کارنامے پر پر بجا طور پر صادق آتی ہے۔ اس حوالے سے قابل غور بات یہ ہے کہ مذکورہ پانچوں علوم نہ صرف منصوص علیہ ہیں اور بلکہ ساری نصوص ان کے اندر داخل بھییعنی ان علوم پر باقاعدہ نصوص وارد ہوئی ہیں، دوسرے معنوں میں یہ علوم بلا واسطہ طور پر عبارۃ النص سے ثابت ہیں۔ اسی لیے یہ علوم قرآن کے مستقل اور باقاعدہ علوم ہونے کی حیثیت رکھتے ہیں اور پھر کوئی نص ان سے خارج بھی نہیں، اس طور پر کہ قرآن کی جملہ نصوص کا مطالعہ انہی پانچ علوم میں سے کسی ایک علم کے تحت آتا ہے۔ شاہ ولی اللہ کے نزدیک قرآن کے جملہ معانی پانچ علوم سے باہر نہیں ہیں۔ ان کی تفصیل مندرجہ سطور میں ملاحظہ ہو۔

1-علم الاحکام

علوم القرآن کی پہلی قسم علم الاحکام ہے۔ احکام حکم کی جمع ہے۔ لہذا علم الاحکام سے مراد قرآنی احکامات کی معرفت ہے۔ حکم بنیادی طور پر اللہ تعالیٰ کے اس خطاب کو کہا جاتا ہے، جو بندوں (مکلف)کے افعال سے متعلق ہو اور اسے بذریعہ طلب، اختیار یا سبب لایا گیا ہو۔ طلب میں امر یعنی کسی فعل کو کرنے اور نہی یعنی کسی فعل سے رکنے دونوں کا حکم شامل ہے۔ اس کا بجا لانا مکلف کے ذمے لازمی ہے۔ اگر طلب بطریقِ الزام ہے تو حکم واجب یا حرام کہلائے گا اور اگر بطریقِ ترجیح ہے، تو اس صورت میں مندوب یا مکروہ شمار ہو گا۔ جبکہ اختیار میں فعل کا کرنا نہ کرنا دونوں برابر ہیں، یعنی اس درجہ میں مکلف کو کسی فعل کے کرنے نہ کرنے کے مابین اختیار حاصل ہے۔ چاہے تو کرے چاہے تو نہ کرے، حکم کا یہ درجہ اباحت کہلاتا ہے۔ اسی طرح سبب سے مراد کسی چیز کو کسی حکم کا سبب، شرط یا مانع بنانا ہے۔ یعنی یہ حکم اس وقت مطلوب ہو گا جب اس کا سبب پایا جائے، اس وقت صحیح ہو گا جب اس شرائط پائی جائیں، اور اس وقت درست نہیں ہوگا جب کوئی مانع پایا جائے۔ مثلاً نماز کا وقت نماز کے حکم کے لیے سبب ہے۔ علم الاحکام بہت وسیع مضمون ہے۔ جس میں "فرد" سے متعلق عبادات (نماز، روزہ، حج زکوۃ) مناکحات(نکاح، طلاق، خلع وغیرہ) معاملات (تجارت، وصیت، وراثت وغیرہ) اور معاشرت (اخلاق و عادات) وغیرہ شامل ہیں۔ جبکہ ریاست سے متعلق، دستوری قانون، فوجداری قانون (حدود)، پروسیجرل لاء (الادب القاضی) اور بین الاقوامی قانون (السیر) شامل ہیں۔ یہ سب فقہ کی مباحث ہیں، جن کی بنیاد قرآن کی آیاتِ احکام 500 ہیں۔

2-علم المخاصمه

علم المخاصمه سے مراد تقابل ادیان یا مذاہب (comparative study of religions) ہے۔ اس ضمن میں قرآن چار گروہوں کے عقائد سے بحث و مباحثہ کرتا ہے، ان چار گروہوں میں مشرکین، یہود و نصاریٰ اور منافقین شامل ہیں۔ قرآن نے مشرکین کے شرکیہ عقائد کا ابطال کرکے توحید کا اثبات کیا ہے، انہیں عقیدہ آخرت اور حیات بعد الموت پر دلائل دیکر ان کے عقائد کے خلاف حجت قائم کی ہے۔ اسی طرح یہود کے عقائد و اعمال پر بھی گرفت کی ہے۔ نصاریٰ کے عقیدہ تثلیث، مسیح علیہ السلام کی الوہیت، ابنیت اور مصلوبیت کا رد کر کے انہیں اللہ کا بندہ اور رسول ثابت کیا ہے۔ جبکہ منافقین کو اپنے ایمان میں اخلاص پیدا کرنے کی ترغیب دی گئی ہے۔ علم المخاصمه بھی قرآن کے اہم موضوعات میں سے ہے۔ اس علم کی مباحث متکلم کے ذمے ہیں۔

3-علم التذکیر بالآء اللہ

اس علم کا موضوع بحث اللہ تعالیٰ کی تخلیق اور اس کا تخلیقی وصف ہے۔ جس کے تحت آفاق و انفس میں بکھرے دلائل اس کی کمالِ قدرت، اس کی بے مثال صناعت اور اس کی لازوال حکمت پر دلالت کرتے ہیں۔ کائنات کے ہر مظہر کو اللہ کے وجود پر بطور دلیل پیش کیا گیا ہے۔ زمین و آسماں کی تخلیق میں، رات اور دن کے بدلنے میں، ہواؤں کے چلنے میں، بادلوں کے برسنے میں، ان کے ذریعے مردہ زمین کے زندہ ہونے میں، سمندروں، پہاڑوں، صحراؤں، چوپایوں اور اس طرح کے بے شمار مظاہر میں لا تعداد نشانیوں کی طرف اشارہ کیا گیا ہے۔ اس کا مقصد انسانوں کو خالق کے ساتھ کثیر الجہتی تعلق میں وابستہ کرنا ہے۔ تاکہ انسان بیک وقت مادی تسخیر کے ساتھ ساتھ روحانی ترقی سے بھی ہمکنار ہو سکے۔

4-علم التذکیر بایام اللہ

اس علم کا تعلق گزشتہ اقوام کے تاریخی احوال سے ہے۔ قوموں کے عروج کے رموز اور زوال کے اسباب کو بیان کیا گیا ہے۔ قومِ عاد، ثمود، اور وغیرہ کا ذکر اسی ضمن میں کیا گیا ہے۔ عام طور پر کسی قوم کو اس کی سرکشی اور اس کی اخلاقی برائیوں کی وجہ سےعذاب میں مبتلاء کیا گیا ہے۔ قرآن کے نزدیک گزشتہ اقوام کے نشیب و فراز کے بیان کا مقصد افراد کو زمانہ کے ناقابلِ تغیر اصولوں سے آگاہ کرنا ہے۔ تاکہ وہ اپنے احوال کو زمانی حقائق کے مطابق ترتیب دیں سکیں۔

5- علم التذکیر بالموت و ما بعدہ

اس علم میں موت اور اس کے ما بعد کے حقائق سے بحث کی گئی ہے۔ موت کو ہر زندہ نفس کے لیے ایک اٹل حقیقت کے طور ثابت کیا گیا ہے۔ موت اور اس کے مابعد کے حقائق کا ذکر کرکے دراصل انسان کی ذمہ داری کو متحقق کیا گیا ہے۔ یہ بھی کہ انسانی اعمال فانی نہیں ہیں بلکہ ان پر اس کی ابدی کامیابی کا انحصار ہے۔ موت، قبر، برزخ، جنت و جہنم کا ذکر اسی ضمن کیا گیا ہے۔