سچ تو یہ ہے - محمد طیب زاہر

سیاست دان زبانی کلامی بہت کچھ کرتے ہیں اور کبھی کبھار کچھ عملی طور پر بھی کرلیتے ہیں۔ اپنے تجربات واقعات کی روشنی میں ایک گہری خلیج باقی رہ جاتی ہے جس کو سیاست دان اپنی کتاب کے ذریعے پوری کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ زندہ وہی رہتا ہے جو کاغذ پر درج ہوتا ہے۔ قدر لکھے کی ہی ہوتی ہے۔ عوام سیاستدانوں کے ذاتی احوال اور ان کے دور کے اندرونی واقعات کو جاننا چاہتے ہیں اور یہ معلومات عوام تک پہنچانے کا ایک واحد ذریعہ کتاب ہے۔ آپریشن جبرالٹر جو کہ کشمیر سے متعلق آپریشن تھا اس پر خود اْس وقت جنرل موسیٰ اس کی کمانڈ کر رہے تھے ان کو اُس حالات کا سب سے زیادہ پتہ تھا جو کسی کو بھی نہیں پتہ تھا انہوں نے اپنی کتاب تو لکھی لیکن اس پر کوئی خاطر خواہ بات نہیں کرسکے۔

اسی طرح فیلڈ مارشل ایوب خان کی کتاب فرینڈز ناٹ ماسٹرز میں بھی کشمیر کی اس جنگ کا سرے سے کوئی ذکر موجود نہیں۔ اس سے ثابت ہوتا ہے کہ کچھ واقعات اور حقائق ایسے ہوتے ہیں جن کو جاننے کے لیے کسی فرد کی تشریح یا وضاحت کی ضرورت ہوتی ہے اور ظاہر ہے اس واقعے کا تجربہ کرنے والا شخص ہی اس پر بہترین انداز میں روشنی ڈال سکتا ہے۔ چودھری شجاعت حسین کی کتاب سچ تو یہ ہے جب منظر عام پر آئی تو مجھ سمیت بہت سے لوگ خوشی سے نہال ہوگئے کہ آخر اتنی دیر بعد کوئی تو ہے جس نے اپنے سیاسی تجربے کو الفاظ کی صورت میں اُتارا۔ اس کتاب پر بہت سے مبصرین نے یہ کہا کہ چودھری صاحب نے بہت کچھ سچ لکھا اور بہت سے حقائق گول کردیے۔

جیسا کہ سانحہ اوجڑی کیمپ کے حوالے سے انہوں نے صرف اتنا ہی لکھا کہ یہ ہوا، یہ نہیں بتایا یہ کیوں ہوا؟ کیسے ہوا اس کے محرکات کیا تھے؟ ایسا نہیں چودھری صاحب نے اس میں کوئی حقائق نہیں بتائے بہت سی باتیں ایسی بھی کیں جو ہمارے تصورات کو کلئیر تو نہیں کرتیں لیکن کئی وہ پہلو ہمارے سامنے لے آتی ہیں جس کے ذریعے ہم اپنی سوچ کے دائرے کو مزید پھیلا سکتے ہیں اور ان پہلوؤں کے ذریعے کسی حتمی رائے تک بھی پہنچ سکتے ہیں لیکن یہ ضروری نہیں کہ ہماری یہ رائے درست بھی ہو۔

یہ بھی پڑھیں:   خواب فروشوں سے کوئی خواب خریدے - عبدالباسط ذوالفقار

اس کی ایک مثال اس طرح سے لی جاسکتی ہے کہ چودھری صاحب اپنی کتاب میں رقم طراز ہیں کہ کارگل کے واقعے کے اصل ذمے دار نواز شریف ہیں۔ ان کے بقول وزیر اعظم نواز شریف کو پہلی بار 29 جنوری 1999 کو اسکردو کے مقام پر کارگل کے حوالے سے بریفنگ دی گئی۔ دوسری بار میاں نواز شریف کو 5 فروری 1999 کو کیل کے مقام پر کارگل کے حوالے سے بریفنگ دی گئی۔ صرف یہی نہیں 12 مارچ 1999 کو یعنی کارگل آپریشن سے ٹھیک ایک ماہ پہلے نواز شریف کے وفاقی وزراء سمیت فوجی افسروں نے کارگل کی تازہ ترین صورتحال سے بھی آگاہ کیا۔ چودھری صاحب لکھتے ہیں کہ جنرل مجید ملک کے مطابق جو اُس وقت اس میٹنگ میں موجود تھے کہ نواز شریف نے کہا آئیے ہم سب مل کر کارگل آپریشن کی کامیابی کی دعا کریں۔

چودھری شجاعت حسین کو لوگ یہ کہہ کر بھی رد کرسکتے ہیں کہ چونکہ یہ نواز شریف کے خلاف ہیں اس لیے انہوں نے جانبدارانہ انداز اپنایا اور اس معاملے پر نواز شریف کو ہی قصوروار ٹہرایا۔ ایک لمحے کے لیے ایسا مان بھی لیا جائے لیکن یہی چودھری صاحب اپنی اسی کتاب میں لال مسجد آپریشن کا بھی ذکر کرتے ہیں اور اس میں ذمہ دار اْس وقت کے با وردی صدر پرویز مشرف کو ٹھہراتے ہیں۔

ان کے بقول مولانا عبدالعزیز اور حکومت میں مذاکرات کے ذریعے معاملہ حل ہوگیا تھا اور مسجد کے تمام تر افراد باہر آنے پر راضی بھی ہوگئے تھےلیکن عین اُس وقت پرویز مشرف نے آپریشن کرنے کا حکم دے دیا۔ جب یہ بات ہوسکتی ہے تو ایسے میں کارگل کے حوالے سے نواز شریف کے خلاف ذاتی بغض رکھنا سمجھ سے بالاتر ہے لیکن جیسا کہ میں نے تحریر کے ابتداء میں کہا کہ بعض زاویے آپ کی الجھن ختم نہیں کرتے لیکن آپ ان کے ذریعے کسی رائے تک ضرور پہنچ سکتے ہیں۔ اب شجاعت صاحب کے کارگل کے حوالے سے خیالات کا ذکر کرنے کے بعد اس سے پہلے کے اینگل پر گفتگو کرتے ہیں

کارگل جنگ کے ذمہ دار نواز شریف ہیں یا پرویز مشرف یہ بات اب بھی معمہ ہے۔ ایک اسکول آف تھاٹ یہ بھی ہے کہ مشرف کی وجہ سے ہی یہ آپریشن ناکام ہوا اور پاکستان کو مالی اور جانی نقصان اُٹھانا پڑا۔ بنیادی طور پر یہ مشرف کی نالائقی تھی کہ وہ اس آپریشن کو ڈیل ہی نہیں کرسکے۔ یہ تو کہا جاتا ہے پاکستان کے بہادر نوجوان کارگل کی پہاڑیاں سر کر گئے جبکہ بھارتی فوج نیچے تھی۔ ایک منٹ کے لیے یہ مان لیتے ہیں کہ ایسی ہی صورتحال تھی تو بھارتی فوج کو یہ کیوں نہیں پتہ لگا کہ ہمارے جوان پہاڑی کے اوپر چڑھ رہے ہیں۔ ظاہر ہے نیچے سے ہی انہیں اوپر آنا تھا۔ دوسری بات جیسے تیسے کرکے ہمارے جوان پہنچ گئے تھے اور پہاڑیوں کے اوپر چڑھ چکے تھے تو بانسبت اوپر سے دشمن کو آسانی سے قابو کیا جاسکتا تھا لیکن ایسا ہوا کیوں نہیں؟

یہ بھی پڑھیں:   ہر بات ہی سیاسی بات ہے – محمد جمیل اختر

کوئی یہ کہتا ہے کہ نواز شریف نے فوری طور پر جنگ بندی کرنے کو کہا، کچھ نے کہا یہ مشرف کی وجہ سے ناکام ہوا۔ اب اس آپریشن کی ٹیکنیکل باتوں پر آتے ہیں ایک یہ کہ اگر ہمارے جوان کارگل کی پہاڑیوں پر چڑھ گئے تھے تو بھارتی ایئرفورس بھی میدان جنگ میں کود پڑی اور انہوں نے اوپر سے ہمارے جوانوں پر حملہ کردیا۔ اگر یہ منصوبہ پری پلانڈ ہوتا تو یہ ضرور سوچا جاتا کہ ایسے میں بھارت کی ایئرفورس جوانوں پر حملہ کرسکتی ہے یا پھر اس کا کوئی متبادل حل نکالا جاتا۔

ایک بد انتظامی یہ بھی تھی کہ یہ تک نہیں پتہ تھا کہ کس حد تک اپنے جوانوں کو ایک مخصوص رینج میں رکھنا ہے کہ سپلائی معطل نہ ہو۔ ہمارے جوان اتنےآگے نکل چکے تھے کہ ان تک کھانے کی سپلائی پہنچانا ممکن نہیں رہا اور نتیجہ یہ نکلا کہ کچھ بھوک سے شہید ہوگئے اور کچھ غلط حکمت عملی کے باعث بھارتی فورسز کا نشانہ بنے۔ اب دونوں پہلو سامنے ہیں رائے آپ بناسکتے ہیں کہ کون اس کا اصل ذمہ دار تھا اور کون نہیں؟

چودھری صاحب نے اور بھی کئی باتوں کا ذکر کیا ہے جو پڑھنے سے تعلق رکھتا ہے۔ ہر سیاست دان کو نہ صرف اپنی کتاب لکھنی چاہیے بلکہ حقائق اور سچائی سے قریب ترین لکھنا چاہیے کیونکہ یہ تو حرف حقیقت ہے کہ پورا سچ کوئی بھی نہیں لکھ سکتا چودھری شجاعت حسین عمر کے اُس حصے میں ہیں جہاں جھوٹ کی کوئی جگہ نہیں رہتی اور انسان سچ بولتا ہے۔