ایک خط - عظمیٰ ظفر

خط کے لفافے کو دیکھ کر دانیہ نے سوچا یہ تو بہت موٹا ہو گیا۔

"ماموں! آپ باہر جا رہے ہیں تو یہ خط پوسٹ کر دیجیے گا۔" دانیہ نے لفافہ انہیں دیا۔ وہ کمرے سے باہر نکلتے ہوئے رک گئے۔

لفافے کو دیکھ کر وہ بھی ہنس پڑے، "قطری شہزادے کو لکھا ہے کیا؟" دانیہ کو بھی ہنسی آگئی۔

"نہیں آپ کی بہن کو لکھا ہے۔ آپ پوسٹ کر دیجیے گا۔"

"ہاں کر دوں گا، ایسا کرو اُس ٹیبل پر بجلی اور گیس کے بل پڑے ہیں، ان کے ساتھ رکھ دو، میں ابھی تو ایک ضروری کام سے جا رہا ہوں، واپس آکر دونوں کام کردوں گا۔ تم قلفی کھاؤ گی، لیتا آؤں؟

"ارے ماموں! اب میں وہ چھوٹی والی دانیہ تھوڑی ہوں۔"

"اچھا تو کیا ہوا! میں بھی کھاؤں گا اور اپنی ساس کو بھی دینا۔ آج درجہ حرارت گرم رہے گا، مارننگ شو نہیں آرہا، کیبل کی لائٹ جو نہیں۔" دانیہ کو ہنسی روکنا مشکل لگ رہا تھا۔

"ٹھیک ہے لے آئیے گا۔"

"اچھا چلوں میں اب فی امان اللہ!"

"فی امان اللہ ماموں!"


دور لاؤنج میں صوفے پر بیٹھی زینت بیگم اس منظر کو دیکھ کر یہی سوچ رہی تھیں کہ ان بہو سسر کے چونچلے ہی ختم نہیں ہوتے۔ ہُونہہ۔

"مامی آج دوپہر کے کھانے میں کیا بناؤں؟"

"رات کا سالن بہت ہے بچا ہوا، بس روٹیاں بنا لینا،" جتنی دلچسپی سے دانیہ نے پوچھا اتنی ہی بےزاری سے انہوں نے جواب دیا اور اٹھ کر کمرے کی جانب بڑھ گئیں۔ دانیہ کو ساس کے رویّے کی سمجھ ہی نہیں آتی تھی۔

"مامی چائے بناؤں؟" اس نے پھر پوچھا۔

"نہیں، اب میں ذرا لیٹوں گی، تم کو پینی ہے تو بنالو۔ میں تو اس کلموہے کیبل والے کو فون کر کے خبر لوں کب کھولے گا چینل؟"

دانیہ کے پاس اب کافی وقت تھا، لہٰذا وہ بھی اپنے کمرے میں چلی آئی تاکہ اطمینان سے رمضان کے بعد جو دعائیں اسے یاد کرنی تھیں، اسے اپنے کرنے والے کاموں میں لکھ لے اور نئے کارڈز پر لکھ کر رمضان کی طرح ہر روز ایک نئی دعا کچن کے دروازے پر لگائے اور چلتے پھرتے یاد کرلے۔

زینت بیگم نے کمرے میں داخل ہو کر بھی کیبل والے کو خوب کوسنے دیے۔ موبائل لینے کے لیے جب ٹیبل کی طرف دیکھا تو دانیہ کا خط بھی وہیں رکھا تھا۔ تجسّس کی بلا نے اُن کے ذہن میں پنجے گاڑے، "کیا لکھا ہے دانیہ نے؟ دیکھوں تو، پڑھوں تو ذرا۔ اتنا موٹا لفافہ؟ خوب برائیاں لکھی ہوں گی۔ معصوم بنتی ہے بہت، آج پتہ چلے گا کہ ماں کو ساری خبریں دیتی ہے۔ گھنی میسنی۔ جیسی چالاک ماں، ویسی بیٹی!"

انہوں نے لفافہ کھولا اور خط باہر نکالا، اس بات کا اطمینان تھا کہ دانیہ بلا اجازت کمرے میں نہیں آئے گی۔ وہ وہیں کرسی پر بیٹھ گئیں اور خط پڑھنا شروع کیا۔ سامنے ٹیبل پر قرآنی آیات پر مبنی کیلنڈر رکھا ہوا تھا جس پر سورۃ الحجرات کی آیت نمبر 12 درج تھی:

یہ بھی پڑھیں:   اشتعال انگیز ٹویٹس اور پیار بھرا خط - مسعود ابدالی

يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اجْتَنِبُوا كَثِيرًا مِنَ الظَّنِّ إِنَّ بَعْضَ الظَّنِّ إِثْمٌ ۖ وَلَا تَجَسَّسُوا وَلَا يَغْتَبْ بَعْضُكُمْ بَعْضًا ۚ أَيُحِبُّ أَحَدُكُمْ أَنْ يَأْكُلَ لَحْمَ أَخِيهِ مَيْتًا فَكَرِهْتُمُوهُ ۚ وَاتَّقُوا اللَّهَ ۚ إِنَّ اللَّهَ تَوَّابٌ رَحِيمٌ

ترجمہ: "اے اہل ایمان! بہت گمان کرنے سے احتراز کرو کہ بعض گمان گناہ ہیں اور ایک دوسرے کے حال کا تجسّس نہ کیا کرو اور نہ کوئی کسی کی غیبت کرے۔ کیا تم میں سے کوئی پسند کرے گا کہ اپنے مرے ہوئے بھائی کا گوشت کھائے؟ اس سے تو تم ضرور نفرت کرو گے (تو غیبت نہ کرو) اور اللہ کا ڈر رکھو، بیشک اللہ توبہ قبول کرنے والا مہربان ہے۔ "

زینت بیگم کے ہاتھوں میں دانیہ کا خط تھا، ہوا اس صفحے کو اُڑا رہی تھی

"از کراچی،

12 اپریل،

پیاری امی

رب ارحمھما کما ربیینی صغیرا

اللہ سے دعاگو ہوں کہ وہ آپ کا گھنا سایہ ہمارے سروں پہ قائم رکھے، آمین۔ ہم سب لوگ بھی ٹھیک ہیں ۔ سب سے پہلے تو معذرت کے آپ کو فون نہیں کر سکی۔

ابو سے پتہ چلا کہ آپ کے کان کا درد بڑھ گیا ہے اور آپ کو اونچا سنائی دینے لگا ہے لہٰذا میں نے آپ کو خط لکھا ہے۔ امی! میرے کمرے میں موبائل سگنلز خراب آتے ہیں اور لاؤنج میں زیادہ تر ٹی وی چل رہا ہوتا ہے، چیخ چیخ کر بات نہیں کر سکوں گی، اس لیے فون پہ بات نہیں کر رہی ورنہ اور کوئی وجہ نہیں۔ اللہ آپ کو جلد شفا دے۔ آمین!"

جبکہ زینت بیگم کی سوچ یہ تھی کہ دانیہ کمرے میں بیٹھ کر خوب گپیں لڑاتی ہے موبائل پر ماں سے، جبھی تو کمرے میں گُھسی رہتی ہے۔ گمان بہت برا تھا ان کا۔

"اور بعض گمان گناہ ہیں" آیت سرگوشی کر رہی تھی۔

"امی آپ پوچھ رہی تھیں کہ مامی نے گُڑ والے چاول بنائے کہ نہیں؟ تو امی! مامی کے گھٹنوں کا درد بہت بڑھ گیا ہے۔ مجھے اچھا نہیں لگتا اُن سے کہنا، اب ان سے پوچھ کر بناؤں گی۔ پھر بھی جو پکاتی ہوں سب شوق سے کھاتے ہیں۔ ماموں کہتے ہیں میری بہن کا ذائقہ ہے تمہارے ہاتھوں میں۔ مامی، ماموں، فروا آپی، جویریہ سب بہت خیال رکھتے ہیں۔ بس آپ دعا کیا کریں کہ جیسا مامی پسند کرتی ہیں میں ویسے سب کام کرنے لگوں۔"

زینت بیگم کی سوچ ہر وقت بہو کے لیے کڑواہٹ بھری رہتی تھی، وہ محبت کی لذت چکھ نہیں سکی تھیں۔ اس لیے اس کے ہر کھانے میں عیب نکالنا فرض سمجھتی تھیں۔ یہ کچا، وہ جلا ہوا، اس کو بھونا کیوں نہیں؟ وغیرہ وغیرہ۔

گھٹنوں کے درد کا فائدہ اٹھا کر وہ کچن سے عرصہ ہوا تعلق ختم کر چکی تھیں اور تو اور فروا اور جویریہ کو بھی کسی کام کے لیے نہ کہتیں۔ بلکہ بعد میں خوب دانیہ کے کام کی برائیاں کی جاتیں۔ غیبت سے اپنا پیٹ بھرا جاتا تھا۔ بلاوجہ کی چھوٹی چھوٹی باتوں کو اہمیت دے کر انہوں نے دانیہ کو دل سے قبول نہیں کیا تھا۔

یہ بھی پڑھیں:   اشتعال انگیز ٹویٹس اور پیار بھرا خط - مسعود ابدالی

"غیبت سے بچو اور اللہ کا ڈر رکھو" آیت کچھ کہہ رہی تھی۔

"امی آپ دعا کیجیے گا اگلے سال رمضان میں میری کوشش کامیاب ہو جائے اور میں سب گھر والوں کو قرآن سے جوڑ دوں، جیسے ملتان میں ہم درسِ قرآن سنتے اور سب کو جمع کرتے تھے کیونکہ اس سال رمضان کی تنہا عبادت میں لطف نہیں آیا۔ یہاں شوق سے نہیں، نماز اور روزے موڈ پر چلتے ہیں۔ امی نفس کی بھوک اور پیاس کو سب طرح طرح کے خوان سے بھرتے ہیں مگر روح کی بھوک پیاس تشنہ لب ہی رہتی ہے۔ امی! دوسرے صفحوں پر سورۃ الحجرات کی چند اہم آیات کی تفسیر ہے جو وردہ نے مانگی تھی، آپ اس کو دے دیجیے گا اور اس کو کہیے گا کہ مٹھو کو بھی اچھی باتیں سکھایا کرے، وہ طوطے کو بھی سب کے بگڑے ہوئے نام سکھا رہی ہے۔ برے ناموں سے پکارنا منع ہے۔

امی اب اجازت؟ وقت ملا تو پھر لکھوں گی۔ آپ کے لاڈلے داماد بھی ٹھیک ہیں۔ اپنا بہت خیال رکھیے گا، سب کو سلام۔

آپ کی دانیہ"

زینت بیگم نے خط کو پڑھ کر واپس لفافے میں ڈالا اور اسی جگہ رکھ دیا۔ ان کے ہاتھ اس کیلنڈر کے صفحے سے ٹکرائے۔ ان کی نظر آیت پر پڑی، جس کا ترجمہ واضح طور پر ان کو اس بات سے خبردار کر رہا تھا کہ جو وہ کر رہی تھیں غلط ہے، گناہ ہے۔ انہوں نے جھرجھری سی لی، پورا خط ان کی نگاہوں کے سامنے آگیا۔ نہ کوئی شکوہ شکایت، نہ غیبت، کچھ بھی تو نہیں تھا۔

جو بھی خط میں لکھا ہوا تھا انہیں اب لگ رہا تھا کہ ان کے لیے ہے۔ بہت کچھ تھا جو انہیں غلطیوں کا احساس دلا رہا تھا، آنسو ان کی آنکھوں سے رواں ہوگئے۔ جن باتوں کو وہ زبان کے چٹخارے سمجھتی تھیں وہ دراصل مردار گوشت تھے، جن بُرے ناموں سے مذاق میں وہ دوسروں کو پکارتی تھیں وہ دل آزاری گناہ تھی۔ جس ٹوہ میں وہ لگی رہتی تھیں، اُسے اللہ نے ناپسند قرار دیا ہے۔ آج ایک حقیقت ان کے سامنے ان کا ہی مکروہ چہرہ دکھا رہی تھی۔ وہ سخت شرمندہ تھیں۔

مگر اگلی آیت نے ان کو توبہ کا راستہ دکھایا، حوصلہ بڑھایا، ان کی توبہ، سچی توبہ بننے والی تھی۔ انہیں اللہ سے معافی طلب کرنی تھی اور دانیہ کو خوش کرنا تھا اور اس کے لیے گڑ والے چاول بھی بنانے تھے۔

Comments

عظمیٰ ظفر

عظمیٰ ظفر روشنیوں کے شہر کراچی سے تعلق رکھتی ہیں۔ اپلائیڈ زولوجی میں ماسٹرز ہیں ، گھر داری سے وابستہ ہیں اور ادب سے گہری وابستگی رکھتی ہیں۔ لفظوں کی گہرائی پر تاثیر ہوتی ہے، جو زندگی بدل دیتی ہے، اسی لیے صفحۂ قرطاس پر اپنی مرضی کے رنگ بھرتی ہیں۔

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.