عطائیت کے حوالے سے عوام کی غلط فہمیاں - آصف خان

گزشتہ روز چیف جسٹس آف پاکستان نے پنجاب پولیس کو ایک حکم دیا کہ وہ صوبے بھر کے تمام عطائی ڈاکٹروں کو ایک ہفتے میں گرفتار کر کے رپورٹ پیش کریں۔ اس حکم کے ساتھ ہی پنجاب پولیس حرکت میں آتی ہے اور صوبہ بھر میں عطائی ڈاکٹرز پر چھاپوں کا سلسلہ شروع کر تی ہے۔ میڈیا کے اعداد وشمار کے مطابق کافی گرفتاریاں عمل میں آچکی ہیں۔

جب بھی ملک میں عطائیت کے خلاف مہم شروع کی جاتی ہے عموما عوامی اور میڈیا کی سطح پر تاثر دیا جاتا ہے کہ ڈاکٹرز صرف ایم بی بی ایس ہیں، ان کے علاوہ تمام عطائی ہیں جو سراسر ایک غلط تاثر ہے۔ میڈیا کے لوگوں کو بھی اپنا کونسپیٹ کلیئر کرنا ہوگا۔ اگر ہم عطائیت کی تعریف کو پرکھیں تو پتہ چلتا ہے کہ ہروہ شخص جوب غیر کسی مستند سرکاری ادارے کی ڈگری، سرٹیفکیٹ یا سند کے علاج معالجے کی خدمات سرانجام دے رہا ہے تو اس کا شمار عطائیوں میں ہوگا۔" اس کے علاوہ ہر وہ شخص جو اپنے متعین کردہ اختیارات جو قانون کے مطابق اسے حاصل ہیں، سے تجاوز کرے گا وہ بھی عطائیت کے زمرے میں ہی آئے گا۔ مختلف شعبہ جات میں خدمات سرانجام دینے والے معالجین جو کسی مستند سند یا ڈگری کے حامل یافتہ ہیں اور اپنے شعبے میں اور جو ان کی حدود ہیں، ان میں رہ کر علاج کریں، وہ عطائیت کے زمرے میں نہیں آتے۔

مثال کے طور پر ایک ایم بی بی ایس ڈاکٹر جیسے آپریشن کی اجازت نہیں، وہ جنرل پریکٹس تو کرسکتا ہے لیکن آپریشن نہیں۔ اگر وہ آپریشن کرتا ہے تو وہ بھی عطائی ڈاکٹر کہلائے گا۔ اس کے پاس ڈگری ہے تو لیکن وہ اپنی حدود سے تجاوز کر رہا ہے جو عطائیت کا ہی عمل ہے اور ایک جرم کے زمرے میں آتا ہے۔ اسی طرح بیچلرز ڈگری رکھنے والے میل اور فیمیل نرس جو پاکستان نرسنگ کونسل سے رجسٹرڈ ہیں، اسی طرح ڈی ایچ ایم ایس ڈپلومہ ہولڈر ہومیو ڈاکٹرز، نیشنل کونسل فار طب کے چار سالہ طبیب جنہوں نے فاضل طب و جراحت ایف ٹی جے کے ڈپلومے کر رکھے ہیں، اگر کوئی نرس فرسٹ ایڈ سے زیادہ علاج کرے، کوئی ہومیو پیتھک ڈاکٹر انگریزی ادویات، حکیم ہومیو پیتھک ادویات یا پھر ایم بی بی ایس ڈاکٹرز ہومیو پیتھک و یونانی ادویات اپنے مریضوں کو استعمال کروائے یا تجویز کرے تو وہ بھی عطائی شمار ہوگا۔

مشاہدے میں یہ آیا ہے کہ عموماً ایم بی بی ایس ڈاکٹرز میں یونانی اور ہومیو پیتھک ادویات استعمال کروانے کا رجحان عام ہوتا جا رہا ہے جو کہ غیر قانونی ہے۔ اسی طرح جن ڈاکٹرز نے بغیر کسی مستند ڈگری کے اپنے سپیشلسٹ ہونے کے بڑے بڑے بورڈ آویزاں کر رکھے ہیں، بچوں کے اسپشیلسٹس، اسکن اسپشیلسٹس اور ایسے بے شمار ڈاکٹرز گاؤں دیہات کے ساتھ شہر میں بھی عوام کو دونوں ہاتھوں سے لوٹ رہے ہیں، وہ بھی عطائیت کے زمرے میں آتے ہیں۔ بغیر فارماسسٹ ڈرگ سیل لائسنس، بغیر کوالیفائیڈ سٹاف کے ادویات فروخت کرنے والے ڈاکٹرز بھی ان اقدامات کے قانوناً مجاز نہیں جبکہ ان کے پاس مختلف شعبوں میں کام کرنے والے افراد کی سرکاری اسناد و ڈپلومہ جات کے ساتھ کوالیفائیڈ ہونا ضروری ہے۔ اگر ایسا نہیں تو یہ ہسپتال و ڈاکٹرز بھی اسی زمرے میں آئیں گے اور سربراہ ادارہ عطائیت کے فروغ کا باعث بن رہا ہوگا۔

اگر اس کی سادہ سی تشریح کر دی جائے تو پنجاب ہیلتھ کیئر کمیشن کی ہدایات پر جو ہسپتال پورا نہیں اترتے ان کے پاس کوالیفائیڈ سٹاف و دیگر سہولیات نہیں وہ عطائیت کی نرسریاں کہلائیں گی۔ اسی طرح سرکاری فیکلٹیز کے ڈگری اور ڈپلومہ ہولڈر، ٹیکنیشنز جن میں ڈسپنسرز دو سالہ کورس کی حامل لیڈی ہیلتھ وزٹر، لیبارٹری، ایکسرے، ای سی جی، ڈینٹل ٹیکنیشنز، کوالیفائیڈ کہلائیں گے ان کی تشریح بھی عطائیت کے تناظر میں نہیں کی جاسکتی کیونکہ یہی ڈگری ہولڈر نرس اور ڈپلوما ہولڈر نرس اور ٹیکنیشنز بنیاد ی مراکز صحت، رولر ڈسپنسریوں، امن فاونڈشن کی ایمبونسز شہر کے بڑے بڑے اسپتالوں میں انتیائی نگہداشت کے وارڈوں میں مریضوں کی جان بچاتے نظر آتے ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ پنجاب میں 1122 ریسکیو سروسز، تمام قسم کی آفات سانحات، جلسے جلوسوں، رمضان بازاروں، ہنگامی کیمپس میں بطور انچارج علاج معالجہ و ایمرجنسی کی سہولیات دیتے نظر آتے ہیں۔ اسی طرح صحت کی خدمات میں انجیکشن سے لے کر مرہم پٹی، ادویات کی فراہمی و تجویز، آپریشن تھیٹر میں چھوٹی موٹی سرجری تک یہی اسٹاف خدمات سرانجام دیتا ہے۔ ان ہی ٹیکنیکل افراد کو سرکاری حکم ناموں کے تحت ایسی خدمات و سروسز فراہم کرنے کے اختیارات سونپے گئے ہیں۔ اعلیٰ عدلیہ متعدد بار ان کو پریکٹس پرمٹ کے اجراء کے حکم نامے جاری کرچکے ہیں۔ ان تمام افراد کے لیے ہیلتھ کونسل تشکیل دے کر پرائیویٹ شعبہ میں فرسٹ ایڈ پریکٹس اور ہیلتھ سروسز فراہم کرنے کے متعلق قانون سازی کی بھی ضرورت ہے کیونکہ ان لوگوں کی سروسز کو اگر سرکاری اور نیم سرکاری و غیر سرکاری اداروں سے نکال دیا جائے تو ملک میں صحت عامہ اور علاج معالجے کی سہولیات ناپیدہو کر رہ جائیں۔ بنیادی مراکز صحت کی نرسز، ڈسپنسرز، لیڈی ہیلتھ وزیٹرز ہیلتھ ورکروں کو ٹریننگ فراہم کرتی ہیں اور ان کے لیے استاد کا کردار ادا کرتی ہیں۔

حکومتی اداروں کی دہری پالیسی ہے کہ سالوں کی ٹریننگ و اسناد کے حامل سرکاری ہسپتالوں میں علاج معالجہ کی سہولیات فراہم کرنے والے کوالیفائیڈ میل و فیمیل نرسز اور ٹیکنیشنز کو پرائیویٹ شعبہ میں آزادانہ فرسٹ ایڈ سہولیات فراہم کرنے پر پریشان کیا جاتا ہے اور انہیں قانونی کارروائیوں کا نشانہ بنایا جاتا ہے جبکہ دوسری صورت لاکھوں کی تعداد میں ملک کے گلی کوچوں میں قائم ہیلتھ ہاﺅسز جن کی انچارج ہیلتھ ورکرز ایل ایچ وی کو بنایا گیا ہے جن کی تعلیمی قابلیت اکثریت کی میٹرک بھی نہیں ہوتی ہے، ان کو ہر قسم کی ادویات، بلڈ پریشر سیٹ، تھرما میٹر، ویٹ مشین فراہم کی گئیں ہیں تاکہ وہ عوام کو علاج معالجہ کی سہولیات فراہم کر سکیں۔ اس سلسلہ میں سرکاری سطح پر میڈیا پر باقاعدہ مہم چلائی جاتی ہے کہ ان ہیلتھ ورکروں سے اپنا علاج معالجہ کروائیں۔

یہ حکومتی پالیسیوں میں ایک تضاد ہے اور دہری حکمت عملی کا نتیجہ ہے کہ جن حضرات سے یہ ٹریننگ لیں وہ علاج معالجہ فراہم نہیں کرسکتے جبکہ دیہی علاقوں میں اور شہر میں بھی نیم خواندہ ہیلتھ ورکروں کو باقاعدہ ہر قسم کی سہولیات فراہم کی گئی ہیں۔ سپریم کورٹ کا عطائیت کے خلاف ایکشن اور عطائی ڈاکٹروں کی گرفتاری کا حکم قابل تحسین ہے اور تمام کوالیفائیڈ حضرات و پیرا میڈیکل سٹاف اس کا خیرمقدم کرتا ہے تاہم سرکاری سطح پر عطائیت کے متعلق واضح قانون سازی اور اس کی وضاحت کی بھی اشد ضرورت ہے۔ تمام علاج معالجہ فراہم کرنے والے پروفیشنلز کو اپنے دائرہ اختیار میں رہتے ہوئے خدمات فراہم کرنے کا پابند کیا جانا چاہیے جو بھی اپنے اختیارات سے تجاوز کرے گا اور دوسرے طریقہ علاج کو اختیار کرے گا جس کا وہ مجاز نہیں بلکہ عطائی کہلائے گا۔