قرآن کریم کے طرزِ استدلال کی عصری معنویت - ہلال احمد تانترے

دور جدید کی برق رفتار ترقی کے پیچھے انسان کے سوچ و بچار کی صلاحیتوں کا کلّی ہاتھ ہے۔ سوچنا ایک ایسا انسانی عمل ہے جس سے انسان آس پاس کی چیزوں کا مشاہدہ کر کے نئی نئی حقیقتوں سے پردہ اٹھاتا ہے۔ لیکن سوچنا اگر محض برائے سوچ ہو تو وہ سوچ کسی کام کی نہیں۔ سوچنے کے بعد انسان جو خیال یا نقطہ نظر پیش کرتا ہے اس کا کسی دلیل سے ثابت ہونا از بس ضروری ہے۔ اگر وہ کوئی دلیل پیش کرنے سے قاصر رہے تو اُس نقطے کی کوئی اہمت نہیں رہتی۔ دلیل پیش کرنے کے بعد دلیل کا صحت مند اور پیش کردہ نقطے کے ساتھ موافقت ہونا بھی ضروری ہے، ورنہ پیش کردہ نقطہ بذاتِ خود غلط ثابت ہوگا۔

سوچنے کی صلاحیت خالصتاً انسانی خلق کو بخشی گئی ہے۔ اس طرح سے انسان کا سوچنا اُس سے انسانیت کے اعلیٰ مرتبے پر فائز کردیتی ہے۔ لیکن یہاں بھی ایک استثناء ہے، اگر انسان کی سوچ محض سوچ ہی تک محدود ہو اور وہاں سے وہ کوئی نتیجہ اخذ کرنے سے قاصر رہے، تو ایسی سوچ کا کوئی ماحصل ہی نہیں۔ سورۃ آل عمران میں عقل اور اس سے اخذ کردہ نتائج کے مابین اس طرح سے ربط قائم کیا گیا ہے کہ’ زمین اورآسمان کی پیدائش میں، رات اور دن کے باری باری سے آنے میں عقلمند لوگوں کے لیے بہت ساری نشانیاں ہیں‘(آل عمران، ۱۹۰)۔ انسان کے پاس عقل ہونے کے باوجود اگر وہ اسے استعمال میں لا کر صحیح نتائج برآمد نہ کرسکے اور اپنی زندگی کے جملہ معاملات اُن اخذ کرہ نتائج کے مطابق نہ سنوارے، تو ایسے انسان بھی پھر غیر انسانی مخلوقات کی طرح ہوتے ہیں، فرق بس اتنا ہوتا ہے کہ یہ انسانی شکل میں ہوتے ہیں اور وہ غیر انسانی اشکال میں۔ اِن ہی اشخاص کو قرآن کریم نے یہ کہہ کر پکارا ہے کہ’ اِن کے پاس محسوس کرنے کے لیے دل تو ہوتے ہیں مگر وہ ان سے سوچتے نہیں، ان کے پاس دیکھنے کے لیے آنکھیں تو ہوتی ہیں مگر وہ اُن سے دیکھتے نہیں، اُن کے پاس سننے کے لیے کان تو ہوتے ہیں ہیں مگر وہ ان سے سنتے نہیں، وہ جانوروں کی طرح ہیں بلکہ اُن سے بھی زیادہ گئے گزرے، یہ وہ لوگ ہیں جو غفلت میں کھو گئے ہیں‘(الاعراف، ۱۷۹)۔ ایک دوسری جگہ ایسے انسانوں کو بدترین جانوروں سے تشبیہ دی گئی ہے، جو عقل سے کام نہیں لیتے (الانفال، ۲۲)۔ عقلِ سلیم کو استعمال کرنے کی ہدایات اس حد تک قرآن کریم میں بیان کی گئی ہیں کہ ایک تو اس نعمتِ عظمیٰ کا آخرت کے دن حساب دینا ہوگا، ’ جب کہ انسان سے آنکھ، کان اور دل سب ہی کی باز پرس ہونی ہے‘ (بنی اسرائیل، ۳۲)، وہی دوسری طرف اس سے استعمال نہ کرنے پر اللہ تعالیٰ کی وعید سناتے ہوئے متنبہ کیا گیا ہے کہ’ جو لوگ عقل سے کام نہیں لیتے اُن پر ہم گندگی ڈال دیتے ہیں‘ (یونس، ۱۰۰)۔

قرآن پاک نے جس اندازِ فہمائش کو پسند و پیش کیا ہے، اُس کا سب سے پہلا نقطہ یہ ہے کہ انسانی عقل کو آزاد چھوڑ دیا جائے۔ اُس سے کوئی نقطہ سمجھانے میں کسی زور زبردستی یا دھونس دباؤ سے کام نہ لیا جائے۔ جیسا کہ فرمایا گیا کہ’ دین کے معاملے میں کوئی زور زبردستی نہیں‘( البقرہ، ۲۵۶)۔ اُس کی عقل کی آزادی کی سطح کو سمجھنے کے بعد اُس سے اُسی کی فہمائش کے مطابق بات سمجھائی جائے۔ نبی پاک ﷺ کے پاس مختلف الفکر انسان دین سیکھنے کے لیے آتے تھے اور سوالات پوچھتے، لیکن آپؐ ہر کسی کو دین کے متعلق ایک ہی جواب نہیں دیتے۔ قریبی صحابہ سے اندازِ بیان طویل، جامع اور موقع و محل کو مدِ نظر رکھتے ہوئے ہوتا تھا، وہی کسی بدوی صحابہ کے سوال کے جواب کا طرزِ تفہیم بہت ہی سادہ اور مختصر ہوتا تھا۔ اسی چیز کو قرآن پاک نے اس انداز میں پیش کیا ہے کہ’اے نبی ﷺ، اپنے رب کی طرف دعوت دو حکمت اور عمدہ نصیحت کے ساتھ اور لوگوں سے مباحثہ کرو ایسے طریقے پر جو بہترین ہو‘ (النحل، ۱۲۵)۔

یہ آیت موجودہ دور کے اُن مناظرہ پسند حضرات و سوشل میڈیا پر بیٹھے جذباتی نوجوانوں کے لیے بھی ایک اہم ذریعہِ راہنمائی ہے جو اپنے طرزِ بیان میں بہت ہی شدت پسندہیں اور جو اپنی بات کو ’منوانے ‘ میں گالم گلوچ کا استعمال کرنے میں بھی کوئی دریغ نہیں کرتے۔ غور کرنے کے لائق یہ مقام ہے کہ یہ آیت مشرکین و کفار کے ساتھ بات یا مجادلہ کرنے کے تناظر میں نازل ہوئی ہے کہ اُن سے بھی اخلاقی حدود میں ہی بات کرنی ہے، لیکن کیا ہوا ہے کہ مسلمان اپنے فروعی مسئلوں کے اندر اس حد تک جکڑ گئے ہیں اور اپنی بات کو منوانے میں اتنی شدت اختیار کرتے ہیں جہاں اخلاقی حدود و قرآنی حکمت کا جنازہ ہی نکل جاتا ہے؟

موجودہ دنیا کی جنگیں افکار و نظریات کی بنیادوں پر لڑی جارہی ہیں۔ ان جنگوں میں جو کوئی بھی اپنی بات کو سچ ثابت کرنے میں کامیاب ہوتا ہے، وہی بازی اپنے نام کرلیتا ہے، قطع نظر اس کے کہ بات کو سچ ثابت کرنے میں کن ’بے جا اصولوں‘ کو بروئے کار لایا گیا ہو۔ اس طرح کی جنگیں آج کل عام طور پر ٹی وی، اخبارات و دیگر نشرو اشاعتی ایوانوں کے اندر لڑی جارہی ہیں۔ دو مختلف نظریات کے حامل اشخاص ایک دوسرے سے بحث صرف اور صرف اس مدعے پر کر رہے ہوتے ہیں کہ کون صحیح ہے اور کون غلط؟ نہ کہ صحیح کیا ہے اور غلط کیا۔ یہی وہ بنیادی سبب ہے کہ جس سے سماج میں نفرتوں و عداوتوں کا بازارگرم ہوتا ہے۔ ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ آپس کے بحث و مباحثہ سے یہ پتہ لگایا جائے کہ صحیح کیا ہے اور غلط کیا؟ لیکن جس طرح صحیح کہنے والا اپنے نقطے کو سچ ثابت کرنے میں زور زور کی چیخیں مارتا ہے، اُسی طرح غلط کہنے والا اپنے عزتِ نفس کو بچانے کی خاطر نِت نئی دلیلیں پیش کرتا ہے۔ اپنی کج روی میں بد مست ہونا اور اپنے پیش کردہ نظریات سے اس حد تک محبت کرنا کہ انسان اندھا ہو جائے، انسانی فطرت کے خلاف ہے۔ قرآن پاک کے اسلوب کی طرف نظر ڈال کر یہ بات بآسانی کہی جاسکتی ہے کہ عقلمند وہ لوگ ہیں جو اپنی غلطی کو غلطی مان کر بر وقت رجوع کریں۔ ایسے انسانوں کے لیے ہی انعامات کو خوشخبری ہے، بلکہ اُن سے یہ کہہ کر خطاب کیا گیا ہے کہ جیسے اُنہوں نے وہ کام کیا ہی نہیں۔

انسانی عقل محدود ہے۔ اُس کے دماغ میں اِس کائنات کی حقیقت یک بارگی سے نہیں اتر سکتی، بلکہ یہ ایک ترتیب وار اور مسلسل عمل ہے۔ تو جس وقت بھی انسان کے سامنے عقل کے نئے دریچے کھل جائیں اور وہ جان جائے کہ اس کا وقتِ حاضر سے پہلے پیش کردہ نظریہ غلط ثابت ہوگیا، اُس سے اپنی پچھلی رائے سے رجوع کرنے میں کوئی قباحت محسوس نہیں کرنی چاہیے۔ مسلمانوں کے اندر فکری انحطاط کی بنیادی وجہ یہی رہی ہے کہ ہر کوئی اپنی رائے کو سچ ثابت کرنے پر تُلا رہا اور کسی نے بھی اپنی غلطی کو غلطی مان کر رجوع نہیں کیا۔ اِس کے بالمقابل سائنس کی دنیا میں اگر ایک سائنس دان کوئی ایک رائے قائم کر لے اور کسی دوسرے محقق نے اُس رائے کو منطق کے اعتبار اور صحیح الاسناد دلائل سے غلط ثابت کیا، تو پہلے حضرت نے اپنی رائے سے (اگر حضرت زندہ نہ رہے تو اُس کے شاگردوں نے ) رجوع کرنے میں کوئی عار محسوس نہیں کی۔ اس معاملے میں مسلمانوں کے اکابرین بڑے ہی دریا دل رہے ہیں۔ حضرت عمر ؓ کا اسمِ گرامی اس حوالے سے بڑے شوق و ذوق سے لیا جاسکتا ہے۔ چاہے وہ تجسس کرنے کے معاملے میں آپ ؓ کا اپنے طرزِ عمل سے رجوع کرنا ہو یا نبی ﷺ کے رحلت کر نے کے وقت ابوبکر ؓ کی بات مان کر چپ سادگی اختیار کرنی ہو۔ یاد رہے یہ وہ عمر ؓ ہیں جو اپنی جلال اور شان و شوکت میں اپنی مثال آپ ہی ہیں۔

قرآن پاک کا مرکزی موضوع جیسا کہ انسان ہی ہے، وہ انسان سے براہِ راست یہ مطالبہ نہیں کرتا کہ تم میری بات مان لو۔ بلکہ اس سے اسی کی فہمائش کے مطابق اُن باتوں کی طرف توجہ دلاتا ہے جو کہ وہ پہلے سے ہی جانتا ہو۔ توجہ دلانے کے بعد وہ اُن باتوں کے متعلق اس سے سوالات پوچھتا ہے۔ سوالات ایسے ہوتے ہیں جو کہ انسان کی عقل کو اپیل کرتے ہیں۔ انسان چاہے جواب دے یا نہ دے لیکن اس کی عقل کی سطح کے مطابق انسان خود ہی جوابات اخذ کرلیتاہے۔ اُن اخذ کردہ باتوں سے وہ اس سے بڑے مشفقانہ انداز میں اپنی اصل بات کی طرف توجہ دلاتا ہے۔ نبی ﷺ نے اعلانِ نبوت کے بعد 13 سال مکہ میں قیام کیا۔ اس دوران آپ ؐ نے دین کے بنیادی عقائد کو سمجھانے کے حوالے سے جو طرزِ استدلال اختیار کیا اور جس کو قرآن نے عمومی طور پر مکی سورتوں میں بیان کیا، وہ یہی تھا کہ انسانی عقل کے دریچوں کو پہلے سے ہی اخذ کردہ علم سے کھول دیا جائے۔ مثال کے طور پر ایک جگہ فرمایا کہ’اچھا، تو کیا انہوں نے کبھی اپنے اوپر آسمان کی طرف نہیں دیکھا؟ کس طرح ہم نے اسے بنایا اور آراستہ کیا، اور اس میں کہیں کوئی رخنہ نہیں ہے۔ اور زمین کو ہم نے بچھایا اور اس میں پہاڑ جمائے اور اُس کے اندر ہر طرح کی خوش منظر نباتات اُگادیں۔ یہ ساری چیزیں آنکھیں کھولنے والی اور سبق دینے والی ہیں، ہر اُس بندے کے لیے کو حق کی طرف رجوع کرنے والا ہو‘ (قؔ، ۸)۔ سورہ العنکبوت میں اس چیز کو بالکل ہی وااضح انداز میں بیان کیا گیا ہے۔ وہاں پر حق سے منہ موڑنے والوں کے متعلق فرمایا گیا ہے کہ’ اچھا تو جب یہ لوگ کشتی پر سوار ہوتے ہیں تو اپنے ایمان و یقین کو اللہ کے لیے خالص کرتے ہوئے اس سے دعا مانگتے ہیں۔ بھر جب وہ انہیں بصحت و سلامت خشکی پر پہنچاتا ہے تو یکایک یہ لوگ شرک کرنے لگتے ہیں‘( العنکبوت، ۱۰۴)۔ کھبی وہ انسان کو تواریخ کی طرف نظر دوڑانے کے لیے کہتا ہے، کہ شاید وہ حق کی طرف رجوع کرے، وہی کھبی وہ اس سے زمان و مکان کی گواہی پیش کرتا ہے۔ مثال کے طور پر ایک جگہ فرمایا کہ ’اے نبی ﷺ، اگر یہ لوگ تمہیں جھٹلاتے ہیں، تو ان سے پہلے قوم نوحؑ اور عادؑ اور ثمودؑ اور قوم ابراہیم ؑ اور قوم لوطؑ اور اہلِ مدین بھی جھٹلا چکے ہیں اور موسیٰ ؑ کی قوم بھی جھٹلا چکی ہے۔ ان سب منکرین کو ہم نے پہلے مہلت دی، پھر پکڑ لیا‘ ( الحج، ۴۴)۔ ایک اور جگہ فرمایا کہ ’قسم ہے زمانے کی (یعنیٰ زمانہ گواہ ہے )، کہ انسان درحقیقت بڑے خسارے میں ہے، سوائے اُن لوگوں کے جو ایمان لے آئے اور نیک اعمال کرتے رہے اور ایک دوسرے کو حق کی نصیحت اور صبر کی تلقین کرتے رہے‘(العصر)۔

جیسا کہ یہ قرآن پاک کے مطالعہ کا پہلا ہی اصول ہے کہ انسان اپنے ذہن کی تمام پراگندگی کو دور کر کے آئے، کھلے ذہن کے ساتھ کسی پیشگی مفروضے کے بغیر اس نسخے کو ہاتھ لگائے۔ اس طرح سے انسان کو ایک مثبت سوچ (positive thinking) کے ساتھ قرآن کو سمجھنے کی کوشش کرنی چاہیے۔ یہ اصول نہ صرف قرآن کے ساتھ وابستہ ہے بلکہ علم کے باقی تمام ذخائر کی تہہ تک جانے میں یہ کارگر ثابت ہوا ہے۔ انسان کے علم حاصل کرنے کی پیاس جب تک نہ بجھے، اُس سے کلام جاری رکھنا چاہیے۔ لیکن اگر انسان اپنی عقل کے دریچے خود ہی بند کرے یا اپنے موقف کو لے کر کٹ حجتی سے کام لے، اس سے پھر مزید بات کرنا آسمان کی طرف منہ کر کے تھوک دینے کے مترادف ہے۔ انہی جیسے انسانوں کے متعلق فرمایا گیا کہ ’یہ لوگ بہرے ہیں، گونگے ہیں، اندھے ہیں، یہ اب پلٹنے والے نہیں ہیں‘ (البقرہ، ۱۸)۔ نہ ہی اس کے بعد کسی انسان کو یہ اختیار ہے کہ جبر کرکے ایسے لوگوں کو حق کی طرف مائل کرے، کیوں کہ فرمایا گیا کہ ’اچھا تو اے نبی ﷺ، نصیحت کیے جاؤ، تم بس نصیحت ہی کرنے والے ہو، کچھ ان پر جبر کرنے والے نہیں ہو‘ (الغاشیہ، -۲۲ ۲۱)۔ ایسے انسان فطرت کے قوانین کا عذاب خود ہی چھکتے ہیں اور وقت انہیں جھوٹ ثابت کرنے میں کوئی تشنگی نہیں رکھتا۔

یہ بات روزِ روشن کی طرح عیاں ہے کہ قرآن پاک کے کلمات سے بڑھ کر کوئی چیز سچ نہیں۔ اِس کتاب کے طرزِ بیان کی اس دنیا میں کوئی مثل نہیں۔ صدق و سچائی کا یہ منبع ہے لیکن انسان کے ساتھ کلام کرنے میں اِس کتاب کا انداز انسانی ہی ہے، جس کی رو سے یہ انسانی عقل کو اپنا نقطہ نظرپیش کرنے کا بھرپور موقع فراہم کرتی ہے اور آخر میں جس چیز کی طرف رخ کر کے یہ کتاب اتمام ِ حجت کرتی ہے، وہ یہ ہے کہ اگر انسان کے پاس اس کتاب کے پیش کردہ دلائل کے مقابلے میں کوئی اور دلیل ہو تو اسے پیش کیا جائے۔ چنانچہ فرمایا گیا کہ ’اپنی دلیل پیش کرو، اگر تم اپنی دعوے میں سچے ہو‘ (البقرۃ، ۱۱۱)۔