کراچی کا سیاسی خلاء - قادر خان یوسف زئی

عروس البلاد کراچی، اس وقت سیاسی سرگرمیوں کا مرکز بنا ہوا ہے۔ پاکستان مسلم لیگ ن کے مرکزی صدر و وزیر اعلیٰ پنجاب شہباز شریف گزشتہ دنوں دورہ کراچی سے خالی ہاتھ واپس گئے۔ پاکستان مسلم لیگ ن، کراچی میں پے در پے سیاسی نقصانات سے دوچار ہے۔ کراچی سے وابستہ نون لیگ کے اراکین اسمبلی اپنا کیمپ بدل چکے ہیں۔ اس سے قبل تحریک انصاف کے مرکزی چیئرمین عمران خان دو روزہ دورہ کراچی سے الیکشن لڑنے کا اعلان کرچکے ہیں۔ متحدہ مجلس عمل کے سربراہ اورجمعیت علما اسلام ف کے امیر مولانا فضل الرحمٰن بھی کراچی میں اسلام زندہ باد کے جلسے میں خطا ب کرکے اپنی عوامی طاقت( ہمرکاب مدارس طلبا) کا بڑا مظاہرہ کرچکے ہیں۔تحریک لیبک اور سنی تحریک بھی کراچی میں احتجاج و دھرنوں سے موجودگی کا احساس دلاچکی ہے۔ عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی صدر اسفندیار ولی خان خاموشی سے آئے اور ورکرز سے خطاب کرکے اسی خاموشی سے اپنے موروثی حلقوں کو سدھار گئے۔متنازع پی ٹی ایم اے این پی کو کافی نقصان پہنچاچکی ہے۔ تاہم بعض رہنماؤں کی پی ٹی ایم سے غیر اعلانیہ حمایت بھی حیران کن ہے۔ جماعت اسلامی حسب روایت کراچی میں اپنی گم گشتہ مینڈیٹ کی مساعی کی بحالی کے لیے تگ و دو میں ہے۔جماعت اسلامی مسلسل عوامی مسائل پر آواز اٹھا رہی ہے لیکن کراچی کے عوام جماعت اسلامی پر دوبارہ اعتماد کرنے میں تاحال تامل کا مظاہرہ کررہے ہیں۔ گو کہ جماعت اسلامی کی صوبائی قیادت کراچی کے عوامی مسائل کے حل کے لیے عملی طور پر تمام سیاسی جماعتوں سے زیادہ متحرک نظر آتی ہے۔

پاکستان پیپلز پارٹی، سینیٹ انتخابات میں خلاف توقع کامیابیوں کے بعد دوبارہ پُرامید ہے کہ اس بار کراچی کے مینڈیٹ کا ہما اُن کے سر بیٹھے گا۔ پاکستان پیپلز پارٹی ماضی کے مقابلے میں گزشتہ انتخابات کے برعکس فعال ہونے مکمل کوشش کررہی ہے۔ کیونکہ اس بار ان پر کالعدم لیاری امن کمیٹی کا دباؤ بھی نہیں ہے۔تاہم دیکھنا ہوگا کہ پی پی پی سندھ میں اپنی سیاست کا بَار صرف دیہی علاقوں تک محدود رکھتی ہے یا پھر شہری علاقوں میں اپنی دس برسوں کی مضبوط حکومت کی’’ کارکردگی‘‘ کی بنیاد پر کامیابی کے جھنڈے گاڑنے کی کوشش کرتی ہے۔ سیاسی پنڈتوں کا ماننا ہے کہ سندھ میں جب تک وڈیرانہ نظام قائم رہے گا اُس وقت تک دیہی علاقوں کی عوام اپنے حقوق کے حصول کے لیے موثر آواز نہیں اٹھا سکتی۔

کراچی میں قوی مینڈیٹ کی دعوے دار کنگ میکر لسانی جماعت ایم کیو ایم اپنے حصے بخرے سمیٹنے میں مصروف ہے۔ ماضی کے دو دھڑوں کے مسلح تصادموں کی وجہ سے کارکنا ن اور عوام کا عد م تحفظ میں رہنا معمول بن چکا تھا۔ ایم کیو ایم بانی کے مائنس ہونے کے بعد از خرابی بسیار متحدہ دو قصباتی حلقوں میں واضح منقسم نظر آتی ہے۔ جس کی وجہ سے سینیٹ انتخابات میں حسب توقع ایم کیو ایم کو نقصان پہنچا لیکن اصلاح کرنے کے بجائے ’’ویٹو پاور‘‘ کی جنگ میں فی الوقت اپنے اراکین اسمبلی و ذمے دارن اور کارکنان پر مکمل کنٹرول رکھنے میں ناکامی کے باوجود اب بھی حالات اپنے حق میں ہونے کا دعویٰ کرتے ہیں۔اس وقت تما م سیاسی جماعتوں کی نظریں کراچی کی اُن نشستوں پر ہے، جن پر کئی عشروں سے ایم کیو ایم بلا شرکت غیرے حکمرانی کرچکی ہے۔ ایم کیو ایم میں انتشار کا فائدہ اٹھانے کی بھرپور خواہشات کے ساتھ تقریباً تمام سیاسی و مذہبی جماعتوں نے دوبارہ میدان عمل میں آچکی ہیں اور اہل کراچی کو اپنی وفاداری کا یقین دلا رہے ہیں۔ ایم کیو ایم کے پنجرے سے اُڑنے والے پنچھیوں نے پاک سرزمین پارٹی میں گھونسلا بنانا شروع کردیا ہے۔ چند دنوں کے اندر ایک درجن سے زائد ایم کیو ایم کے تمام دھڑوں سے سرکردہ قومی و صوبائی اراکین سمیت تنظیمی عہدے داران کی معقول تعداد پی ایس پی میں شمولیت اختیار کرچکی ہے۔ بظاہر اس کی بنیادی وجہ ایم کیو ایم دھڑوں کے درمیان اندرونی اختلافات بتائی جارہی ہے۔ لیکن کراچی کی سیاست پر نظریں رکھنے والے بخوبی جانتے تھے کہ ان پنچھیوں کی شمولیت مخصوص مقاصد کے تحت ہے۔ پی ایس پی سے واپس بہادر آباد کیمپ، پی آئی بی سے بہادر آباد جانے والی خاتون سینیٹر کی دوبارہ واپسی اور گروپوں کا اراکین کی شمولیت کے لیے دھمکیوں و دباؤ کے بیانات سیاسی فرسٹریشن کو نمایاں کررہے ہیں۔ بتایا جاتا ہے کہ فاروق ستار سے مائنس ایم کیو ایم فارمولے پر حتمی فیصلہ انیس قائم خانی و مصطفیٰ کمال کرچکے تھے لیکن عین وقت پر ’’ نامعلوم دباؤ‘‘ پر ڈاکٹر فاروق ستار کنّی کترا گئے۔ بہادر آباد کیمپ کو قوی امید تھی کہ سینیٹ انتخابات میں مشترکہ فارمولا دوبارہ اتحاد کی راہ ہوار کرے گا۔

یہ بھی پڑھیں:   پاکستان کو لیڈر چاہیے یا مینیجر؟ - محمد عامر خاکوانی

نادیدہ قوتیں اب کراچی کو لسانی سیاست کا مغوی نہیں بنانا چاہتیں۔ کراچی کی عوام کو چار عشروں کے ’’نامعلوم‘‘ سے نجات کی راہ دکھانے کے لیے اُسی طریقے کا انتخاب کیا گیا جو اس سے قبل کیا جاتا رہا ہے۔ تاہم اس بار ایک قدم آگے بڑھاتے ہوئے لسانیت کو ایک جانب رکھ کر قومی دھارے میں آنے کا دروازہ کھولا گیا ہے۔ قومی سیاست کے منظر نامے میں لسانی سیاست کا وجود ختم کیا جارہا ہے۔ مہاجر الائنس بنانے کی کوششیں قومی سیاسی جماعتوں و لسانی سیاست کو دفن کرنے کے سامنے مزاحمت پر مائل بہ آمادہ ہیں، مہاجر سے متحدہ اور پھر واپس مہاجر منشور پر واپسی دونوں دھڑوں کے کمزور فیصلوں و عجلت کو واضح کررہا ہے۔ کراچی کی نئی ڈاکٹرائن سامنے آچکی ہے۔ لسانی اسٹیشن سے قومی پورٹ پر ٹیک آف کرنے والوں کی حوصلہ افزائی اور ان کے ساتھ نرم رویہ اب کراچی کی سیاست کا مزاج بنتا جارہا ہے۔ اسے نیا مزاج بھی نہیں کہا جا سکتا، بلکہ اسے کراچی کا سیاسی نشاط ثانیہ کہیں تو بے محل نہ ہوگا۔

پاک سر زمین پارٹی کے قائدین کا بیانہ بظاہر اپنے عروج پر نظر آتا ہے کہ لسانی سیاست کے بجائے وقت آگیا ہے کہ اب ہم قومی دھارے میں خود کو شامل کرلیں، ماضی کی غلطیوں سے سبق سیکھیں اور ایسے با صلاحیت اور تعلیم یافتہ احباب کو بلا تفریق رنگ و نسل آگے لائیں جو کراچی میں لسانی کدورتوں و نفرتوں کے بجائے پیار و محبت کی گل پاشی کرے۔ روشنیوں کے شہر میں بندوق کے سائے تلے امن کے بجائے اب محبت اور بھائی چارے کے پُر امن سائے ہوں۔ پی ایس پی توقع کرتی ہے کہ کراچی کی قسمت کا پانسہ اُن کے حق میں آئے گا۔ تیزی سے بڑھتی پیش قدمی پی ایس پی کی مقبولیت میں اضافہ کررہی ہیں۔ یہاں پی ایس پی اس بات کی خواہاں ہے کہ سندھ کے شہری علاقوں کی عوام کے ساتھ دیہی علاقوں کی عوام اور تمام لسانی اکائیاں ایک مرتبہ ان پر اعتماد کرکے دیکھیں وہ انہیں مایوس نہیں کریں گے۔ پی ایس پی کے لیے تنہا قومی انتخابات لڑنا ایک بہت بڑا چیلنج ہے۔ پاکستان تحریک انصاف کے ساتھ سیاسی خلا پورا کرسکتی ہے۔ غیر متوقع کامیابیوں سے انہیں بہت امیدیں وابستہ ہیں۔ گوکہ گزشتہ انتخابات کے بعد تحریک انصاف نے کراچی کو بے یار و مددگار چھوڑ دیا تھا اب اس مختصر وقت میں اگر عوام کو مطمئن کرپاتے ہیں تو شہری علاقوں میں تحریک انصاف کے لیے اب بھی نرم گوشہ موجود ہے۔ مضافاتی علاقوں میں لسانی و مذہبی جماعتوں کی انتخابی سیاست میں کامیابی کے امکانات کم نظر آتے ہیں۔ ایم کیو ایم کی کسی سے بھی مسلح محاذ آرائیوں کے نہ ہونے سے کراچی کی عوام اور تمام سیاسی جماعتوں میں اعتماد بحال ہوا ہے۔ کراچی میں اب کوئی علاقہ نو گو ایریا نہیں رہا۔ اب کسی علاقے میں لسانیت کے نام پر شناختی کارڈ چیک نہیں کیے جاتے۔ محنت کش کے گھر سے نکلنے پر اب اہل خانہ کو اُس کی واپسی تک تشویش نہیں ہوتی۔

یہ بھی پڑھیں:   عوامی لیڈر نامنظور - حبیب الرحمٰن

پُر امن کراچی کے لیے قانون نافذ کرنے والوں اداروں کی کارکردگی کو جتنا سراہا جائے اُتنا کم ہے۔ اختیارات ملنے کے بعد رینجرز اور قانون نافذ کرنے والے اداروں نے متاثر کن کردار ادا کیا ہے اس کے ثمرات کا اندازہ شہر کراچی کا باسی بخوبی کرسکتا ہے کہ آج اُن کے لبوں پر بے خوف مسکراہٹ کا ہونا کن کی مرہون منت ہے۔ اہل کراچی کے لیے موقع ہے کہ وہ اپنے مستقبل کا فیصلہ خود کریں۔ کئی عشروں بعد انہیں رب کائنات نے دوبارہ مہلت دی ہے کہ وہ جذباتی فیصلوں کو اپنی اَنا کے بھینٹ نہ چڑھائیں۔ لسانی سیاست کو ویرانے میں دفن کردیں اور تمام تر خامیوں کے باوجود ایسی قومی جماعتوں کا انتخاب کریں جو لسانیت کو سمندر بُرد کرنا چاہتی ہوں۔ نسل پرستی و لسانی سیاست نے اہل کراچی کو ہمیشہ رسوا کیا ہے اور باہم بدست و گریباں ہی رکھا ہے۔ بہتر یہی ہے کہ لسانی و فرقہ وارنہ گروہ بندیوں سے باہر نکلیں کیونکہ یہی بہتر فیصلہ ہوگا۔